جستجو ایک لفظ کی : حنین —— عبدالرحمان قدیر

0
  • 23
    Shares

کبھی کبھی کچھ ایسے حقیقی یا غیر حقیقی واقعات، اشیاء، لوگ یا مقامات انسان کی زندگی یا دماغ میں ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں جو کہ دماغ کے گہرے ترین کونوں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور جیسے ہی اس کے متعلق کسی بھی شے حتی کہ اس سے جڑے ایک لفظ سے بھی سامنا ہو تو ایک بے وجہ سی اداسی کی گھٹائیں انسانی کے سر پر منڈلانا شروع کر دیتی ہیں جو کہ کالی ہوتی ہیں نہ اور نہ ہی نور بردار۔ بس کچھ ملی جلی ناقابلِ بیان احساسات پر مشتمل۔

بے وجہ اداسی کو تو خیر انگریزی میں melancholy کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر جب یہی اداسی وقت کے کسی خاص حصے سے جڑی ہو تو اسے nostalgia کا نام دیا جاتا ہے۔ میں اس احساس سے تو شاید اس دن سے واقف تھا کہ جس دن ہوش سنبھالا، مگر اس احساس کو کیا نام دوں، اسے کے بارے میں بالکل بے بہرہ تھا۔ اس لفظ کا پتہ مجھے قریب کوئی تین یا چار سال پہلے پتہ چلا جب مشہورِ زمانہ سیریز The Vampire Diaries دیکھنا شروع کیا تو کافی بار subtitles میں یہ لفظ لکھا دیکھا۔ سوچا کیوں نہ گوگل سے دیکھ لیا جائے۔ تب ہی جا کر اس لفظ کا مفہوم سمجھ آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچپن کے کھلونوں کے ساتھ حد درجہ لگاؤ، سکول کی زندگی کا شدت سے یاد آنا اور دیگر ایسی ہی چیزوں کی گتھی آنکھوں کے سامنے سلجھنے لگی۔

اور اگر کہا جائے کہ اس احساس سے ہر انسان آشنا ہے تو بعید نہ ہوگا۔ جب ہم کہیں سوشل میڈیا پر 90s kids سے متعلق کوئی پوسٹ دیکھتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی احساس ہوتا ہے۔ ایک مجاہد یا جنگجو کے دل میں اپنے آباء کی فتح کے بارے میں ناسٹالجیا، تمام عمر سکول کے دوست اور سکول کی یادیں، بچپن میں کزنز کے ساتھ شرارتوں میں گزارے دن، اور اکثر محبت میں دیکھے خواب اور ایسی غیر حقیقی یادیں بھی جو ہمارے اپنے تخیل کی تخلیق ہوں، ہمیں انکی یاد اداس کر جاتی ہے۔ ان یادوں سے جڑا کوئی پارک میں پڑا بینچ، کتاب میں پڑا کسی کا دیا پھول، گھر کے سٹورروم میں پڑی ٹوٹی بچوں والی سائیکل، سکول کے کھیل کے میدان میں لگا درخت، یا اس پر بوتل کی کرچی سے لکھا کسی کا نام، یہ چیزیں جیسے ہی سامنے آئیں، ایک شدید سا احساس بلکہ احساسات کا سمندر قلب و ذہن میں امڈ آئے گا، اسی کا نام ناسٹالجیا ہے۔

لفظ تو مل چکا تھا۔ اور پھر اکثر میں سوشل میڈیا پر تصویریں لگا کر ساتھ کیپشن میں صرف یہی ایک لفظ لکھ دیا کرتا تھا، حتٰی کہ دوست بھی کہنے لگے، “انگریزی کا صرف ایک ہی لفظ آتا ہے؟”۔ تاہم، اردو میں اس لفظ کا کوئی مساوی/مترادف لفظ نا ہی گوگل پر ملا، نہ کسی لغت میں۔ اردو رسم الخط میں انگریزی رسم الخط کی ملاوٹ کرنا اردو کے ساتھ نا انصافی محسوس ہوتی جبکہ اردو میں ناسٹالجیا لکھنا اتنا ہی عجیب لگتا ہے جتنا ابھی پڑھنا لگ رہا ہے۔ کہیں سے بھی معقول اور مترادف اردو لفظ نہ مل سکا۔ پھر سوچا کہ اردو بذاتِ خود بنیادی طور پر عربی اور فارسی کا مرکب ہے۔ اور یہ بھی سن رکھا تھا کہ اپنے رسم الخط کی زبانوں کو فراخ دلی سے قبول کرتی ہے۔ اسی لیے فارسی اور عربی لغت کی طرف رجوع کیا۔ فارسی میں تو خیر قریب ترین معنی جو ملا وہ “احساسِ غربت” تھا جو home sickness کے مترادف ہے۔ عربی میں کچھ چھان بین کے بعد مکمل مستند مترادف مل گیا۔ اور وہ لفظ ہے “حَنِین” انگریزی میں اسکا تلفظ haneen پڑھا جائیگا۔ تمام دوستوں اور قارئین سے گزارش ہے کہ اب لفظِ ناسٹالجیا کو اگر اْردو میں لکھیں تو حنین ہی لکھیں۔ اور اپنی زبان کی ترقی اور پرورش کے سفر میں اپنے حصّے کا دیا جلاتے جائیں۔

یہاں “لشکرِ آسان اردو” کو اعتراض درپیش ہو سکتا ہے۔ مگر دیکھیے، انگریزی تو ہم مشکل سے مشکل سیکھنا چاہتے ہیں کہ ہر ایک سے ممتاز نظر آئیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کہیں کہ “واووو اسکی انگلش بہت rich ہے۔ سووو گریٹٹٹ” مگر اردو کی بات آئے تو ہر خوبصورت اور جامع لفظ پر برہم نظر آتے ہیں اور اسے اردو کی تنزلی کا ملزم ٹھہراتے ہیں۔ تو یہ بات صرف سوچ میں ہے، اور اس سوچ کا منبع یا تو احساسِ کمتری ہو سکتا ہے یا نرگسیت۔ مگر اس منطق کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ یقین کیجیے، فصاحت و بلاغت کے ساتھ اردو کو قبول کریں تو اس سے شائیستہ تر زبان کوئی اور نہیں لگے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: