پاکستانی سیاحوں سے خوف ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

0
  • 16
    Shares

ہمارے بڑے بڑے کالم نگار اس مقولے پر بڑے فخر سے عمل کرتے ہیں کہ ”بندہ چلا جائے مگر کالم نہ جائے“، یعنی اگر کسی کالم سے کسی کا کسی قسم کا نقصان بھی ہو تو کوئی پرواہ نہیں۔ نقصان بھی ایک خوب صورت کالم کی نذر۔ میں اس مقام پر سیلف سینسرشپ کا حامی ہوں۔ ایسے کئی کالم میرے ذہن میں کسی راز کے طور پر پوری طرح محفوظ ہیں کہ اگر اُن کو سپردِ قلم کر دوں تو نہ صرف ایک بے بدل کالم کہلائے بلکہ اُس میں شامل معلومات سیاست کی سرخی بن جائیں۔ ان کا تعلق ملکی و قومی مفاد سے ہے۔

اس میں ایک موضوع ہماری اندرون ملک سیاحت بھی ہے۔ میری زندگی میں سیاحت اسی طرح اہم ہے جیسے مطالعہ۔ ساری عمر میرے بنیادی اخراجات میں ایک بڑا خرچ سیاحت رہا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا کے عام ہونے کے بعد، متعدد احباب نے کوشش کی کہ وہ ہمارے نقش قدم پر چل سکیں۔ لیکن خواہش اور کوشش کے باوجود وہ اس لیے ایسا کرنے سے قاصر یا ناکام ہوئے کہ دل گردہ چاہیے اپنی خون پسینے کی کمائی کو خدا کا جہان پانے کے لیے خرچ کرنے کو۔ ہمارے ہاں تو کتاب کو بھی ایک فضول خرچی سمجھا جاتا ہے یا یہ بہانہ پیش کیا جاتا ہے کہ پڑھنے کا وقت نہیں۔ اسی طرح حقیقی جہاں گردی مشاہدے کا ایک کٹھن علمی سفر ہے جس میں محنت کی کمائی پانی کی طرح بہانی پڑتی ہے اور یہ ایک ایسی مشقت ہے جس میں معاوضہ ملتا نہیں بلکہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ پتھروں، گارے، سیمنٹ اور لوہے سے گھر بنا لو یا پھر علم، معلومات، خدا کا جہان پانے کے لیے اپنی زندگی بھر کی آمدن لٹا دو۔ سوشل میڈیا پر پیش کی گئی تصاویر اور تحریروں سے یہ جہاں گردی بڑی خوب صورت لگتی ہے، لیکن جب عملی طور پر یہ مشقت کرنا پڑے تو ”لگ پتا جاتا ہے“۔

شہروں میں دولت حاصل کر لینے والے ان نام نہاد سیاحوں نے شمالی علاقہ جات کی جھیلوں، سرسبز وادیوں کا جو برا حشرکیا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ اور اگر ”پوشیدہ مقامات“ کے بارے میں مَیں کالم لکھنا شروع کر دوں تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ”شہری سیاح“ ان مقامات کے قدرتی حُسن کو تار تار کرنے کے ساتھ وہاں موجود قدیم آثار کو بھی مسخ کرنا شروع کردیں گے۔

میں اس جہاں گردی میں اندرون ملک جو سفر کرتا ہوں، اس پر لکھنے سے اس لیے احتراز کرتا ہوں کہ میں اس مقولے کی مخالف سمت چلنے والا ہوں کہ ”بندہ چلا (ختم) جائے مگر کالم نہ جائے۔“ میں ایمان داری سے عرض کر رہا ہوں کہ مجھے ان مقامات کو اپنی تحریروں کا حصہ بنانے سے ڈر لگتا ہے، جہاں میں اپنے ملک کی سرزمین کی تلاش و جستجو میں گھومتا ہوں۔ اس خوف سے نہیں لکھتا کہ ہمارے ہاں ابھی سیاحت کا ذوق جنم ہی نہیں لے سکا۔ کئی سال قبل منو بھائی اور جاوید شاہین کو لے کر میں ایسے ہی مقامات پر گیا۔ منو بھائی مرحوم اس قدر خوش ہوئے کہ ان قریب ہی موجود ”پوشیدہ سرزمین“ پر کالم لکھا مارا۔ بس پھر کیا تھا، شہریوں کے غول کے غول اس Virgin Land کو سیاحت کے نام پر برباد کرنے چلے گئے۔ اس کے بعد نہ میں خود اس ”پوشیدہ سرزمین“ پر لکھتا ہوں اور نہ ہی اپنے قریبی اہل قلم دوستوں کو لکھنے کی اجازت دیتا ہوں۔ شہروں میں دولت حاصل کر لینے والے ان نام نہاد سیاحوں نے شمالی علاقہ جات کی جھیلوں، سرسبز وادیوں کا جو برا حشرکیا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ اور اگر ”پوشیدہ مقامات“ کے بارے میں مَیں کالم لکھنا شروع کر دوں تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ”شہری سیاح“ ان مقامات کے قدرتی حُسن کو تار تار کرنے کے ساتھ وہاں موجود قدیم آثار کو بھی مسخ کرنا شروع کردیں گے۔ اس کی ایک مثال کلرکہار کی جھیل اور وہاں پر موجود چند ایک آثار کی بربادی کے ساتھ، اس ڈائنوسار کا ڈھانچا ہے جو تقریباً تیس سال قبل ایک غیر ملکی آرکیالوجسٹ کو کہون وادی سے ملا اور ڈائنوسار کے اس ڈھانچے کو کلرکہار کے ریسٹ ہاؤس میں رکھ دیا گیا۔ میں جب بھی وہاں گیا، دنیا کا یہ نایاب آثار، ”شہری سیاحوں کے ذوق“ کی نذر ہوتے دیکھا، اور اب وہ وہاں موجود ہی نہیں۔

میں یہ بات بڑے دکھ سے عرض کرتا ہوں کہ مجھے واقعی ڈر لگتا ہے، شہروں میں بسنے والے ان ”سیاحوں“ سے جو اپنی آبادیوں کو ہجوم میں بدلنے میں فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ہم دنیا کی چھٹی بڑی قوم (آبادی کے حوالے سے) ہیں۔ میرے ایک نہایت اہل علم دوست جناب شکور طاہر نے میرے اس خوف کی تصدیق یوں کی کہ کئی سال قبل انہوں نے اسلام آباد سے چند کلومیٹر باہر بارہ کہو میں ایک ندی کنارے گھر بنانا شروع کیا۔ وہاں پر معروف ادیب ممتاز مفتی کے صاحبزادے عکسی مفتی نے پہلے ہی گھر بنا رکھا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اُن کے گھر کے ساتھ ہی زمین کا ایک ٹکڑا لے کر اپنا گھر بنا ڈالا۔ متعدد بار انہوں نے عکسی مفتی سے کہا کہ اس آبادی کی گلی پختہ کروا لیتے ہیں۔ عکسی مفتی نے ہمیشہ ہی اس تجویز کی حوصلہ شکنی کی اور اس خوب صورت وادی میں گھر بنانے کے لیے دیگر ”شہریوں“ کی بھی حوصلہ شکنی کرتے رہے کہ بابا میں تو یہاں گھر بنا کر پچھتا رہا ہوں، نہ جانے رات کو کیسی عجیب و غریب آوازیں آتی ہیں، خونخوار جانوروں کی بلکہ پُراسرار آوازیں بھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ وادی شہری آبادی میں بدل گئی اور اب یہ وادی بھی ”شہری ہجوم“ کا نظارہ پیش کرتی ہے۔ یہ اس قوم کے متعدد المیوں میں سے ایک المیہ ہے۔

چند ماہ قبل میں ایک ایسی ہی وادی میں جا پہنچا، جہاں پہنچ کر میں حیران رہ گیا، اس کے قدرتی حُسن کے حوالے سے اور وہاں پر موجود چند قدیم آثارات کی تاحال موجودگی پر۔ مگر اپنے اندر کے کالم نگار کو میں نے جہاںگرد کے ہاتھوں زیر کر رکھا ہے جو اس جہاںگرد کو گھومتے گھماتے پنجاب کی اس ایک جنت نظیر وادی میں لے گیا۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں ایک دو کالم اس وادی کے قدرتی اور تاریخی حُسن پر لکھ دوں تو مجھے تو جو داد ملے گی سو ملے گی، لیکن جو حشر اس وادی کا ہو گا، اس کے بارے میں سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ پہلے ”شہری سیاح“ پہنچیں گے، وہ اسے برباد کریں گے، پھر ہمارے نام نہاد سیاحتی ادارے اور وہ اس کی ڈویلپمنٹ کے نام پر اسے حتمی طور پر برباد کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ میں نے ایک چوٹی کے سیاح کو اپنے اس خوف سے آگاہ کیا کہ آئندہ اپنے کالم دفن کر دینا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جس میں آپ یہ لکھنے کے درپے ہوں کہ پنجاب کی فلاں بستی میں سات سو سال قدیم مجسمے موجود ہیں اور آج بھی اس بستی میں چند ایسے فنکار رہتے ہیں جو ان مجسموں کو بنانے کا فن جانتے ہیں۔ کیونکہ پھر نہ مجسمے رہیں گے اور نہ ہی مجسمہ ساز۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: