ایک شعر کے تعاقب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ عزیز ابن الحسن

0
  • 100
    Shares

اس مسئلے پر لکھنے کی مدت سے خواہش تھی اور کچھ ضروری ابتدائی تیاری بھی کر لی تھی مگر ہمیشہ کیطرح ہوا یہ کہ جب ذہن ایک خاص طرح کے نتیجے پر پہنچ کر یک سو ہو گیا تو میں بھی یک گونہ خود اطمینانی کا شکار ہوکر یہ سارا تجسس اور تفتیش اپنی بحر کاہلی میں ڈبو بیٹھا۔

ناگہاں ابھی صبح برادرم شاہد کا پیامچہ ملا کہ آج سلیم احمد کی برسی ہے کچھ لکھئے۔ میں کہ گزشتہ چند روز سے طبیعت بندی کا شکار تھا بند دماغی ہی کی حالت میں بیٹھا تھا کہ اچانک وہی مسئلہ عود کر آیا تو بلاسوچے سمجھے لکھنا شروع کر بیٹھا ہوں۔ دیکھئے اسمیں سے کیا نکلے۔

ہوا یوں کہ ایک دفعہ ابوبکر نے فیس بک پہ سلیم احمد کا ایک بدنامِ زمانہ شعر لکھ دیا۔

سخت بیوی کو شکایت ہے جوانِ نو سے
ریل چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل

سلیم احمد کی یہ غزل اتنی دفعہ پڑھی تھی کہ اسکا قریباً ہر شعر ہی ازبر ہو چکا تھا مگر معلوم نہیں کیوں مجھے لگا کہ شعر کا مصرعہ اولیٰ درست نہیں لکھا گیا۔

استفسار پہ ابوبکر نے بتایا کہ انہوں نے ریختہ سے لیا ہے اور وہاں اسی طرح ہے۔ ریختہ سے موازنہ کیا تو شعر واقعی اسی طرح درج تھا۔ اب تو اور بھی تشویش ہوئی۔

یہ شعر سلیم احمد کی معروف غزل

کارِ تخلیق میں ڈالا ہے مشینوں نے خلل

کا ایک شعر ہے۔ میں نے یہ غزل پہلے پہل ۱۹۸۷ میں سراج بھائی (سراج منیر مرحوم و مغفور) کی زبانی سنی تھی اور بعد میں روایت، سلیم احمد نمبر میں پڑھی تھی۔ اس لیے فوراً روایت کا شمارہ نکالا تو حیرت ہوئی کہ وہاں غزل میں یہ شعر تھا ہی نہیں۔ اور مزید حیرت تب ہوئی جب یہ شعر کلیاتِ سلیم احمد میں بھی نہیں نظر آیا۔

یہ معاملہ اب میرے لیے مستقل تجسس کا بن گیا۔ کچھ عرصے کے بعد افتخار عارف صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں پس منظر بتائے بغیر سلیم احمد کا یہ شعر سنانے کو کہا۔ ایک تو انکا حافظہ کمال ہے اور دوسرے وہ چونکہ سلیم احمد کے پرانے نیازمندوں میں سے ہیں اس لیے انہوں نے نہ صرف ساری غزل ہی زبانی سنائی بلکہ قصیدہ لامیہ کی ساری روایت، سودا کا قصیدہ اور محسن کاکوروی قصیدہ

سمت کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
اور نہ جانے کیا سامنے لا رکھا

بہر کیف انہوں نے مذکورہ شعر کچھ اس طرح سنایا

عصرِحاضر سے شکایت ہے زنانِ نو کو
گاڑی چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل

ظاہر ہے کہ یہ مصرع بھی ریختہ والے مصرعے سے مختلف ہے۔

اگلے روز میں نے یہ سارا قضیہ جاوید بھائی (احمد جاوید) کے سامنے رکھا۔ جاوید بھائی کا حافظہ بھی سیکڑوں اشعار کا گنجینہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ شاید اسوقت وہ آخری اور واحد آدمی ہیں جنکا سارا جیون ہی سلیم احمد کے گھر پہ گزرا ہے اور پھر وہ سلیم احمد کے سارے سرمایۂ فنی، ذوقی اور نظری کے امین بھی ہیں۔ جاوید بھائی کو میں نے قضیہ کا پس منظر تو بتایا مگر اولاً یہ نہیں بتایا کہ میں نے یہ شعر یوں یوں سنا ہے۔ جاوید بھائی نے مذکورہ مصرعہ جسطرح سنایا وہ یہ ہے:

سخت بیوی کو شکایت ہے زمانِ نو سے

میری مشکل سلجھنے کے بجائے اب اور بڑھ گئی کیوں کہ مصرعے کا پہلا جز ’’سخت بیوی کو‘‘ تو انہوں نے اسی طرح سنایا جیسے ریختہ میں درج ہے مگر ریختہ والے جز ’’جوانِ نو سے‘‘ کے بجائے جاوید بھائی نے ’’زمانِ نو سے‘‘ پڑھا تھا۔ میں نے مکرر اسطرف توجہ دلائی تو جاوید بھائی نے یہ توجیہہ پیش کی کہ ’’یہ سلیم احمد کا محاورہ نہیں ہے۔ چونکہ ‘زنانِ نو یا ‘جوانِ نو سے ذرا دوسرا رخ نکل آتا ہے اس لیے سلیم احمد ‘زنانِ نو یا ‘جوانِ نو نہیں باندھ سکتے تھے انہوں نے یہاں ‘بیوی کے لفظ سے مفہوم کو محدود کر دیا ہے۔

میں نے جاوید بھائی کو جب یہ بتایا کہ کلیات سلیم احمد میں سے یہ شعر حذف کر دیا گیا ہے تو انہوں نے بہت تعجب اور افسوس کا اظہار کیا لیکن اس امر کی پُرروز تصدیق کی کہ یہ سلیم احمد کے مشہور ترین شعروں میں سے ہے۔

اس چھوٹی سی تفتیش کے دوران چونکہ اب تک شعر کے مصرع اول کے تین متن سامنے آچکے تھے اور یہ کہ افتخار عارف والی قرات میں مصرعۂ ثانی میں ریل کی جگہ گاڑی کا لفظ بھی آیا ہے اس لیے اب ضرورت محسوس ہوئی کہ درست ترین متن کے تعین کے لیے سلیم احمد کی ’’بیاض‘‘ کو دیکھا جانا چاہیے اور یہاں حالت یہ تھی کہ تلاشِ بسیار کے باوجود یہ نسخہ میں مہیا نہیں کر پا رہا تھا۔ اب یہاں پھر ڈاکٹر خورشید عبداللہ کام آئے جو خود تعیینِ متن کے سلسلے میں ہمہ وقت بڑی سے بڑی کٹھنائیوں سے گزرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایک روز ان سے یہ مخمصہ مع اپنا حاصلِ تفتیش عرض کیا۔ انہوں نے بیاض کے متعلقہ صفحات کے عکس بھجوا دئیے۔ یہ بیاض کے ستمبر ۱۹۶۶ والے ایڈیشن کے صفحات تھے جو دیکھ کر میں تو ورطۂ حیرت میں گم ہو گیا کیونکہ مذکورہ شعر بیاض میں بھی نہیں تھا!!!

اب سوال یہ تھا کہ وہ شعر جو سلیم احمد کے پرانے نیازمندوں اور انہیں پڑھنے والوں کی اکثریت کے وردِ زبان رہتا ہے وہ آخر گیا کہاں؟ کب اور کس نے ان تمام مجموعوں سے خارج کیا؟

افتخار عارف صاحب نے اس شعر کے نکالے جانے کا امکاناً یہ سبب بتایا کہ سلیم احمد نے یہ شعر کہا تو ضرور تھا مگر ہوسکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں احساس ہوا ہو کہ یہ کچھ شعر مناسب نہیں ہے۔

اگر واقعی یہ شعر سلیم احمد نے خود خارج کیا ہے تو مجھے کچھ اسباب کی بناپر مذکورہ جواز ناکافی معلوم ہوتا ہے۔
ایک تو یہ کہ سلیم احمد کا جو تصورِ اخلاق و ادب تھا اور ساری زندگی جسکے وہ شارح بھی رہے اسمیں شعر و ادب کے باب میں وہ اسطرح کی کسی سنسر شپ کے قائل نہیں ہو سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اس شعر کی تنسیخ کا اگر کوئی سبب تھا تو کم از کم ہماری آج کی معاشرت میں مروج وہ تصورِ اخلاق ہرگز نہیں تھا جسکے خلاف سلیم احمد خود ساری زندگی لڑتے رہے تھے ( ملاحظہ ہو ان کا مضمون ’’نئی نظم پورا آدمی‘‘)۔

تیسری بات یہ ہے کہ سلیم احمد نے یہ شعر اگر واقعی نام نہاد ’’اخلاقی سبب‘‘ سے نکالا ہے تو اسی غزل میں درج ذیل شعروں کے شمول کی کیا توجیہ کی جائے گی؟

کارِ تخلیق میں ڈالا ہے مشینوں نے خلل
رحمِ مادر کی جگہ ڈھال کے رکھ دی بوتل
مرد نامرد ہیں اس دور کے، زن ہے نا زن
اور دنیا کی ہر اک شے ہے اسی کا سمبل
شیر پستاں میں نہیں سیج ہوئی ہے بے رس
طفل گہوارے میں بستر پہ ہے شوہر بےکل
جمع تفریق میں گو طاق ہے جفتی کی مشین
کیجئے کیا کہ غلط آتا ہے پھر بھی ٹوٹل
زور وہ اور ہے پاتا ہے بدن جس سے نمو
لاکھ کودے کوئ ٹانگوں میں دبا کر موسل

اس بنا پر میرا خیال ہے کہ مذکورہ شعر اگر سلیم احمد نے خود غزل باہر کیا ہے تو اسکا سبب اخلاقیات نہیں بلکہ ادبی جمالیات کا ہی کا کوئ مسئلہ ہے جسکی تفصیل میں کسی اگلی تحریر میں عرض کرونگا۔

سردست ایک اہم ترین نکتے کی طرف اشارہ کر کے میں اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ سلیم احمد کی اس غزل کی اولین اشاعت جمیل جالبی کے “نیا دور” میں جب ہوئی تو اس میں مذکورہ شعر بھی موجود تھا، اور یہ کہ اس غزل کے شروع میں ایک جملہ بھی تھا:

’’فصِ شیثیہ سے‘‘

یاد رہے کہ ’’فصِ شیثیہ‘‘ ابن عربی کی معروف کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ کی دوسری فص (باب سمجھ لیجئے) کا عنوان ہے۔

آج ادیب اور نقاد کے لفظ سے ہمارے ذہنوں میں جو تصور آتا ہے زنہار سلیم احمد اور ان کے استاد محمد حسن عسکری کو کبھی اس تصور کی روشنی میں سمجھنے کی غلطی نہ کیجئے گا۔ اگر یوں کیا تو سمجھیے کہ آپ نے ان دونوں کی تحریروں میں سے صرف پوست کو ہی مغز سمجھ کے چکھا ہے۔ (یاد رہے کہ یہ کہہ کر میں انہیں اولیاء میں شمار نہیں کرانا چاہ رہا)

سلیم احمد وہ آدمی تھے جنہوں نے ابن عربی کو بابا ذہین شاہ تاجی کے پاس بیٹھ کر سمجھا تھا اور باباجی اس ضمن میں سلیم احمد کی درّاکی کے بیحد قائل تھے۔

اس پس منظر میں اگر سلیم احمد اپنی ایک غزل کا سرنامہ “فص شیثیہ” کو بناتے ہیں تو اسکی معنویت کو پیشِ نظر رکھے بغیر اس غزل کی ہر تعبیر ادھوری رہے گی۔ لیکن چونکہ یہ معاملات تفصیل کے متقاضی ہیں اور میں نے اس حوالے سے جاوید بھائ سے کچھ مشاورت بھی کر رکھی ہے اسلیے اس پر لمبی گفتگو کسی اور وقت کیلیے اٹھا رکھتے ہیں۔

سردست تو آج سلیم احمد کی برسی کے موقع پر ان کے مذکورہ شعر کی ہمسفری میں پیش آمدہ اپنی حاصلِ تفتیش کے کچھ مراحل میں شاہد اعوان اور دانش کے قائین کو شریک کرنا تھا۔ مذکورہ شعر کے درست ترین متن کا تعین، خصوصاً اس غزل کے بارے میں “فصِ شیثیہ ’’کی روشنی میں کچھ گفتگو، اور بالعموم سلیم احمد کے اولین شعری مجموعے ’’بیاض‘‘ کے حوالے سے کچھ مزید باتیں آئندہ کسی نشست میں کریں گے۔

ذہن نشین رہے کہ بیاض کی شاعری کا ایک خاص پس منظر ہے اور یہ کہ یہ شاعری سلیم احمد نے اپنے استاد محمد حسن عسکری کے سجھائے ہوئے ایک پراجیکٹ کے طور پر کی تھی۔

امید ہے کہ عسکری کے پروجیکٹ اور سلیم احمد کے اسپر بلاچوں چرا عمل، (اور پھر اس سطح کی شاعری کہ جو بیاض میں موجود ہے اور جسے ایک اعتبار سے سلیم احمد کی ساری شاعری پر بھی فوقیت حاصل ہے) اور ایک ایسے شاعر کے طور پر اس پر عمل پیرا ہوجانے کو جو اپنی تنقید میں “منصوبہ بند شاعری” کا شدید مخالف بھی رہا ہو ایک مزیدار قصہ سمجھ کر اسکی تفصیل کا انتظار کیا جائے گا۔

 

یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں: کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: