قطب شمالی: سلیم احمد (خاکہ) حصہ اول

0
  • 7
    Shares

ممتاز رفیق

‎چاول کا معیار جانچتے شخص میں ایسا کیا تھا جس نے میرے قدموں کو زنجیر کر ‎لیا تھا؟ـ پتھرائے ہوئے چہرہ اور جسم پر ملگجا لباس اور یہ سگریٹ پینے کا کون سا ڈھنگ ہے، وہ نرالے انداز میں مٹھی میں سگریٹ دابے کسی خیال میں گم ‎گہرے گہرے کش لیے جاتا تھا۔ میں کچھ دیر وہاں ٹکا پھر سر جھٹک کر جوڑیا ‎بازار سے ریڈیو کی اور روانہ ہو گیا جہاں قمر جمیل کے مکالمےکے مکالمے کا ‎ڈنکا پٹ رہا تھا۔ قمرجمیل کینٹین کی کسی میز پر آسن جمائے مار گفتار میں ‎مبتلا کسی فرانسیسی شاعر ادیب شاعر کے حق میں قصیدہ خواں ہوں گے۔ ریڈیو ‎میرا روزمرہ کا وظیفہ تھا جہاں کبھی کبھار بیس روپلی کا مشاعرہ بھی پڑھنے ‎کو مل جایا کرتا۔ کراچی میں ان دنوں اہل دانش کی ایک کہکشاں آباد تھی۔ جن ‎میں حسن عسکری، مجتبی حسین، عزیز حامد مدنی کرار حسین اور مشفق خواجہ اور ‎بہت سے دیگر اہل علم اقامت رکھتے تھے میں ان میں سے بہت کم سے شرف ملاقات ‎رکھتا تھا۔ شاعری میں اطہر نفیس کا غلغلہ تھا تو تنقید میں سلیم احمد کا ‎پھریرا لہرا رہا تھا۔ اطہر بھائی سے تو ایک آدھ بار کی ملا قات تھی لیکن ‎سلیم احمد کا میں نے بس نام ہی سنا تھا۔ یہ نام اتنے تواتر سے میری سماعت ‎میں آتا کہ انسانو ں سے بے رغبتی کے باوصف دل چاہتا تھا کہ کبھی انہیں ‎دیکھوں، ان سے ملاقات کا اعزاز حاصل کروں، اگر وہ ریڈیو آتے بھی تھے تو کسے ‎پڑی تھی کہ وہ مجھے بتاتا کہ یہ سلیم احمد ہیں۔ ان دنوں میرا شمار ادب کے ‎چھوٹوں میں ہوا کرتا تھا، یوں تو اب بھی میری یہی حیثیت بحال ہے لیکن میں ‎یہ کیا اپنی کتھا لے بیٹھا میرے مقصود تو سلیم احمد تھے۔
سو یوں ہوا کہ ایک دن میں معمول کے مطابق قمر بھائی کے کلام عالی شان کے ‎نشانے پر تھا کہ ناگاہ میری نظر چوک کر دروازے پر پڑی اور وہاں جا کر جیسے ‎اٹک گئی، یہ کیا،جوڑیا بازار کے پتھر چہرے والے کا یہاں کیا کام؟ میرے ذہن ‎میں سوال کچوکے مار رہے تھے اور نظریں نووارد پر جمی ہوئی تھیں، وہ ‎چھوٹھےچھوٹے قدم اٹھاتا ایک میز پر آبیٹھا میں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی ‎لیکن کسی آنکھ میں بھی اس انسان کے لیے اجنبیت کی رمق تک نہیں تھی۔ کون ہے ‎یہ؟ اس سوال کی گونج مجھے ہلکان کیے دے رہی تھی۔ میں نے برابر میں بیٹھے ‎شوکت عابد سے پوچھا” یہ سامنے کون صاحب بیٹھے ہیں”؟ اس نے نہایت تعجب سے ‎مجھے دیکھا، اس کی آنکھوں میں میرے لیے ملامت کے رنگ تھے۔ ” یار سلیم ‎بھائی۔” میں نےناسمجھی سے کہا ” کون سلیم بھائی؟” اُس نے تڑخ کر جواب دیا۔” ‎سلیم احمد” اس جواب پر میں ہکا بکا رہ گیا۔ یہ وہی تنقید اور شاعری والے ‎سلیم احمد ہیں جنہیں حسن‎عسکری کے چہیتے شاگرد کا تعارف حاصل ہے۔ میرے ذہن میں لوگوں سے سنی باتیں ‎شور مچانے لگیں۔ مجھے سراج منیر یاد آیا،جو انہیں شہر کا سب سے بڑا آدمی ‎قرار دیتا تھا اور احمد جاوید جن سے ان کا مرشد اور سالک کا سا رکھ رکھائو ‎تھا۔ یہ دونوں اس زمانے میں نوجوانوں کے سرخیل ہوا کرتے تھے لیکن سلیم ‎احمد کے سامنے اپنی ساری چوکڑی بھلا بیٹھتے۔ میں نے سلیم احمد کو اپنی ‎نظروں کے حصار میں لے لیا، مگر یار یہ تو بہت ٹھس سے انسان دکھائی دیتے ‎ہیں۔ میرے اندر جملہ کلبلایا۔”تو کیا آدمی وہ نہیں ہوتا جیسا وہ نظر ‎آتا ہے۔؟ “میں ان سے واقف نا سہی لیکن ان کے کام کی شدبد رکھتا تھا اور ان کے ‎تخلیقی جوبن سے خاصا متاثر تھا۔ ان کے کئی مضامین اورشعری مجموعہ اکائی میرے ‎مطالعے میں رہ چکے تھے۔ ” اب ان تک رسائی کیسے ہو؟۔” ایک نئے سوال نے سر ‎ابھارا ابھی میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ دروازے سے ملائم چہرے والے اطہر نفیس ‎اندر داخل ہوتے دکھائی دیے، انہوں نے ہال پر طائرانہ سی نظر ڈالی اور سلیم ‎احمد کو دیکھ کر فدویانہ انداز میں قلانچیں بھرتے ان کی میز پر پہنچے،میری ‎نظر سلیم احمد پر گڑی ہوئی تھی، جن کے چہرے پر اپنی بڑائی کی آگاہی دمک ‎رہی تھی مجھے عجب لگا لیکن یہ شاید ان کا حق تھا۔ انہوں نے خفیف سی مسکراہٹ ‎سے اطہر نفیس کا خیرمقدم کیا، میں نے سوچا جو شخص اطہر نفیس ایسے معروف ‎آدمی سے ایسی بے نیازی کا قرینہ رکھتا ہے اس کا اپنا مرتبہ کیا ہوگا؟۔ میرے ‎ذہن میں ایک بار پھر سراج منیر کا نام گونجا۔ ” میاں ممتاز !اگر سلیم احمد ‎تک رسائی کی ٹھان لی ہے تو تمھیں سراج کے سائے میں تحلیل ہونا ہوگا۔ میں ‎نے نظر ٹکا کر سلیم احمدکا جائزہ لیا- پیچھے کو پلٹےہوئے سیاہ چمک دار بال جن میں کہیں کہیں چاندی بھی اپنی بہار ‎دکھا رہی تھی اور کشادہ ماتھا جو ان کی ظفر مندی پر دلیل تھا اور راکھ کی ‎رنگت والی بجھی بجھی آنکھیں گویا وہ زندگی کی ہما ہمی سے دست بردار ہوچکے ‎اور آنکھوں سے جڑی قدرے پھولی ہوئی نوک دار ناک جس سے ان کا ضدی ہونا عیاں ‎تھا اور کسی قدر چھوٹے چھوٹے کان گویا موصوف کان کے کچے تھے اور گال بھرے ‎بھرے اور مضبوط ٹھوڑی جس سے باور آیا کہ ہمارے ممدوح ارادے کے اٹل ہیں اور ‎گردن سو تھی ہی نہیں اور سینہ ٹھٹھرا ہوا اور مسلسل حرکت میں رہنے والی ‎توانا ٹانگیں اور ہاتھوں کی انگلیاں موٹی موٹی جیسی کم ہی کسی فن کار کی ‎ہوا کرتی ہیں اور ہونٹوں پر بھید بھری مسکراہٹ جس کے بھید آخر تک نہ کھل ‎سکے اور رنگت جیسے گندم کا دانہ تا دیر دھکتے کوئلوں کی آنچ پر رکھا رہا ہو ‎اور درمیانہ قد وقامت جیسے قدرت نے انہیں خلق کرتے ہوئے مٹی کے باب میں ‎کفایت شعاری سے کام لیا ہو، اس قدرے کم قامتی کا حساب یوں چکایا گیا کہ ان ‎کا سینہ علم و بصیرت کی آگ سے دھکا دیا گیا۔ اچھا تو آپ ہیں ہمارے ممدوح ‎لیکن جناب ایسی بھی کیا بے نیازی، اس حال قال میں کون باور کرے گا کہ آپ وہی ‎سلیم احمد ہیں جن کی تخلیقی اپچ نے یہاں سے وہاں تک اودھم مچا رکھا ہے، ‎پھر مجھے خیال گزرا ممکن ہے یہ کسی قسم کی آڑ ہو پہنچے ہوئے لوگ عامیوں سے ‎نہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا جانے کیا تھا، پھرناگاہ مجھے وہ چاول ‎جانچتا ہوا شخص یاد آیا، انہیں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر یہ کیسا بے ‎ڈھنگا سوال تھا ؟ کیا چاول کا معیار جانچا کوئی گیا گزرا کام ہے اور پھر ‎اگر وہ یہ نہ کریں تو کیا اپنے بچوں کا پیٹ لفظوں سے بھریں؟ صاحب اس معاشرے ‎کی ترجیحات جدا ہیں، آپ اہل علم ہیں تو ہوں گے پیٹ بھرنے کے لیے مشقت تو ‎آپ کو کرنی ہی ہوگی۔ اب تک میرے دل میں اپنے ممدوح سے قربت کی طلب زور پکڑ ‎چکی تھی مگر اس ظالم سراج منیر کو کہاں کھوجتا وہ پارہ صفت تو ابھی یہاں ‎اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ جا وہ جا۔ لیکن جب خواہش جنون میں ڈھل جائےتو ‎راستے خود سیدھے ہو جاتے ہیں۔

‎آج میں سراج کی ہمراہی میں مسکن عزیز کی جانب رواں دواں تھا۔ انچولی میں یہ ‎ایک درمیانے درجے کا گھر تھا، ہمیں بیٹھک تک رسائی کا عندیہ ملا،اس قدرے ‎کشادہ کمرے میںایک مسہری اور کئی کرسیاں پڑی تھیں جن پر کچھ اصحاب نشست ‎رکھتے تھے میں نے جانا کہ یہ کمرہ میرے ممدوح کی خواب گاہ اور بیٹھک بھی ‎ہے سامنے مسہری پر سلیم بھائی آلتی پالتی مارے، پہلو میں گول تکیہ دبائے ‎بیٹھے تھے۔ ان کی مٹھی کے سرے پر حسب معمول انگارہ دھک رہا تھا،سراج کو ‎دیکھ کر جگمگا اٹھے اور سامنے بیٹھے ایک ڈھلتی عمر کے آدمی سے بولے ” سید ‎صاحب اب لطف آئے گا میرا حجتی آگیا۔ “سید صاحب مسکائے، مجھے انہوں نے جیسے ‎دیکھا ہی نہیں تھا،مجھے نظرانداز کیا جانا شاق گزرا لیکن پھر خیال آیا، میں ‎ہوں بھی کون؟ سلیم بھائی اپنے بھائی سے کہہ رہے تھے شمیم خاں چائے کے لیے ‎تو کہو پھر سراج سے پوچھا ” مولانا شہر میں کیا معرکے ہیں؟” سراج اپنا خاکی ‎لفافہ ایک طرف کو دھرتے ہوئے گویا ہوا۔ ” اطہر بھائی کی تازہ غزل کے چرچے ‎ہیں۔”وہ مسکرائے پھر بولے۔” اطہر خاں کے ساتھ عجب معاملہ ہے، وہ شعر پڑھتے ‎ہیں تو سواد کے کیا کہنےلیکن جب وہی اشعار کاغذ پر منتقل ہوتے ہیں تو ان کی ‎تاثیر جانےکہاں گم ہوجاتی ہے۔” سراج نے کچھ کہنے کے لیے مونہہ کھولا ہی ‎تھاکہ سید صاحب چہچہائے۔ “سلیم خاں کسی کو تو رگیدنے سے باز رہا کرو، ادھر ‎اطہر نفیس ہیں کہ وصیت لکھوا رہے ہیں کہ لحد میں میرے ساتھ سلیم بھائی کا ‎مجموعہ کلام رکھ دینا ادھر تم۔۔۔” سلیم بھائی کھل کے ہنسے۔ ” سید !میں تو ‎عسکری صاحب سے نہیں چوکتا، اطہر خان تو ابھی کچھ بننے کے مرحلے میں ہیں۔
‎سراج تڑخا “سلیم بھائی اطہر نفیس کو توجو بننا تھا وہ بن چکے۔” سلیم احمد ‎نے سراج کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا “مولانا ابھی ‎اطہر خاں میں ایک آنچ کی کسر ہے۔” سراج نے ہنکارہ بھرا۔ “آپ نے ابھی عسکری ‎صاحب کے حوالے سے یہ کیا کہا۔۔ سلیم بھائی نے بات بیچ میں سے اچک لی۔” اماں ‎وہ اچھے بھلے تنقید اور ترجمے میں خود کو کھپا رہے تھے جانے اچانک کیا سوجھی ‎کہ خاکہ نگاری شروع کردی، میں گیا تو خاکہ لکھے بیٹھے تھے، یار جو آدمی ‎کسی کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا وہ کیا خاک خاکہ لکھے گا،پھر اچانک مجھ ‎پر نظریں جما کر گویا ہوئے۔” میاں آپ تو قمر جمیل کے ہم نشین ہیں پھر یہاں ‎کہاں؟” میں نے دبی آواز میں جواب دیا “سلیم بھائی کیا وہاں بیٹھنے والا ‎یہاں نہیں بیٹھ سکتا۔ ایک طرف کو سمٹے سمٹائے جمال پانی پتی کی آواز چمکی” ‎سلیم خاں مخالف کیمپ سے ٹوٹ کر آنے والے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے” ‎سلیم بھائی بدبدائے ” ہاں لیکن مجھے خاموش لوگ بھلے نہیں لگتے۔ “سید صاحب ‎کہاں چوکتے” سلیم خاں یہ خاموشی نہیں شخصیت کا سحر ہے۔ “سلیم بھائی سنی ان ‎سنی کر کے سراج سے مخاطب ہوئے۔” میاں کئی دن کے ناغے سے آئے اس دوران “مشرق” ‎کے کئی اشعار ہو گئے” سراج نے اشتیاق سے کہا تو سلیم بھائی دیر کیا ہے۔

‎بسم اللہ” انہوں نے تکیے نیچے دبے کچھ اوراق نکالے ہی تھے کہ ایک پیاری سی ‎بچی چائے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی سلیم بھائی کی شفقت دیدنی تھی ‎انہوں نے بچی کا ماتھا چوما اور اس کےسر پر پیار سے چپت لگائی،چائے نمٹی ہی ‎تھی کہ جمال پانی پتی کی آواز سنائی دی۔” سلیم خاں کتنا انتظار کرواؤ ‎گے۔”سلیم احمد مسکائے “اماں تم تو سن چکے ہو۔” یہ کہہ کر انہوں نے خفیف سی ‎لکنت بھری آواز میں اشعار کی قرات شروع کی۔اب مجھ پراشعار کی پھوار برس رہی ‎تھی، جن میں میرے ممدوح نے مشرق کی اہمیت، اولیت اور تخلیقی برتری پوٹرےکی ‎تھی، اشعار کی سلاست، تشبیہات اور استعاروں کا کہنا۔ اشعار پڑھے جاچکے تو ‎سلیم بھائی نے سراج کی طرف رخ کر کے پوچھا” کیوں مولانا کیا کہتے ہو۔” سراج ‎نے یہاں وہاں نظر دوڑائی اور مشرق کے حوالے سے ایک دل پذیر تقریر آغاز ‎کی۔ اس کی گفتگو میں کتنے ہی مغربی اور مشرقی مشاہرین کے حوالے ٹنکے ہوئے ‎تھے۔ میرا خیال ہے اس نے اشعار کی تحسین کا حق ادا کردیا، شام اتر آئی تھی۔
‎محفل برخاست ہوئی تو سلیم بھائی بھی شیروانی ڈاٹ کر ہمارے ہمراہ ہولیے۔ان کی ‎منزل تین ہٹی پر ناگوری کا ہوٹل تھا جہاں ان کے متوالےان کی آمد کا بےچینی ‎سے انتظار کیا کرتے۔ سراج جانے کدھرکو ہولیا اور میں نے اپنے ٹھکانے کی ‎راہ لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔         دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں


سلیم احمد کی ایک تحریر یہاں ملاحظہ کریں       سلیم احمد کی ایک اور لازوال تحریر یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: