ہماری وراثت۔۔۔حسام درانی

0

 پچھلے دنوں ایک ویب سائیٹ پر ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں راقم نے اپنے آپ کو جنریشن ایکس (Generation X) کا ایک رکن کہا جو کے 70 سے 1980 کی دہائی میں پیدا ہوۓ، اور دلائل کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا کے اس وقت دنیا میں جتنی بھی ایجادات اور ترقی ہوئ اور ہو رہی ہے وہ اسی دور میں پیدا ہونے والے مرد و خواتین کے ہاتھوں ہے۔ اور ان کو وراثت میں جو ٹیکنالوجی اور مشینری ملی انہوں نے اس میں بے انتہا جدت لانے کے ساتھ ساتھ اس کو انتہائی ارزاں قیمت  پر عام انسان کے ہاتھوں تک پہنچا دیا۔ مثلا بلب کو ہی دیکھ لیں کہاں سے کہاں تک اس میں جدت آ گئی اسی طرح زراعت، انسانی اور حیوانی ادویات کے ساتھ ہوائی جہاز ،خلائی جہاز ،انڈسٹری ،تعلیم ،جنگی ہتھیار الغرض دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں اس نسل نے حصہ نہ ڈالا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کے وہ سب چیزیں یا ان کا ناقص علم ہماری اس نسل کو وراثت میں ملا تھا جس نے ترقی کی انتہائی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان ہی وراثتی اثاثوں میں ایک اثاثہ کرپشن بھی ہے جس کو ہم لوگ بالکل ہی بھول جاتے ہیں یا شاید اس موضوع پر قلم اٹھانا Taboo سمجھتے ہوں۔ اصل میں ہم لوگ ماضی پرست ہیں ہم ہمیشہ ماضی کو درست اور حال کو غلط کہتے ہیں۔ بالکل اس زمانے میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا اور لوگ اپنا گھر بار دولت کاروبار بیوی بچے زمین جائیداد لوٹا کر اس نوزائیدہ مملکت میں پہنچے تو ان کے ذہن میں صرف ایک کی بات تھی اور وہ یہ کے جو ملک مذہب کے نام پر بنایا گیا اس میں نظام مملکت اور قانون اسلامی ہو گا اور وہ اپنی آزادی کے تحت مذہبی کاروباری یا معاشرتی زندگی گزاریں گے۔ مگر اس وقت کی نوجوان اور ان سے تجربہ کار نسل کے ارکان نے مل کر ایک ایسا معاشی چکر چلا دیا جس آنے والی کئی دہایوں کے لیے کرپشن کے دروازے کھول دیے۔ مثلا جو لٹے پٹے لوگ مہاجر کیمپوں میں پاکستان پہنچے تو ان کیمپوں میں ان کی بچی کچی عزت کا کھلواڑ شروع ہوا اور اس کے بعد کلیم کی رسیدوں نے تو انتہا کر دی۔ کرپشن کا ہماری رگوں میں گھل دیا گیا جو وقت کے کے اب سرزمین پاکستان میں اس کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کے بات ہو رہی تھی کلیم کی تو جو مترکہ جائیداد پاکستان میں رہ گئی تھی اس کی تقسیم کے وقت ہمارے بزرگوں نے ایسی ایسی کرپشن کی کے اسکی مثال کم ہی ملتی ہے انہوں نے اپنے لالچ کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسا ناسور پیدا کر دیا جس نے آنے والی تمام نسلوں میں بگاڑ پیدا کر دیا۔ اس زمانے کے مصنفین نے اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی کہ اس برائی کو الفاظ کے ذریعے ختم کیا جاۓ لیکن بجاۓ کم ہونے کے دن بدن بڑھتی ہی گئ۔ بقول شاعر : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ، اسی سلسے میں بانو قدسیہ کا ایک ناول ہے ” راجہ گدھ’ ، اگر اس ناول کو  قارئین نے پڑھا ہو تو وہ یقینا اس بات سے اتفاق کریں گے کے جب کوئی شخص لقمہ حرام کھاتا ہے تو اسکا اثر اس کی نسلوں تک رہتا ہے اور وہ ذہنی بیمار اور مجرمانہ سرگرمیوں میں مشغول رہتا ہے۔ اور معاشرے میں اس کی وجہ سے ان گنت برائیاں جنم لے لیتی ہیں جن میں سرفہرست بے حیائی اور والدین کی نا خلفی ہے، باقی برائیاں ان سے ہی جنم لیتی ہیں لوگوں میں پیسہ کمانے کی ہوس اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ حلال حرام کی تفریق سے بالاتر ہوجاتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے مستقبل  کو داو iدیتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بڑے فخر سے کہتے ہیں ہذا من فضل ربی کرپشن جب کسی معاشرے میں داخل ہوتی ہے تو وہ جمع کے حساب سے نہیں بڑھتی بلکہ وہ ایٹم بم کے اصول چین ری ایکشن (Chain Reaction) کے اصول مثلا 1-2-4-8-16-32 کے اصول پر بڑھتی ہے۔ اس وقت ملک پاکستان میں کرپشن مکاو کا چرچا ہر سو ہے لیکن یہ آجکل ایک سیاسی نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے اگر ایک سیاسی جماعت دوسری کی چوری پر شور مچاتا ہے تو دوسری پہلے والی کی چوری نکال لیتی ہے اور اگر دونوں مل کر کسی تیسری کی بات کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے قد کے حساب سے کرپشن کی ہے اور تمام کے تمام اس حمام میں اکٹھے ہی ننگے ہیں۔ بات اگر سیاسی جماعتوں تک ہی رہے تو ٹھیک ہو سکتی تھی مگر پستی گناہ میں عسکری قوتیں اور بیوروکریٹک بھی شامل ہیں اور عدلیہ کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

 آپ کسی بھی سرکاری و نیم سرکاری ادارے کو دیکھ لیں آپکو اندازہ ہو جاۓ گا کے ایک صفائی والے سے لے کر افسر بالا تک سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوے ہیں ۔ نوکریاں رشوت دے کر حاصل کی جاتی ہیں اور جب پیسے دے کر سیٹ لی جاۓ گی تو لامحالہ پیسے پورے بھی کئے جائیں گے اور پھر منافع بھی حاصل کرنا ہوتا ہے چاہے وہ رشوت سے ملے یا کسی اور غیر قانونی ذریعہ سے سب چلتا ہے۔ ہم پاکستانی عوام کرپشن اور دوسری معاشرتی برائیوں کے خلاف تو بہت بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اور دوسروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ہماری ایسی نظر ہوتی ہے جیسے کے عذاب کی اپنے شکار پر لیکن عملی طور پر ہم لوگ اس عفریت کے خلاف اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہل نہیں سکتے اور آخر میں سارا غصہ اور ملبہ حکمرانوں پر ڈال کر چپ ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ویسے حکمران۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کے ہم ہی لوگ سرکاری ملازموں کو رشوت دینے میں جتنی جلدی کرتے ہیں تاکہ اپنا وقت بچائیں اور ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر رشوت لینے والوں کو گالیاں دیتے ہیں اور بالکل بھول جاتے ہیں کے دینے اور لینے والا دونو جہنمی ہیں۔ کیا ہم لوگوں نے کبھی سوچا کے جب ہم بجلی کا میٹر پیچھے کرواتے یا روک دیتے ہیں کیا یہ کرپشن نہیں؟ جب ہم دودھ میں پانی یا اور کیمیکل ملا کر اسکی مقدار بڑھا دیتے ہیں کیا وہ کرپشن نہیں؟ جب ہم اپنے ہمسائے کے گھر لگی ہوئی ٹی وی کیبل میں پن مار کر اپنے گھر بیٹھ کر دیکھتے ہی وہ کرپشن نہیں؟ کیا جب ہم بغیر کاغذات کے ڈرائیونگ کرتے ہیں تو پولیس کو پیسے کیوں دیتے ہیں۔؟جب ہم میوزک فلم کوئی سوفٹویر غیر قانونی ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں کیا وہ کرپشن نہیں؟ جب ہم کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں کیا وہ کرپشن نہیں؟ یہ بہت چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں جو کہ ثابت کرتی ہیں کے ہم لوگ کتنی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں اور ان چیزوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی چوری کو کرپشن سمجھتے ہی نہیں۔ جہاں پر ہمارے بزرگ ہماری نسل کو ہمیشہ اس بات کا طعنہ دیتے ہیں کہ تم لوگ رزق حلال کے بجاۓ حرام Easy money کی طرف رجوع کرتے ہو تو کم از کم انہیں اس بات کا بھی ادراک بھی ہونا چاہیے کے ہہ خرابی کسی وبائی مرض کی طرح ہم لوگوں میں نہیں آئی بلکہ اس واثتی بیماری کی طرح ہے جو ہمارے جسموں میں کسی جینیاتی خرابی کے باعث پیدا ہوئی اور ہم تک نسل در نسل پہنچی ہے، اور اگر 1980 کے دور میں پیدا ہونے والی نسل نے اسکا تدارک نا کیا تو نا جانے آنے والی کتنی نسلیں اس کے طوفان میں بہہ جائیں گی۔ 2016 ختم اور 17 کی صبح ہو چکی ہے اس لئے کم از کم اگر ہم لوگ اپنے ساتھ یہ عہد کر لیں کے وہ اپنی ذات کی حد تک چھوٹی سے چھوٹی کرپشن کو راستہ روکیں گے تو وہ دن دور نہیں جب انشااللہ اس ملک عزیز سے اس بیماری کا بڑی حد تک خاتمہ ہو سکتا ہے جو کے ہمارے بزرگوں نے ہماری رگوں میں چھوڑی ہے۔ اور جب ہم نانا دادا کی عمر میں ہوں اس وقت ہمارے ہوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں فخر سے کہہ سکیں کے ہمارے بزرگوں نے ہمیں کرپشن سے پاک معاشرہ دیا

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: