آج کی زنانہ شاعری: ادبی مسئلہ یا نفسیاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد اقبال

0
  • 117
    Shares

جن شاعرات نے ادب کے دور جدید میں نمایاں تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان میں ادا جعفری سے زہرہ نگاہ، پروہین شاکر، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید کے علاوہ بھی بہت نام ہیں۔ ایک وقت تھا جب خواتین اور ان کی شاعری دونوں کے شمع انجمن ہونے پر پابندی تھی تب بھی کچھ نام اقلیم سخن سے منسوب ہوئے مثلاً نورجہاں یا اورنگ زیب کی بہن زیب النسا اور امراو جان ادا۔ لیکن بیسویں صدی میں “شرفا” کے گھر کی عورتوں کے لیے بھی تعلیم کی حیثیت شجر ممنوعہ کی نہ رہی تو شاعرات بھی محفل شعرو سخن میں نظر آنے لگیں۔

اکیسویں صدی میں “فیس بک” نے اظہار کا لامحدود عالمی وسیلہ فراہم کیا تو دنیا بھر کے لوگ ایک کمپیوٹر اسکرین پرجمع ہو گئے اور بقول جون ایلیا وہ بھی لکھنے لگے جن کو پڑھنے کی ضرورت تھی۔ اس میں کچھ خواتین کی باتصویر شاعری نے بڑی سنسنی خیزی پھیلائی۔ اکثریت میں قیامت ڈھانے والی ہر نئی پروفائل پکچر پر واہ واہ اور ان کے ہر بے سرو پا شعر پر داداوتحسین کا شور بپا کرکے ’’ٹھرکی‘‘ کا خطاب پانے والے ہمیشہ غالب اکثریت میں رہے۔

رفتہ رفتہ ان سنسنی خیز خود نمائی والی شاعرات کے بارے میں ’’شرم ناک‘‘ انکشافات کے در کھل گئے۔ ’’متا شاعرات‘‘ کے لیے تو یہی سرمایہ افتخار تھا
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

خود مجھے سال بھر پہلے کراچی کی ہر پر تکلف نجی محفل میں ان شاعرات کے کلام سے مستفید ہونے کا موقعہ ملا جن کے لیے شعر کے وزن سے زیادہ اپنا وزن اور حسن معانی سے زیادہ اپنے حسن جسمانی پر ناز تھا۔ غنیمت ہے کہ محفل میں دو چار سکہ بند شعرا بھی تھے ان صاحب دیوان شاعرات کے بے وزن و بے بحر اشعارپر بھی داد دینا ’’ایٹی کیتس‘‘ کی مجبوری تھی جو میں نے بھی عقل پر پتھر رکھ کے نبھائے۔ دل پر پتھر رکھنے کی عمر نہیں رہی۔

یہ میرے لیے نیا تجربہ نہیں تھا۔ چار سال ہوئے مجھے شہرت کی سند نہ رکھنے کے باوجود سفارشی شاعر کے طور پر جشن سوات کے ایک مشاعرے میں بلالیا گیا شعرا مولانا فضل ا لرحمان کے دوست غالباً حبیب شیروانی کے ہوٹل میں مقیم تھے جو عین دریائے سوات پرتھا۔ گرائونڈ فلور پر شاعرات، فرسٹ فلور پر شاعر اور ٹاپ فلور پر ریسٹورنٹ جہاں دن بھر چائے کافی چلتی تھی اور گپ شپ۔ یہ مشاعرے سے ایک شب پہلے کی بات ہے جو واپسی کے سفر میں مجھے فیصل آباد کے ایک مشہور شاعر نے بقلم خود سنائی کہ ’’کل رات گیارہ بجے جب دریا اور تیرھویں شب کی چاندنی بھی خوابیدہ تھی۔ دروازہ کھولا تو ایک شاعرہ مجسم پیکر حزن و ملال زلف پریشاں اور چشم پر نم اندر آ کے دروازہ بند کیا صوفے پر بیٹھ گئیں۔ میں نے خیریت پوچھی تو ایسی آہ سرد بھری کہ کمرہ ائیر کنڈیشنڈ ہوگیا۔ ’’میں بڑی مصیبت میں بدنامی کا خطرہ مول لے کر بڑی توقعات کے ساتھ آئی ہوں”۔ میں نے پانی کا گلاس پیش کیا اور ساتھ بیٹھ کے کہا ’’میں کچھ کر سکتا ہوں تو فرمائیے‘‘۔ ان کی آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے بتایا کہ وہ ایبٹ آباد سے آئی ہیں جہاں ان کا فلاں مشہور شاعر دوست تھا، وقت ضرورت غزل لکھ دیتا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ سوات آئے گا تو غزل لکھ دے گا ’’مگر وہ کمینہ میری عزت دائو پر لگا کےدوبئی کے مشاعرے میں چلا گیا۔ اب میں کل کیا پڑھوں گی‘‘۔ شاعر نے ان کو تسلی دی کہ ’’پریشان نہ ہوں آپ کی ’’عزت‘‘ محفوط رہے گی اور سب سے زیادہ داد آپ کو ملے گی‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔

میں یہ سانحہ بھول گیا تھا لیکن گزشتہ سال کا تجربہ مجھے افسوسناک لگا تو میں نے ایک سطحی سا تجزیہ پوسٹ کر دیا جو صرف ان خواتین کی بد ذوقی تک محیط تھا۔ اس کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ لباس مجاز میں حقیقت منتظر تو کچھ اور ہی ہے۔ جو محرم راز دروں میخانہ تھے انہوں نے ہر پردہ اٹھا دیا کہ کون معشوق ہے کس پردہ زنگاری میں اور شاعر کون ہیں جو ’’بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ‘‘ کا سائن بورڈ ہیں۔ بدلا زمانہ ایسا کہ پیشہ کرنے والی صرف عورت نہ رہی مرد بھی شاعری کے کوٹھے پر بیٹھ گئے۔

صاحب دیوان شاعرات میں اکثر صاحب ثروت بھی ہیں۔ میں نے ان کے شاہانہ گھر بھی دیکھے اور جوان بچے بھی اور گاڑی بھی۔ بس شوہر نہیں دیکھے۔ وہ پیسہ کمانے میں اتنے مصروف ہیں کہ کچھ تو گھر بھی صرف سونے اور کپڑے بدلنے کے لیے آتے ہیں اور کبھی نہیں بھی آتے۔

اس رسوا کن صورت حال سے جینوئن شاعرہ کی انا جائز طور پر سخت مجروح ہوئی اور وہ خود ان متشاعرات کے خلاف زیادہ شدت سے صف آرا ہو گئیں۔ سوال ایک ذہن میں آیا کہ شاعری ہی کیوں۔ انجمن تعلق باہمی کی نیک نامی افسانہ نگاری کے حصے میں کیوں نہیں آئی۔ تو جواب سادہ ہے کہ شاعری آسان ترین صنف ادب سمجھ لی گئی ہے۔ کیسی بحر اور کہاں کا توازن۔ بس ردیف قافیہ ملائو اور 3 انچ سے 6 انچ لمبائی والے اشعارکی غزل لکھ کے دے دو حسن غزل کون دیکھتا ہے اگر شاعرہ کا حسن و شباب دیکھنے والا ہو اور حسن تو سچ کہتے ہیں کہ دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے ورنہ دوبئی کی یہ شاعرہ۔

اس میں کیا شک کہ عورت توجہ مانگتی ہے تعریف چاہتی ہے۔ عدم توجہی کا شکار عورت جھوٹ کے سکے میں بھی بک جاتی ہے۔ آج کے دور میں شاعری کہیں نہیں بکتی تو دیوان کون شائع کرے، پبلشر بزنس مین ہے چار پیسے نہ کما سکے تو کتاب کیوں چھاپے۔ اب پانچ سات کو چھوڑ کر سب شاعر اپنے خرچ اور رسک پر دیوان چھاپتے ہیں اور ذاتی خرچ اور تعلقات کی بنیاد پر مفت تقسیم کر دیتے ہیں۔

صاحب دیوان شاعرات میں اکثر صاحب ثروت بھی ہیں۔ میں نے ان کے شاہانہ گھر بھی دیکھے اور جوان بچے بھی اور گاڑی بھی۔ بس شوہر نہیں دیکھے۔ وہ پیسہ کمانے میں اتنے مصروف ہیں کہ کچھ تو گھر بھی صرف سونے اور کپڑے بدلنے کے لیے آتے ہیں اور کبھی نہیں بھی آتے۔ بیوی ان کے لیے 40 سال کی عمر میں ہی دیکھنے کی چیز نہیں رہتی۔ اسے گھر کا آرام پیسہ اور آزادی دے دی۔ اب اور کیا چاہئے۔ اس رویہ کے ساتھ عورت توجہ خریدتی ہے۔ خواہ وہ بے ڈول اوربا وزن ہو جائے۔ جوان بچوں کی ماں ہو لیکن نہ وہ بوڑھی ہوتی ہے نہ یہ بات تسلیم کر سکتی ہے۔ وہ بیوٹی پارلر سے اورڈیزائنر ملبوس سے دلکشی خریدتی ہے۔ پھر وہ جنسی توجہ کا مارا کوئی بھی پھکڑ شاعر خرید لیتی ہے۔ جنس بازار کیا نہیں۔ چاہنے والے مرد کرائے پر دستیاب ہیں تو حرج کیا ہے، سب بک رہا ہے۔
شاعری کی آبرو کے سوا وہ محفوظ ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: