انسانی حقوق اور توھین رسالت: پاکستان کا دو ٹوک جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔ شیریں مزاری

0
  • 182
    Shares

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر ایشیا بریڈ ایڈمز نے وزیرِ اعظم پاکستان کو انسانی حقوق کے حوالے سے ایک خط لکھا جسکا جوابی خط وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے لکھا۔ اردو پڑھنے والے قارئین کی سہولت کے لئے خط کا اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔

آپکے ہمارے وزیرِ اعظم کو لکھے گئے خط کے حوالے سے، مجھے یہ واضح کرنے دیجئے کہ وزیرِ اعظم اور حکومت پاکستان کے تمام شہریوں کو ان تمام انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے پر عزم ہے جو انہیں آئینِ پاکستان فراہم کرتا ہے۔

ہم انسانی حقوق کی فراہمی کے تناظر میں ان تمام قوانین کو لاگو کرنے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں جو شہریوں کے انسانی حقوق کو یقینی بناتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ اپنے قوانین کو ان بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں جو ہم نے کر رکھے ہیں۔ ہماری حکومت اپنی تمام بین الاقوامی قانونی ذمیداریوں کی تکمیل کے لئے پر عزم ہے۔ ہم یہ سب اس لئے کریں گے کہ یہ ہماری آئینی ذمہ داری ہے اور ہمیں اپنے انسانی حقوق ایجنڈے پر کسی قسم کی یاد دہانی کی کوئی ضرورت نہیں۔

جیسا کہ آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپ 90 سے زائد ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس میں انسانی حقوق کی وہ سنگین خلاف ورزیاں بھی شامل ہوں گی جو ریاستی پالیسی کے تحت ہندوستان کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ میں نے شائد ان خلاف ورزیوں پر آپکی مانیٹرنگ رپورٹس نہ دیکھی ہوں اگر آپ میری یادداشت تازہ کر دیں تو یہ قابلِ تعریف ہو گا۔

مزید برآں، میں امید کرتی ہوں کہ آپکی تنظیم کچھ یورپی ریاستوں کی طرف سے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو بھی اٹھائے گی کہ جس میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامؐ کی تضحیک کی شکل میں وہ مسلمانوں کے اپنے مذہب پر آزادنہ عمل کے حق کو غضب کررہی ہیں جوکہ “یورپی کنونشن برائے تحفظ انسانی حقوق اور آزادی” کی خلاف ورزی ہے۔

میں اس معاملے پر مطلع کئے جانا پسند کروں گی کہ آپ یورپ میں مسلمانوں کے اپنے دین پر آزادانہ عمل اور اپنی مرضی کے لباس پہننے کے حق کی فراہمی کو کیسے یقینی بنا رہے ہیں کیونکہ آپکا دعویٰ ہے کہ آپ پوری دنیا میں انسانی حقوق کو مانیٹر کرتے ہیں۔

ہم ان مثبت تجاویز کو ہمیشہ خوش آمدید کہیں گے جو ہمارے انسانی حقوق کے ایجنڈے کو لاگو کرنے میں ہماری معاون ثابت ہوں گی۔ لیکن کسی بھی بھی این جی او کی ادارہ جاتی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کس قدر پُرعزم ہیں نا کہ کچھ مخصوص ریاستوں میں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق
اسلام آباد

یہ بھی ملاحطہ کیجئے: عمران خان پلیز ! تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئے — مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: