اسلامی بینکنگ اور درپیش مسائل ۔ راو جاوید

0

اسلامی طرز معیشت بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر حلال کمائی میسر ہو تو اس سے انسان بڑی پاکیزہ زندگی بسر کرسکتا ہے ۔ پاکستان میں اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے خاصی جدوجہد جاری ہے ۔ اگرچہ اس پر بہت سی آراء موجود ہیں کہ یہ اقدامات بالکل ہی ناکافی ہیں ۔ لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ نہ کچھ ہونا بہتر ہے ۔

اسلامی بینکوں نے 2002 سے آغاز کیا اور آج بینکاری میں تقریبا بارہ فیصد سے زائد کے حصہ دار ہیں ۔ ریاستِ پاکستان نے 1973 کے آئین  (آرٹیکل 38) کے مطابق ربا (سود) کو ختم کرنے کی حامی بھری تھی ۔ لیکن سود کا مکمل خاتمہ آج تک نہ ہوپایا ۔ اس کیلئے عملی کام 1980 کی دہائی میں کیا گیا ۔ ازاں بعد 2002ء سے اسلامی بینکوں کا قیام عمل میں آیا جس سے باقاعدہ کام کا آغاز ہؤا ۔ اب یہ کام مسلسل بڑھ رہا ہے ۔

سٹیٹ بینک نے جب سے اپنا تزویراتی منصوبہ عمل (سٹریٹجک پلان) 2014ء تا 2018ء پیش کیا ، تب سے پاکستان میں حقیقی اسلامی بینکاری کا یقین پختہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس کا کریڈٹ اسلامی یونیورسٹی ، اسلامی اداروں ، اسلامی بینکاروں اور اسلامی تحریکوں کو جاتا ہے ۔ اس منصوبے کے مطابق اسلامی بینکوں کیلئےمضاربہ اور مشارکہ کیلئے منصوبہءعمل (ایکشن پلان) بنایا جائے گا اور اس پر کام کیلئے خصوصی مراعات دی جائیں گی ۔ یاد رہے کہ اب تک بینک زیادہ تر مرابحہ پر کام کررہے تھے ۔ مرابحہ میں نفع نقصان کی بنیاد پر شراکت  داری نہیں ۔ یہ ایک طرح کی خرید و فروخت ہے جس میں بینک منافع حاصل کرتا ہے جبکہ بینک تجارتی کم اور مالیاتی زیادہ ہے۔ اسے صرف تجارتی طریقہ کار کا استعمال کم کرکے مالیاتی طریقے زیادہ استعمال کرنے چاھئیں۔ اگرچہ اسے علماء نے جائز قرار دیا ہے۔ مگر مرابحہ  کے بینکنگ میں استعمال پر بہت سے اسلامی مالیاتی اداروں اور علماء کو اعتراض تھا ۔ اس مسئلے کے حل کیلئے سٹیٹ بینک نے منصوبہ عمل میں بہت پیش رفت دکھائی ہے۔ جس میں شراکت داری کے طریقہ کار (مضاربہ اور مشارکہ ) کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے شقیں اور طریقہ کار شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا مرکزی بینک ہونے کے ناطے سٹیٹ بینک اسلامی بینکاری پر انقلاب لانا چاھتا ہے۔ اگرچہ اس کیلئے عملی طور پر خاصا وقت درکار ہے ، مگر آغاز بھی خوش آئند ہے۔

پاکستانی فیصلہ ساز اداروں کے اس تزویراتی منصوبے کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ امسال ستمبر 2016 کی اسلامی بینکنگ کی رپورٹ کے مطابق مرابحہ کا فیصدی حصہ قریبا 25 فیصد سے کم ہوکر 17 فیصد رہ گیا ہے۔ جبکہ مشارکہ 12 فیصد اور ڈمینیشنگ مشارکہ 38 فیصد کے قریب ہے۔ اجارہ اور استصناع بھی بالترتیب آٹھ اور سات فیصد ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں تمام انداز کے اسلامی مالیاتی طریقے مؤثر ہیں۔ علاوہ ازیں ان میں سے مرابحہ کم ہوتا جارہا ہے۔ جس سے اسلام کے معاشی طریقہ کار پر عمل میں اضافہ ہؤا ہے۔ چونکہ مشارکہ اور ڈمینیشنک (بتدریج) مشارکہ سے نفع نقصان میں حصہ داری لازم آتی ہے، جو کہ اسلامی مالیاتی طریقہ کار کا بنیادی اصول ہے، اس لئے پاکستان یہ ہدف بھی حاصل کرچکا ہے۔ اسلامی بینکاری پر ہونے والا یہ اعتراض بھی بتدریج دور ہوچکا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ اسلامی بینک اپنے فرائض کی بجاآوری میں پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کو بھی اپناتے جارہے ہیں۔ منافع بہتری کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کی پاسداری بھی بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ یہی صالحیت اور صلاحیت کا امتزاج ہے جس سے ایک اسلامی معاشرہ فلاح و کامرانی کے دینی و دنیاوی تصور ہر عمل کرکے اخروی نجات بھی حاصل کرتا ہے۔

تمام دنیا میں جہاں اسلامی معاشی ادارے ، بینک اور انشورنس کمپنیاں ، پونے دو  کھرب ڈالر سے زائد کا کاروبار کررہے ہیں ، وہاں ایک اندازے کے مطابق اسے 4 کھرب ڈالر تک اسے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ اسلامی اصولوں اور اداروں کی صرف موجودگی تسلیم کرلینا ہی بڑی بات ہے ۔ ایسے میں اسلامی بینکیگ دنیا میں نئے انداز کے کاروبار کے طور پر سامنے آرہی ہے ۔ لوگ لفظ حلال کی نئی جہتوں سے بھی آشنا ہورہے ہیں ۔ دنیا کے تمام اہم ممالک میں اسلامی بینک کام کرتے ہیں ۔ اس شعبہ میں 15 تا 20 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی بھی ہورہی ہے ۔

اسلام نے معیشت سے کہیں زیادہ معاشرت اور قانون پر توجہ دی ۔ یوں بھی مسلمانوں نے کرنسی پر کم توجہ دی ۔پہلا اسلامی سکہ اموی سلطان عبدالملک بن مروان نے جاری کیا ۔ یعنی مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے قریب 75 سال بعد۔ اس قدر دیری کی شرعی اور عملی وجوہات بھی ہونگی۔ اسلام عملی دین بھی ہے، اس لئے عملی حقائق کی راشنی میں مسائل کا حل چاہتا ہے۔ ایسے ہی اس حقییقت کا فہم حاصل کرنا چاھئیے کہ سکہ دیر سے جاری کرنا کیوں ضروری تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن پاک میں سکہ جاری کرنے کے احکامات آجاتے۔ لیکن اس سے قبل معاشرتی اور سیاسی قوانین نافذ کئے گئے ۔ جب اسلامی ریاست مستحکم ہوگئی اور ایک وسیع علاقہ زیرنگیں ہوگیا، تو اسلامی سکہ جاری کیا گیا۔ پاکستان میں اسلامی سیاست کی بنیاد پر کوئی پارٹی وفاقی حکومت قائم نہیں کرپائی۔ معاشرتی طور پر ذاتوں قبیلوں اور بڑے خاندانوں کے اثرات کہیں زیادہ اہم ہیں۔ مسجد کا عملی کردار انتہائی محدود ہے۔ ایسے میں تن تنہا صرف اسلامی بینکاری اور اسلامی معیشت کا سو فیصد اسلام پر عمل کرنا قریبا ناممکن ہے۔ خصوصا جب عدالتی قوانین بھی اسلام سے متصف نہیں اور ملزمان کو عدالت میں حاضر کرنا اور انہیں سزائیں دلوانا خاصا مشکل کام بن گیا ہؤا ہے، اس لئے مالیاتی مقدمات کا بھی فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ اس لئے اسلامی مالیاتی طریقہ کار پر عمل اور اس کا نفاذ ناممکن ہے۔ ایسے میں پاکستانی معاشرے کی سیاسی ، سماجی اور قانونی یا سیاسی مشکلات اور کمزوریوں کو سمجھتے ہوئے مالیاتی اسلام کا نفاذ ہی عقل مندی ہے۔

پاکستان میں 22 اسلامی مالیاتی ادارے اور بینک کام کررہے ہیں ۔  مالیاتی اداروں سے مراد تکافل (انشورنس) کمپنیاں ہیں ۔ انکی برانچیں 2226 کے لگ بھگ ہوچکی ہیں ۔ پچھلی سہ ماہی میں سرمایہ کاری 1788 ارب روپے جس سے اسکا بینکنگ میں حصہ 8۔11 (گیارہ اعشاریہ آٹھ) فیصد ہوگیا۔ اسلامی بینکوں کے کل ڈپازٹ بھی بڑھکر 1476 ارب روپے ہوچکے۔

دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی اداروں میں پاکستان  1980 کی دہائی میں تیسرے نمبر پر تھا لیکن اب کم ہوکر نویں نمبر پر چلا گیا ہے ۔ 2013ء میں ایران ، ملائشیا اور سعودی عرب بلترتیب پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے ۔ اس سے اندازہ کیا اسکتا ہے کہ پاکستان کے اسلامی بینکوں کو اپنی مارکیٹ میں عملی مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ سیاسی استحکام میں کہیں کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کئی جنگوں کا میدان بنا یا اس کے اریب قریب خاصی شدید عالمی سیاسی محاذ آرائی ہوئی۔ جس کی بناء پر پاکستان ترقی کے عمل میں خاصا پیچھے چلا گیا۔ اس کا لامحالہ اثر مالیاتی میدان میں ہؤا۔ ظاہر ہے کہ جب مالیاتی ترقی متاثر ہوگی تو اسلامی مالیاتی سلسلہ بھی متاثر ہوگا۔ مگر اسلامی مالایت کے کچھ شعبوں میں پاکستان کو ترقی ضرور دکھانا چاھئیے تھی۔

موجودہ اہداف یہ ہیں کہ اسلامی بینکوں کے ڈپازٹ 12٪ سے 15٪ تک بڑھائے جائیں جو کہ پچھلے سال (2016ء) کے شروع میں دس فیصد کے قریب تھے اور اب بڑھکر 12 فیصد کے قریب جاپہنچے ہیں ۔ یاد رہے کہ 2007 میں یہ صرف تین اعشاریہ آٹھ  فیصد تھے ۔ یہ ہدف حاصل ہونا عین ممکن ہے ۔ کیونکہ میزان بینک سالانہ تیس فیصد کے حساب سے ترقی کررہا ہے ۔۔ جبکہ 89٪ لوگ بینک کے ڈپازٹ ہی نہیں رکھتے ۔ ایسے میں اسلامی بینکوں کے آگے بڑھنے کے بہت مواقع ہیں کیونکہ میدان خالی ہے ۔ مگر دوسرے اسلامی ممالک کہیں آگے بڑھ چکے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں اسلامی بینکاری 20 فیصد جبکہ ملائشیا میں 30 فیصد ہے ۔ لہٰذا ہمارے اسلامی بینکوں کو بھی اس میدان میں ترقی دکھانا ہوگی۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ غیر اسلامی بینکوں کو قانونی طور پر محدود کردیا جائے یا نئے غیر اسلامی بینکوں کو اجازت نامہ ہی نہ دیا جائے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسلامی بینک اپنے منافع میں اضافہ دکھائیں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اسلامی بینک گھر گھر جاکر مہم چلائیں اور ڈپازٹ اسلامی بنیادوں پر کھلوائیں۔ لیکن یہ ناممکن ہے جب تک اس کیلئے اسلامی سیاسی اور سماجی تنظیمیں، مساجد اور مدارس اس کیلئے باقاعدہ مہم نہیں چلاتے۔ اسی مہمات تما دینا میں چالئی جاتی ہیں۔ اگر ان تینوں طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ بھی اپنایا گیا تو پاکستان میں اسلامی بینکاری کا انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔

اسلامی بینکوں کے مسائل بھی خاصے ہیں ۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 54٪ برانچیں صرف پانچ بڑے شہروں تک محدود ہیں ۔دوسرا یہ کہ پاکستان کے عام بینکوں کی طرح نادھندہ رقم بڑھ کر 20 ارب روپے ہوگئی ۔ اسکا زیادہ حصہ ریکور نہیں کیا جاسکے گا ۔ ناقابل وصول رقم کا بڑھ جانا ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن جیسے جیسے بینک کا کروبار بڑھتا ہے ویسے ویسے اسکی ناقابل وصول سرمایہ کاری کی رقم بھی بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہ تاثر کہ اسلامی بینک نام کے اسلامی ہیں ۔ اس تاثر کو ختم کرنے کیلئے مضاربہ اور مشارکہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ خاصا مشکل ہے ۔ کیونکہ رقم ڈوب جانے کی صورت میں پاکستان کا عدالتی نظام کارگر نہیں ہوگا  ۔ایسے میں مشارکہ اور مضاربہ میں کام کرنے کیلئے خاصی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ پھر اسلامی بینکوں کی پراڈکٹ بہت کم ہیں ۔

اگر پاکستان میں اسلامی مالیاتی عدالتیں علیحدہ سے شروع کردی جائیں تو بہت سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ہی خالص اسلامی بنیادوں پر مالیاتی معاملات کا فیصلہ مالیاتی قاضی عدالت سے ہوگا اور پاکستان اس میدان میں سبقت لے جائیگا۔ کیونکہ پاکستان میں اسلامی مالیات بڑھکر دو ہزار ارب کے قریب جاپہنچی ہیں تو ایسے میں بہت سے مالیاتی معاملات ہیش آتے ہونگے جن سے نمٹنے کیلئے مالیاتی عدالتوں کا اسلامی بنیادوں پر قیام ضروری ہے۔  

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: