حقیقت ِکُبریٰ اور انسانی عقل —– مجیب الحق

0
  • 45
    Shares

کیا یہ کائنات کسی تسلسل کا حصّہ ہے؟
اگر ہاں، تو قبل ِ کائنات یعنی عدم کی ماہیّت کیا ہے؟

شئے، عدَم یا لا شئے
عدم ایک پر اسرار مظہر ہے۔یہ کائنات مادّہ پر مبنی ہے جسے ہم شئے یا Matter کہتے ہیں، اشیاء کا مجموعہ ہی کائنات ہے۔ شئے کے حوالے سے جب ہم کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہے یا” لاشئے”، نابود یا عدم، تو درحقیقت ہم صرف شئے کے حوالے سے with reference to matterہی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں اور مزید یہ کہ ہم صرف اور صرف وجود کے پیرائے میں ہی بات کررہے ہوتے ہیں (only within the parameters of existence) کیونکہ وجود کا تعلّق اشیاء اور مادّے ہی سے ہے تو جب کچھ نہیں تھا تو وجود کا تصوّر بھی نہیں۔ یعنی مادّے کے ظاہر ہونے سے پہلے عدم میں خود وجودیت عیاںہوئی یا تخلیق کی گئی۔ یہ نکتہ توجّہ چاہتا ہے کہ وجودیت عدم سے جدا بذاتِ خود ایک مظہر Phenomenon ہے کہ جس کے مخصوص اور محدود طبعی پیرائے ہوسکتے ہیں اسی لیئے انسان کائنات اور خالق کو وجود کے حوالے سے ہی سمجھنے کا مکلّف ہے! یعنی انسان اور وجودیت ایسے ہیں جیسے کہ مچھلی اور سمندر، گویا انسان وجودیت کے سمندرمیں تیرتی مخلوق۔

وجودیت کے پیرائے میں لا وجودیت nonexistence کے بارے میںہم یہی سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے ایک خلا یا لامحدود سنّاٹا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ابتدائے کائنات سے پہلے کچھ نہیں تھا تو یہ صرف وجود کے حوالے سے درست مقولہ ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے عدم میں وجود سے بالا کچھ اجنبی مظہر phenomenon ہو۔ گویا “بالائے وجود” Meta-existence میں جو کچھ بھی ہو وہ ہمارے لیے” کچھ نہیں” ہی کہلائے گا حالانکہ ہو سکتا ہے کہ وہاں پہ انسانی شعور سے بالا کچھ اور غیر طبعی یا اجنبی حقائق ہوں! گویا یہاں ہم صرف اپنی لُغت اور علم تک ہی با شعور ہیں۔ ایک بات بہر حال عقل قبول کرتی ہے کہ اُس عظیم تخلیقی ابتدا سے قبل یقینا کوئی ایسا ماحول موجود تھا جوکہ بالائے وجود تھا یعنی عدم بھی کوئی ماحول یا مظہر تھا جو ہمارے شعور و عقل سے ماوراء ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی اجنبی اِرتعاشات Alien Frequencies ہوں جو شاید ابھی ہم سمجھ نہ پا رہے ہوں یا ہم سے اوجھل ہوں۔ لیکن اس کا ایک اثر تو ہمارے خیالات میں جاگزیں ہے تبھی تو ہم اسکے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اگر ہماری لغت یا Vocabulary کے حوالے سے کوئی مافوق التصوّر ذہانت , لامحدود ارادہ یالامحدود زندگی موجود ہو سکتی ہے تو پھر اس مفروضے hypothesis پر غور کرنا عین منطقی ہوگا کہ اس لامحدود قوتِ تخیّل یا اِرادے نے اس کائنات کی تخلیق وجودیت کے پیرائے میں کی اور انسانوں کو اس میں ایک خاص مقصد کے تحت داخل کر دیا تاکہ وقت، مادّہ اور حیات یعنی کُل وجودیت کو ایک کائناتی ماحول میں مقیّد کرکے انسان کا امتحان لیا جائے۔ اس نکتے کی تفصیلی وضاحت آگے بھی آئیگی۔ مختصراً انسان وجودیت (وقت،مادّہ و حیات) کے مدار میں گردش کرتا ہوا ذی شعورہے جسکی عمومی سو چ اور عمل کا محور صرف وجود اور مادّہ ہے۔ انسان ہر لمحہ اور لگاتار ابھرتے واقعات و معاملات و جذبات کے عمل اور ردّعمل کے دائرے میں مصروف، منہمک اور اُلجھا رہتا ہے۔ اُسکا شعور، حواس، تجسّس، علم، تجربات و نتائج اور جذبات ایک طرح کا خوشی، غم،دکھ سکھ کا ایک مصنوعی ماحول یا طبعی دھوکہ Physical Illusion تخلیق کیئے رہتے ہیں کہ انسان اُسکو ہی حقیقت Reality گرداننے میں مجبور ہوتا ہے کیونکہ اُسکے حواس کا پیغام یہی ہوتا ہے جبکہ برتر حقیقت انسانی حواسِ خمسہ پر مبنی شعورکی پہنچ سے باہر ہے۔ دیکھیں جب انسان کسی مشین کو مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence دیتا ہے تو وہ ایک روبوٹ بن جاتی ہے جسکے پاس ادنیٰ درجے کی سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ اگر کسی طرح اسمیں “ذات کا شعور” ڈال دیا جائے تو پھروہ روبوٹ ایک درجہ اوپر ہو کر مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence نہیں بلکہ عقل کا خوگر ہو جائے گا کیونکہ انسان نے اُسے کسی اعلیٰ تر الیکٹرانک ماحول یا کسی برقی دھوکے Electronic Illusion میں محصور اور مقیم کردیا! بڑے کینوس پر یہی حال انسان کا ہے جو ایک عظیم تر نظام میں مقیم ہے جہاں وقت کی تنابیں انسان کو جکڑے ہوئے ہیں۔

وقت کی جہتیں
وقت انسان کو گھیرے ہوئے ایک حرکت پذیر غیر مرئی ہیولا ہے جس میں خیالات اور ان سے جڑے ہوئے واقعات انسانی زندگی پر محیط اور مسلّط رہتے ہیں۔ اس کے رُخوں Dimensions کی گرفت اتنی مضبوط اور سحر انگیز ہیں کہ قابل سے قابل محقّق بھی اس غیر مرئی گرفت کی نزاکتیںسمجھے بغیر اسی کے اندر سوچتا،تحقیق کرتا اور نتائج اخذ کرتا ہے۔کائنات اورزندگی سے متعلق تمام فلسفئہ حیات جو کہ طبعی زندگی کی اصلیت کی کھوج میں متعیّن کیے گئے ہے وہ سب اسی وقت کے صندوق یا کیپسول میں بند ہیںیعنی دنیاکے تمام امور خواہ ذاتی ہوں یا آفاقی وہ سب وقت کے بہائو میں رواںہیں۔ وقت کا یہ مسلسل بہائو ہر لخطہ ایک بدلتا ہوا ماحول اور اس سے منسلک عوامل پیدا کرتا رہتا ہے اور انسان اپنے حواسsenses کی وجہ سے مجبورہے کہ ان کو قبول کرے اور ردّعمل دے۔جذبات، خواہشات اور عمل و ردّعمل ایسا بھنور تخلیق کرتے ہیں کہ مخلوق اس میں گھو متی رہتی ہے۔ بدلتا ہوا وقت اور ابھرتے ہوئے خیالات انسان کو کسی نہ کسی طرح دنیا میں منہمک رکھتے ہیں۔ یہی روزمرّہ کے حالات و واقعات کی بدلتی ہوئی جہتیں Ever Changing Dimensions ہیں جو انسان کو اس کے حواس اور شعور کے تئیں مصروف کار رکھتی ہیں۔

شعور کی قسمیں
شعور ہماری ذہنی حیات کا وہ طبعی اظہار ہے جو کہ روح کے توسّط سے ہوتا ہے۔ حقیقی سچائی کو مزید سمجھنے کے لیے ہمیں حیوانی شعور اور اس کی متوقّع قسمیں اور انسانی شعور کا فرق سمجھنا ہو گا۔ مختلف حیوانات میں شعور مختلف پیمانوں میں موجود ہوتا ہے جیساکہ حشرات الارض، پرندے، جانوراور سمندری مخلوقات وغیرہ۔ان تمام مخلوقات کے شعور کا تعلّق اپنے ماحول اور اس میں حرکیات Movements سے ہے۔ ایک جرثومے سے لے کر ہاتھی یا اونٹ ہو، یا ایک لاروے سے لے کروھیل مچھلی ہو سب کے پاس اپنے ماحول کے حوالے سے ایک خاص درجہ کا شعور ہوتا ہے جو ان کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان کا ان حیوانات سے کوئی شعوری رابطہcommunication نہیں ہے لہٰذا انسان ان کے شعور کی تنگی یا وسعت کو نہیں سمجھ سکتا۔ ہاں ہم یہ ضرور ہے کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے شعور کی سطح وہ نہیں ہے جو کہ انسان کی ہے۔انسان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے جو شعور کی حد کو ناپ سکے یا اُسکا تعیّن کر سکے لہٰذا انسانی شعور بھی لامحدود تو نہیں ہوسکتا لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے پاس مخلوق میں برتر طبعی شعور ہے جبکہ کوئی اجنبی یا غیر مرئی شعور Unseen/Abstract Alien Conciousness بھی کہیں موجود ہوسکتا ہے!

ہماری سوچ کی راہیں لامتنا ہی اس لئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لامتنا ہی ہیں۔ ہم حقیقت کا تعیّن اپنے شعور اور حواس سے کرتے ہیں۔انسان اسی علم کو مکمّل حقیقت سمجھے گا جہا ں پر اس کا شعور مزید آگہی سے قاصر ہوگا۔ہم حیوانات کو باشعور اور نباتات کو نامعلوم شعور کا حامل سمجھتے ہیں اور جمادات کو مردہ قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں بے جان نظر آتے ہیںلیکن ایٹم کے بارے میں ہم کیا کہیں گے؟ اس میں حرکت، توانائی اور تنظیم کی حقیقت کیا ہے؟
کیا ایٹم با شعور ہوسکتا ہے؟

مندرجہ بالا بحث کا صرف یہ مقصد ہے کہ انسا ن کے مقام اور صلاحیّتوں کی حد کو سمجھا جائے اور موجودہ ماحول میں اس کا دائرہ کار سمجھا جائے۔اس بحث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ انسان کسی اجنبی شعور اور اجنبی مظہرکو سمجھنے کی ایک محدود عقلی صلاحیّت ہی رکھتا ہے۔
(کتاب “خدائی سرگوشیاں” سے اقتباس)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: