مذہبی رہنما فقط نظریات کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتے — قمر الہدیٰ

0
  • 10
    Shares

متشدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا میں زور و شور سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 2017 میں اقوام متحدہ میں اردن اور ناروے نے یونائیٹڈ نیشنز پرماننٹ فرینڈز گروپ فار پریونٹنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم (پی وی ای) کو تشکیل دیا۔ اس موسم گرما میں پی وی ای نے اوسلو میں متشدد انتہاپسندی سے بچاؤ کے عالمی اجلاس کا انعقاد کیا۔

عالمی پی وی ای اور سی وی ای کے ارکان ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ دہشت گردی کو فقط فوجی حکمت عملی سے شکست دینا ناممکن ہے۔ و ہ سمجھتے ہیں کہ متشدد انتہاپسندی کو روکنے اور اس کے خلاف مقابلے کی سکت رکھنے والے طبقات کی تعمیر کے لیے سول سوسائٹی کی وسیع تر قوس قزح کے مختلف رنگوں کو اعتماد میں لینا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم یہاں بھی ایک مسئلہ درپیش ہے۔ یہ گروہ سادگی پر مبنی اس نکتہ نظر پر یقین رکھتے ہیں کہ تشدد آمیز انتہاپسندی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سول سوسائٹی کے ارکان پہلا دفاعی مورچہ ہیں اور اس پس منظر اور حالات کو مدنظر نہیں رکھتے جس میں عام شہری اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔

انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کی بنیاد افسوسناک حد تک غلط مفروضوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ مذہبی رہنماؤں کو آزادی سے کام کرنے اور اپنے لوگوں میں متبادل بیانیہ تشکیل دینے کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر و بیشتر انہیں استبدادی دباؤ کے ذریعے مجبور کیا جاتا ہے اور وہ بنیادی مادی ذرائع کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ عوامل ایسے افراد کو سی وی ای کے لیے غیرموثر شراکت دار بنا دیتے ہیں۔

امریکہ، یورپی یونین، افریقی یونین اور اقوام متحدہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر طبقوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ اس سوچ کے پیچھے بھی یہی مفروضہ کارفرما ہے کہ اگر یہ گروہ انتہاپسندی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے تعلیم کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو وہ انتہاپسندی کے خلاف پہلا مورچہ ثابت ہوں گے۔

سی وی ای کی مدد کرنے والے اہم اداروں کا خیال ہے کہ مقامی اور علاقائی سول سوسائٹی میں سے سی وی ای پر عمل کرنے والے افراد، جن کے پاس تعلیم کا ہتھیار بھی ہے، تربیت بھی ہے اور سی وی ای کی فراہم کردہ اصطلاعات بھی موجود ہیں، وہ سوشل میڈیا کو اپنے خیالات سے بھر کر تشدد پسند انتہاپسندی کو اس میں ڈبو دیں گے۔

لیکن کیا انتہاپسندی کی کشش کم کرنے کے لیے سی وی ای کی تربیتی ورکشاپس کمزور ریاستوں اور جنگ زدہ علاقوں کے مذہبی رہنماؤں کی واقعی کوئی مدد کر سکتی ہیں؟

مثال کے طور پر مصر اور ترکی جیسی استبدادی ریاستوں میں مذہبی رہنما بیوروکریٹس، ٹیکنوکریٹس اور غیرموثر حکومتی نظام کا شکار ہوتے ہیں۔ ریاست اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کونسا امام یا پادری سی وی ای کی تقریبات میں شرکت کرے گا اور ملک کے سیکیورٹی اداروں کے افسر اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کس قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کو اپنی مرضی کے تحت کام کرنے اور عقائد کی روشنی میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات ان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا ہر عمل ریاستی مفاد کے تحت ہو۔

لبنان، مراکش، الجیریا، عراق اور سوڈان جیسے ممالک میں امام اور دیگر مذہبی رہنما ریاست کے تنخوا ہ دار عامل ہوتے ہیں۔ حکومتی ملازم ہونے کی وجہ سے ان مذہبی رہنماؤں کو کوئی بھی پروگرام شروع کرنے سے پہلے دیگر افراد کے علاوہ مقامی پولیس، قبائلی عمائدین اور سول بیوروکریٹس سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

جہاں ملکی سلامتی یا ان کے بڑوں کے ذاتی سیاسی مفادات کا معاملہ ہو تو تنخواہ دار ملازم ہونے کی حیثیت سے ان مذہبی رہنماؤں کو علم ہوتا ہے کہ کونسی سرخ لکیر عبور نہیں کرنی۔ لیکن سی وی ای کے ماہرین اکثر یہ حقیقت بھول کر انہیں ایسے افراد سمجھنے لگتے ہیں جنہیں اپنے اخلاقی مذہبی اصولوں کی روشنی میں پروگرامز پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

یمن، لیبیا اور شام جیسے جنگ زدہ علاقوں اور فرقہ وارانہ کشمکش کے شکار ممالک میں معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مذہبی رہنما اور ان کے قریبی افراد خوراک، پانی اور چھت کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گھر چھوڑ چکے ہوتے ہیں اور انہیں یہ یقینی بنانا پڑتا ہے کہ ان کے قریبی افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اغوا نہ ہو جائیں یا انہیں جنگجو اپنی فوج میں بھرتی نہ کر لیں۔

میں نے مذہبی رہنماؤں کے لیے سی وی ای کی ایسی ورکشاپ میں شرکت کی ہے جنہیں تنازعات سے محفوظ رہنے کی ورکشاپس کہا جاتا تھا۔ ماہرین کی توجہ ناراضی کی عمومی وجوہات، گروہ کے اندر کی سوچ اور انتہا پسندوں کے بیانیے پر مرکوز رہتی تھی یا پھر اس بات پر کہ کیسے مذہب کو غیر عقلی متشدد افعال سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔ منتظمین زمینی حقائق سے یکسر کٹے ہوئے تھے۔

میں نے خود یمن، لیبیا اور افغانستان کے اماموں کے انٹرویوز کیے ہیں۔ وہ قحط میں مبتلا طبقات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں جہاں بچوں کو محفوظ سکولوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ جب ان کے اپنے لوگ بقا کی جدوجہد میں مصروف ہیں تو انہیں بیانیے کا رد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

ان اماموں کو اپنی استبدادی حکومتوں کی طرف سے بھی شدید دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ ایسے ماحول میں کام کر رہے ہوتے ہیں جہاں جنگجو سردار، جنگ لڑنے والے گروہ، منظم جرائم، آپس میں برسرپیکار جنگی گروہ اور قبائلی سردارموجود ہیں۔ انہیں چھوت کی بیماریوں اور جنگ سے پیدا ہونے والے نفسیاتی امراض کا سامنا ہوتاہے۔ ان کے لیے سی وی ای کی کوئی اہمیت نہیں ہے البتہ اپنے سے بالاتر کسی شخص کو خوش رکھنے کے لیے سی وی ای ورکشاپس میں شرکت کریں گے۔

سی وی ای کی حکمت عملی پر عمل کرنے میں مذہبی رہنماؤں کو فقط جنگ، تنازعات کا شکار علاقے اور استبدادی حکومتوں جیسی رکاوٹیں ہی درپیش نہیں ہوتیں۔ عراق میں اسلامک سٹیٹ کی سکڑتی موجودگی کے ساتھ ساتھ داعش کے جنگجو مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے مقامی گروہوں کو تربیت، فنڈنگ اور تکنیکی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

مقامی مذہبی رہنما نئے جنگجو گروہوں کی ان کوششوں سے آگاہ ہیں جو وہ ان کے حمایتی طبقات میں گھس کر بھرتی کے لیے کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ حکومتی فوجوں کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی سخت کوششوں اور سی وی ای پروگرامز پر عمل کرنے کے شدید دباؤ کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔
جنگ زدہ علاقوں کے مذہبی قائدین انتہا پسندی سے نجات پانے کے پروگرامز کے لیے پھر بھی موثر وسائل ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن سی وی ای ماہرین کو ایک مختلف طریق کار کی ضرورت ہے جس میں بیوروکریسی کی رکاوٹیں، مذہبی معاملات کو منظم کرنے والوں کے ساتھ تعاون اور طویل عرصے سے سلگتے ہوئے تنازعات اور جنگوں کے خاتمے کے لیے کام کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔

سی وی ای ماہرین اور پالیسی تشکیل دینے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں اور استبدادی حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والے ان مذہبی رہنماؤں کی حدود کو مدنظر رکھیں۔ خطرناک حالات اور خودمختاری کی کمی جیسے معاملات اعلی مقاصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جب مذہبی رہنماؤں کی اپنی بقا خطرے میں ہو تو ہم تربیتی ورکشاپس میں بہترین پریکٹس اور جوابی پیغامات پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر قمر الہدی کا انگریزی میں یہ کالم اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: