اندور کا سپاہی ۔۔۔ اختر پیا (ممتاز رفیق کا تحریر کردہ خاکہ)

0

اختر انجم پیا اپنے حال قال میں مست الست آدمی ہیں یہ الگ بات کہ اس قبیل کے لوگوں میں ایسے چوکس خال خال نظر پڑتے ہیں۔ انہوں نے ایک سجیلی کٹیلی جوانی گزاری اور ہر کھیل کھیلا لیکن یہ تو شاید ہم نے بیچ سے بات آغاز کردی ۔ ذرا یہ تو دیکھیں کہ یہ پیر جواں ہمارے رابطے میں کیسے آئے اور ان میں ایسا کیا دھرا تھا کہ وہ ذہن سے چمٹے رہ گئے ورنہ دن میں کتنے ہی آتے جاتے ہیں بھلا کون انہیں دل پہ نقش کرتا ہے؟ میں سوچتا ہوں انسان کو جیسے دوسری چیزیں مقدر کی جاتی ہیں ایسے ہی چند مخصوص انسان بھی اس کے نصیب میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ صاحبو ! ہوا کچھ یوں کہ ہم سب چائے خانے میں آسن جمائے غیبت کے پھول کھلانے اور شاعری کی چڑیاں پھدکانے میں منہمک تھے کہ ناگاہ م۔م مغل کی پھٹپھٹی آکر رکی۔ اس گہری سانولی رنگت کے جوان کے ساتھ ایک خوش قامت باریش بھی تھے۔ ہماری منڈلی میں ابھی ابھی احمد عمر شریف کے تازہ گیت کی خواندگی تمام ہوئی تھی اور صاحبان شعر و ادب گیت کی تحسین کے ساتھ عمر شریف کی گیت نگاری کی ہنرکاری پر مختلف پہلوؤں سے حسب توفیق اظہار خیال کر رہے تھے۔ انسان کی تخلیق زیر کلام ہو تو اس کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ بھی دل پسند نہیں ہوتا، ایسے میں کسی اجنبی کا در آنا دوسروں کے لیے تو قدرے کم، ہاں شاعر کو یقیناًشاق گزرتا ہے۔ لیکن احمد عمر شریف کمال کا ہنر رکھتے ہیں مجال ہے کہ ماتھے پر سلوٹ تک پڑی ہو انہوں نے نوواردگان کا خندہ پیشانی سے سواگت گیا۔ اُن کے دیکھا دیکھی ان کے حلقہء اثر کے احباب نے بھی دکھاوے کے خیرمقدمی الفاظ کہے۔ دنیا زادوں کا یہ ٹولہ ایسے افراد پر مشتعمل تھا جنہیں اپنے نابغہ ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں تھا اور یہ ان کے لیے خاصی گجگجاہٹ کا معاملہ تھا کہ وہ اپنے سے کم درجے کے ادبا و شعرا سے مکالمے کا ڈول ڈالیں۔ سُو وہاں کچھ دیر سناٹا بولتا رہا اور پھر وہ دوبارہ اپنی دانش کے سوکھے پھول کھلانے، موضوع کی طرف پلٹ آئے۔محفل میں آنے والے اجنبی اختر پیا تھے۔ کسی اجنبی کے حوالے سے ابتدائی تاثر تو اُس شخص کے حوالے سے مرتب ہوتا ہے جس کے تعارف سے وہ آپ کے رابطے میں آتا ہے۔ اختر پیا ، م م مغل کے ساتھ وارد ہوئے تھے اور مغل کو اُس کے تیکھے چلن کے باوصف میں نے ہمیشہ پسند کیا ہے ۔ یہ جوان نوکیلی ذہانت سے مرصع ہے اور شعر لکھنے کے علاوہ کمال کی نثر لکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اُس کی گفتگو سے اُس کا صاحب مطالعہ ہونا ظاہر تھا اور مجھے اس میں بے پناہ امکانات نظر آتے تھے لیکن جوانی کی ترنگ اور اپنے بارے میں قیاس کیے ہوئے غلط اندازے اسے کبھی کبھی غیر متوازن بھی کردیتے ہیں۔ اس کی تخلیقی زرخیزی ہمیشہ میرے غضب کے مقابل اس کی ڈھال بن جاتی ہے۔ مجھے یاد سا آیا جیسے میں اختر پیا سے اس سے قبل بھی کہیں مل چکا ہوں اور پھر ذہن میں عزم بہزاد مرحوم کی بیٹھک ابھر آئی۔ جہاں میں نے پہلی بار م م مغل کو دیکھا تھا اور اس کے ساتھ اس وقت بھی ایک باریش تھے، لیکن اب اس ملاقات کی تفصیل حافظے سے اتر ی ہوئی بات ہے۔ اس لیے اختر پیا سے موجودہ ملاقات کو ہی نقش اوّل جانیئے اور اس میں اختر پیا کے حوالے سے میرا تاثر خاصا خوش گوار تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس باب میں ظاہر پرستوں کی بیٹھک میں کیا سوچا گیا ہوگا ۔ ان لوگوں کو چہرے پوتنے میں اس بلا کی مہارت حاصل ہے کہ ممکن نہیں کہ آپ ان کے دل و دماغ میں ٹہلتی بات کا بھید پا سکیں۔ اس کے لیے نظر ٹکا نی پڑتی ہے اور یہاں اتنی فراغت کسے؟ میں اسی سوچ سے الجھ رہا تھا کہ میاں مغل نے اپنے ہمراہی کو اختر پیا کہہ کر مخاطب کیا۔ اب میں پورے حواسوں کے ساتھ ان نوواردگان پر نظر کس چکا تھا۔ یہ پیا کیوں؟ میرے ذہن میں کھد بد ہوئی، لیکن فورا ہی یہ سوال بے جواز معلوم ہوا اس طور اطوار کے انسان کو اور کہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ان کی شخصیت میں ایک مخفی دل کشی تھی جو مجھ ایسے کور چشم پر بھی ظاہر تھی۔ اُدھر میرے خواب و خیال میں بسنے والے ساتھی باہم آمیز ہوچکے تھے اور گیت میں ہندی الفاظ اور اس کی روایت میں عشق میں، عورت کی جانب سے چاہت کے اظہار میں اوّلیت اور جانے کیا کچھ زیر کلام تھا لیکن میرے لیے انسان سے زیادہ اہم کچھ اور نہیں اور یوں اختر پیا کی صورت میں میرے لیے ایک دل پسند مصروفیت نکل آئی تھی۔ان میں کچھ عجب تھا جو مجھے انہیں گہری نظروں سے مشاہدے میں رکھنے پر اکسا رہا تھا۔

پیچھے کو پلٹے ہوئے بال جن میں سے بہت سے داغ مفارقت دینے کو تُلے دکھائی دیتے تھے اور جو رہے سہے تھے ان پر چاندی اپنا قبضہ قائم کرنے پر اڑی ہوئی تھی۔ سلوٹوں سے بھرے کشادہ ماتھے کے نیچے بھویں جن میں کہیں کہیں چاندی چمک رہیں تھی اور ان کے سائے میں دو گدلی لیکن دمکتی آنکھیں جن میں اطمینان ٹھاٹیں مار رہا تھا،جیسے مٹّی کے چھوٹے چھوٹے کٹوروں میں ٹھنڈک نے ڈیر ے ڈال رکھے ہوں اور گندم کے جھلسے ہوئے دانے ایسی رنگت اور کان اپنی حد میں مطمعن اور خشک باریک ہونٹ اور چپاتی ایسا پچکا ہوا پیٹ اور ستواں ناک اور کاندھے جیسے بوجھ سے بے دم اور دانتوں کے بیچ سے جھانکتی کھڑکیاں اور گال دھنسے ہوئے اور ان سے ملحق ہڈیاں، ابھری ہوئیں اور براق داڑھی نظر انداز کیے جانے پر گلہ مند اور نحیف لمبے ہاتھوں سے جڑیں لانبی انگلیاں کہ جو کسی فن کار کے حصے ہی میں آتی ہیں اور زیب و زیبایش سے عاری لباس اور چہرے پر ایک چوکس بے نیازی ۔اس عمر رسیدگی میں ان کی تنی ہوئی کاٹھی میں سوائے کاندھوں کے بیچ پشت پر ہلکے سے خم کے اور کوئی کجی نہ تھی۔ اختر پیا کی مجموعی شخصیت کا تاثر رواروی میں لکھی تحریر ایسا تھا ۔ ان کی گفتگو پر مجھے رٹے ہوئے مکالمے کا گمان گزرا اور ان کا انکسار اور بے خیالی گویاطۤر میں اڑسا ہوا پھول۔ بعض افراد کے لیے اپنی نفی ایک نوع کی روحانی مسرت کا سامان ہوتا ہے اور یہ کوئی نفسیاتی گرہ نہیں سمجھنی چاہیئے بلکہ یہ سوچا سمجھا ایک سوداہوتا ہے جسے یہ لوگ بخوشی اختیار کرتے ہیں۔مجھے فرقہ ملامتیہ کا خیال آیا ان کا بھی کچھ ایسا ہی چلن ہے۔اچانک اس خیال نے سر نکالا کہ میاں ممتاز پہلی نشست میں کسی کے حوالے سے ایسی تند وتیز خیال آفرینی کسی صورت بھی مناسب نہیں ابھی تم انہیں جانتے ہی کتنا ہو ؟ آدمی تو اندھے کنویں سے بھی زیادہ ڈونگا ہوتا ہے۔ میں نے فل فورسوچ کے کان کھینچےْ اور ہمہ تن گوش ہوگیا۔اختر بھائی میرپورخاص سندھ کے کسی مندر کا احوال بیان کررہے تھے جہاں وہ یوں ہی سیر سپاٹا کرتے جا پہنچے تھے۔ مندر میں پروہت اپنے سیوکوں کو گیتا کا پاٹ کرارہا تھا،انہیں دیکھ کر اس نے اپنا کام موقوف کیا اور انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔اختر پیا کہہ رہے تھے : میں اپنی اس پذیرائی پر حیران رہ گیا۔لیکن اختر پیا کا لہجہ اور آنکھیں ان کے اس بیان کی گواہی پر آمادہ نہیں تھیں۔ مجھے لگا جیسے انہیں اسی کی توقع تھی اور وہ پروہت بھی کوئی باخبر انسان تھا۔اس لیے حیرت کی کیا بات لیکن وہ یہ کتھا مجھے متاثر کرنے کے لیے بھی نہیں سنا رہے تھے۔تو پھر؟ غالبا یہ جتانا مقصود تھا کہ وہ کس درجے پر فائز ہیں لیکن یہ بھی محض میری آگاہی کے لیے تھا ۔اس میں تفاخر کا معمولی سا بھی بال نہیں تھا۔میری سوچ پھر پابندی توڑنے کے لیے کروٹیں لینے لگی۔انہوں نے مجھے اس راز میں شریک کرنے کا اہل کیوں خیال کیا؟میں اجہل یہ بھید بھاؤ کیا جانوں مگرمجھے یہ نکتہ منتقل کیا گیا ہے تو اس میں کوئی منطق تو ضرور ہوگی۔یہ سب میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اختر پیا نے یہ تذکرہ کسی مناسب جواز کے بغیر آغاز کردیا تھا ۔خیر یہ سب شاید ذرا پہلے بیان میں آگیا۔چلیے اس قصے کو موقوف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری تھا کہ اختر انجم صاحب کی شاعری سماعت کی جائے ۔معمولی سی ردوکد کے بعد ان کی غزل کے مصرعے ہمارے بیچ تھرک رہے تھے ۔میں نے جم کر ان کے اشعار کی داد دی لیکن سچ پوچھیے تو ایسی پُرشور جگہ پر شعر کی معنویت کیا خاک پلّے پڑتی ۔ اب اسے میری کم زوری جانیئے کہ شعر میرے ذہن میں تازہ نہیں رہتااور یوں شاعراختر علی انجم میرے زائچے میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔(یہاں یہ اعتراف کرنا نہایت ضروری ہے کہ بعد میں مجھے ان کی شاعری کے حوالے سے نظر ثانی پر مجبور ہونا پڑا)لیکن اختر پیا کی شخصی دل کشی میرے دل پر نقش ہوچکی تھی۔ مجھے یہ زعم سا ہے کہ میں شخصیت کو با آسانی کھنگال لیتا ہوں لیکن اختر پیا کے دروازے پر علی گڑھ کا اصلی قفل پڑا تھاجسے کھولنے کے لیے مجھے خاصے پاپڑ بیلنے پڑے۔اُن کی سادگی کی اوٹ سے جھانکتا انوکھا پن مجھے رہ رہ کر انہیں کھوجنے پر اکساتا تھا اور پھر مجھے جیسے کرید سی لگ گئی۔ اختر پیا کا کیا بھید ہے جسے وہ لاکھ جتن سے چھپانے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ ان کا اپنے ہونے سے انکا ر کا معاملہ کیا ہے؟ ٹھیک ہے وہ اپنی اصل کو چھپانے میں خاصے کام یاب سہی لیکن اگر کسی کو کچھ دکھائی پڑ جائے تو اس حجت کا مطلب ؟ یہ ایک چیستاں تھا جسے مجھے حل کرنا تھا۔وہ مجھ سے ملاقاتوں میں وقفہ رکھتے تھے جس کے لیے سب سے بہترین عذر مغل کی عدم فرصتی تھی گویا وہ اس سے بندھے ہوئے تھے۔یہ سب پینترے مجھے ازبر ہیں لیکن کیا کیجئے کسی کے احترام کی عادت پڑ جائے تو زبان اکٹر جاتی ہے ۔تاہم جب کبھی وہ باہم ہوتے میں ان کا کوئی نہ کوئی نقش اچک لیتا۔آہستہ آہستہ مجھے اپنے اس گمان پر یقین آگیا کہ میں ایک مشکل آدمی پر ہاتھ ڈال بیٹھا ہوں ۔میں مدتوں الجھتا رہا کہ یہ میرپورخاص کیسے جا پہنچے اور پہلی ملا قات میں ہی خصوصیت سے اس کا تذکرہ کیوں کیا ۔میں عرض کروں کہ میرا بچپن اسی قصباتی شہر میں گزرا ہے اور جومندر تذکرہ میں آیامیں بچپن میں اس کی کھڑکیوں سے پہروں جھانکا کرتا تھا مجھے اس میں رکھے ان کے دیوتا اور وہاں کی سجاوٹ اچھی لگتی تھی دل چاہتا تھا کہ کبھی انہیں چھو کر دیکھوں۔ اب جو انہوں نے تذکرہ کیا تو وہ سب دوپہریں گویا زندہ سلامت تصور میں آکھڑی ہوئیں۔ آپ اسے اتفاق کہہ کر آگے بڑھ جائیں میرے نزدیک تو اتفاق نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی، تو پھر اس تذکرے کو اگر میں نے ایک راز سے تعبیر کیا تو کیا غلط کہا؟مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اختر پیا جس دنیا کے باشندے ہیں اس کے رنگ ڈھنگ ہم عامیوں سے الگ ہوتے ہیں۔اختر پیا کو اعلی حضرت جناب غلام مصطفی خاں کا مرید خاص ہونے کا افتخار حاصل ہے ایسے دبنگ مرشد کا مرید خاص اگر صاحب حال ہو تو اس میں عجب کیا ہے اور یہ جو اختر پیا سب سے راضی رضا رہنے کی جستجو میں رہتے ہیں اس سے مجھے خیال گزرتا ہے کہ بندگان خدا کو خوش رکھنا بھی تو ایک نوع کی عبادت ہی ہے ۔اسی کے ساتھ یہ بھی باور کرنا پڑتا ہے کہ شاید ہمارے پیا جی مالک کو راضی کرچکے اور اب مخلوق کی طرف متوجہ ہیں۔میں سوچتا ہوں یہ کیسا مشکل ہدف ہے کہ کوئی آدمی بیک ساعت خود کو تمام انسانوں کو راضی رکھنے پر تعینات کرلے۔اختر پیا تربیت یافتہ انسان ہیں انہوں نے زندگی کا بڑاحصہ پاک آرمی کی سگنل کور میں خدمات سرانجام دیتے گزارا۔ ؂اس سے قبل حیدرآباد کے لطیف آباد نمبر گیارہ میں ان کی سائیکلوں کی دکان تھی۔یہ سائیکل بھی تو سفر کی علامت ہے اور رفتار کی بھی، میرا مطلب ہے ان کی تربیت کا آغاز تو بہت پہلے سے ہو چکا تھا اور جب وہ سگنل کور میں شامل ہوئے تو یہ براہ راست تربیت کا دوسرامرحلہ تھا۔ فوج میں ملازمت کے دوران اختر پیا نے سگنلز کو ڈی کوڈ کرنا سیکھا اور ظاہر ہے طویل ملازمت کے بعد جب وہ وردی نہ پہننے پر اٹل ہو گئے اور ملازمت کو لات مار دی اس وقت تک وہ اپنے فن میں طاق ہوچکے تھے۔مجھے خیال آتا ہے کہ تصوف کے گہرے معاملات میں رہنمائی بھی تو ایک قسم کے سگنل کے ذریعے ہی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مرشد اور سالک کا رابطہ اور گفتگو بھی تو اشاروں کنایوں میں ہی ہوتی ہے۔اس کا مطلب ہے اختر پیا کی سگنل کور میں کی ہوئی مشقت بار آور ثابت ہوئی۔شاید آپ گفتگو کے اس قرینے سے الجھ رہے ہیں مگر کیا کیجئے کہ میرے ممدوح راہ طریقت کے مسافر ہیں اور ان کے تذکرے میں اس الجھن سے پہلو تہی مجھ ایسے نااہل کے لیے آسان نہیں۔ اختر پیا عین آداب سلوک کے مطابق خود کو پوشیدہ رکھنے کے جتن میں رہتے ہیں لیکن عشق و مشک ایسی چیزیں ہیں جو ظاہر ہو کر رہتی ہیں مگر میں اپنے ممدوح کے انکار کے احترام میں موضوع پر مذید کلام کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

اب یہ بھی سن لیں کہ اختر پیا مدھیہ پردیش ہندوستان کے شہر زرخیز اندور کے سپوت ہیں۔جس نے اپنے سنگھار دان میں تہذیب کوفنون لطیفہ، تحقیق اورتعلیم کے آمیزے کی صورت سینت رکھا تھا۔ اندور، وہ سرسبز لسانی شہر تھا جس میں تیرہ مختلف زبانہیں بولی جاتی تھیں۔اب کیا عجب اگر اس بنیاد پر اس شہر شان دار کوزرخیر لسانی خطہ قرار دیا جاتا تھا۔ ہمارے ممدوح کے اجداد عرب سے ہجرت کرکے یہاں آئے پھر اس شہر کے اسم کے ایسے اسیر ہوئے کہ یہیں کے ہورہے۔ چچا غالب کی طرح اختر پیا کے اجداد کا آبائی پیشہ بھی سپاہ گری تھا ۔ اندور پہنچ کر انہوں نے لہو گرم رکھنے کے لیے لٹھ بازی کو اپنا مشغلہ بنایا جو جہاں ایک فن تھا وہی اس دور میں مسلمان اسے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال میں لاتے تھے۔ اختر پیا تک پہنچتے پہنچتے یہ فن ٹھٹھر کر اس طرارے تک سمٹ گیا۔ جس کا مشاہدہ ہم اور آپ کبھی کبھار ان کے رویے میں کوئی اوندھی سیدھی سن کر دیکھتے ہیں ورنہ عجز کا تماشاہمارے عزیز کا ہردم کا وظیفہ ہے۔ہر آدمی دوسروں کو جانچنے کے ڈھنگ جدا رکھتا ہے۔ اختر پیا لوگوں کی آنکھ کی پرکھ کے لیے عاجزی کا ناٹک رچاتے ہیں کہ دیکھیں تو سہی یہ سسرا کے کوس تک کی نظر رکھتا ہے؟ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف کسی سیدھی لکیر ایسے نہیں ہیں جیسا کہ وہ خود کو ظاہر کرنے میں جتھے ہوئے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس سے ان کا مردم شناس ہونا بھی باور آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ م۔م۔مغل ایسے لمڈے کوسر پر سجائے پھرتے ہیں؟ آپ کا سوال اس حقیقیت کا شاہد ہے کہ آپ اس سانولے کے تعلق سے کچھ خاص واقفیت نہیں رکھتے یا شاید جیسا کہ آج کل کا وتیرہ ہے اس غریب سے آپ کو کوئی کد ہو۔ہمارا خیال ہے کہ وہ زبان کا ذرا سا پھوہڑ ضرور ہے ورنہ اس میں ایسی کوئی مہلک کجی نہیں کہ اسے سراسر رد کردیا جائے مگر اسی کے ساتھ ہمیں کبھی کبھار یہ گماں بھی گزرتا ہے کہ اختر پیا کہ لیے اس کا مصرف ایک پہیے یا وقت بانٹنے کی مشقت پر مقرر آدمی سے زیادہ کچھ اور نہیں ہے۔ مغل پر بھی ہماری نظر ہے مگر خیر وہ مرد ہمہ رنگ کبھی پھر سہی۔یہ مرقع تو اختر پیا کے لیے مخصوص ہے تو یہاں تو بس وہی وہ ہیں۔

کہتے ہیں فوج کی چاکری تو حکم کی بجا آوری سے بندھی ہے لیکن لٹھ بازوں کا لہو چیز دیگر است۔اختر پیاملازمت کے دوران ایک بار کسی بات پر اینٹھ گئے۔اعلان فرمادیا اب وردی نہیں پہنوں گا۔سب دوست لاکھ سمجھاتے ہیں ، قاعدے قانون جتاتے ہیں مگر زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔بس یہی ایک رٹ کہ وردی نہیں پہنوں گا۔اب اگر آپ مست ہیں تو صاحب ہوں گے یہ تو فوج ہے۔ لیجیئے بات افسر مجاز تک جا پہنچی اب پیشی اور جواب دہی کا مرحلہ اورنوبت بہ ایں جا رسید کے موصوف کو سترہ دن کے لیے پابند سلاسل کردیا گیا لیکن مجال ہے کہ ان کے سلوٹ بھرے فراغ ماتھے پر شکن بھی آئی ہو۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سزا کے ساتھ ہی اختر پیا کا دل اس ملازمت سے اٹھ گیا۔ راہ سلوک اور سختی جانئے لازم و ملزوم ہیں قید کی یہ مدّت بھی نفس کشی کے مرحلے کی طرح گزار دی۔انہوں نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا وردی ایک بار کیا اتاری کہ دوبارہ زیب تن نہ کی۔ اس کے بعد ان کی یافت کا معاملہ کیا رہا یہ ہمارے علم میں نہیں لیکن ہم اس سے واقف ہیں کہ وہ فقیروں کی سی شان رکھتے ہیں اور کچھ عجب نہیں اگر اس کے بعد انہوں نے کچھ کیا ہی نا ہو۔ میں نے انہیں ہمیشہ آسودہ حال سا دیکھا بس یہ ہے کہ کبھی کبھار وہ اپنے سگریٹ کی ڈبیا میں جھانکتے ہیں کہ وہاں کچھ پھونکنے کے لیے رہا یا نہیں۔اس کے علاوہ ان میں کسی قسم کی پریشانی کی جھلک کم از کم ہم نے تو نہیں دیکھی ۔اب ان کا مشغلہ کل وقتی مشغلہ شاعری ہے اور اپنے استاد کی حیثیت سے انہوں نے محترم نور میرٹھی کا انتخاب کیا جن کی اصلاح نے جلد ہی ان کے کلام کو نکھار دیا اور جب وہ استاد کی جانب سے فارغ اصلاح قرار پائے تو اسی کے ساتھ استاد محترم نے انہیں اصلاح دینے کی اجازت بھی مرحمت فرمادی۔مجھے تو جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ یہ شاعری بھی اصل میں تصوف کے گہرے رنگ کو اور چمک دار بنانے کا جتن ہے۔ یہاں مجھے خیال آتا ہے کہ اس قماش کے اللہ لوگوں میں ایک بات نے مجھے ہمیشہ حیران رکھا ہے کہ ان کی اکثریت جس قدر راہ سلوک کی منازل طے کرتی جاتی ہے اسی تناسب سے ان کا قلب اپنی نرماہٹ سے جاتا رہتا ہے۔اب وہ کچھ بھی ظاہر کرتے پھریں البتہ اصل میں وہ سینے میں ایک پتھر کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔اختر پیا چاہے ایسے نہ ہوں گے لیکن وہ بھی ہر آن مونہہ سے جھاگ اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ الگ بات کہ اسے دیکھنے کے لیے آنکھ کا زندہ ہونا شرط ہے اور اسی کے ساتھ ہر دم ایک خفی جھنجلاہٹ اور برہمی ان کے مزاج میں رواں رہتی ہے۔تاہم برسوں کی ریاضت نے انہیں اپنا آپ باندھے رکھنا خوب سکھا دیا ہے اور سوچئے تو سہی یہ کیسا کٹھن ہوتا ہوگاکہ اس سب کے باوجود آدمی کپاس کا پھول بنا پھرتا رہے،منکسرالمزاج،نرم خو اورمحبتوں سے چھلکتا ہوا۔ اختر پیا ایسے ہی دکھائی پڑتے ہیں مگر جو کچھ میں نے عرض کیا

اس کا سراغ ان کے اشعار میں ملتا ہے۔:

 کوئی بھی اب مری نگاہوں میں

دیر    تک    معتبر    نہیں    رہتا

اختر پیا کی پردہ پوشی کا جتن اپنی جگہ ہم بھی کسی حد تک ان تقاضوں سے واقف ہیں جن سے مجبور ہمارے ممدوح خود کو تہی دامن کہنے پر مصر رہتے ہیں مگر اس مہک کا کیا کیجیے جو ان کے کلام سے پھوٹی پڑتی ہے۔ اخترپیا کے اشعار ان کے اصرار کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔:

میں خیر و شر کی کشاکش کے درمیان رہا

میں   آدمی   تھا   بہر   رنگ   آزمایا   گیا

کیا کوئی عامی یہ دعوا کرنے کی جسارت کرسکتا ہے؟

تلاش تم جسے کرتے ہواس کو، ہم نفسو

کبھی  کبھی  پس  دیوار  دیکھتا ہوں میں

اور انہیں یہ خیال کیوں آتا ہے؟

خیال آیا ہے دل میں بارہا اپنے

قبائے  ہوش  اتار  دی  جائے 

اور دیکھئے کیا کسی درویش کے علاوہ کوئی اور یہ کہہ سکتا ہے؟

وہی اہل خرد کو کیوں نہاں معلوم ہوتا ہے

جو دیوانوں کو ہر شے میں عیاں معلوم ہوتا ہے

تو جناب آپ نے دیکھا سچ اپنا چہرہ چمکا کے رہتا ہے لیکن ہمیں کیا تردد کہ اگر وہ انکاری ہیں تو ہم انہیں صاحب تصوف ثابت کرکے رہیں ان کے الفاظ خود اس کا اعلان اونچی آواز میں کررہے ہیں۔محترم !ہمارے اختر پیا بہت گن اور کمال کے انسان ہیں ورنہ کیا جواز ہے کہ عامیوں کا انبوہ کا انبوہ ہر ساعت انہیں دائرہ کیے اپنی درخواستیں ان کے حضور گزارتا رہتا ہے؟اب ہم اوروں کا احوال کیا کہیں یہ تو ہماری اپنی گزری ہے کہ جب طبیعت کی خرابی نے زور مارا اور ہم سماعت سے جاتے رہے تو انہیں متوجہ کیا۔لیجیے ہمارا کہنا تھا کہ ہمارے کان بول اٹھے ۔نہیں ! ہماری سماعت بحال نہیں ہوئی لیکن اک شور ہے کہ اب ہم وہ سننے سے بھی جاتے رہے جو الٹا سیدھا پہلے سن لیا کرتے تھے لیکن وہ ہمت بندھاتے ہیں کہ رفتہ رفتہ سب اچھا ہوجائے گا اور ہم بھی ایک خوش امید ،یقین سا ہے کہ وہ سچ کہتے ہیں۔سنا ہے کہ جو دوسروں کے روگ سمٹتے ہیں ان کا بوجھ انہیں خود سنبھالنا پڑتا ہے۔یہ جو اختر پیا گھلے جاتے ہیں کہیں اس کا کارن یہی تو نہیں ہے؟ مگر وہ تو کہتے ہیں ہم کیا جانیں خیرلیکن یوں بھی ہم ایسوں کے لیے یہ کہاں ممکن کہ ہم ان کی پاتال کی خبر لانے کی جستجو میں ہیں اور یہ جو کچھ بھی بیان میں آیا محض ہماری خیال آرائی ہی تو ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ اختر پیا جیسے کیسی کیسی اوٹ کا اہتمام رکھتے ہیں۔ایک دن محترم نے ہمیں یاد کیا ہم احمد عمر شریف کی موٹریا میں سوار ترنت وہاں جا پہنچے۔نامانوس سے علاقے میں ایک پیچیدہ سی سڑک پر واقع ہوٹل میں ان کے ساتھ چائے پی اور ظاہر ہے ان کے ہمزاد مغل میاں وہاں کیوں نہ ہوتے۔ چائے سے نمٹ کر قافلے نے کوچ کیا ۔ ہماری منزل ایک دوست کا فلیٹ تھا جہاں ایک مغنی ہماری دل جوئی کے لیے انتخاب کیا گیا تھا ۔ادھر ہم حیران کہ کہاں راہ تصوف کا جویا اور کہاں ساز و آواز کی محفل؟ خیال گزرا اختر پیا شاعر ہیں ممکن ہے ان کی غزلیں سنوائی جائیں اور یہ محض کمال لحن کا تماشا ہو۔مگر نہیں مغنی لہک لہک کر ہارمونیم پر نغمہ سرا ہے اور اختر پیا بیٹھے جھوم رہے ہیں۔ہم ششدر کہ ماجرا کیا ہے۔ اس واجبی سی آواز و کلام پر ہمارے ممدوح کی سرشاری عجب تھی۔اچانک مجھے ان ہی کی قبیل کی اپنی ایک بزرگ عزیزہ یاد آئیں جنہیں میں نے انگزیزی نغمے پر حال کھیلتے دیکھا تھا۔جانے ہمیں کیا سنائی دیتا ہے اور یہ لوگ کیا سن رہے ہوتے ہیں؟کون جانے اس میں بھی کوئی سگنل ہوتا ہو جسے ڈی کوڈ کرکے یہ نہال نظر آتے ہوں۔بول، آواز اور سُر توہم انجانوں کا کھیل ہے ممکن ہے ان سب کی ان کے لیے ایک الگ معنویت ہوتی ہو۔

صاحبو ! جیسا کہ عرض کیا اختر پیا ایک تہہ دار شخص ہیں انہیں کھوجنے کی طلب میں دانتوں پسینہ آگیا اور ہمارا یہ غرّہ بھی جاتا رہا کہ ہم انسان کو کھنگالنے میں کمال رکھتے ہیں۔ہمیں خوب اندازہ ہے کہ یہ مرد مبہم ہم پر آشکار ہونے پر آمادہ نہیں اورجو کچھ ہم ان کے حوالے سے جان سکے ہیں وہ بس اتنا ہی ہے جتنا انہیں منظور تھا۔ہم تو ان کی عمر میں برکت کے لیے دعا گو ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے سر پر سلامت رہیں تاکہ ان کی برکت سے ہمارے حصے میں ان کا بچا کچا آتا رہے اور ہم بھی کچّے فقیر بنے اینٹھتے پھریں۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: