یہ گیدڑ سنگھی کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر جنجوعہ

0
  • 14
    Shares

گیدڑ سنگھی کا نام بہت سن رکھا تھا، پاکستان میں ایک دوست کے پاس دیکھ کر مزید دلچسپی ہوئی اور افسوس بھی۔ افسوس اس لیے کہ انتہائی جاندار وژن رکھنے والا اور اپنے زور بازو پر یقین رکھنے والا انٹرپرنیور کس قدر ضعیف الاعتقادی کا شکار ہے، دلچسپی اس لیے کہ موصوف نے ذاتی جیب سے تین لاکھ روپے دیکر ایک نر اور مادہ کی جوڑی خریدی تھی اور ایک بچے کی طرح دونوں گیدڑ سنگھیوں کی نگہداشت بھی کر رہا تھا۔

فیس بُک پر ایک مرتبہ کوئی “نر گیدڑ سنگھی” بیچ رہا تھا۔ جس کی بولی بیوقوف عوام بڑھ چڑھ کر لگا رہی تھی۔ میں نے شرارتاً دس لاکھ کی بولی لگائی جس پر اس پوسٹ پر ایک گہرا سکوت طاری ہو گیا۔ گیدڑ سنگھی کے “مالک” نے مجھ انباکس میں رابطے شروع کردیئے جب اسکو ٹرخایا تو وہ فراڈیا گالم گلوچ پر اتر آیا کہ اسکی گاہکی مار دی۔ خیر ہم نے بھی اس کو قلم کی مار دینے کی ٹھان لی ہے۔

گیدڑ کے سر پر ایک پیپ والا پھوڑا نکلتا جس کی جڑیں گہری ہوتیں، رفتہ رفتہ وہ پھوڑا ایک گھامڑ کی شکل اختیار کر لیتا جس پر بال بھی اگ آتے۔ پھر کچھ عرصے بعد اسکی جڑیں کھوکھلی ہوجاتیں اور وہ گھامڑ گیدڑ کے جسم سے جھڑ جاتا۔ سانپ کے منکے کی طرح گیدڑ سنگھی ہندو جوگیوں میں بھی بہت مقبول ہے۔ سرعام کے پروگرام میں بھائی اقرار الحسن کو جب سانپ نے کاٹا تو ایک جوگی کے کالے منکے نے اس زہر کا اثر چوس لیا جس پر کافی حیرت ہوئی کیونکہ یہ باتیں ناولوں کی حد ہی پڑھیں تھیں لیکن جدید سائنس کا شکریہ جس نے یہ مشکل بھی دور فرما دی۔ آسان الفاظ میں بتاؤں گا کہ سانپ کے سر سے ایک سیال مادہ نکلتا جس میں اللہ تعالیٰ نے سانپ کے زہر سے شفا رکھی۔ جوگی یا سپیرے انتہائی احتیاط سے سانپ کے سر سے یہ سیال مادہ نکال لیتے اور سانپ کو زندہ چھوڑ دیتے۔ یہ سیال مادہ بعد میں پتھر کی طرح سخت ہو جاتا جس کو طلسماتی دنیا میں شیش ناگ کے منکے کا نام دیا جاتا۔

اس منکے کو اگر مارگزیدھ (سانپ کے ڈسے ہو) کی متاثرہ جگہ پر رکھ دیا جائے تو reversable chemical reaction کی بدولت زہر جیسے ضرر رساں organic chemical کو یہ اپنے اندر جذب کرلیتا جس سے زہر کا اثر زائل ہو جاتا۔

بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ عرض کررہا تھا گیدڑ سنگھی کیا ہے؟

جوگیوں کے بقول گیدڑ سنگھی ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جھڑ کر گر جاتا ہے گرنے کے بعد بھی یہ جاندار رہتا ہے اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اپنے “خاص مقاصد” کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسے سیندور میں رکھا جاتا ہے ورنہ اسکی بڑھوتری ختم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ یہ “مرجاتا” ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے۔ اب سیندور بھی ایک کیمیکل ہے جس کو ہندو عورتیں بالوں میں لگاتی ہیں۔ سیندور میں گیدڑ سنگھی کے رکھنے کا مقصد صرف اور صرف بالوں کی گروتھ ہوتا جس کو کمزور عقیدہ لوگ جاندار سمجھتے اور باقاعدہ اسکی تراش خراش کرتے۔

اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گھر میں خیر و برکت کے لیے، روزگار کے حصول کے لئے، دولت میں اضافے کے لئے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگھی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بھی اس دعوے سے کہ اسے رکھنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گھر روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور لعنتی شکلیں دیکھ کر بھی لوگوں کو عقل نہیں آتی؟

انکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پھر وہ کیوں ابھی تک خالی ہاتھ ہیں؟

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: