جنرل محمد ضیاء الحق اور عمران خان —– سردار جمیل

0
  • 69
    Shares

جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستانی سیاست و سماج کے ساتھ ساتھ ہمسایہ و دوست ممالک کی سیاست و سماج پر بھی انتہائی گہرے اثرات مرتب کیے۔۔ جہاں پاکستانی معاشرے کو تھوڑی بہت اسلامائزیشن نصیب ہوئی، ایٹمی پروگرام پایۂ تکمیل تک پہنچا، دفاع مضبوط ہوا وہیں کلاشنکوف و پاؤڈر کلچر پروان چڑھا، دھشت گردی نے جڑیں مضبوط کیں اور فوج نے زیادہ فراخ دلی سے سیاست دانوں کو ڈکٹیٹ کرنا شروع کر دیا۔۔ بھٹو صاحب کو تختہ دار پہ لٹکا کر قوم کو طویل عرصہ تک بھٹو اور اینٹی بھٹو مخاصمت زدہ سیاست کے حوالے کر دیا خالصتان میں سکھوں کی سپورٹ اور کشمیر میں تحریک آزادی کو منظم کر کے ہندوستان کو بیک فٹ پہ دھکیلے رکھا جس کے نتیجے میں دونو ملکوں کے گرم سرد تعلقات صرف “گرم” تعلقات بن کر رہ گئیے جبکہ اس عرصہ میں ہمسایہ دوست ملک چین تنازعات سے بچ کر ترقی اور طاقت کی منازل طے کرتا رہا افغانوں کی پشتیبانی سے روس پسپا ہوا، سوویٹ یونین زمین بوس ہوا، گرم پانیوں تک دسترس کے توسیع پسندانہ روسی عزائم خاک آلود ہوۓ لیکن امریکہ کے تنہا سپرپاور بننے سے طاقت کا توازن بگڑ کر رہ گیا جسکا سب سے زیادہ خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔۔

مرحوم ضیاءالحق میاں نواز شریف کے حقیقی سرپرست، گارڈین اور کرئیر میکر تو تھے ہی لیکن اتفاقی طور پر عمران خان کے لیے بھی وہ پردہ غائب سے ایک کرئیر میکر کی طرح ہی وارد ہوۓ انیس سو ستاسی کے ورلڈ کپ کے بعد 37/38 سالہ کپتان عمران خان کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوۓ تو جنرل ضیاءالق نے عمران خان کو ایوان صدر طلب کیا اور 1992 کے ورلڈ کپ تک کرکٹ جاری رکھنے کا مشورہ نما حکم دیا۔ غالبا روزنامہ جنگ نے تب ایک کارٹون شائع کیا جس میں جنرل ضیاء عمران خان کو کان سے پکڑے کہہ رھے تھے “جاؤ ابھی مذید کھیلو” جنرل ضیاء کی ذاتی دلچسپی اور پر زور اصرار پر عمران نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیا، 92 کا ورلڈکپ جیتا، قوم نے ہیرو کا مقام دیا، کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی بنائی، سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور 17 اگست 2018 کو ضیاءالحق کے یوم شہادت “17 اگست 1988” کے ٹھیک 30 سال بعد جب میاں نواز شریف جیل میں تھے تو عمران خان وزیراعظم پاکستان منتخب ہوۓ۔۔

عمران خان کی 22 سالہ تاریخی جدوجہد اپنی جگہ مگر ضیاءلحق جیسا دور اندیش حکمران نہ ہوتا تو عمران خان آج چھوٹا موٹا کاروبار اور کرکٹ کمنٹری فرما رہے ہوتے اور قوم آج پھر نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شریف زرداری، فریال تالپور اور بلاول کو جھیل رہی ہوتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: