محب عارفی کی کتاب ’چھلنی کی پیاس‘ : ایک تجزیہ — محمد رشید ارشد

0
  • 31
    Shares

محبؔ عارفی کا اصل نام محب اللہ۱، قلمی نام محب عارفی اور تخلص محبؔ ہے۔ وہ ۲جنوری ۱۹۱۹ء کو، ہندوستان کے ضلع غازی پور کے ایک قصبے یوسف پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں فارسی کی تعلیم حاصل کی اور پھر علاقے کے اسکول سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۳۴ء میں علی گڑھ چلے گئے جہاں میٹرک اور انٹر کے امتحانات اول درجے میں پاس کیے۔ ۱۹۴۰ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی اے کیا۔اسی سال مرکزی حکومتِ ہند میں ملازمت اختیار کی۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آگئے اور وزارت خزانہ میں کلرک کی اسامی پر کام کرنے لگے اور رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے جائنٹ سیکرٹری کے عہدے تک جا پہنچے۔ شعر و سخن کا ذوق زمانۂ طالبِ علمی ہی سے تھا۔ ابتدا میں شادؔ عارفی رام پوری سے تلمذ حاصل کیا۔۲ قیام پاکستان سے قبل شملے میں اقامت کے زمانے میں ہر اتوار کو ان کے گھر پر ادیبوں اور شاعروں کی مجلس ہوتی تھی۔ جب وہ کراچی منتقل ہوئے تو ادبی محافل کا یہ سلسلہ بھی کراچی منتقل ہوگیا اور ڈاکٹر جاوید منظر کے بقول:

شعرا نے ان کے مکان کو شعری مرکز کے طور پر قبول کر لیا۔

بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ:
کراچی کے شعری دبستان کی ابتدا محب عارفی کے مکان سے ہوتی ہے۔۳

بعد کے زمانوں میں ہر جمعرات کی شام ان کے گھر میںوہ نشست ہوا کرتی تھی جس میں برسوں کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ محب صاحب اگر کسی دورے پر جاتے تو اس دن ان کی بیٹھک کھلی رہتی، لوگ آتے، بیٹھتے، باتیں کرتے اور چلے جاتے۔ ان نشستوں میں محب صاحب زیادہ تر خاموش بیٹھے رہتے تھے اور اپنے سے کہیں کم مرتبہ حاضرین کی شاعری، مضامین اور باتیں پورے انہماک سے سنتے رہتے تھے۔ ان نشستوں میں سرگرمی سے حصہ لینے والے اکثر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے کہ محب صاحب ان سے کچھ سیکھتے ہیں۔ شاعروں ادیبوں کی اس طرح کی سرپرستی کے باوجود محب صاحب کو جس طرح فراموش کر دیا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کتنے ناسپاس لوگ ہیں۔ عزیز حامد مدنی کا یہ شعر یاد آتا ہے جو خود ان کے بارے میں بھی روا رکھا گیا:

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے۴

ایوب خان کے زمانۂ اقتدار میں ان کا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا اور ملازمت کے اختتام تک وہیں رہے۔ ۱۹۷۹ء میں ساٹھ سال کی عمر میں اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہوگئے تو اس وقت بھی ادبی محفل کے معمول میں خلل نہ آیا۔ محب عارفی صاحب سینئر بیوروکریٹ تھے مگر ان کی شخصیت میں ایک ایسا تہذیبی رچاؤ تھا کہ بیوروکریسی کی فضامیں طویل مدت تک رہنے کے باوجود انھوں نے زندگی ایک پختہ وضع داری، علم دوستی اور ادبی ذوق کے ساتھ بسر کی۔ ان کی پیشہ ورانہ حیثیت ان کی شخصیت سے بالکل منقطع رہی۔ محب صاحب کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ اتنے اچھے آدمی تھے کہ ان جیسا پاکیزہ نفس، بظاہر مذہبی نظر آنے والوں میں بھی کمیاب ہے۔ انکسار اور بے نفسی ان کی شخصیت میں جیسے گندھے ہوئے تھے۔ محب صاحب نے۱۹ دسمبر ۲۰۱۱ء کو کراچی میں ہی وفات پائی اور ڈیفنس کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔۵

انھوں نے نظموں اور غزلوں کا ایک مجموعہ گل آگہی کے نام سے ترتیب دیاجو ایک کتاب کے حصے کے طور پر ۱۹۶۳ء میں چھپا۔ اس کتاب کا نام تین کتابیںتھا۔ اس کتاب میں محبوب خزاںؔ کا مجموعہ اکیلی بستیاں، قمر جمیلؔ صاحب کا مجموعہ خواب نما اور محب عارفی صاحب کا مجموعہ گلِ آگہی شامل تھا۔ گلِ آگہی میں ہی اضافے کر کے ان کا دوسرا شعری مجموعہ چھلنی کی پیاس (۱۹۷۲ء) کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی دیگر تصانیف میں تجسس کا سفرنامہ (مضامین) (۱۹۷۲ء)، میر تقی میرؔ اور آج کا ذوق شعری (تحقیق) (۱۹۸۹ء) اور شعریاتِ مسلکِ معقولیت (تنقید) شامل ہیں۔۶

محب عارفی شاعر تھے لیکن شاعروں جیسا اندازِ زندگی کبھی اختیار نہ کیا۔ اتنے ذمہ دار آدمی تھے کہ انھیں کانٹ (Kant) کے Sense of Dutifulness کا عملی نمونہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ نہایت شفیق باپ اور انتہائی جاں نثار بیٹے تھے۔ ان کی والدہ نے بہت لمبی عمر پائی۔ ان کے انتقال کے وقت محب صاحب کی عمر ستر سے زائد تھی۔ اپنی والدہ سے جیسی محبت انھیں تھی اس کی مثال ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ ان کی بیماری بلکہ بیماریوں میں خدمت کا سارا کام خود سنبھالتے تھے کسی اور پر نہیں چھوڑتے تھے۔ والدہ کو کم خوابی کا عارضہ تھا۔ محب صاحب رات رات بھر ان کے پاس بیٹھے ان کی دل جوئی کیا کرتے اور پھر صبح وہیں سے اٹھ کرکام پر چلے جاتے۔ کسی نوجوان میں کوئی صلاحیت دیکھتے تو باپ سے بڑھ کر اس کی سرپرستی کرتے۔ ایسے نوجوانوں کی غیر موجودگی میں ان کی اس قدر تعریفیں کیا کرتے کہ سننے والوں کو مبالغے کا گمان ہوتا۔ اپنی بانوے برس کی زندگی میں ان کے منہ سے غیبت اور بدخواہی کا صدور کم ہی ہوا۔ کسی کی دل آزاری کرنا بھی ان کا شیوہ نہ تھا۔ ایک بڑے آدمی میں جو ایک ضروری وصف پایا جاتا ہے، یعنی خود اپنی تعریف نہ کرنا وہ بھی محب صاحب میں بدرجۂ اولی پایا جاتا تھا۔ بہت سخی آدمی تھے۔ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ مستحقین کی مدد میں لگاتے تھے۔ بیٹے بھی ماشاء اللہ خوش حال تھے اور ساتھ ہی سعادت مند ی میں بھی یگانہ تھے۔ وہ بھی محب صاحب کے جذبۂ فیاضی کی تسکین کرتے رہتے تھے۔ اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر اپنا دفاع نہ کرتے تھے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ دیتے تھے کہ ان صاحب کی تنقید ٹھیک ہوگی مگر فی الوقت میری سمجھ میں نہیں آرہی۔ عمر کے آخری حصے میں مذہبی ہوگئے تھے۔ مذہبیت اختیار کرنے کے بعد ان کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مذہبیت ان کے وجود کا جوہر پہلے تھی شعور میں بعد کو آئی۔ فلسفیانہ ذوق میں ان کی برابری کرنے والے ان کے ہم عصروں میں بہت کم ہی لوگ تھے مگر اس کے باوجود جسے سنتے کہ وہ فلسفہ پڑھتا پڑھاتا ہے اس سے استفادے کا قصد کرلیا کرتے تھے۔ ایسے ایسے لوگوں کو اپنا استاد بنانے کی کوشش کی جو ان کے شاگرد بننے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ یہ انکسار ان کی ساری معاشرت کا محور تھا۔ آواز بہت ہی اچھی تھی، بھاری، گہری، نرم اور مہذب۔ مگر اپنے شعر بے دلی سے پڑھا کرتے تھے۔ سخت بات سے ان کی زبان نا آشنا تھی لیکن کوئی شخص منہ پر تعریف کرتا تو چہرے پر ایک ناگواری آ جایا کرتی تھی۔ کوئی سخن شناس کسی شعر پر داد دیتا تو یا تو حیران رہ جاتے یا کچھ شرما سا جاتے تھے۔ غرض خیر میں گندھی ہوئی شخصیت تھے جس سے گھٹیا پن کی توقع نہیں رکھی جاتی۔ سرشارؔ صدیقی نے شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا:

دیدہ و دل تمام آئینہ
آدمی اور اس قدر شفاف۷

زندگی، آدمیت کے بلند ترین معیار پر گذارنے والے محب صاحب ایسے ذہنی کمالات کے حامل بھی تھے کہ اب ایسے لوگ چراغ لے کے بھی ڈھونڈیں تو شاید پا نہ سکیں۔

صاحبِ طرز شاعر اور نقاد سلیم احمد نے اپنی کتاب، اقبال ایک شاعر میں ایک اہم سوال اٹھایا کہ اقبال کی شاعری کا سرچشمہ کہاں ہے یعنی وہ کون سا مرکزی مسئلہ ہے جس سے ان کے وجود میں وہ طوفان یا زلزلہ پیدا ہوتا ہے جو ان کی شاعری کی بنیاد ہے۔ یہ ایک اہم مبحث ہے کہ کسی صاحبِ فن کے کام کو اس نظر سے گذارا جائے کہ اصلاً اس کا سب سے بنیادی مسئلہ کیا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہوتا ہے جو کسی کے کلام کا محور ہوتا ہے۔ محمد حسن عسکری صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میرؔ کا بنیادی مسئلہ دنیا ہے اور حالیؔ کا دنیا داری۔۸ بہر کیف اگر اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنے ممدوح شاعر کے کام کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ محسوس ہوگا کہ محبّ صاحب کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ علمِ کامل ممکن ہے نہ تکمیلِ وجود۔ یعنی علم اور وجود، دونوں ناتمامی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ جو ادھورا پن علم اور وجود دونوں کی تقدیر ہے وہ محب صاحب کے یہاں مبدا احساسات بھی ہے اور ماخذِ تصورات بھی۔ یعنی ادراکِ حسی اور ادراکِ فکری، ہر دو سطحوں پر یہی مسئلہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ محبّ صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس مسئلے کی شدت دونوں زاویوں سے قبول کرلینے کی وجہ سے ان کے ہاں خیال اور احساس میں ایک ناقابلِ تقسیم وحدت پیدا ہوگئی یعنی ان کے احساسات بھی ایک فلسفیانہ معنویت کے حامل ہوگئے ہیں اور اسی طرح ان کے تصورات عقلی بھی تاثرمیں گندھے ہوئے ہیں۔

اس مضمون میں محب صاحب کے شعری مجموعے چھلنی کی پیاس کا فلسفیانہ جائزہ پیش کیا جائے گا۔ چھلنی کی پیاس اوپر بیان کردہ اسی المیہ اساس وحدت کا استعارہ ہے۔ اردو فارسی شاعری میں کم ہی استعارے ہوں گے جو اعلیٰ درجے کی فلسفیانہ معنی خیزی اور انتہائی درجے کے حسی انکشاف کو اس طرح کمالِ ادغام کے ساتھ خود میں جذب کیے ہوئے ہوں۔یہ عنوان معنی اور احساس کی اس مشترکہ حتمی نارسائی کا مکمل ترین مظہر ہے جس کے ادراک سے معانی کی تشکیل ہوتی ہے اور تجربات و احساسات کی تکمیل۔ چھلنی وجود و شعور کی وحدانی صورت (unified form) ہے جہاں علم اور وجود اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ ایک ہی ماہیت کا حصہ ہیں۔ یہاں آ کر محسوس و معلوم ایک ہی domain بن جاتے ہیں جس کا مقدور خود ناتمامی ہے۔ ہر معروض (object)، اس نارسائی اور ادھورے پن کو مزید مویّد کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں علم اور معلوم یا وجود اور موجود میں ایک اٹل مغائرت ہے جو کسی خیال یا حال سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس میں سب سے المناک بات یہ ہے کہ تصورات کو واہمہ کہنے کے تو کچھ قرائن موجود ہیں لیکن اس سطح پر آکر احساسات بھی توہمات بن کر رہ جاتے ہیں، یعنی محسوس بھی موہوم ہی ہے۔ اور موہوم چاہے وہم کا نتیجہ قرار پا جائے تو بھی اس کی تاثیر حقیقی رہتی ہے۔ چھلنی کی پیاس میں محب صاحب نے اس تاثیر کو ایک انفس گیر آفاقی کلیت اور قطعیت کے ساتھ متعین کر دیا ہے۔ سیرابی کا وہم کھل جائے تو پیاس کا حال اپنے حقیقی تاثر کے ساتھ مستقل ہو جاتا ہے۔ چھلنی کے لیے پانی حقیقت ہے مگر یہ حقیقت پیاس بجھاتی نہیں ہے بلکہ اسے بڑھاتی ہے۔ حقائق کے تناظر میںجاننے اور ہونے کی ساری انسانی صورت حال محبّ صاحب کے نزدیک دراصل اس چھلنی کی سرگزشت ہے جسے دریا کا یقینی ذہنی اور حسی تجربہ میسر ہے مگر دریا کے ساتھ مغائرت اتنی اٹل ہے کہ یہ تجربہ بھی دریا کے ساتھ حاصل نسبت کو محفوظ رکھنے میں مکمل طور پر ناکافی ہے کیونکہ دریا کی معلومیت اور موجودیت علم اور وجود کے انسانی سانچوں سے کوئی مطابقت یا مماثلت نہیں رکھتی۔ اسی لیے حقیقت کا حضور ذہن میں ایک خلا کی طرح داخل ہوتا ہے اور ذہن میں ہی نہیں خود وجود میں بھی بے احوالی کا موجب بن جاتا ہے۔ چھلنی دریا کو پہچانتی ہے مگر اس پہچان کو جاننے اور ہونے کا سبب اور نتیجہ نہیں بنا سکتی۔ یہی وہ علمی بے حاصلی اور وجودی نامرادی ہے جو محب صاحب کی نظر میں انسان کی تقدیر ہے اورچھلنی کی پیاس اس کا بہترین استعارہ۔

آدمی جاننے اور ہونے کی ناقابل تکمیل کے سوا کچھ نہیں اور اسی کو انھوں نے پیاس سے تعبیر کیا۔ چونکہ محب صاحب کی شاعری کی کتاب کی برسوں سے اشاعت نہیں ہوئی اور یہ نظم اس قابل ہے کہ اس کو مکمل نقل کیا جائے، تو دراز نفسی کے اندیشے کے باوجود اس کو مکمل نقل کیا جارہا ہے:

اترے چھوڑ کے عیش عدم
اترے مگر کس شان سے ہم
پیش نظر دنیاے محال
عالم امکاں زیر قدم
ہر جانب تھی چشمِ خیال
بلائے ویرانی سے دوچار
بن کر تارِ نظر کا جال
کھینچا اپنے گرد حصار
حسرت کرتی گئی تعمیر
اپنے موم سے اپنے مکان
ملتی رہی پیاسی تدبیر
اپنے شہد پہ اپنی زبان
چھٹا جو آئینے سے غبار
الٹ پڑی الٹی تحریر
معنی کرنے لگے سنگھار
ہر نقطہ تھا اک تفسیر
تھمی تھمی سی عمر کی رو
رکا رکا لمحوں کا خرام
تھرک رہی تھی شمع کی لو
رقصاں تھا ماحول تمام
اسی تماشے میں دل تھا مگن
تھیں تو فقط پردے کی ادائیں
لگی یہ کیسی تہ کی لگن
کھلنے لگیں سطحوں کی قبائیں
سجل اندھیروں کی دنیائیں
ملنے لگیں کرنوں سے گلے
بڑھی چلی آتی ہیں فضائیں
جالے اپنے ٹوٹ چلے
نغمے تمام تار تار
نظریں نظاروں کے پار
بس اے جنونِ عرفان بس
ہر صورت ہے سینہ فگار
جلوے سارے ہوئے تحلیل
کچھ نہ رہا آئینے کے پاس
ختم ہوئی دریا کی سبیل
بجھ نہ سکی چھلنی کی پیاس۹

اترے چھوڑ کے عیش عدم / اترے مگر کس شان سے ہم / پیش نظر دنیاے محال / عالم امکاں زیر قدم۔۔۔ ہم عدم سے وجود میں آئے تو ہمارے وجود کی دو conditions تھیں؛ ایک actual اور ایک ideal۔ عالم امکاں ہماری actual domain اور دنیاے محال ideal۔ دنیاے محال شعور کی منزل ہے اور عالم امکان وجود کا وطن۔ وجود کی form اور idea کی دوئی کے باوجود ان دونوں عالموں کو ذہن اور ہستی کے مشترک locale کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ علم کا توسیع فی الوجود کا project دنیاے محال سے وابستہ ہے اور وجود کا تاسیس فی العلم کا منصوبہ عالمِ امکان سے۔ محال اور ممکن کے paradoxical قطبین ہی علم اور وجود کی مطلق تحدید کرتے ہیں اور انھی کی بنیاد پر ذہن اور شے کی تمام نسبتیں وجود میں آتی ہیں۔ محال اور ممکن کے تضاداتی تعامل یا تفاعل (dialectical correspondence) میں امکان میں استحالہ (improbability) سرایت کرجاتا ہے جس سے نکلنے کے لیے ذہن ممکن کو مسلسل تغیر اور تبدیلی کی رو میں رکھتا ہے۔ لیکن تبدیلی کے نتائج اور مظاہر بھی محال کے مستقل تقابل کی وجہ سے استحالے سے خالی نہیں ہوپاتے۔ اس صورت حال کو محبّ صاحب علم اور وجود کے تقدیری ادھورے پن سے تعبیر کرتے ہیں؛ یعنی محال کا تصور اپنی تسکین کے لیے ممکن کا محتاج ہے اور ممکن کا تجربہ محال کے تصور کا محتاج ہے۔ اس امکان اور استحالے کے باہمی لزوم کا تاثر انسانی ذات کی سطح پر ذہنی اور وجودی کیفیات کے باہمی لزوم کے طور پر پڑتا ہے۔ اس جبری لزوم کا بس ایک نتیجہ ہے کہ انسان باعتبارِ علم اور بلحاظِ ہستی چھلنی کی طرح ہے جسے دریا میں ڈوب کر بھی پیاس ہی لگتی ہے سیرابی نہیں ملتی۔

حس ہی محسوس ہے اور عقل ہی معقول ہے ؛ یہ چھلنی کی پیاس کا ایک بنیادی تناظر ہے جو فلسفے اور جمالیات سے مل کر بنا ہے۔ یہ تناظر تشکیکی یا عدمیت پسند (nihilist) نہیں ہے تاہم اس میں علم کی بہت سی مستقل تعریفات کو توڑ دیا گیا ہے۔ محب صاحب کے تقریباً تمام تخلیقی تجربات اور فلسفیانہ تصورات پوری یکجائی کے ساتھ اس نکتے پر مرکوز نظر آتے ہیں کہ معروض (object) دراصل موضوع (subject) ہی کی self-actualization ہے اور علم و وجود میں دوسرا پن (otherness) ایک سمجھوتے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ ثنویت داخل اور خارج کی ثنویت نہیں ہے جس پر موضوع اور معروض کی نسبتیں عمل میں آتی ہیں، بلکہ نارسائی کے خمیر سے اٹھنے والی انا کے اعتبارات ہیں، جس میں موضوع حقیقی ہے نہ معروض۔ اس بے حقیقی کا دباؤ یہ دکھا دیتا ہے کہ سب علم اور تمام وجود جیسے ایک خط کی طرح ہے جس کی تشکیل کرنے والے نقطے معدومیت کے نقطے ہیں۔ یہ معدومیت کسی مطلق تصور وجود کے حوالے سے، اس کے نقیض کے طور پر نہیں ہے بلکہ بے حقیقی کے حال اور تجربے کا ماخذ اور حاصل ہے۔ اردو کی علمی اور شعری روایت میں محب صاحب کے سوا کوئی نہیں جو علم و وجود کے اس پیچیدہ دروبست تک پہنچا ہو اورساتھ ہی حقیقت کے تصور کو محفوظ رکھنے میں اس درجے کی کامیابی حاصل کی ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ایجابی عدمیت پسندی (affirmative nihilism) سے گذر رہے ہوں۔ حقیقت اور صورت کے تضاد اور توافق پر مبنی یہ تناقض (paradox) اتنا نادر اور اس قدر پیچیدہ ہے کہ رسمی فلسفہ دانی اسے چھو بھی نہیں سکتی۔ یہاں زیادہ سے زیادہ جو بات یقین سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ محسوسات اور معقولات دونوں ایک خودی اساس توہم کی کارفرمائیاں ہیں ورنہ حقیقت یہی ہے کہ حس ہی محسوس ہے اور عقل ہی معقول ہے کیونکہ محسوس اور معقول اصلاً حس اور عقل ہی کی self-actualization ہیں۔ یہ judgement وہ عدسہ ہے جس سے محب صاحب کی شاعری میں پوشیدہ حقائق نظر آسکیں اور ان کے تصور اور تجربے کے قوام تک رسائی حاصل ہوسکے۔ اس تناظر کے بغیر محبّ صاحب کے افکار میں تناقض کا نظر آنا یقینی ہے۔ ’’جراثیم کی مناجات‘‘ نامی نظم بھی ایک شاہکار ہے۔ شفیع منصور کے بقول یہ نظم انسان کے نعرۂ انا الموجود لاغیری پر ایک لطیف طنز ہے اور تصوّرِ انانیت کی تنقید ہے، جس میں قوتِ تخیل اور قدرتِ بیان کی بڑی پاکیزہ مثالیں ملتی ہیں۔۱۰

اب بہت اختصار کے ساتھ محب صاحب کے چندمنتخب اشعار مختصر تبصرے کے ساتھ پیش ہیں جو اس بات کے ثبوت کے لیے کفایت کریں گے کہ ایسی شاعری جو انسان کے ذہن کو بھی حالتِ تسکین میں رکھے اور تخیل کی بھی سیرابی کرے محب صاحب کے معاصرین میں ناپید ہے:

خرد یقیں کے سکوں زار کی تلاش میں ہے
یہ دھوپ سایۂ دیوار کی تلاش میں ہے۱۱

اگر ہم تاریخ فلسفہ پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیں تو ہم اس شعر کی معنویت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔یہ شعر تاریخ میں جاری عقل کی جدلیات کی ایک دلکش تصویر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انسانی دانش کا ایک خواب ہے جسے محب صاحب نے زبان دے دی ہے۔ البتہ ایک استثنا یہ ہے کہ مابعدِ جدیدت نے اس طلب کو ختم کر دیا ہے۔ عقل مطلق تک پہنچنا چاہتی ہے۔ مطلق پر پہنچ کر عقل کا منطقی سفر ختم ہوجاتا ہے اور عقل چونکہ ایک کٹھن حرکت سے عبارت ہے جس کی دشواری اس کا حال بن چکی ہے؛ اسی دشواری کو کم کرنے کے لیے یہ اقرار اور انکار کا مؤقف، استقلال کی نیت سے اور عارضی طور پر، اختیار کرتی ہے۔ یعنی کسی اضافی مطلق کا ادّعا بھی دراصل ’’ایک ماندگی کا وقفہ ہے ‘‘ اور history of ideas عقل کے اس سفر پر شاہد ہے کہ ’’یعنی آگے چلیں گے دم لے کر‘‘۔ گویا تشکیک اس کے خمیر میں گندھی ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ عقل خود اپنی نفی کی طالب ہے جو چاہے اس کے اندر سے evolve ہو جائے یا اس پر اعترافِ مغلوبیت کے ساتھ غالب آجائے۔ یقین عقل کی نظر میں تصورِ مطلق سے پیدا ہوتا ہے اور تجربی اور منطقی طور پر تصدیق پاتا ہے اور یہ تصور و تصدیق مل کر علم کی اکائی تشکیل دیتے ہیں۔ محبّ صاحب کے ہاںایک کمزوری ہے کہ ان کی شاعری کا محتوی (content) بڑا ہے اظہار (expression) کم تر ہے۔ ان کے مضامین بڑی شاعری کے ہیں لیکن زبان بڑی شاعری کی زبان نہیں ہے۔

ذوقِ تسخیر کو درپیش یہ دشواری ہے
جس طرف دیکھیے اپنی ہی عمل داری ہے۱۲

یہ کتنا فلسفیانہ بیان ہے اس مضمون کا کہ پورا شعور ego-centric ہے۔ ہر چیز شعور کی اس خاصیت پر منحصر ہے۔ دراصل علم اپنا ہی علم ہے۔ تصدیق کے لیے دوسرا ہونا ضروری ہے۔ انسانی شعور اپنے معروض کے ساتھ دوسرے پن کا رشتہ قائم کرنے میں ناکام ہے۔ یہی بات پیچھے بھی بیان ہو چکی ہے کہ محبّ صاحب کے نزدیک معروض اور موضوع کا تباین ممکن نہیں۔

مسلسل پھرے چاک افلاک کے
ہماری ہی تشکیل کے واسطے۱۳

اس شعر پر میر کے اس معروف شعر کی چھاپ بڑی گہری ہے:

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

فرق یہ ہے کہ محب صاحب کے ہاں کلاسیکیت کا رجحان نہیں ہے بلکہ ان کا اسلوب فلسفیانہ ہے اور بعض مرتبہ بہت جدید ہے۔ محب صاحب کے ہاں جدیدت کا غلبہ ہے، قبولیت کے ساتھ نہیں بلکہ جبر اور دباؤ کے احساس کے ساتھ۔ محب صاحب کی شاعری کا بنیادی رنگ المیاتی ہے۔ اگر ہم محب صاحب کا موازنہ ان کے ایک معاصر شاعر عزیز حامد مدنی کے ساتھ کریں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ مدنی صاحب ایک بالکل جدید شاعر تھے اور ان کے ہاں مضامین بہت جدید ہیںلیکن محب صاحب کے برعکس قبولیت کے ساتھ۔ مدنی صاحب کے ہاں جدیدیت کے مظاہر کا بیان بہت مکمل ہے اور غلبہ خارجیت کا ہے، محب صاحب کے یہاںسب چیزیں داخلیت میں تکمیل پاتی ہیں۔ مدنی صاحب کے ہاں منظر کشی بہت عمدہ ہے اور وہ اصلاً شاعر ہیں۔ محب صاحب کے ہاں درُوں کا بیان زیادہ ہے اور لگتا یہ ہے کہ وہ اصلاً فلسفی اور مفکر ہیں ضمناً شاعر ہیں۔ فلسفیانہ ذوق ان کے شعری مذاق پر غالب ہے۔

باغباں کچھ تو حق مرا بھی ہے
پھل میں کچھ بیج کے سوا بھی ہے۱۴

یہ شعر یہ بتا رہا ہے کہ اے فاطرِ ہستی تو نے مجھے بویا تو ہے لیکن میری تکمیل میں میرا بھی ہاتھ ہے۔ اس مضمون سے ظاہرہے کہ محب صاحب پر اقبال کا اثر بھی بہت نمایاں ہے۔ ظاہر ہے وہ جس قبیل کے شاعر ہیں اقبال ایسا صاحبِ فکر فنکار ہی ان کی دستگیری کر سکتا ہے۔ اقبال کو دیکھیے انھوں نے اس مضمون کو کیسے باندھا:

تو شب آفریدی چراغ آفریدم   سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی   خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آدم کہ از سنگ آئینہ سازم   من آدم کہ از زہر نوشینہ سازم۱۵

فکری حوالے سے محب صاحب پر اقبال کا بہت گہرا اثر ہے۔ کرافٹ کے حوالے سے آسی غازی پوری کا اثر بہت واضح ہے جو ان کے ہم وطن تو تھے ہی شاید عزیز بھی تھے۔بیدل کا اثر بھی نمایاں ہے اگرچہ مرتبے کا فرق بہت واضح ہے۔ مضمون بندی میں بیدل کا اثر ہے شعری تجربے میں نہیں ہے۔ بیدل کی طرح تجربہ پیچیدہ نہیں۔ بیدل جس ندرت کے ساتھ فلسفیانہ مضامین باندھتے ہیں وہ ہماری روایت میں اور کہیں نہیں۔

تھا جانے کب سے جاری رقصِ نگارِ ہستی
ہم آئے ہیں توسارے اعضا ٹھہر گئے ہیں۱۶

اس شعر کا بنیادی مضمون ہے وجود کا شعور بن جانا۔ چیزیں اپنی وجودی ساخت میں متحرک اور غیر متعین ہیں۔ ذہن نے انھیں ٹھہرا لیا ہے اور متعین کر دیاہے۔ انسانی ذہن کا ایک بڑا وظیفہ نام دینا (naming) ہے۔ چیزیں اپنی شناخت انسانی ذہن سے پاتی ہیں۔ ہم شے کو ذہن میں جانتے ہیں فی الوجود نہیں سمجھ سکتے۔ یہاں کانٹ کی تقسیم، شے فی ذاتہ (thing in itself۔ Noumena) اور شے فی الحواس (thins as perceived۔ Phenomena) میں امتیاز کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ کائنات ساری تخلیق ہے ہماری
اک مسئلہ محب ہم جس کا ٹھہر گئے۱۷

یہ محب صاحب کا ایک مستقل مضمون ہے، کہ سب کچھ شعور میں ہے۔ سب سے اہم قضیہ یہ ہے کہ ہم شعور کا شعور حاصل کریں۔ سب کچھ محسوس ہے صرف محسوس کرنے والا محسوس نہیں۔ یہ احساس کی تنہائی ہے جو انسان کا بڑا وجودی المیہ ہے یعنی محسوس نہ ہونا محسوس ہوتا ہے۔ ایک alienation کا سا تصور ہے، لیکن یہ بے گانگی خود ذات کے احساس سے ہے۔

دل میں تو بسا دی ہے ہر سانس نے دنیا بھی
اک عمر گذاری ہے احساس نے تنہا بھی۱۸

محب صاحب کے ہاں ایک کمی یہ ہے کہ بہت سے اشعار میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نثرِ منظوم ہے۔ بیان میں خوبصورتی مفقود ہے۔ جہاں اظہار معنویت کے ساتھ شکوہ کی کمی ہے۔ مثلاً اقبال کے ہاں اس طرح کے مضمون کو دیکھیے:

مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونی
وہ چاند، یہ تارا ہے، وہ پتھر، یہ نگیں ہے

دیتی ہے مری چشم بصیرت بھی یہ فتوی
وہ کوہ، یہ دریا ہے، وہ گردوں، یہ زمیں ہے

حق بات کو لیکن میں چھپا کر نہیں رکھتا
تو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے، نہیں ہے!۱۹

چن دیا ہے ہوسِ دید کو پس منظر میں
جب کہیں کوئی شکل مجھ کو نظر آئی ہے۲۰

ہر دیکھی ہوئی چیز ایک ان دیکھا پن convey کرتی ہے۔ ہوسِ دید کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس کا ایک مطلب ہے کہ ہر دید خواہشِ دید کو بڑھاتی ہے یعنی ان دیکھے کے تصور کو دیکھ لینے کے تجربے پر غالب رکھتی ہے۔ جو دکھائی دیتا ہے وہ دیکھنے کی طلب سے کم تر ہے کیونکہ ممکن الوجود غیب کے بالمقابل ہمیشہ اسفل ہے۔ اسی لیے غیب کو حقیقی ماننا ناگزیر ہے۔ یہ تمام شہود کا مقوّم بھی ہے۔مشہود غیاب کا جوہر رکھے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ شہود واقعی ہے مگر مشہود غیاب ہی میں رہتا ہے۔ باالفاظ دیگر، یہ کہنا کہ میں نے زید کو دیکھا، یہ واقعاتی لحاظ سے تو ٹھیک ہے، زید کو دیکھنا ایک واقعہ ہے مگر خود زید غیاب میں ہے۔

میں چلا ہوں تو مرے ساتھ چلی ہے منزل
اور قدموں سے لگی راہ گذر آئی ہے۲۱

تصورِ علم، نتائجِ علم اور حاصلاتِ علم کو متعین کرتا ہے۔ نتیجۂ علم تصورِ علم کے مطابق ہے۔ انسان چیزوں کو ایک بنیادی تناظر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ کہہ یہ رہے ہیں کہ میرا چلنا دراصل منزل کا چلنا ہے۔ یہاں ایک متنازعہ مسئلے، کہ علم (knowledge) اقداری (value laden) ہوتا ہے یا نہیں، میں محبّ صاحب کا موقف بھی واضح ہوجاتا ہے۔

اے ہم نظر! ٹھہرو،کیا ہو جو برآمد ہو
ہر گوشۂ خلوت سے اک نقشِ خیال اپنا۲۲

مراقبے میں آدمی خدا کو نہیں خود کو دیکھتا ہے۔

بہ شکلِ خود خدا را نقش بستم۲۳

اس شعر میں خلوت کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ جب انسان حقیقت یا خدا کی طرف پیش قدمی کرتا ہے تو اپنے کسی پہلو تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

تلاشِ خود کنی جز او نہ بینی۲۴

اور سانحہ یہ ہے کہ وہ پایا ہوا خود بھی وہمی و خیالی ہے۔

عدم ہے سمندر بھنور ہے وجود
عدم ہر طرف ہے کدھر ہے وجود۲۵

اگر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ یہاں محب صاحب ممکن الوجود کی تعریف کررہے ہیں۔ یہ شعر ہائیڈیگر کے تصور becoming کا بہت عمدہ بیان ہے۔ اصل چیز عدم ہے، وجود ایک سراب ہے۔ وجود دراصل عدم کے خلاف ایک ناکام بغاوت ہے۔

بحر میں کچھ نہیں قطروں کے سوا کیا سمجھے
ہوئے جاتے ہیں وہ قطرے بھی ہوا کیا سمجھے۲۶

عالمِ وجود، عناصرِ وجود کا مجموعہ ہے اور عناصرِ وجود محض فانی ہیں۔ اس شعر پر آسی غازی پوری کے شعر کا اثر بہت واضح ہے:

قطرے میں کچھ نہیں دریا کے سوا کیا کہیے
بات کہنے کی نہیں ہے بخدا کیا کہیے
سایہ جس کا نظر آتا ہے مجھے
وہ بھی سایہ نظر آتا ہے مجھے۲۷

سب کچھ ذہن میں ہے اور ذہن میں حقائق نہیں ہیں اعتبارات ہے۔ علم مظاہر کا ہے اصول کا نہیں۔ جو کچھ بھی حاصل ہے وہ علم الاسباب ہے، اس صورتِ حال میں کہ ہر سبب خود اثر بھی ہے۔ گویا کہہ یہ رہے ہیں، کہ حقیقت ممتنع العلم ہے۔ اسی طرح یہاں یہ بات بھی قابلِ بیان ہے کہ عالمِ امکان میں جو وجود بھی ہے، وہ عالمِ مثال کے غیب کا پرَتو ہی تو ہے۔

فرد کی مرکزیت ان کے ہاں ایک مستقل مضمون ہے، لیکن یہ مرکزیت جدید انسانیت پسندی (humanism) سے مختلف ہے۔ محب صاحب کا فرد، نوعی ہے شخصی نہیں۔ یہاں فرد کی ساری گفتگو ایک نوع کے لحاظ سے ہے۔ محب صاحب کی شاعری سے فرد مرکزی کے نمونے پیشِ خدمت ہیں:

ماحول ہے کہ سایہ ہمراہ چل رہا ہے
اے شوق چل رہے ہیں ہم یا ٹھہر گئے ہیں۲۸

رہی کرب میں مدتوں تک زمین
ہوا رہ نما آدمی تب کہیں۲۹

جو تکوین کا مدعا ہیں تو ہم
مرادِ دلِ ارتقا ہیں تو ہم۳۰

ہیں تو ہم آپ اک سرابِ یقیں
کچھ ہمارے سوا کہیں بھی نہیں۳۱

کی گئی گرم روی کی تحریک
برق زاروں کی زبانی مجھ سے
لا زمانی کے شبستاں میں بپا
ہوئی لمحات فشانی مجھ سے
لامکانوں کے مکین سیکھ گئے
ہنرِ نقل مکانی مجھ سے
وادی و کوہ و بیابانِ وجود
پا گئے اپنے معانی مجھ سے
سبزہ زاروں کے ہزاروں امکان
مانگتے رہ گئے پانی مجھ سے
کیا رہا میری تگ و دو کا مآل
نہ سنو اب یہ کہانی مجھ سے
چھا گیا مجھ پہ سمندر کا جلال
چھن گئی تاب روانی مجھ سے
ہوں محب مصرعِ اول اپنا
نہ لگا مصرعِ ثانی مجھ سے۳۲

اردو کی جدید شاعری کی روایت میں طرزِ احساس اور طرزِ فکر کی حد تک تو بہت سے نمونے ملتے ہیں لیکن محب صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے جدید فلسفے اور نفسیات کے ان بنیادی موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا جن سے واقفیت ہمارے جدید شاعروں میں بہت کمیاب ہے۔ محب صاحب کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ جدیدت کے اسمِ اعظم یعنی فرد کو ایک مابعد الطبیعی سیاق و سباق فراہم کیا جائے۔ ہماری نئی شاعری میں فرد کے تصور میں چھپی ہوئی وہ باریکیاں اور گہرائیاں کم ہی پائی جاتی ہیں جن کو محب صاحب نے ایک فلسفیانہ جمالیاتی دروبست کے ساتھ نہ صرف یہ کہ دریافت کیا بلکہ ان کو معروف جدیدیت کے ماحول سے نکال کر کلاسیکی تصورِ وجود اور نظریۂ علم میں بھی بامعنی اور ایک نئی تطابق پذیری کے ساتھ استعمال بھی کرکے دکھایا۔ ان کا بڑا متیاز یہ ہے کہ انھوں نے جدیدیت کے بنائے ہوئے کلی تناظر کو قبول کیے بغیر اس مستقل حقائق اور معانی کے حصول اور ایک خاص زاویے سے ان کے نتیجہ خیز انکشاف کا ایسا ذریعہ بنایاکہ مجموعی شعور کی وحدت اپنے ثبات و تغیر کی متوازی یکجائی کے ساتھ سامنے آگئی۔ اس لیے محب صاحب کو اقبال کے بعد فرد مرکزی کا تہ دار اثبات کرنے والی ایک بڑی آواز کہا جاسکتا ہے۔


حوالہ جات

* لیکچرر، شعبۂ فلسفہ، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور۔

۱۔فرید احمد، حسن عباس رضا، پاکستانی اہلِ قلم کی ڈائریکٹری(اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، ۱۹۷۹ء)، ۳۷۹۔

۲۔ احمد حسین صدیقی، دبستانوں کا دبستان(کراچی: محمد حسین اکیڈمی، ۲۰۰۵ء)، ۳۹۰۔

۳۔ جاوید منظرؔ،دبستانِ کراچی؛ کراچی کے دبستانِ شاعری میںاردو غزل کا ارتقا (کراچی: مکتبۂ عالمین پاکستان، ۲۰۱۱ء)، ۳۱۲۔

۴۔ عزیز حامد مدنی، ’’دشتِ امکاں‘‘، کلیاتِ عزیزحامد مدنی(کراچی: اکادمی بازیافت، ۲۰۱۳ء)، ۲۳۵۔

۵۔ محمد منیر احمد سلیچ، وفیاتِ مشاہیرِ کراچی(کراچی: قرطاس، ۲۰۱۶ء)۔ ص ۲۴۷

۶۔ علی یاسر، اہلِ قلم ڈائریکٹری (اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، ۲۰۱۰ء)، ۲۴۹۔

۷۔ سرشار صدیقی، بے نام (کراچی: ہمارا ادارہ،۱۹۸۳ء)، ۱۶۹۔

۸۔ سلیم احمد، اقبال ایک شاعر (لاہور: نقش اول کتاب گھر، ۱۳۹۸ھ)، ۲۷۔

۹۔ محب عارفی، چھلنی کی پیاس(کراچی، ۱۹۷۵ء)، ۱۱۲–۱۱۵۔مینا پرنٹنگ اینڈ پبلیکیشن ہاؤس لیمیٹڈ

۱۰۔ ایضاً، ’’مقدمہ‘‘، صفحہ ل۔

۱۱۔ ایضاً، ۳۴۔

۱۲۔ ایضاً، ۹۹۔

۱۳۔ ایضاً، ۶۳۔

۱۴۔ ایضاً، ۵۳۔

۱۵۔ محمد اقبال، ’’پیامِ مشرق‘‘، کلیات اقبال فارسی(لاہور:۱۹۹۴ اقبال اکادمی پاکستان)، ۹۳۔

۱۶۔ محب عارفی، ۲۴۔

۱۷۔ ایضاً، ۲۵۔

۱۸۔ ایضاً، ۵۳۔

۱۹۔ محمداقبال، ’’ضربِ کلیم‘‘، کلیات اقبال(لاہور: ۲۰۰۷ اقبال اکادمی پاکستان)،۵۰۔

۲۰۔ محب عارفی، ۲۸۔

۲۱۔ ایضاً، ۲۹۔

۲۲۔ ایضاً، ۱۷۔

۲۳۔ محمد اقبال، ’’پیامِ مشرق‘‘، ۵۷۔

۲۴۔ ایضاً، ۴۷۔

۲۵۔ محب عارفی، ۵۶۔

۲۶۔ ایضاً، ۴۸۔

۲۷۔ https://www.rekhta.org/ghazals/saaya-jis-kaa-nazar-aataa-hai-mujhe-muhib-aarfi-ghazals?lang=ur

۲۸۔ محب عارفی، چھلنی کی پیاس، ۲۵۔

۲۹۔ ایضاً، ۶۱۔

۳۰۔ ایضاً، ۶۳۔

۳۱۔ ایضاً، ۹۰۔

۳۲۔ https://www.youtube.com/watch?v=CJFD_lzeIy0۔ ۱۱ جنوری ۲۰۱۸


مآخذ

احمد،سلیم۔ اقبال ایک شاعر۔ لاہور: نقش اول کتاب گھر، ۱۳۹۸ھ۔

احمد،فرید۔ حسن عباس رضا۔ پاکستانی اہلِ قلم کی ڈائریکٹری۔ اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، ۱۹۷۹ء۔

اقبال، محمد۔ ’’پیامِ مشرق‘‘۔ کلیات اقبال فارسی۔ لاہور: اقبال اکادمی پاکستان۔

ّّّ_____۔ ’’ضربِ کلیم‘‘۔ کلیات اقبال۔ لاہور: اقبال اکادمی پاکستان۔

سلیچ، محمد منیر احمد۔ وفیاتِ مشاہیرِ کراچی۔کراچی: قرطاس، ۲۰۱۶ء۔

صدیقی، احمد حسین۔ دبستانوں کا دبستان۔کراچی: محمد حسین اکیڈمی، ۲۰۰۵ء۔

صدیقی، سرشار۔ بے نام۔کراچی: ہمارا ادارہ، ۱۹۸۳ء۔

عارفی، محب۔ چھلنی کی پیاس۔ کراچی، ۱۹۷۵ء۔

____

مدنی، عزیز حامد۔’’دشتِ امکاں‘‘۔ کلیاتِ عزیزحامد مدنی۔کراچی: اکادمی بازیافت، ۲۰۱۳ء۔

منظرؔ،جاوید۔دبستانِ کراچی؛ کراچی کے دبستانِ شاعری میںاردو غزل کا ارتقا۔کراچی: مکتبۂ عالمین پاکستان، ۲۰۱۱ء۔

یاسر، علی۔ اہلِ قلم ڈائریکٹری۔ اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، ۲۰۱۰ء۔

برقی مآخذ

https://www.rekhta.org/ghazals/saaya-jis-kaa-nazar-aataa-hai-mujhe-muhib-aarfi-ghazals?lang=ur

https://www.youtube.com/watch?v=CJFD_lzeIy0۔ ۱۱ جنوری ۲۰۱۸

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: