ڈبلیو ٹی او: امریکی اخراج کی دھمکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عزیز الرحمن

0
  • 18
    Shares

امریکی صدر نے عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) سے امریکہ کے باضابطہ اخراج کی دھمکی دے دی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق اس تنظیم کے مختلف فورمز پر امریکہ کو منصفانہ طریقے سے ڈیل نہیں کیا جاتا اور اگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے خود کو درست نہ کیا تو امریکہ ڈبلیو ٹی او سے نکل جائے گا۔

یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اپنی مقامی معیشت و صنعت کے تحفظ کے نام پر یورپ، کنیڈا، چین ترکی وغیرہ سے دست گریباں ہے اور ٹیرف کے ہتھیار کو من پسند طریقے سے استعمال کر کے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے کئی وعدے ایسے ہیں جن کے بارے میں ماہرین نے بروقت خبردار کردیا تھا کہ ڈبلیو ٹی او کے موجودہ معاہدوں اور ضوابط کے اندر رہتے ہوئے صدر ٹرمپ کی خواہشات کو پورا کرنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ 1994 میں جب ڈبلیو ٹی او کے معاہدوں کو حتمی شکل دے کر ایک تجارتی تنظیم کی صورت میں ڈھالا گیا تھا تو پوری دنیا میں ڈبلیو ٹی او کی آمد کا غلغلہ بلند ہوا تھا۔ اس تنظیم کے تحت ہونے والی کثیر الجہتی معاہدوں نے تجارت سے متعلقہ ہر موضوع کے احاطے کی کوشش کی تھی اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اور قوت نافذہ سے بھرپور نظام وجود میں آگیا تھا۔

تاریخ شاہد ہے کہ بالادست قوتوں نے بین الاقوامی قانون کو بالعموم اور تجارتی تنازعات سے متعلقہ قواعد و ضوابط پر مشتمل معاہدوں کو بالخصوص اپنے گھر کے لونڈی کی طرح استعمال کیا۔ جب یہ نظام ان کی ضرورت تھا اس وقت اس کے محاسن دنیا بھر کو گنوائے جاتے تھے اور اسے بزور طاقت مسلط کیا جاتا تھا۔ اور جب اس کی افادیت ان کے لئے ختم ہوگئی تو اس پر اشکالات اٹھا کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش شروع کردی۔

ان معاہدوں پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کا شروع دن ہی سے یہ اعتراض رہا تھا کہ ان میں ان کی کمزور معیشتوں کی رعایت اس انداز میں نہیں کی گئی جو ان کا جائز حق بنتا تھا۔ مثال کے طور پر ڈبلیو ٹی او کے تمام ممبران پر لازمی طور پر انٹیلکچول پراپرٹی رائیٹس کا بدنام زمانہ معاہدہ “ٹرپس اگریمنٹ” مسلط کیا گیا جس کی رو سے ادویات، بیجوں اور پودوں کی نئی اقسام تک کو پیٹنٹ اور دوسرے قوانین کے تحت نجی حقوق کی شکل میں اجارہ داری کے نظام کے تابع کردیا گیا۔ اس سے غریب ممالک میں نئی ادویات و خوراک سے متعلقہ ٹیکنالوجی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوکر مزید مہنگا اور ناقابل رسائی ہونے لگا۔ ڈبلیو ٹی او ہی کے قوانین کے تحت درسی کتب اور تعلیمی مواد کے ناشرین کو یہ حق کاپی رائٹ کے نام پر پہلے سے زیادہ مضبوط کر کے دیا گیا جس کی رو سے وہ اپنی کتب، سافٹ وئیرز اور کسی بھی طرح کے دوسرے مواد کے سستے ایڈیشنز کو غیر قانونی قرار دلوا کر روک سکتے ہیں۔ اس طرح تعلیم تک رسائی کے بنیادی حق کے حصول کو مہنگا کر کے عملی طور پر اس سے انکار کردیا گیا۔

غریب و ترقی پذیر ممالک میں موجود کئی لوگوں نے 1994 سے ہی اس حوالے سے آواز بلند کرنا شروع کر دی تھی۔ ادویات کے جائز قیمتوں پر حصول کی ایک بڑی لڑائی پچھلے دو عشروں میں انڈیا، جنیوا اور افریقہ کے کئی ممالک میں لڑی گئی اور اس ساری جدوجہد کا محور بنیادی طور پر ڈبلیو ٹی او کے معاہدے اور نظام ہی تھا۔ آج سے چند سال قبل اگر کوئی اس تنظیم کی بے وقعتی کا ذکر بھی کرتا تھا تو اسے احمق قرار دے کر بات تک نہیں کرنے دی جاتی تھی۔ ہر طرف یہی آواز تھی کہ ڈبلیو ٹی او ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے اور اس کے نظام کے اندر رہتے ہوئے حل تجویز کئے جائیں۔ مجھے یاد ہے کہ جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لئے خاص طور پر مامور امریکی وفد جو درجنوں متخصصین و ماہرین پر مشتمل ہوتا تھا کتنے جارحانہ انداز میں ممبر ممالک کو ہر بات پر یہ یاد کرواتے تھے کہ ڈبلیو ٹی او دنیا کا واحد “رولز بیسڈ” پلیٹ فارم ہے جس کی تشکیل میں ترقی پذیر و غریب ممالک خود شامل رہے ہیں۔ سو کوئی بھی تجارتی تنازعہ ہی کیوں نہ ہو اسے ڈبلیو ٹی او کی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کم وسائل یافتہ ممالک ڈبلیو ٹی او کے تنازعات کے حل کے نظام سے کتراتے اور بھاگتے تھے کہ انہیں ابتداء میں اس نظام کی پوری طرح سمجھ بوجھ ہی نہ تھی اور بعد ازاں یہ عقدہ بھی کھلا کہ اس کے لئے مالی وسائل کا منہ بھی بین الاقوامی قانونی مشاورتی فرموں کے لئے اس طرح کھولنا پڑتا ہے کہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ امریکی سفارتکار و تجارتی اہلکاروں کا مرغوب مشغلہ ڈبلیو ٹی او کے ذریعے دوسرے ممالک کو ہراساں کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوے فیصد کے قریب تجارتی تنازعات جو ڈبلیو ٹی او میں امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان اٹھائے گئے، میں امریکہ کو کامیابی نصیب ہوئی۔

مگر آج وہی امریکہ ہے اور اس کا صدر ڈبلیو ٹی او پر گرج اور برس رہا ہے۔ آج یہ واحد “رولز بیسڈ” نظام امریکہ کے لئے ناقابل قبول بنتا جارہا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بالادست قوتوں نے بین الاقوامی قانون کو بالعموم اور تجارتی تنازعات سے متعلقہ قواعد و ضوابط پر مشتمل معاہدوں کو بالخصوص اپنے گھر کے لونڈی کی طرح استعمال کیا۔ جب یہ نظام ان کی ضرورت تھا اس وقت اس کے محاسن دنیا بھر کو گنوائے جاتے تھے اور اسے بزور طاقت مسلط کیا جاتا تھا۔ اور جب اس کی افادیت ان کے لئے ختم ہوگئی تو اس پر اشکالات اٹھا کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش شروع کردی۔ ٹرمپ شائد ڈبلیو ٹی او کو پوری طرح بے وقعت کر کے اس سے باہر نہ نکل سکے اور محض دھمکیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لے مگر اس سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ یہ سارا نظام بالادست قوتوں کی چاکری کا دھندا ہے۔ ہمارے ہاں کے بیوروکریٹ جغادریوں کا مخصوص ٹولہ برسلز، جنیوا اور نیویارک وغیرہ میں کچھ وقت لگانے کے بعد اس نظام کی افادیت اور اس کی نزاکتوں و باریکیوں پر جب ہمیں بھاشن دیتے ہیں تو ٹرمپ کی صورت سامنے آجاتی ہے اور مڈل فنگر میں خارش شروع ہوجاتی ہے کہ اس سے مناسب جواب ان کے لئے اور کوئی نہیں سوجھتا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: