مشرقی عورت —- فوزیہ قریشی

0
  • 25
    Shares

مشرقی عورت بھی بہت عجیب ہوتی ہے۔ جب اسے کوئی اچھا لگ جائے یا اسے کسی مرد سے محبت ہو جائے تو پہلے پہل اسے اپنے آپ سے چھپاتی ہے۔ محبت کرنا چاہتی لیکن کرنے سے ڈرتی ہے۔ کر لے تو اظہار سے ڈرتی ہے اور اگر اس کی منشاء کے مطابق دوسری طرف سے اظہار ہوجائے تو ایک نئے خوف، نئے وسوسے میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چاہ کربھی محبت کا وہ حق ادا نہیں کر پاتی جو وہ دل سے کرنا چاہتی۔

سرکش اور باغی ہو جائے تب بھی وہ ایک محبت کی خاطر بہت سارے چاہنے والوں کی محبت کو وقتی طور پر ٹھکرا تو دیتی ہے لیکن خود مرتے دم تک بے چین رہتی ہے۔ شاید اپنے لئے جینا یا خود کو محبت کا وہ حق دینا اسے نہیں آتا۔۔۔۔۔ خود سے محبت کرنا اس کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کے خمیرمیں اس کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔۔

وہ اپنے پیاروں میں محبتیں تقسیم کرنے کی اتنی عادی چکی ہوتی ہے کہ جب اسے کسی سے محبت ہوتی ہے تو وہ ان رشتوں پر اپنی اس محبت کو قربان کر دیتی ہے جو اسے خود کے لئے جینا سکھاتی ہے۔ جو اسے خود کے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی عورت محبت کر بھی لے تو اسے نبھانا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے پیارے اس کی محبت میں بیڑیاں بن کراس کے پاؤں کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اور اگر وہ تھوڑی سی ہمت کرکے ان بیڑیوں کو اتار پھینکے اور اپنے لئے جینے کی خواہش میں صرف اس محبت کی خاطر نبھانے کی کوشش کرے بھی تو وہی زندگی اس پر تنگ کر دی جاتی ہے اور زندگی گزارنا اس کے لئے اور بھی مشکل ہو جاتی ہےـ محبت میں ہونے والی وہ لمحے بھر کی لغزش، وہ ایک پل کی خود غرضی اسے جینے نہیں دیتی۔ پل پل مارتی ہے۔۔ چاہے وہ محبت اس نے دنیا سے لڑ کر حاصل کی ہو۔۔ یہی محبت کے وہ کمزور لمحے اسے اپنا سب سے بڑا گناہ محسوس ہوتے ہیں۔ ـ

یہی وجہ ہے کہ مشرقی عورت اکثر خود سے کی جانے والے کسی ہمدرد کی محبت کے بغیر تو رہ سکتی ہے لیکن ان محبتوں کے بغیر کبھی نہ رہ سکتی جن کی محبتوں میں اس نے آنکھ کھولی ہو اور پرورش پائی ہو۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: