کوزے میں دریا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 120
    Shares

حال ہی میں شایع ہونے والی کتاب ’’نامورادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ کے تلخیص کار اور مرتب نامور ادیب و افسانہ نگار محمد حامد سراج ہیں۔ صوری و معنوی حسن سے آراستہ بڑے سائز کے چھ سو چھیاسی صفحات کی کتاب کی پندرہ سو روپے قیمت مناسب ہے۔ کتاب میں پینسٹھ نامور ادیبوں کی آپ بیتیوں کا انتخاب کر کے گویا ’’کوزے میں دریا‘‘ بند کر کے پیش کر دیا گیا ہے۔ بے مثال کتاب شائقینِ اردو ادب کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔

کتاب میں شامل پینسٹھ ادیبوں کی آپ بیتیوں میں سے چھتیس نقوش کے یادگار ’’آپ بیتی نمبر‘‘ سے لی گئی ہیں۔ اٹھارہ ’’دستاویز‘‘ اور تین الزبیر کے ’’آپ بیتی نمبر‘‘ سے چنی گئی ہیں۔ سات مصنفین کی خود نوشتوں کی تلخیص کی گئی ہے۔ ابتدا میں ہر ادیب کے پیدائش اور وفات کا سن دیا گیا ہے۔ تین زندہ ادیبوں گوپی چندنارنگ، جیلانی بانو اور حامدسراج کی پیدائش کے سال درج ہیں۔ اللہ ان تینوں کولمبی زندگی عطا کرے۔ آپ بیتیوں میں میرتقی میر، اسداللہ غالب، مومن خان مومن، ڈپٹی نذیر احمد، مولوی عبدالحق، حسرت موہانی، منشی پریم چند، یگانہ چنگیزی، دیوان سنگھ مفتون، صوفی غلام مصطفٰے تبسم، ابوالاثرحفیظ جالندھری، زیڈ اے بخاری، احسان دانش، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، قتیل شفائی سے لے کرمختار مسعود، انتظارحسین اور مرتب محمد حامد سراج کی آپ بیتیوں کی تلخیص پیش کی گئی ہے۔ اس طرح قارئین کو اردو ادب کی ایک صدی سے زائد کے اہم ادباء وشعراء سے کو بھرپور طور پر روشناس ہونے کا موقع ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ کے ذریعے میسر آئے گا۔

محمد حامد سراج کا کہنا ہے کہ ’’نامور ادیبوں اور شاعروں کی مختصرآپ بیتیوں سے ہم نے خوشہ چینی کی ہے۔ ان کی کتابیات کا بھی اندراج کیا ہے تاکہ سند رہے اور وہ معتبر اور مستند اسمائے گرامی جنہوں نے آپ بیتیوں کے اختصار پر محنت کی، ان کا نام گوشہ گمنامی میں کھو نہ جائے۔ نایاب ادبی جرائد کے ضخیم نمبر اب دوبارہ طبع ہونے کی امید کم ہے اور عہدِ رواں کے قاری کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ بھاری بھرکم ضخیم نمبرخریدنے کے بعدان کا مکمل مطالعہ بھی کر سکے۔ ان ساری باتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے ایک ایسی کتاب ترتیب دی ہے جو قاری کو مایوس نہیں کرے گی۔ اور جس آپ بیتی کا اختصار اس کے دل کے تار چھو لے گا وہ مکمل آپ بیتی تلاش کر کے اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

کتاب عقیل عباس جعفری، سیدمعراج جامی، راشد اشرف اور زاہد کاظمی کے نام معنون کی گئی ہے۔ آغاز میں اردو کے بے مثال ادیب مختار مسعود کی ایک خوبصورت تحریرہے۔ ’’موضوع کی وسعت کایہ عالَم ہے کہ ادبیات کے ہر حصے پر محیط ہے۔ تاریخ، عمرانیات، نفسیات، ادب، سوانح، خاکے، مضمون، شہر آشوب، قصیدے اور ہجو۔ موضوع کے تنوع کا یہ عالَم ہے کہ یہ داستان بہ ہر عنوان پھیلی ہوئی ملی۔ مشاہیر اور مشاہیر پرستی، میری زندگی، اس کی سوانح، سرگزشت، اعمال نامہ، ناقابلِ فراموش، گنج ہائے گرانمایہ، ہم عصر، جرات کے چہرے، روشنی کے مینار، دانش مندی کے ستون، عظیم شخصیات، دس بڑے لوگ، سو بڑے آدمی، بڑے آدمیوں کا انسائیکلو پیڈیا۔ اتنے بڑے سرمائے کو پڑھنے کے لیے ایک عمر اور ایک فرصت درکار ہے، یہ دونوں میسر بھی ہوں تو ان کے استعمال اور کتاب کے انتخاب میں احتیاط لازم ہے۔ یہ احتیاط خود نوشت کے سلسلے میں بے حد ضروری ہے اور یہ عادت بے حد مضر ہے کہ ہر بڑے آدمی کی خود نوشت سوانح کو پڑھا جائے۔ رزق ہی نہیں کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کے پڑھنے سے پرواز میں کوتاہی آ جاتی ہے۔‘‘ مختارمسعود نے اس تحریر میں کتاب کے پڑھنے میں احتیاط کی تلقین ہے۔ جس کا اطلاق ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ پر نہیں ہوتا۔

’’آپ بیتیوں کی تلخیص گری‘‘ کے زیرِعنوان محمد حامد سراج نے دلچسپ پیش لفظ تحریر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’زندگی ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اور اسے ہر انسان نے گزارنا ہے اور خود گزر جانا ہے۔ زندگی نے بہر طور گزرنا ہے اور یہ رکتی ہے اور نہ وقت رکتا ہے۔ لیکن کون اسے کس انداز کس رنگ میں گزارتا ہے یہ بات اہم ہے۔ سوچتا ہوں زندگی تو میری بھی بیت چکی اب عمر کا وقت عصر ہے بلکہ عصر بھی ڈھل چکی۔ سب کی عمریں بیت جاتی ہیں میری عمر بھی زمانہ نگل گیا۔ کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے جسے آنے والے زمانوں کے لیے محفوظ کر جاؤں؟ لیکن یہ میری آپ بیتی نہیں بل کہ یہ تو ان نامورلوگوں کی زندگیوں کے انمول لمحات ہیں۔ جنہوں نے زندگی کو جھیلا، جیا، دکھ سکھ کے موسموں سے گزرے بہاریں دیکھیں، خزاں کے موسم تن پر جھیلے۔ اپنی زندگی کے کسی لمحے کورائیگاں نہیں جانے دیا۔ ان کے واقعات، حالات، سانحات، تجربات ان کے نہ رہے، زمانے نے ان سے رہنمائی لی۔ ان کی زندگی روشن تھی وہ روشنی آج بھی راہ نما، کل بھی مشعل ِ راہ۔ آپ بیتی میں کتنے فی صد سچ ہوتا ہے؟ زیبِ داستان کے لیے کتنا مصالحہ ڈالا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن آپ بیتی ایک ایسا آئینہ ہے جس سے آپ بیتی نگار کے ساتھ قاری بھی نہ صرف مطالعے سے لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ وہ واقعات اور تجربات کے آئینہ میں اپنی زندگی کے خال و خد بھی پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ بیتی کا کوئی جملہ آپ کی زندگی کا رُخ بدل سکتا ہے۔ آپ بیتیوں کے مطالعہ سے زندگی جینے کا حوصلہ ملتاہے۔ آپ بیتی میں ایک قلم کار آپ سے اپنی زندگی کی کتھا کہتاہے۔‘‘

آپ بیتیوں کی تلخیص کے سلسلے میں حامد سراج کی امرتا پریتم سے بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ ’’محمد حامد سراج تم رسیدی ٹکٹ کے سائز کو اور کتنا کم کر سکتے ہو؟‘‘ مرتب نے جواب دیاکہ ’’آپ سے کس نے کہا کہ ہم رسیدی ٹکٹ کے سائز کوکم کر رہے ہیں۔ سائز وہی ہے اور ہمیشہ وہی رہے گا۔ ہم نے رسیدی ٹکٹ کی روح کو مجروح نہیں ہونے دیا۔‘‘ امرتا بولیں میں پھر بھی ایک نظر اپنی آپ بیتی کا اختصار دیکھنا چاہوں گی۔‘‘ دیکھ کر امرتا پریتم نے کہا کہ ’’تم نے جس جگر سوزی سے میری آپ بیتی میں سے عرق کشید کیا ہے میرا جی خوش ہو گیا۔‘‘

رزق ہی نہیں کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کے پڑھنے سے پرواز میں کوتاہی آجاتی ہے۔

شورش کاشمیری کی آپ بیتی ’’بوئے گل نالہء دل دودِچراغِ محفل‘‘ کا مطالعہ حامد سراج نے کہیں 1978ء میں کیا تھا۔ اب جو امر شاہد نے شورش کی آپ بیتی بھجوائی تو مکرر مطالعہ سے پوری تاریخ بولنے لگی۔ تلخیص گری میں پسینہ آ گیا۔ لیکن اپنی سی کوشش کی۔ پھرقتیل شفائی کی آپ بیتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے نواسے نیرحیات قاسمی کا کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے احمد ندیم قاسمی صاحب کی آپ بیتی نہیں ہے۔ ان کی دو خواہشات پوری نہ ہو سکیں جس کا اظہار بھی انہوں نے کیا۔ ایک اپنی آپ بیتی اور دوسرا مکمل ناول۔ بہترحال مختلف مضامین، ان کی اپنی تحریر شدہ خاکوں کی کتب میں کسی حد تک آپ بیتی اور یادوں کا پہلو موجود ہے لیکن اہتمام سے ایسا کچھ تحریر نہ کر پائے۔‘‘

حامد سراج صاحب نے کوشش جاری رکھی۔ روزنامہ امروز میں شائع ہونے والی یاد داشتوں کا ایک باب اردو اکیڈمی بہاولپور نے مجلہ ’’الزبیر آپ بیتی نمبر‘‘ میں شامل ہے۔ جو ہاتھ آیا، وہ خاصے کی چیز ہے۔ یہ ایک ریاستی کالج کی روداد ہے۔

اسی طرح معین الدین عقیل صاحب نے آپ بیتی کی تاریخ کے بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے بتایاکہ ’’اردو میں خود نوشت سوانح عمری کی تصنیف کے عین مقصد سے لکھی جانے والی اولین خود نوشت کے تعین کے معاملے میں متعدد مبسوط مقالے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی مسلمہ رائے سامنے نہیں آئی۔ ہاں کسی خاتون کی لکھی ہوئی ایسی خود نوشت کا معاملہ ’’بیتی کہانی‘‘ مصنفہ شہر بانو بیگم کے متعارف ہونے کے بعد اب اختلافی نہیں رہا۔ یہ خود نوشت پٹودی کے نواب اکبر علی خان کی دختر نے 1885ء میں لکھی۔ جسے انہوں نے مفصل تعارف کے ساتھ مرتب اور شائع کیا۔ عبد الغفور نساخ کی ’’خودنوشت سوانح عمری‘‘ اور جعفر تھانیسری کی ’’تاریخ عجیب المعروف بہ کالا پانی‘‘ کے بارے میں شہادتوں کے مطابق 1886ء میں شائع ہوئیں۔ تو ’’بیتی کہانی‘‘ ہی اردو کی اولین خود نوشت شمار کی جاتی ہے۔‘‘

ان تمام واقعات سے ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ کی تلخیص اورمرتب کرنے کے لیے محمدحامدسراج کی تلاش وجستجو اورسخت محنت واضح ہوتی ہے۔ قاری کویہ علم نہیں ہوتاکہ ایک کتاب کتنے مراحل سے گزرتی ہے۔اس پر کتنی محنت کا اندراج ہے۔ کتنی آنکھوں نے اپنی بینائی لٹائی ہے۔کتنی راتیں کاٹ کر اسے سنوارا گیا ہے۔ کتنے مہینے برس مشاورت کا عمل جاری رہا۔تب کہیں جاکر وہ پریس کا درد سہتی بائینڈنگ کے عمل سے گزرتی جلد سازکے ہاتھوں سنورتی قاری کے ہاتھ میں پہنچتی ہے۔

’’نامورادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘کی پہلی آپ بیتی اردوکے عظیم شاعرمیرتقی میرکی ہے۔میرنے ’’میرے بزرگ‘‘ کے زیر ِعنوان ابتدا میں اپنے آباواجدادکے بارے میں بتایاکہ ’’میرے آباواجدادملک حجازکوخیربادکہہ کر،طرح طرح کی مشکلیں اور مصیبتیں جھیلتے ہوئے ہندوستان میں پہلے پہل دکنی ساحلوں کی طرف سے آئے تھے اوریہاں یہ پوراقبیلہ احمد آباد گجرات میں آکربس گیاپھران میں سے کچھ تووہیں رہ پڑے اورکچھ نے آگے بڑھ کرتلاشِ روزگارکاقصدکیا،چنانچہ میرے جداعلٰی دارالخلافہ اکبرآبادآگرہ آگئے۔لیکن آب وہواکی یہ اچانک تبدیلی انہیں راس نہ آئی اوربیمارپڑگئے۔اسی بیماری میں ان کاانتقال ہوا،انہوںنے اپنی یادگارایک لڑکاچھوڑاتھا جومیرے داداتھے۔ میرے دادابہت دنوں تک روزگار کی جستجو میں سرگرداں رہے،پایانِ کارانہیں اکبرآباد کے نواح میں فوج داری کاعہدہ مل گیا۔وہ سادہ زندگی گزارتے تھے ان کی عمرپچاس ہوگی کہ بیمارپڑگئے۔کچھ دنوں دواداروکی،مگرپوری طرح صحتیاب نہ ہوئے تھے کہ گوالیارکاسفرپیش آیا۔ زیادہ چلنے پھرنے اوربھاگ دوڑسے مرض کادوبارہ حملہ ہوااور وہ گوالیارہی میں انتقال فرماگئے ان کے دولڑکے تھے بڑے کے دماغ میں خلل تھا یہ جوانی ہی میں مرگئے،انہوں نے اپنی کوئی اولاد نہیں چھوڑی،دوسرے میرے والد تھے۔ انہوں نے فقرودرویشی اختیارکی اور مروجہ علومِ ظاہری کی تحصیل کے لیے جن کے بغیرعالمِ معنی تک پہنچنا دشوار ہے، حضرت کلیم اللہ اکبرآبادی کی خدمت میں پہنچے جوایک خدا رسیدہ بزرگ تھے،حضرت کی خدمت میں رہ کر میرے والد نے ترک وتجریداختیارکی اورکڑی ریاضت کے بعداپنے پیرومرشدکی رہنمائی میںدرویشی کی اعلٰی منزلوں تک پہنچ گئے۔

اسی طرح پروفیسررشیداحمدصدیقی کی بیٹی سلمٰی صدیقی کی آپ بیتی بہت اہم ہے کہ جس سے کئی سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔ جیسے کیاکرشن چندرنے ان سے نکاح سے قبل اسلام قبول کیاتھا؟ ۔۔کیاسوشلزم کمیونزم کے اپنے افسانوں ناولوں میں پر چارک ادیب کے خیالات ، بنیادی فکر میں کوئی تبدیلی آئی تھی؟

سلمٰی صدیقی کی آپ بیتی کایہ حصہ دیکھتے ہیں۔’’کرشن جی سے پہلی ملاقات دہلی میں مجازنے کروائی۔ہماری شادی نینی تال میں چند مشترکہ دوستوں کی موجودگی میں ہوئی تھی۔یہ عام شادی نہیں تھی۔قدم قدم پررکاوٹیں درپیش تھیں۔ہندومسلم فساد کا بھی اندیشہ تھا۔کرشن جی کہتے ہندو مسلم فساد ہماری شادی سے پہلے بھی ہوئے ہیںاوربعد میں بھی ہوتے رہیں گے۔ہمیں فسادات کا محرک وموجدکامنصب نصیب نہیں ہوگا۔میں نے کہاکہ شادی کیسے ہوگی؟ کرشن جی بولے ۔جیسی ہوتی ہے! میں کہتی لیکن اماں تونکاح کوہی شادی مانتی ہیں۔کرشن جی کہتے توہم بھی نکاح کرلیں گے۔بالآخر ایک دن ایک دوست رام پور سے ایک مولوی اور تین گواہ لے آئے، بعدنمازعصر سوئس ہوٹل نینی تال میں وہ واقعہ ہواجسے نکاح کہتے ہیں۔نکاح سے قبل مولوی نے پوچھا۔جناب کانام ،جناب نے جواب دیا۔’’کرشن چندر‘‘۔مولوی صاحب اور ان کے رفقاء چونک گئے۔ حالات معلوم ہونے پرمولوی صاحب نے پوچھاکہ ’’آپ نے اچھی طرح غور کر لیا۔ ‘‘بولے کہ ’’ آپ کے آنے سے قبل یہی کر رہا تھا۔ مشرف با اسلام ہونے کا قصد ہے۔‘‘ پوچھا کہ ’’اسم شریف کیا تجویز فرماتے ہیں جناب؟۔‘‘ کرشن جی نے میری طرف دیکھا۔میں توروہانسی ہوگئی۔میں نے کہاکہ ’’کیوں اس نام میں کیابرائی ہے۔آخراتناخوبصورت نام ہے۔ مولوی صاحب نے کہاکہ ’’دیکھوبی بی امورشرعیہ میں قیل وقال کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ اللہ کا نام لے کر اس کارِ ثواب سے سبکدوش ہونا چاہئے ۔ ‘‘ ہائے ہائے کیاقیامت وقت تھا وہ ۔ہمارے اچھے بھلے رشتے کوکارِثواب بتایا جارہاہے۔میں نے کہا کہ’’ اس میں کارِ ثواب کی کیابات ہے۔‘‘ بولے ۔’’جی؟آپ کوایک حج کاثواب ملے گابی بی۔‘‘اب تو میری حالت تباہ ہو گئی۔ میں دوسرے کمرے میں جا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی! جب رو دھو کے منہ پونچھ کے لپ اسٹک گہری کر کے باہر نکلی تو کرشن جی بیٹھے بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ پتا چلاکہ کرشن جی نے اپنا نام وقار الملک تجویز کیا ہے۔ میں پھر دوسرے کمرے میں آ گئی۔ کرشن جی میرے پیچھے پیچھے آئے تو میں نے جھنجھلا کے کہا کہ ’’ یہ بھی کوئی نام ہوا آخر۔‘‘

یہ ہے حقیقت کرشن چندر کے مسلمان ہونے کے افسانوں کی ۔ اسی طرح کی بے شمار کہی اور ان کہی ، ہونی اور انہونی ہمارے جانے پہچانے ادیبوں اور شاعروں کی آپ بیتیوں میں بھی موجود ہیں۔جو قاری کو کتاب سے الگ نہیں ہونے دیتی۔ کتاب کی آخری آپ بیتی صاحبِ کتاب محمدحامد سراج نے زیرطبع آپ بیتی ’’ہم بیتی ‘‘ کاایک باب ہے۔لکھتے ہیں کہ ’’ یہ کل کی بات ہے یہ کوئی قصہ پارینہ نہیں میں اپنی خانقاہ کے مدرسہ سے چھٹی کرکے صحن میں داخل ہوا، وہ بھی بھاگتا ہوا کیوں کہ مجھے بیری سے لال لال بیر چننا تھے۔ دیکھا تو دادی اماں توے پر چپاتی ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے مجھے بلا لیا کہ پہلے روٹی کھا لو۔ انکار کی مجال نہ تھی سو ان کے پہلو میں پیڑھی پر بیٹھ گیا۔ توے سے گرم گرم چپاتی اتری اس پر دادی اماں نے مکھن کا پیڑہ رکھا ساتھ ہی چٹکی بھر نصیحت کی چٹنی رکھ دی کہ بیٹا انسان جھوٹ بولے تو زبان کالی ہو جاتی ہے۔ بے شک شیشے میں اپنی زبان الٹ کر دیکھ لینا۔ اسی روز بوقتِ عصر چھپ کر میں سنگھار میز کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ زبان جو الٹ کر دیکھی تو تھوڑی سلیٹی رنگت نظر پڑی۔ دل میں ڈر بیٹھ گیا۔ کچھ دن بعد ڈرتے ڈرتے دادی امان کو بتایا کہ زبان نیچے سے تھوڑی سی سلیٹی ہے۔ دیکھانا۔ دادی اماں نے جھٹ کہا اگرجھوٹ بولنے پر قابو نہ پایا تو یہ پوری کالی ہو جائے گی۔ صدقے اس اندازِ تربیت پر! بچپن ہی میں مزاج سے جھوٹ نکل گیا۔ اللہ نے ہمیشہ کے لیے جھوٹ سے محفوظ کر دیا۔‘‘

یہ آپ بیتی کا ایک ٹکڑا ہے۔۔ٹکڑے جوڑے جائیں تو زندگی عکس در عکس اپنی چھب دکھاتی ہے ۔آپ بیتی رسم کرنا اتنا آسان بھی نہیں سو ہم پہلو بچا کے زندگی جھیل آئے۔اب عم زاد بشارت احمد، محبی امرشاہد اوراے ڈی چشتی بھائی ہے۔پاک پتن میں شہدمیں گوندھا ہوا۔ان کااصرار پرشور،پرجوش اورمیں اکیلا،میں نے تینوں سے ہارمان لی کیوں کہ اسی ہارمیں جیت کی چھب نظرپڑی اورمیں نے اپنی آپ بیتی کا بہ عنوان’’ہم بیتی‘‘ ورق ورق ترتیب میں لانے کی اپنی سی کوشش شروع کر دی۔ اس کا پہلا باب بہ عنوان’’مولوی خان کاکھوہ‘‘ اس کتاب میں شامل ہے۔

محمد حامد سراج کے پرستاربے چینی سے ان کی آپ بیتی’’ہم بیتی‘‘ کے منتظر ہیں۔جس کی جھلک انہوںنے ’’نامورادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ میں دکھائی ہے۔

’’نامورادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ کا جاں گسل مرحلہ طے کرنے کے دوران محمدحامدسراج اورجہلم بک کارنرکے امرشاہد نے ایسی کچھ اورکتب بھی ترتیب دینے کافیصلہ کیا۔محمدحامدسراج صاحب تحریرکرتے ہیں کہ’’آپ بیتیاں جواس وقت میری میز پر چائے کے ساتھ موجود ہیں اور جنہیں ارادہ ہے کہ آنے والے چھ ماہ میں مکمل کرلوں ان کاعنوان تجویزکیا ہے ’’مشاہیر علماء کی آپ بیتیاں‘‘۔ اس میں دس قدآورشخصیات ہیں۔جن پرکام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہرآپ بیتی کے مطالعہ باوضوکیاجائے اورمودب ہوکرانہیں تلخیص کے عمل سے گزاراجائے کہ ہم ایسے گنہ گاروں کی بخشش کاسامان ہو جائے۔ ان دس شخصیات میں مولاناحسین احمدمدنی ؒ،مولانامناظراحسن گیلانیؒ ، مولاناعبدالسلام ندویؒ،مولاناعبدالمالک مجاہدؒ، شیخ الحدیث مولاناذکریاؒ، مولانامنظوراحمدنعمانیؒ، مولاناخرم مرادؒ، مولاناابوالکلام آزادؒ ،مولاناعبدالماجددریا آبادیؒ اور مولانا حبیب الرحمٰن شیروانیؒ شامل ہیں۔

مشاہیرعلماء کی آپ بیتیوں کے بعدمیراارادہ’’حکمرانوں کی آپ بیتیاں‘‘ پروقت صرف کرنے کاہے۔ساتھ ہی نایاب آپ بیتیاں کاخاکہ ذہن میں ترتیب پاگیاہے اوربشرطِ زندگی آپ کے تخلیقی ذہن تک ہم ’’بیوروکریٹ کی آپ بیتیاں‘‘ اور ’’جرنیلوں کی آپ بیتیاں ‘‘ بھی ضرور پہنچائیں گے۔’’مشاہیرعلم ودانش کی آپ بیتیاں‘‘ حال ہی میں شائع ہوچکی ہے۔ جہلم بک کارنر اورمحمدحامدسراج کی ترتیب دی ہوئی دیگر کتب کے بھی شائقین علم وادب منتظر ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply