علم اور عمل میں دوری ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضوان عباس

0
  • 9
    Shares

داخلی سطح پہ ہر انسان کو اس مسلے سے واسطہ پڑتا ہے کہ ہم اپنے علم کے مطابق عمل کیوں نہیں کرتے؟ سادہ لفظوں میں یہ کہ ہماری اخلاقیات، خواہ وہ دینی ہوں یا سماجی ان میں اور ہمارے عمل میں فرق کیوں ہے؟ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہے لیکن پھر بھی غلط بیانی کرتے ہیں، دوسروں پر ظلم کرنا برا ہے لیکن ظلم کرتے ہیں، سگریٹ پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اِس کو ترک نہیں کرتے، نماز پڑھنی چاہیے لیکن نہیں پڑھتے، اور اِسی طرح تمام دینی اور مذہبی احکام کو انجام دینا چاہیے لیکن انجام نہیں دیتے۔ ایسا کونسا سبب یا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرسکتے؟ ہم سب نے اپنی انفرادی اور اجتماعی و سماجی زندگی میں یہ درد ناک تجربہ کیا ہوا ہے کہ جو جانتے ہیں، اُس پر عمل نہیں کر سکتے۔ اِس کو دردناک تجربے سے اِس لیے تعبیر کیا ہے کہ جب انسان اِس تجربہ سے گزرتا ہے (علم اور عمل میں دوری) تو اُس کے اندر ایک حالت پیدا ہوتی ہے جس کو وجدان کا عذاب کہتے ہیں یعنی انسان خود کو ملامت کرتا ہے اور اگر یہی حالت اِسی طرح جاری رہے تو آہستہ آہستہ انسان عزت ِنفس (Self Respect) سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جس کے نتیجے میں نفسیاتی اور اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہو جا تا ہے۔ اِنسان معاشرے میں محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کے مقابلے میں کوئی برتر اور اعلی مخلوق ہے مثلاً تصو ر کرتا ہے کہ دوسرے جھوٹ بولنے کا حق نہیں رکھتے لیکن اگر وہ خود جھوٹ بولے تو حرج نہیں ہے۔

اِس مسئلہ کا راہ حل کیا ہے کہ یہ تجربہ تکرار نہ ہو (یعنی علم اور عمل میں دوری) یا کم ازکم کوئی ایسا راہ حل ہو جس سے یہ شگاف کم ہو سکے۔ یہ بحث مغربی کلچر میں سقراط (2500 سال قبل) کے زمانے سے زیر ِغور رہی ہے۔ اگر معلوم ہو جائے کہ یہ دوری پیدا کس طرح ہوتی ہے تو شاید اِس کا کوئی راہ حل نکل آئے۔

سقراط کا نظریہ:
سقراط کا کہنا تھا کہ علم اور عمل میں شگاف اور دوری نہیں ہے۔ سقراط کہتا ہے کہ جو جانتا ہو کہ جھوت نہیں بولنا چاہیے وہ ہر گز جھوٹ نہیں بولے گا۔ اور اگر جھوٹ بولے گا تو یقینا نہیں جانتا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے بلکہ اُس کو گمان ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ سقراط کے نزدیک علم اور عمل میں شگاف کا سبب یہ ہے کہ ہم کو علم ہی نہیں ہوتا کہ فلاں کام کریں یا نہ کریں بلکہ ہمیں وہم اور گمان ہوتاہے کہ فلاں کام انجام یا ترک کریں اگرہمیںاُس فعل کی نسبت علم حاصل ہو تو ہر گزاُ س سے روگردانی نہیں کریں گے۔لغت اور ڈکشنری میں علم مترادف ہے معرفت، آگاہی، جاننا، ادراک، شناخت اور فہم۔اِن سب الفاظ کا تقریبا ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس کو ہم علم اور جاننے سے تعبیر کرتے ہیں۔

فلسفے کی ایک شاخ معرفت شناسی Epistemology ہے جس کو عصر حاضر میں theory of knowledge یعنی نظریہ علم بھی کہتے ہیں۔ اِس علم میں فقط علم اور معرفت کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اِس علم کی رو سے علم اور معرفت کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے، علم یعنی ’’اعتقاد،حقیقت کے مطابق اور دلیل کے ساتھ‘‘ Knowledge=True Belif Justified علم کی اِس تعریف کو ایک مثال کے ساتھ اِس طرح توضیح دے سکتے ہیںکہ فرض کریں علی کہے کہ ’’میں جانتا ہوں کہ وسیم بیمار ہے‘‘ اب یہاں علی کا یہ کہنا ہے کہ ’’میں جانتا ہوں کہ وسیم بیمار ہے‘‘ اُس وقت علم کہیں گے جب یہ تین شرائط پائی جائیں ورنہ علی اِس بات کاحق نہیں رکھتا کے کہے کہ ’’مجھے اِس با ت کا علم ہے کے وسیم بیمارہے‘‘۔پہلی شرط یہ ہے کہ حقیقت میں بھی وسیم بیمار ہو اِس کو کہتے ہیں کہ بات حقیقت کے مطابق اور سچ پر مبنی ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ علی کا اِس سخن پر باور اور عقیدہ Belief بھی ہو کہ وسیم بیمار ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ علی کے پاس دلیل Reason بھی ہو جس کی بنیاد پر وہ کہہ سکے کہ میں اِس وجہ اور دلیل کی بنا پر اِس جملے کا قائل ہوا ہوں۔ ا گر یہ درج بالا تینوں شرائط بیک وقت پائی جائیں تو ہم کہے سکتے ہیں کہ مثلاً فلاں چیز کے بارے میں علم رکھتے ہیں ورنہ نہیں اور سقراط کی نظر میں علم سے مراد یہی علم ہے کہ سچ پر مبنی ہویعنی حقیقت کے مطابق ہو، اور اُس پر عقیدہ بھی ہو، اور دلیل بھی رکھتے ہوں سقراط کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا علم اِس معنی میں ہو تو ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے۔ سقراط نے اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے عقلی دلیل بیان کی ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہر انسان حب ذات رکھتا ہے یعنی اپنی ذات کا عاشق ہے۔ مزید اُس کا کہنا ہے کہ کیونکہ ہم اپنی ذات کے عاشق ہیں اِس لیے نہیں چاہتے کہ ہماری ذات کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچے۔ سقراط کا کہنا کہ انسان نہیں چاہتا کہ اِس کی ذات کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچے اِس سے دو نکات points کی طرف اشارہ ملتا ہے وہ یہ ہیں کہ انسان کا اپنی ذات سے عشق باعث بنتا ہے کہ وہ ہر قسم کی منفعت اور فائدے کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر قسم کے ضرر کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی منفعت اور فائدہ کس چیز میں ہے؟ (اگر فائدے کوجان لیں تو حتماً ضرر بھی معلوم ہو جائے گا)۔

سقراط کہتا ہے کہ انسان کے نزدیک تین چیزوں میں نفع اور فائدہ ہے، حقیقت، خیر اور جمال۔ اب اگر جان لیں کہ خیر کا تقاضا یہ ہے کہ مثلاً سچ بولا جائے پس کیوں سچ نہ بولیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ انسان جانتا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے پھر بھی کیوں جھوٹ بولتا ہے؟ یا ڈاکٹر جانتا ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے لیکن اِس جاننے کے باوجود وہ سگریٹ نوشی کا مرتکب ہوتا ہے۔ سقراط اِس سوال کے دو جواب دیتا ہے۔ایک یہ کہ وہ کہتا ہے کہ اِس طرح نہیں ہے کہ انسان کے پاس جو بھی علم ہے اُس پر وہ عمل کرے بلکہ یہ حالت صرف اخلاقی علم کے بارے میں ہے۔ اُس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جو انسان اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے (جیسا کہ اکثر اوقات ایسے ہی ہے)تو اِس کی دلیل یہ ہے کہ انسان کی مختلف خواہشات اور چاہتیں ہیں مثلاً ڈاکٹر کی ایک چاہت یہ ہے کہ وہ سالم اور تندرست ہو اور دوسری طرف سگریٹ نوشی کی لذت کا طلب گار بھی ہے۔جب انسان کی خواہشات اور چاہتیں آپس میں ٹکراتی ہیں اُس وقت اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا۔ ڈاکٹر کی مذکورہ مثال میں ڈاکٹر کا ایک علم یہ ہے کہ اُس کی سلامتی اِس میں ہے کہ وہ سگریٹ نوشی نہ کرے اوراُس کا ایک علم یہ ہے کہ سگریٹ نوشی،لذت کا سبب ہے۔اب یہاں دونوں طرف علم ہے لیکن اِن میں تعارض اور ٹکرائو ہے جس کی وجہ سے ان دونوں میں سے ایک کو ہی انتخاب کرسکتا ہے اور اُس کو انتخاب کرے گا جس میں اُس کے خیال میں بیشتر فائدہ اور نفع ہو گا۔ سادہ لفظوں میں یہ کہ ڈاکٹر کے نزدیک صحت کی سلامتی سے زیادہ، سگریٹ نوشی فائدہ مند ہے۔

سقراط کی بحث کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ انسان اِس لیے اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا کیونکہ اُس کو علم ہی نہیں ہوتا اوراس کے نزدیک علم کا معنی ایسا عقیدہ جو سچ پر مبنی ہو اور اس کی سچائی پر دلیل بھی ہو۔اُس کا کہنا ہے کہ اگر انسان کا اِس معنی میں علم ہو تو وہ کبھی بھی اپنے علم سے تخلّف اور روگردانی نہیں کر ے گا۔

جاری ہے،،،

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: