اسرائیل: خود کش حملوں پر فتح اور  اخلاقی سمت کھونے کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ رونن برگ مین

0
  • 42
    Shares

رونن برگ مین (1972ء) کا تعلق اسرائیل سے ہے، تحقیقاتی صحافی ہیں اور اسرائیل کے کثیر الاشاعت اخبار یدیعوت احرونوت کے  سیاسی اور عسکری تجزیہ نگار ہیں۔ ٹوئٹر ہینڈل:@ronenbergman نیویارک ٹائمز نے اس تحریر کا انتخاب رونن برگ مین (Ronen Bergman) کی کتاب Rise and Kill First:The Secret History of Israel’s Targeted Assasinations سے کیا ہے۔


18 اکتوبر 2001ء کو حماس کا ایک رُکن نیلا کوٹ پہنے اسرائیلی شہر نتانیا کے قریب ہاشرون شاپنگ مال کے باہر سکیورٹی چیک پوائنٹ پر پہنچا۔ محافظوں کو اس پر شک گزرا اور اُسے روک لیا گیا۔ اُس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، پانچ افراد جان سے گئے۔ یکم جون کو ایک اور خودکش حملہ آور نے تل ابیب کے ساحل پر ایک ڈسکو ہال کے باہر خود کش حملہ کیا جس میں 21 افراد ہلاک ہو گئے۔ ڈانس ہال کا مالک خود نیوی میں کمانڈو تھا لیکن جب اس نے میڈیا سے بات کی تو اس کی آنکھوں میں نا امیدی تھی، اس کے الفاظ تھے کہ میں نے زندگی بھر ایسا بھیانک منظر نہیں دیکھا!

نومبر 2001ء کے آغاز میں یہ حال ہو گیا کہ ہر ہفتے اسرائیل کی گلیوں بازاروں میں خود کش حملے شروع ہو گئے۔ یکم دسمبر کو یروشلم کے بن یہودا شاپنگ مال میں 11 افراد مارے گئے اور اگلے ہی دن حیفہ میں ایک بس میں خود کش دھماکہ ہو گیا۔ اس بار مرنے والے 15 اور زخمی 40 تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور صرف مارچ 2002ء میں خود کش حملوں میں 138 لوگ ہلاک اور 683 زخمی ہوئے۔ سب سے بھیانک دھماکہ نتانیا کے ایک ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر ہوا۔ خود کش حملہ آور نے خود کو ایک یہودی مذہبی عورت ظاہر کیا اور ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس حملے میں 30 لوگ جان سے گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 143 تھی۔ اسرائیلی ہوم انٹیلی جنس شِن بیٹ کے مطابق 2002ء اسرائیل کے قیام سے لیکر اب تک دہشت گردی کا شدید ترین سال تھا۔ “اسرائیلی انٹیلی جنس اس سے پہلے بھی خود کش حملوں کا سامنا کر چکی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ آپ خود کش حملہ آور کے خلاف کر ہی کیا سکتے ہیں؟ ایک ایسا شخص جو گلی بازار میں اس نیت سے گھوم رہا ہے کہ کہاں پہلے خود مرنا ہے اور دوسروں کو اپنے ساتھ مارنا ہے۔ ۔ ۔ ! ” یہ الفاظ ہتھیاروں کی ترقی و تنظیم اور تکنیکی جنگ کے ادارے کے سربراہ اسحاق بن اسرائیل (Yitzhak Ben-Yisrael) کے ہیں۔
دہشت گردی اور خاص طور پراس قسم کے خود کش حملوں کے نتیجے میں شن بیٹ (Shin Bet) اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) میں ایک فرسٹریشن کی صورتحال پیدا ہو چکی تھی۔ عمومی طور پر وہ جانتے تھے کہ ان حملوں کے پیچھے کون ہے لیکن فلسطینی سرزمین میں اندر تک اس کے پیچھے نہیں جا سکتے تھے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے پلاننگ ڈویژن کے سربراہ گایورا ایلانڈ نے نے ایک بار کہہ دیا تھا کہ”یہ ایک بے بسی کا احساس تھا !”۔ اس سے پہلے 2001ء کے اختتام پر شن بیٹ کے دائریکٹر ڈِچر نے وزیر اعظم ایریل شیرون کے سامنے نئی حکمت عملی پیش کر رکھی تھی۔ اول اول وزراء اس پر ہچکچاہٹ کا شکار تھے لیکن حیفہ بس اٹیک کے بعد ایریل شیرون نے شن بیٹ کے سربراہ ڈچر (Ditcher) سے کہہ دیا کہ شروع ہو جاؤ اور ان سب کو انجام تک پہنچاؤ!

انفرادی حملہ آوروں کو پکڑنا پہلے ہی بے سود ثابت ہو چکا تھا اس لیے ڈچر نے حکمت عملی تبدیل کی اور 2001ء کے آخر میں اسرائیل نے حملوں کے پس پردہ کام کرنے والے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا شروع کیا۔ ایک پلانٹڈ بم یا خود کش حملہ آور ظاہر ہے زنجیر کی آخری کڑی ہوا کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھرتی کرنے والے، کورئیر، ہتھیار مہیا کرنے والے، پیسہ دینے والے اور سہولت کار۔ ۔ ۔ یہ سب ممکنہ اہداف میں تبدیل ہو گئے۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کر دیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے اس سلسلے میں صرف 2001ء میں 84 لوگ قتل کیے گئے، یہ تعداد 2002ء میں بڑھ کر 101 اور 2003ء میں 135 ہو گئی۔ موساد کے بیرونِ ملک آپریشنز کے برعکس اسرائیل کے لیے فلسطین میں ہونے والی کاروائیوں کی ذمہ داری سے انکار کرنا مشکل تھا۔ اسرائیل کے اندر اور باہر ٹارگٹ گلنگز پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں یہ ضرورت بن گئی کہ اسرائیل مقتولین میں سے ایک ایک کی تفصیلات، ان کے جرائم اور ریکارڈ کو سامنے لا کر جواب دینا شروع کرے تا کہ یہ ثابت ہو سکے کہ ان کو نشانہ بنانا لازمی تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی ٹارگٹ کلنگز کی ذمہ داری قبول کرنا اب ایک آفیشل پالیسی کے طور پر لیا جانے لگا، اس سے پہلے اسے سخت نقصان دہ کہا جاتا تھا۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ہر کاروائی کے بعد ایسے بیانات دینا شروع کر دیے۔ شن بیٹ جو اس سے پہلے میڈیا سے بات کرنے سے گریزاں رہتی تھی، اب اس نے ایک ایک دہشتگرد کی ‘ریڈ پیج’ سمری ماہرین اور میڈیا کے اداروں کو جاری کرنا شروع کر دی۔ اسرائیل مکمل طور پر اپنی ابلاغی پالیسی کو ازسرِ نو منظم کے پراپیگنڈہ وار میں تبدیل کر رہا تھا۔ وہ چیزیں کھلے عام میڈیا کو مہیا کی جانے لگی تھیں جو اس سے پہلے سرکاری راز سمجھے جاتے تھے، مخصوص خفیہ معلومات کو عام بلکہ نمایاں کیا جانے لگا جس کے لیے ایک نئی زبان اور محاورے کی ضرورت پیش آئی؛ اس مقصد کے لیے آپریشنز کے دوران سویلین اموات کو ‘حادثاتی موت’ (nezek agavi ) کا نام دیا گیا۔ ‘نشانہ بنانا’ او ر’خاتمہ کرنا’ ایسی اصطلاحات جن سے کسی بھی طور ایک قاتل کا تصور پیدا ہو سکتا تھا، غیر مناسب قرار دے دی گئیں۔ “صدارتی آفس میں ایک سینئر اہلکار نے بتایا۔ حتمی طور پر انہوں نے sikul memukad کا لفظ اپنایا جس کا معنیٰ ‘مخصوص حفاظتی قدامات’ تھا۔ یہ لیپا پوتی عوامی سطح پر کچھ مددگار تو رہی لیکن بہرحال یہ واضح کرنے میں ناکام تھی کہ ان قسم کاروائیوں کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ ظاہر ہے، ‘حادثاتی اموات’ کا نشانہ بننے والے فلسطینی اس حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے کیسے تیار ہو سکتے تھے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور کچھ تجربہ کار اسرائیلی وکلاء کی مدد سے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کاروائیوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ حیران کن طور پر شن بیٹ کے سابق سربراہ ایمی ایالون نے ان کی تائید کی اور کہا کہ شن بیٹ یہ دیکھنے میں ناکام ہو چکی ہے کہ اِس وقت ایک کاروائی کے بین الاقوامی اور سیاسی مضمرات کیا ہوں گے یا مثلاََ ایک خاص وقت پر کسی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا بھڑکتی آگ کے شعلوں کو بجھائے گا یا جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔

31 اکتوبر 2001ء کو آئی ڈی ایف کے ایک ہیلی کاپٹر نے نابلس میں حماس کے سیاسی شعبے کے رُکن اور نجاح یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ لیڈر جمال منصور کے آفس پر کئی میزائل فائر کیے۔ جمال اپنے ایک ساتھی اور دیگر چھے فلسطینیوں سمیت مارا گیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ ایالون نے شین بیٹ کی ہائی کمان سے ملاقات کی اور وہاں ایک بڑے افسر سے پوچھا:

”پاگل تو نہیں ہو گئے؟ تم نے اس شخص کو نشانہ بنایا ہے جو محض دو ہفتے قبل اس بیان کے ساتھ ساتھ سامنے آیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے حملوں کو روکنے کا حامی ہے اور امن عمل کو ایک موقع دینا چاہیے!”

اس پر مذکورہ افسر نے عذر پیش کیا کہ وہ جمال منصور کے اس بیان سے آگاہ نہیں تھا۔ “کیا مطلب تمہیں علم نہیں تھا! ہر فلسطینی اخبار نے اسے چھاپا تھا، ساری دنیا جانتی ہے، تم نہیں جانتے! “ایالون نے ترنت جواب دیا۔ ایالون نے بعد میں بتایا کہ میں نے اسے واضح شیطانیت قرار دیا۔ حنہ ایرندت کو کوٹ کرتے ہوئے اس نے کہا: ” تم قتل کے عادی ہو چکے ہو، انسانی زندگی تمہارے لیے معمولی چیز بن چکی ہے جس کو ختم کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے! تم پندرہ بیس منٹ ایک ٹارگٹ ڈھونڈتے ہو کہ مارنا کسے ہے، پھر اگلے دو تین اس کو ٹارگٹ کرنے کی پلاننگ میں گزرتے ہیں۔ تم اس کے مضمرات سے قطع نظر کر کے ایک تکنیکی کاروائی کے طور پر یہ سب کچھ کر رہے ہو۔ “ابھی تک اسرائیل نے ان کاروائیوں کی اخلاقی حیثیت کی طرف توجہ نہیں کی تھی لیکن اس بات کا احساس ضرور موجود تھا کہ قانونی طور پر اس آپریشن کو تحفظ دینا ضروری ہے تا کہ اس میں شریک افسروں اور جوانوں کو بعد ازاں کسی عدالت کے کٹہرے میں مجرم کے طور پر کھڑا نہ ہونا پڑے۔ دسمبر 2000ء میں آئی ڈی ایف کے چیف شاؤل موفاز نے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل مناحم فینکسٹائن کو طلب کیا اور سیدھے سبھاؤ پوچھ لیا کہ ریاست اسرائیل کے لیے یہ بات قانونی طور پر درست ہو گی کہ وہ کھلے عام دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث افراد کو قتل کرے؟ آیا یہ قانونی ہے یا غیر قانونی؟ فینکسٹائن مبہوت رہ گیا! “جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم ایڈووکیٹ جنرل سے یہ جاننا چاہ رہے ہو کہ ہم کب ماورائے عدالت قتل کر سکتے ہیں!!”

18 جنوری 2001ء کے دن فنکسٹائن نے اس معاملے پر ایک ٹاپ سیکرٹ قانونی رائے وزیر اعظم، چیف آف سٹاف، اس کے نائب اور شین بیٹ کے سربراہ کو پیش کی۔ اس کا آغاز یوں ہوتا تھا: “ہم نے پہلی مرتبہ ایسے اقدامات کا تجزیہ کرنا شروع کیا ہے جو ممنوع ہیں لیکن ہم نے انہیں انجام دینا ہے۔ “مزید کہتا ہے “ہمیں آئی ڈی ایف اور شین بیٹ کی طرف سے ایسے اقدامات کی بارے میں بتایا گیا ہے ان کا مقصد اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ یوں اصولی طور پریہ اقدامات حفاظتِ خود اختیاری یا سیلف ڈیفنس کے تحت آتے ہیں جو تالمود کی ہدایات کے مطابق ہیں؛ “جو تمہیں مارنے آئے، اس سے پہلے تم کھڑے ہو جاؤ اور اسے قتل کر دو!”

پہلی مرتبہ ماورائے عدالت قتل کے لیے قانونی ڈھانچے کو بروئے کار لایا جا رہا تھا۔ فنکسٹائن کے لیے ایک مذہبی شخصیت ہوتے ہوئے یہ خاصا مشکل وقت تھا۔ وہ جانتا تھا کہ تورات کے مطابق خدا نے داؤد علیہ السلام کو ہیکل بنانے سے اس لیے روک دیا تھا کہ ان کے ہاتھوں بہت سوں کا خون ہوا تھا۔ اس نے بتایا کہ میں نے یہ قانونی رائے پیش کی تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ صاف بات تھی کہ یہ محض ایک نظریاتی چیز نہ تھی بلکہ وہ لوگ اس کا استعمال میدانِ عمل کرنے والے تھے۔ ” فنکسٹائن اب ڈسٹرکٹ جج ہے، اگر کبھی اس کو سزا دی جائے تو شاید حیران بھی ہو !

اس قانونی رائے نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین تعلق کو دوبارہ سے ترتیب دے دیا۔ اب یہ محض ‘قانون کے نفاذ’ اور ملزموں کو اس لیے گرفتار کرنے کا معاملہ نہیں رہا تھا کہ وہ مقدمات کا سامنا کر سکیں۔ اس لیگل اوپینئن نے ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی: ‘غیر قانونی مقاتل’ جو مسلح کاروائیوں میں حصہ تو لیتا ہے لیکن معروف معنوں میں ‘سپاہی’ نہیں کہلا سکتا۔ اس اصطلاح کے تحت دہشت گرد تنظیم کے تمام کے تمام لوگ شامل تھے۔ جب تک کوئی تنظیم کا فعال کارکن ہے، اسے ‘لڑنے والا’ یا مقاتل مانا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ اگرچہ وہ اپنے بیڈ پر سو ہی کیوں نہ رہا ہو!

نائن الیون حملوں نے اسرائیل کی اس قسم کی کاروائیوں پر ہونے والی تنقید کو بریک لگا دی! وہ میکانزم جسے چند ہفتے پہلے ساری دنیا مطعون کر رہی تھی، اب ایک قابلِ تقلید نمونے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ سابق شن بیٹ چیف یوول ڈکسن نے بتایا: “گیارہ ستمبر کے حملوں نے ہماری جنگ کو عالمی طور پر قانون کے دائرے کے اندر تسلیم کروا لیا۔ اب ہم مکمل طور اس قابل ہو گئے تھے ان رکاوٹوں کو ایک طرف کر دیں جنہوں نے اب تک ہمیں محدود کیے رکھا تھا۔ ”

دوسرا انتفادہ پھوٹنے سے پہلے موساد اسرائیلی حدود سے باہر اس قسم کے آپریشنز کیا کرتی تھی جس سے چند ایجنٹ اور دو ایک وزراء ہی متعلق ہوا کرتے تھے۔ اب یہ صورتحال پیدا ہوئی کہ عملاََ ایک بڑی ‘قاتل مشین ‘ کو حرکت میں لایا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی شریک تھے۔ آئی ڈی ایف کے سپاہی اور ایئرمین، شین بیٹ، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے والے، ان معلومات کا جائزہ لینے اور ان کو حتمی صورت دینے والے سب شریک تھے اور اکثر اوقات گولی چلانے والوں سے زیادہ اہم حصہ ان کا ہوا کرتا تھا۔ 2002ء کے گرما تک کوئی اسرائیلی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اپنے نام پر کی جانے والی ان تمام سرگرمیوں سے بے خبر ہے! اب یہ کچھ ہی عرصے کی بات تھی جب اسرائیلی فورسز فنکسٹائن کی طے کردہ حدود سے بھی کہیں آگے نکل جاتیں !

عامر ایک نیٹ ورک انٹیلی جنس آفیسر تھا جو یونٹ 8200 میں خدمات انجام دیتا تھا۔ یہ اسرائیلی آئی ڈی ایف کا مایہ ناز یونٹ تھا جہاں معلومات کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ عامر جیسے لوگ یہ فیصلہ کرتے تھے کہ آیا ایک فون کال میں کسی دکاندار کو خریداری کے لیے آرڈر لکھوایا جا رہا ہے یا کسی جہادی کی طرف سے کوڈ کی صورت میں پیغام دیا جا رہا ہے۔ اس ڈیوٹی میں ہونے والی غلطی بے گناہ لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے مثلاََ کوئی بے چارہ دکاندار خوامخواہ نشانہ بنا دیا جائے۔ دفتری ریکارڈ کے مطابق عامر اور اس کا شریک کار یونٹ 8200 پر دہشت گردی کے حملے روکنے کے لیے کام کرتےتھے، درحقیقت وہ فیصلہ کرتے تھے کہ اسرائیل کس کو قتل کرے!

اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یونٹ 8200 کی طرف سے عمارتوں کو اڑانے کی تجاویز بھی دی جاتی تھیں جن پر ظاہر ہے عمل ہوتا تھا۔ اس سے ایک تو فلسطینیوں کو پیغام دینا مقصود ہوتا تھاہوتا تھا اور دوسری طرف یہ اسرائیلی راہنماوں اور فوجیوں کے غصے کااظہار بھی تھا۔ 5 جون 2003ء کو الفتح کے شہدائے الاقصیٰ برگیڈ سے تعلق رکھنے والے دو خود کش حملہ آوروں نے تل ابیب کے بس سٹیشن کا رخ کیا۔ ساڑھے چھے بجے وہ دھماکے سے پھٹ گئے اور ان کے ساتھ 23 لوگ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھےجن میں بہت سے عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ فلسطینی اتھارٹی نے حملے کی مذمت کی اور وعدہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اس سے جو بھی بن پڑا، وہ کرے گی۔ اسرائیلی اس سے مطمئن نہیں ہوئے، شہدائے الاقصیٰ برگیڈ یاسر عرفات کی تنظیم الفتح سے منسلک تھااور فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول اسی کے پاس تھا۔

عامر کا یہ موقف کہ سویلین کو مارنے کا حکم دینا دستوری اصولوں کے خلاف ہے، فوج کی طرف سے صاف رد کر دیا گیا۔ پروفیسر کاشر، ایک فلسفی اور مصنف ہیں جو آئی ڈی ایف کے لیےاخلاقی قواعد و ضوابط کے مصنف ہیں۔ ان کو یونٹ 8200 کے کمانڈر سے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا۔ پروفیسر کا ماننا ہے کہ عامر کا عمل اخلاقی طور پر ہی غلط تھا۔ “میں کسی بھی قسم کے حالات میں این آئی او کے موقف کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

تین گھنٹے کے اندر اندر آئی ڈی ایف کے چیف موشے یالوم نے فیصلہ کیا کہ الفتح کے زیرِ استعمال ایک عمارت پر بمباری کی جائے گی جس کا کوڈ نام 7068 تھا۔ یہ خان یونس شہر میں الفتح کا دفتر تھا، یہ حملہ پہلی بمباریوں کے برعکس وارننگ کے بغیر اور دن کے وقت کیا جانا تھا! یونٹ 8200 میں موجود انٹیلی جنس کے مطابق اس دفتر کادہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ عامر کے بقول یہ ایک لیبر یونین ٹائپ دفتر تھا جہاں فلاحی کام اور تنخواہیں وغیرہ دی جاتی تھیں۔ اگلے دن صبح صبح عامر نے ملٹری انٹیلی جنس کو اطلاع دی کہ بلڈنگ میں کوئی موجود نہیں ہے اور یہ وقت بمباری کے لیے موزوں ہے۔ ٹارگٹ کرنے والے ڈیپارٹمنٹ سے جواب ملا کہ یہ کاروائی ابھی ہولڈ پر ہے اور ہم آفس کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں!”کیا مطلب؟ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟””کسی کا نہیں، یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے، بس جیسے ہی کوئی اندر جائے ہمیں اطلاع دو!”

عامر نے سوچا کہ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ عام لوگوں کی عمارت میں موجودگی حملے سے رکنے کا جواز ہوا کرتی ہے اور آئی ڈی ایف کے قواعدوضوابط میں بھی یہ بات واضح الفاظ میں رقم ہے کہ سپاہیوں کو انسانی جان کے غیر ضروری ضیاع سے بچنا چاہیے اور بنیادی اصولوں کے خلاف احکامات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنانا جس میں موجود لوگوں کا جنگ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ۔ ۔ بیوروکریٹ، صفائی والے، سیکرٹری۔ ۔ ۔ یہ سب اسی کے تحت آتے ہیں اوریہی چیز فنکسٹائن کا 2001ء کا قانونی پرچے کے مقابل کھڑی ہے! سویلین کو نشانہ بنانا صاف صاف جنگی جرم ہے!

عامر کا اندازہ غلط تھا، یہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی!ٹارگٹ ڈیپارٹمنٹ نے تحریری ہدایات دی تھیں کہ انہیں کسی بھی قسم کی آواز کا علم ہونا چاہیے جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ عمارت میں انسان موجود ہیں۔ ارادہ یہ تھا کہ کسی کو مارا جائے۔ ۔ کسی کو بھی ! عامر نے اپنے سینئر کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا، جواب ملا کہ وہ مسئلہ سمجھنے کی کوشش رہے ہیں۔ “اس جواب سے میں کچھ مطمئن ہوا اور واپس اپنی ڈیوٹی پر چلا گی، ہمارا خیال تھا کہ ابھی معاملہ ہمارے ہی ہاتھ میں ہے۔ ”

اگلی صبح عامر ڈیوٹی پر آیا تو اسے ٹارگٹ ڈیپارٹمنٹ سے اطلاع دی گئی کہ خان یونس کی عمارت پر حملہ شروع ہونے کو ہے۔ اس نے اعتراض کیا تو دوسری طرف موجود افسر غصے میں بولا :”تم کس طرح اصولی طور پر اس معاملے کو غلط سمجھ رہے ہو؟وہ سب کے سب عرب ہیں، وہ سب دہشت گرد ہیں!”عامر کا جواب تھا: “ہم اپنے یونٹ میں بڑی واضح تفریق رکھتے تھے؛ایک دہشت گرد۔ ۔ ۔ اوردوسرے وہ لوگ جو ملوث نہیں ہیں۔ وہ لوگ جو روز مرہ کے کاموں کے لیے ایک عمارت میں آتے جاتے ہیں۔ ”

بہرحال اس وقت آپریشن زیرِ عمل تھا۔ دو ایف سولہ طیارے بحرِ اوقیانوس پر اڑان بھرتے ہوئے احکامات کے انتظار میں تھے اور ایک ڈرون فاصلے سے عمارت کی تصاویر لے رہا تھا۔ جب تک عامر کسی اور سے بات کرتا دو ہیل فائر میزائل، فائر ہو چکے ہوتے۔ اس صورتحال میں عامر نے آپریشن آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔ یونٹ 8200 پر ایئر فورس اور ملٹری انٹیلی جنس کی طرف سے دباؤ آنا شروع ہو گیا۔ آپریشنل آرڈر یہ چاہتا تھا کہ بمباری ساڑھے گیارہ تک مکمل ہو۔ یہ پاس میں موجود ایک سکول میں چھٹی کا وقت ہوتا تھا۔ “یہ اصولاََ ایک غلط حکم تھا اور میں نے اسے ماننے کو تیار نہ تھا” عامر نے بتایا۔ “یہ چیز کہ کمانڈر نے ایک حکم کو قانونی قرار دے دیا ہے، اس حکم کو فی الواقع قانون کے دائرے میں نہیں لے آتا!”

چند منٹ بعد عامر کے کے ماتحت نے بتایا کہ الفتح کی عمارت میں فون آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک شخص ادائیگی کے حوالے سے بات کر رہا ہے تا کہ ملازمین کے لیے کچھ رقم مل سکے۔ ایک سکریٹری بھی گفتگو میں مصروف تھا۔ یہ ایک اوکے سگنل تھا۔ اسرائیل ان دونوں کو مار سکتا تھا۔ عامر این آئی او کے طور پر موجود تھا “ایک طمانیت سی میرے اندر تک سرایت کر گئی۔” اس نے یاد کیا “میں نے محسوس کیا کہ اس وقت ایک ہی کرنے کا کام ہے۔ مجھ پر یہ صاف ہر چکا تھا کہ اس آپریشن کو آگے نہیں چلنا چاہیے، اس نے ریڈ لائن کراس کی ہے اور یہ اصولاََ یہ ایک غیر قانونی حکم ہے۔ ۔ ۔ اور بطور سپاہی اور انسان یہ میری ذمہ داری ہے کہ اس کاروائی میں کردار ادا کرنے سے انکار کر دوں۔”

اس شام یونٹ 8200 کی کمان نے ملٹری انٹیلی جنس کو ایک ارجنٹ میسج بھیجا جس میں اس آپریشن کے بارے میں خصوصی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس بات کو وزیر دفاع تک بھی پہنچایا گیا جس نے آپریشن کے کینسل کرنے کا حکم دیا۔ یہ عامر کے اخلاقی موقف کی تائیدِ مزید تھی لیکن یونٹ 8200 پر جو طوفان آ چکا تھا اس کو ٹالنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ یونٹ کےکمانڈر برگیڈیئر جنرل یائر کوہن کو آئی ڈی ایف کی میٹنگ میں طلب کیا گیا اور وہاں عامر کے کورٹ مارشل یا فائرنگ سکواڈ کے حؤالے کیے جانے کی باتیں کی گئیں۔ دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ فکر مند تھی کہ عامر بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایسے اخلاقیات کے مزید ٹھیکیدار بھی فوج کی صفوں میں سامنے آنے لگیں۔ فلسطینی مزاحمت کو کچلنے میں بہرحال اس قسم کے لبرل اعتراضات کی زیادہ گنجائش نہیں تھی!

عامر کا یہ موقف کہ سویلین کو مارنے کا حکم دینا دستوری اصولوں کے خلاف ہے، فوج کی طرف سے صاف رد کر دیا گیا۔ پروفیسر کاشر، ایک فلسفی اور مصنف ہیں جو آئی ڈی ایف کے لیےاخلاقی قواعد و ضوابط کے مصنف ہیں۔ ان کو یونٹ 8200 کے کمانڈر سے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا۔ پروفیسر کا ماننا ہے کہ عامر کا عمل اخلاقی طور پر ہی غلط تھا۔ “میں کسی بھی قسم کے حالات میں این آئی او کے موقف کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ ایسے ایک دور دراز کے فوجی اڈے پر بیٹھے اس کے پاس یہ اخلاقی اتھارٹی ہی نہیں تھی کہ وہ کسی حکم کےاخلاقی طور پر درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کر سکے۔ عامر کو خاموشی سے گھر بھیج دیا گیا اور عدالتوں کو یہ طے کرنے سے روک دیا گیا کہ سویلین کو مارنے کا حکم دینا قانونی ہے یا غیر قانونی!

آئی ڈی ایف کے ایڈووکیٹ جنرل فنکسٹائن کی ہدایات کے تحت دہشت گردی سے براہ راست منسلک شخص ہی کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا لیکن خان یونس آپریشن میں کئی واضح خلاف ورزی کی گئی تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ محض اسی ضابطے کو توڑا گیا، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں تھا۔ ایک انکوائری بھی ہوئی کہ کیسے ہر دفعہ اصل لوگوں کے ساتھ معصوم عوام کا قتل بھی کیا گیا۔ ایک اور نے کہا گرفتاری کا امکان موجود ہو تو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ایک فوجی ایلن کیسٹل نے مجھے بتایا کہ انتفادہ کے بعد ہماری فوجی خدمات بالکل تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے پہلے اگر ممکن ہوتا تو ہم ٹارگٹ کو زندہ پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ چیز ختم ہو گئی! اب یہ واضح ہوتا تھا کہ ہم قتل ہی کرنے جا رہے ہیں۔ 2002ء کے موسمِ گرما تک شن بیٹ اور دیگر ادارے اسی فیصد کاروائیوں کو مکمل ہونے سے پہلے پکڑ رہے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ واضح طور پر زندگیاں بچا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اعداد و شمار ایک غلط سمت کی نشاندہی بھی کر رہے تھے؛ حملوں کی کوششیں بڑھتی چلی جا رہی تھیں! بجائے اس کے کہ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں گھنٹے ٹیک دیں، اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں الٹا حملہ آوروں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

14 جنوری 2004ء کو ایک 21 سالہ فلسطینی خاتون نے ایرز کراسنگ سے اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ جب وہ میٹل ڈیٹیکٹر سے گزری تو ڈیٹیکٹر نے الارم دیا، خاتون نے گارڈز کو اپنی ٹانگ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ سرجری کی وجہ سے ہے۔ اسے دوبارہ ڈیٹیکٹر سے گزارا گیا، آواز برقرار رہی۔ اب ایک خاتون گارڈ کو اس کی چیکنگ کے لیے بلایا گیا جس پر خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ چار محافظ ہلاک اور دس دیگر زخمی ہوئے۔

خاتون کا نام ریم صالح ریاشی تھا۔ وہ دو بچوں کی ماں تھی۔ اگلے دن حماس کے سربراہ شیخ احمد یاسین نے ایک پریس کانفرنس طلب کی اور پہلی مرتبہ کہا کہ انہوں نے مرد کے بجائے خاتون حملہ آور کا استعمال کیا ہے۔ یہ ایک نئی پیش رفت تھی۔ شیخ اس سے پہلے اس قسم کی کاروائیوں میں خواتین کی شرکت کے خلاف کئی فتاویٰ جاری کر چکے تھے لیکن اس دفعہ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا ذہن تبدیل کر چکے ہیں اور جہاد مرد و خواتین پر برابر کا فرض عائد کرتا ہے۔ شیخ کے الفاظ تھے :”یہ ایک ثبوت ہے کہ ہماری جدوجہد تب تک جاری رہےگی جب تک دشمن ہماری زمین سے نہیں نکل جاتا۔ “یہ بات اسرائیلی حکومت کی ہٹ لسٹ پر آنے کے لیے کافی تھی۔ ایریل شیرون نے عوامی اجتماعات میں شیخ کو نشانہ بنانے کے اشارے دینا شروع کر دیے۔ نتیجے میں سے شیخ کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

حماس کے بانی شیخ احمد یاسین غزہ میں رہائش پذیر تھے۔ اب وہ اپنے گھر تک محدودہو چکے تھے جہاں سے ان کی نقل و حرکت مسجد یا زیادہ سے زیادہ اپنی بہن کے گھر تک ہواتھی۔ فلسطینیوں کا خیال تھا کہ اسرائیلی عوامی مقامات کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانے سے گریز کرے گا۔ اب ایریل شیرون نے پبلک میں ایسے اشارے دینے شروع کر دیے تھے کہ وہ احمد یاسین کو نشانہ بنانے والے ہیں۔ 21 مارچ کو شاؤل موفاز نے احکامات جاری کیے کہ شیخ کو مسجد سے واپسی پر نشانہ بنایا جائے۔ احمد یاسین تین گاڑیوں کی فارمیشن میں سفر کرتے تھے جن میں سے ایک وہیل چیئر کے لیے سیٹ کی گئی تھی۔ ڈرون اور ہیلی کاپٹر فضا میں آئے تو شیخ کے بیٹے عبدالحمید نے آوازیں سن کو خطرہ محسوس کیا اور دوڑتا ہوا مسجد پہنچا۔ اس اطلاع پر شیخ نے مسجد ہی میں مزید رکنے کا فیصلہ کیا۔ صبح کی نماز کے بعد شیخ نے حتمی طور پر گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ سب کا خیال تھا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ خطرہ البتہ موجود تھا۔ ڈرون طیارے تھرمل امیجنگ کے ذریعے سب دکھا رہے تھے اور ہیلی کاپٹرز بھی وہیں تھے۔ موفاز نے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے بات کرنے کی درخواست کی اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ واضح طور پر وہیل چیئر کو دیکھ سکتا ہے۔ جواب میں پائلٹ نے کہا کہ وہ اس کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ سکرین پر ایک دو سیکنڈ کا جھپکا ہوا اور وہیل چیئر کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے۔ لوگ پناہ کے لیے ادھر ادھر چھپ رہے تھے۔

کچھ ہی دن بعد اسرائیل نے شیخ احمد یاسین کے جانشین عبدالعزیز الرنتیسی کو بھی یوں ہی ایک پرہجوم راستے پر نشانہ بنایا۔ اس کےبعد چند ہفتوں کے اندر اندر مصر کی ثالثی میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔ ایریل شیرون کی ‘مرکوز ٹارگٹ کلنک’ کی پالیسی کا شکریہ جس کی بدولت یہ ثابت ہو گیا کہ بظاہر ایک غیر مصالحت پسند دہشت گرد گروہ بھی راہنماؤں اور آپریشنل کمانڈروں کو نشانہ بنانے سے گھٹنوں پر لایا جا سکتاہے۔

البتہ ٹارگٹ گلنگ کا یہ سلسلہ معصوم فلسطینی لوگوں پر خاصا بھاری رہا جو اس سب میں ”اتفاقی نقصان” کے طور پر نشانہ بنتے چلے گئے۔ سینکڑوں فلسطینی مارے گئے اور ہزاروں معذور ہو گئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ شن بیٹ کے ایک آفیسر نے بتایا:”ماضی میں یہ سب بڑی رازداری اور قانون کے دائرے سے الگ ہوتا تھا اس لیے ہم چند ہی لوگوں کو نشانہ بناتے تھے جس کا معیار یہ ہوتا تھا کہ ظاہر(Expose) ہوئے بغیر کتنا کیا جا سکتا ہے۔ اب جب آئی ڈی ایف کے ایڈووکیٹ جنرل نے قانونی طور پر اس کو جائز قرار دلوا یا تو یہ خفیہ سے ظاہری آپریشن میں تبدیل ہو گیا اور ہم نے اس قسم کے قتل کے لیے ایک بڑی تعداد میں لوگ لینے شروع کر دیے۔ اب ہم زیادہ بہترطور پر سمجھتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں عام لوگوں کی ہلاکتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں!”

قتل کرنے کا آپشن انگلی کے اشارے پر میسر ہو تو بات چیت کون کرتا ہے؟ یہی اسرائیلی راہنماؤں کا معاملہ ہو چکا ہے جو بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال پسند کرتےہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کی مہم کے ذریعے اسرائیل کو جنگی اہداف کےحصول میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن مجموعی اعتبار سے یہ ایک شکست تھی جس نے اسرائیل کو دنیا نظر میں اور بھی غیر قانونی اور غیراہم بنا کر رکھ دیا۔
داؤد ایک بار پھر جالوت کا رویہ اختیار کر چکا تھا!

نیویارک ٹائمز کا لنک:
https://foreignpolicy.com/2018/02/03/how-israel -won-the-war-against-suicide-bombers-but-lost-its-moral-compass-ronen-bergman/

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: