صدارتی انتخاب: فضل الرحمان، اعتزاز احسن، اور ختم نبوت — راو جاوید

0
  • 7
    Shares

صدرِ پاکستان کے عہدے کیلئے پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن آزاد خیال اور بائیں جانب کے ترقی پسند (لبرل پروگریسو لیفٹسٹ) دانشور اور لکھاری ہیں جیسے وہ خود کو بیان کرتے ہیں۔ انکے نزدیک پیپلزپارٹی سخت مقابلوں سے گزری ہوئی (بیٹل ہارڈنڈ) پارلیمانی پارٹی ہے۔ وہ قانونی موشگافیوں اور پارلیمانی راہداریوں کو سمجھتے ہیں۔ بائیں بازو کے دانشور ختمِ نبوت سے پہلو بچا لیں تو دور تک جاسکتے ہیں۔ اعتزاز صاحب کو بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ انہوں نے بہت سے معاملات دیکھے، پرکھے اور گزارے ہوئے ہیں۔ وہ ترقی پسندوں میں سے بھی انتہائی محتاط شمار ہوتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی طرح بالکل بیباک بھی نہیں۔ لیکن کچھ نازک معاملات میں بے احتیاطی کے باوجود انکا دامن داغدار نہیں ہے۔ اس سے قبل راقم اعتزاز احسن کی انڈس ساگا کے بنیادی فلسفے کی مدد سے سندھی سیاست پر مضمون تحریر کرچکا ہے۔ سندھ ساگر میں انکا بنیادی موضوع ہے کہ “پاکستان ایک آزادانہ خطہ ہے جسے چھ ہزار سالہ معلوم تاریخ میں سے پانچ ہزار سال سے خودمختاری اور بھارت سے آزادی حاصل رہی ہے”۔ کسی لکھاری کا کسی کے فلسفے سے کام لیکر ملک و ملت کی خدمت کی کوشش کرنا ایک جانب لیکن کسی کا اہم ترین عہدے کیلئے مناسب ہونا بالکل مختلف معاملہ ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن اور اعتزاز احسن، دونوں ہی پاکستان میں طاقتور عناصر میں شمار ہوتے ہیں۔ کچھ حوالوں سے فیصلہ کن بھی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن مفتی محمود صاحب جیسے قابلِ عزت استاد، صاحبِ علم لکھاری، ادیب، باکمال مقرر اور باکردار سیاستدان کے بیٹے ہیں۔ انکی سیاسی کامیابی کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ بحران کے دور میں مشترکہ پارلیمان کے دو بڑے اتحادات میں سے ایک کے امیدوار ہیں۔ کسی عالم کو آج تک ایسا شرف حاصل نہیں ہؤا۔ افسوس یہ ہے کہ اب جب کہ وہ جیت سکتے ہیں، پیپلزپارٹی جیسی انکی حلییف جماعت ان کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی بالکل نہیں جیت سکتی لیکن مولانا کی مخالفت کا سہرا اپنے سر پر ضرور سجائے گی۔ پی پی اور جمہوریت دونوں کیلئے جمعیتِ علماء نے ضیاء الحق جیسے “اسلامی” حکمران تک کو چھوڑ دیا تھا۔ علماء جمیعت کو اسکا افسوس تادیر رہیگا۔ یہ فیصلہ مشکل نہ تھا۔ ایک جانب عمران خان کا امیدوار جس نے پی پی کو مسلم لیگ سمیت رگڑا دیا اور دینا ہے، تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن جنہوں نے ہمیشہ وضع داری قائم رکھی۔ یہ نیرنگئی سیاستِ دوراں نہیں تو کیا ہے۔

اعتزاز احسن کے والد علیگ تھے۔ علیگڑھ کے فاضلین پاکستانی بیوروکریسی اور طاقتور حلقوں کے ناخدا مانے جاتے ہیں۔ بھٹو کے ساتھ شامل ہوکر، سندھ ساگر جیسی کتاب لکھ کر اور وکالت کرکے وہ مزید قدآور ہوگئے ہیں۔ عدلیہ بحالی تحریک کے بنیادی قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ اس تحریک نے پاکستان کے اقتدار سے فوج اور طالبان دونوں کو شاید ہمیشہ کیلئے باہر کردیا۔ لیکن اس موقع پر پیپلز پارٹی نے انہیں میدان میں اتار کر ظلم کیا ہے۔ اعتزاز احسن کا حق اس وقت بھی تھا جب وہ وکلاء کے مکمل قائد اور فاتح تھے۔ تب وہ صاف شفاف بھی تھے۔ قابلِ قبول اور باعزت رہنما مانے جاتے تھے۔ لیکن اس وقت آصف علی زرداری کو صدارت دیکر حق تلفی کی گئی۔ اب جبکہ وہ زندگی کے انتہائی نازک موڑ سے گزر رہے ہیں اور پارٹی خود اپنی سیاست برقرار رکھنے میں مشکل محسوس کررہی ہے، انہیں سامنے لاکر بہت سے سوالات کا در کھول دیا گیاہے۔

لیکن یہ ماننا پڑیگا کہ دونوں بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔ ایک آزادانہ جمہوریت کا چیمپیئن ہے تو دوسرا پاکستان کی دینی سیاست کا سب سے بڑا شہسوار۔ دونوں بہترین مقرر ہیں اور حاضر جواب بھی۔ مولانا فضل الرحمٰن سحر انگیز مقرر ہیں، صرف لال مسجد کے موقع پر لندن گول میز کانفرنس پر چلے گئے تھے جس کا شکوہ دیوبندی حلقوں میں اب بھی سنائی دیتا ہے۔ اعتزاز احسن اس لمحے لبرل جمہوریت کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ چاردانگِ عالم میں انکا شہرہ بھی ہے۔ لیکن کیا کیجیئے کہ وہ ہاری ہوئی پارٹی اور زندگی کے نازک موڑ سے گزر رہے ہیں آج انکی عدلیہ بحالی کا کریڈٹ فائدے میں نہیں۔ عدلیہ کا منظور نظر تو کوئی دوسرا ہے۔

اعتزاز احسن کی کتاب کا مطالعہ کرنے والا انکی قابلیت کے سحر سے نکل نہیں سکتا۔ لیکن کہیں کہیں دبے لفظوں میں ان پہ ایک اعتراض بھی سنائی دیتا ہے کہ اعتزاز احسن الیکشن بل 2017 کی 35 رکنی کمیٹی میں شامل تھے۔ وہ ختمِ نبوت کیلئے مولانا خادم رضوی صاحب کے دھرنے کے مخالف تھے۔ انکا مؤقف تھا کہ دھرنے والوں کے مقابل فوج کو میدان میں اتارا جائے اور بزورِ بازو فیض آباد چوک خالی کروایا جائے۔ ایسا ہی مؤقف ایک وقت میں جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے بھی اپنانے کی کوشش کی تھی کہ دھرنا زبردستی ختم کروایا جائے۔ جبکہ ختمِ نبوت کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ ختمِ نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس لئے میرا اندازہ ہے کہ اعتزاز احسن اس معاملے میں تنہا تھے۔ اس بارے میں وہ ایک نہیں کئی بحث مباحثوں میں شامل ہوئے اور اپنا موقف پیش کرتے رہے۔ گو کہ انہوں نے عاصمہ جہانگیر کی سی بیباکی کیساتھ آزاد خیال تناظر کا دفاع بھی نہیں کیا۔ کچھ جگہوں میں وہ انتہائی مدافعانہ انداز میں خود کو بچانے کی کوشش میں تھے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے میں اعتزاز احسن کو نہیں بلکہ شفقت محمود اور انوشہ رحمان کو مرکزی کردار قرار دیا۔ اگر اعتزاز احسن حقیقت کی مکمل وضاحت کردیں تو تاریخ کے مرتبین کیلئے بڑا بہتر ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی اگر وہ اس معاملے میں عالمی قانون برائے حقوقِ انسانی اور نظریہء ختمِ نبوت کا درست تجزیہ کرکے قوم کی رہنمائی کرسکیں تو تمام دنیا میں انکی آواز سنی جائیگی۔ وہ لبرل اور ترقی پسند دانشور ہیں اور پاکستان کی موجودہ تاریخ کے بہترین پارلیمانی رکن بھی ہیں۔ انہیں اس نازک موڑ پر الیکشن بل 2017 کی کمیٹی کے معاملے اور عالمی قانون کے بارے میں قوم کو تذبذب سے نکالنا چاہیئے۔ لبرل دانشور ہونے کی بناء پر وہ اندر کی تمام کہانیاں جانتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہونگے کہ کب کب پاکستان کے خلاف لبرل حلقوں کی طرف سے حدود سے ماوارء چکر چلائے گئے۔ اس لئے انکی جانب سے قانونِ انسدادِ توہینِ رسالت کی درست تناظر میں وضاحت اور اس کے خلاف سازشوں کا مکمل علم بھی ہوگا۔ اس تمام کا علم تاریخ پاکستان کی ضرورت ہے کیونکہ حال کی تاریخ صحیح مرتب نہ ہو تو مستقبل میں اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، کی صدارت کے امیدوار کو یہ وضاحت ضرور پیش کرنی چاییے۔

پیپلز پارٹی کا اجتماعی عقیدہ صاف ظاہر ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 25 ستمبر 2012 کو آصف علی زرداری صاحب نے دوبارہ صدرِ پاکستان کے طور پر اقوامِ متحدہ کی مجلسِ عامہ (جنرل اسمبلی) میں توہینِ رسالت کرنے والوں کو مجرم قرار دینے کی اپیل کرکے عظیم الشان قرارداد نمبر 18/16 منظور کروائی۔ اس موقع پر انکے الفاظ یہ تھے “میں دنیا کے اربوں مسلمانوں کے عقائد اور پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے برخلاف نفرت کے الفاظ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ اظہارِ رائے کی آزادی کی آڑ میں دنیا کے امن و تحفظ کو داؤ پر لگانا گھناؤنا اقدام ہے جسے عالمی برادری جرم قرار دے اور خاموش نہ رہے”۔ لیکن اس تمام کوشش کے باوجود یورپی ممالک اور امریکہ نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ اسلامی تعاون کے سربراہ اکمل الدین احسان اوغلو چیختے رہ گئے۔

اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے شانِ رسالت کے تقدس کی بجا آوری کیلئے 1999ء سے قرارداد جمع کروائی ہوئی تھی جس کی قیادت آغاز سے پاکستان ہی کر رہا تھا۔ اقومِ متحدہ نے 12 سال بعد قرارداد نمبر 18/16 منظور کی۔ اقوامِ متحدہ میں صدرِ پاکستان کے خطاب کا متن تو درست ہے لیکن اسکے خلاصے میں توہینِ رسالت کو جرم قرار دینے کا ذکر موجود نہیں۔ حالانکہ اس دوران میں قرارداد کی منظوری ہوئی جسے اس سے پہلے کمیشن برائے انسانی حقوق نے سالوں کی محنت کے بعد آگے بڑھایا تھا اور یہ خطاب کا ابتدائی اور مرکزی نقطہ بھی تھا۔ جس انداز میں اس قرارداد کو منظور کیا گیا وہ بھی قابلِ غور ہے کہ بہت سے الفاظ حذف کئے گئے۔ انسانی حقوق کے تمام چارٹر کو بچانے کیلئے بہت سی مصالحت اختیار کی گئی۔ لیکن پھر بھی اس قرارداد میں اس قدر گنجائش ہے کہ جب بھی مذہبی اقدار کو ٹھیس پہنچائی جائے، تو فوری طور پر اس کے قرارداد کے ذریعے دنیا بھر میں کہیں بھی عدالتی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔ اسکے علاوہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف باقاعدہ شعور و آگاہی کی مہمات بھی چلائی جاسکتی ہیں۔ یہ قرارداد اس قابل ضرور ہے کہ کسی بھی ملک میں سے ہونے والے نامناسب افعال کو روک دینے کو قانونی طور پر روک دے۔ بس ایک درست انداز اختیار کرکے قانونی چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے۔

اعتزاز احسن سندھ ساگر جیسی کتاب کے مصنف ہونے کے ناطے اچھے لکھاری ہیں۔ اس کتاب کے توسط سے قوم کو ایک نئی شناخت حاصل ہوئی۔ عدلیہ بحالی تحریک کے ذریعے انہوں نے دنیا بھرمیں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے سیاست کیلئے بیوروکریسی کو ٹھوکر ماری اور قوم کی خدمت کی ذمہ داری اٹھائی۔ اس تمام کی اہمیت اپنی جگہ۔ ایک قانون دان کی قانونیت سے مفر نہیں۔ پیپلزپارٹی کی میدان میں موجودگی اور محنت بھی بجا پھر بھی پی پی کو حقیقت پسندی اختیار کرنا ہوگی۔ ختمِ نبوت کے قانون کی پاسداری ہی بھٹو صاحب کی محنت اور لگن کا کل حاصل تھا۔ اقوام ِ متحدہ کے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری کی تقریر کا بھی یہی مقصد ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پارٹی کی سیاست متاثر ہو سکتی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ عالمی قرارداد منظور کروانے کے باوجود پیپلزپارٹی میں توہینِ رسالت کو جرم قرار دینے پر ابھی غور و خوض جاری ہے۔ اگر پیپلز پارٹی مولانا خادم رضوی صاحب کے اندازِ سیاست کے خلاف ہے تو ختمِ نبوت کے دفاع کیلئے خود کوئی اقدام کرنا چاہیے۔

اب پاکستان کے سیکولر حضرات اس پر متفق ہیں کہ پیپلز پارٹی کے عالمی مؤقف کو ہی اپنا مؤقف مانتے ہیں۔ لیکن شاید پہلے ایسا نہ تھا۔ اس کی وجہ سیاست بازی ہے۔ پارٹیوں کا یہ عجب انداز ہے کہ ہر کس و ناکس کو بے وجہ ساتھ لیکر چلنا اور تمام راستوں کی خاک چھاننا۔ منزلِ مقصود ملے نہ ملے، در در بھٹکنا اور آخر میں آہ و زاری کرتے ہوئے رخصت ہوجانا۔ دوسری جانب ممبران اپنے بنیادی مؤقف کو بدلے بغیر پارٹی میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور جب کوئی نازک موقع درپیش ہو تو پارٹی کی منظوری اور پارٹی کے اندر بحث و تمحیص کے بغیر ذاتی فیصلہ پارٹی اور ملک و ملت پر تھوپ دیتے ہیں۔ بعینہ یہی معاملہ پاکستان تحریکِ انصاف کا بھی ہے جس نے ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے کے باوجود شفقت محمود کو وزیرِ تعلیم بنادیا۔ جب وزارت کیلئے کوئی اصول طے نہیں تو بنیادی رکنیت کیلئے ایسا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب گھر میں ایسا انداز ہوگا تو ہالینڈ کیا خاک ہماری بات سمجھے گا۔ کسی کو پارٹی میں شامل کرنے اور چند شرائط پر شامل کرنے یا فارغ کرنے کا معاملہ ذرا مشکل ہے۔ اسکی وجوہ یا تو گروہوں اور افراد کا دباؤ ہے جس سے پارٹی خوف کھاتی ہے۔ یا پھر ملک و ملت کا امتحان ہے کہ کس طرح سے ایسی پارٹیوں سے جان چھڑائیں اور درست بنیاد رکھنے والی پارٹی کو جتوائیں۔ گزارش ہے کہ ملک و ملت بہت سے نازک مراحل سے گزرچکی ہے اور آجکل شدید ترین امتحانات درپیش ہیں۔ ایسے بے ڈھنگے فیصلوں سے خود بھی بچنا اور پارٹیوں کو بھی بچانا ضروری ہے وگرنہ آنے والے امتحانات شدید ترین ہیں جن سے بخوبی گزرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: