درخت خدا کے شاعر ہیں ——– اورنگ زیب نیازی

0
  • 208
    Shares

نہر دوارے ساونتوں کے جسموں کو جب قاتل تیشے چیر رہے تھے تب ایک کمرے کے گھٹن زدہ ماحول میں زندگی بتانے والے درویش شاعر نے اس قتل پر دہائی دی تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ درخت خدا کے شاعر ہیں۔ درختوں کے پتے اور پھول خدا کی نظمیں ہیں۔ درخت زندگی کی علامت ہیں، درختوں کو ہر ذی روح کی زندگی کی ضمانت بنا کر زمین پر اتارا گیا ہے۔ تصور کریں اگر صرف دس منٹ کے لیے روئے زمین پر سے تمام درخت اٹھا لیے جائیں؟نتائج کا تصور کسی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے ہزاروں گنا زیادہ ہولناک ہے۔

کون نہیں جانتا کہ درخت پیغمبر مثال ہیں جن کی عمر کا ایک ایک لمحہ اور جن کے وجود کا ایک ایک حصہ انسانوں اور دیگر زندہ مخلوقات کی زندگی اور فلاح کی ضمانت دیتا ہے۔ حتٰی کہ موت کے بعد بھی ان کا فیض کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے۔ ہم یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ پیغمبروں کو آزار پہنچانے والوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ترقی گزیدہ عہد کا مشینی انسان کچھ بھی جواز پیش کرے لیکن کراچی کی سڑکوں پر ہیٹ اسٹروک سے جھلستے ہوئے بدن اور لاہور کی گلیوں میں سموگ کی بدولت کھانستے، کراہتے ہزاروں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے کسی عذاب ہی کی تفسیریں ہیں۔

انسانوں اور درختوں اور تمام زندہ جانوں کے پیدا کرنے والے کے محبوب پیغمبر اعظمْﷺ نے کیا خوبصورت پیغام دیا ہے کہ(مفہوم:)اگر تمھارے ہاتھ میں ایک بیج ہو اور تم اسے زمین میں بونے کی تیاری کر رہے ہو اور عین اسی وقت صورِ اسرافیل پھونک دیا جائے اور لوگ دیوانہ وار میدانِ حشر کی جانب دوڑنے لگیں تو تم پرواہ مت کرو اور وہ بیج زمین میں بوتے جائو۔ اور پھر درختوں کو قتل کرنے والوں کو یہ وعید بھی سنا دی کہ درخت (بیری) کو کاٹنے والے جہنم میں اوندھے منہ پڑے ہوں گے۔ حیرت ہوتی کہ معاشرے کی اسلامی بنیادوں پر اصرار کرنے والے اپنے پیغمبر ﷺ کے ان صریح احکامات کی توہین پر کسی حد کا مطالبہ نہیں کرتے۔ ایک سوال یونہی سر اُٹھاتا ہے کہ کیا کبھی اسلام آباد کے ڈی چوک میں اس توہین پر بھی کوئی دھرنا ہو گا؟

درخت پیغمبر مثال ہوتے ہیں اور پیغمبروں کو آزار پہنچانے والے خدا کا عذاب جھیلتے ہیں؛ درخت خدا کے شاعر ہوتے ہیں اور شاعروں کو قتل کرنے والوں کی نسلیں دُکھ بھوگتی ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کہتا ہے اگلے چھے سو سال میں زمین کا درجہء حرارت اس قدر بڑھ جائے گا کہ یہاں کسی مخلوق کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ ہاکنگ کی بات درست لیکن ہمیں کسی الفا سینٹوری سیارے پر جانے کی ضرورت نہیں، ہم درخت لگا کر اور درخت بچا کر اسی زمین کو گل رنگ بنا سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، کم ہوتی ہوئی توانائی اور ماحولیاتی آلودگی ساری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ہم نے تو صرف اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔ اور پڑوسی ملک میں ’’چپکو تحریک‘‘ کی صورت میں ایک روشن مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر دیہات کی سادہ لوح، ان پڑھ عورتیں درخت بچائو تحریک کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔

چپکو تحریک کا قصہ یوں ہے کہ ۲۶ مارچ ۱۹۷۴ء کو ہندوستان کی ریاست اترا کھنڈ، ضلع چمولی کے ایک دور افتادہ گائوں میں جنگل کی کٹائی کے لیے، سرکاری افسروں اور ٹھیکے داروں نے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا جب گائوں کے تمام مرد کسی کام سے باہر تھے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ کمزور عورتیں زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکیں گی مگر خوف اور لالچ سے بے نیاز سادہ لوح عورتیں درختوں کے تنوں کے ساتھ لپٹ گئیں اور اس حالت میں ایک پورا دن اور پوری رات اپنے درختوں کی حفاظت کی، جب تک کہ ان کے مرد لوٹ نہیں آئے۔ اس تحریک کا اثر پورے ہمالیہ کے دامن میں پھیلا، یہ تحریک کئی برس تک جاری رہی، آخر کار اندرا گاندھی کی حکومت نے ہتھیار ڈال دیے اور ۱۹۸۰ء میں اگلے پندرہ سال کے لیے ہمالیہ ریجن میں درختوں کی کٹائی پر پابندی لگا دی گئی۔ اسی تحریک سے وابستہ سندر لال بہوگنا نے دو سال میں پانچ ہزار کلو میٹر کا پیدل لانگ مارچ کر کے دنیا کو ماحول دوستی اور درختوں سے محبت کا پیغام دیا۔

کیا ایک لانگ مارچ درختوں کے لیے یعنی اپنے اور اپنے بچوں کے لیے، گلگت سے کراچی تک نہیں کیا جا سکتا؟ آپ سڑکیں، پل اور میٹرو ضرور بنائیں کہ یہ بھی انسانوں ہی کی ضرورت ہے لیکن ان کے بدلے ہمارے پھیپھڑوں کی دھونکنی میں مٹی، دھول، گردو غبار اور کاربن تو مت جھونکیں۔ آپ وطن عزیز کے پہاڑوں، میدانوں اور نا قابلِ کاشت زمینوں میں مناسب درخت لگائیں۔ آپ تمام سرکاری، پرائیویٹ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دوسرے اداروں کو مخصوص تعداد میں درخت لگانے کا پابند کریں۔ آپ ملک میں کم از کم دس سال کے لیے درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائیں، اگر کہیں درخت کاٹنا نا گزیر ہو تو اس جگہ کم از کم دو نئے درخت لگائیں۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو خبردار رہیں کہ درخت پیغمبر مثال ہوتے ہیں اور پیغمبروں کو آزار پہنچانے والے خدا کا عذاب جھیلتے ہیں؛ درخت خدا کے شاعر ہوتے ہیں اور شاعروں کو قتل کرنے والوں کی نسلیں دُکھ بھوگتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: