گدھا، گھوڑا اور لیڈر ——– فرحان کامرانی

0
  • 148
    Shares

جارج اورویل نے دو ناول کمال کے لکھے۔ 1984اور اینیمل فارم۔ مگر اس کی یہ دونوں ہی تخلیقات اتنی عظیم ہیں کہ دنیائے ادب میں اس کا نام ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ یہ اورویل کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کا تخلیق کردہ ادب اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی دنیا کے لئے اتنا متعلق، اتنا اہم ہے۔ اورویل کے دونوں ہی ناول طویل نہیں ہیں۔ اینیمل فارم تو بہت چھوٹا سا ناول ہے مگر اینیمل فارم ایسا ناول ہے کہ اس کا پاکستان کی ہر زبان میں ترجمہ کر کے سب کو بار بار پڑھایا جانا چاہیے مگر ایسا کیا ہے اس ناول میں؟ ایک جانوروں کا باڑا تھا جہاں گدھے، گھوڑے، بیل، سور وغیرہ پلے ہوئے تھے۔ سب جانور باڑے کے مالک، یعنی انسان کے ظلم و جبر سے تنگ تھے۔ جانور انقلابی تحریک چلاتے ہیں اور انسان کو مار بھگاتے ہیں۔ یعنی عرف عام میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو ہٹا کر نئی طاقت اقتدار میں آ جاتی ہے،اب اس باڑے کی دیوار پر یہ سنہری جملہ لکھ دیا جاتا ہے: ’’ All animals are equal‘‘
یعنی سب جانور برابر ہیں مگر پھر رفتہ رفتہ گدھوں، گھوڑوں اور دیگر جانوروں پر سور اپنی فطری کمینگی کے باعث غالب آ جاتے ہیں، اب ظلم و جبر اس سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے کہ جتنا انسان کے دور اقتدار میں تھا۔ آئین میں ایک حسین سطر کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

’’All animals are equal but some animals are more equal‘‘

یعنی سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں، بس سمجھ لیجئے کہ یہ بڑی حد تک عالمی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ جو قوت ظلم و جبر کو مٹانے آتی ہے، بعد میں وہ ویسی ہی جابر و ظالم قوت بن جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ جب لیبیا میں شہنشاہ سنیوسی کو اقتدار سے ہٹا کر کرنل قذافی اقتدار میں آیا تھا تب لوگوں نے جشن منایا تھا کہ جبر کا دور ختم ہوا۔ جب روس میں رومانوف شاہ کو اقتدار سے دستبردار کرایا گیا تھا تب بھی عوام سمجھے تھے کہ اب برابری اور اور آزادی کا دور شروع۔ صدام کی حکومت کے خاتمے پر بھی ایک طبقہ بڑا ناچا تھا کہ اب بس جمہوریت اور آزادی کا سورج طلوع۔ مگر جو بھی لوگ آزادی، برابری، مساوات یا دیگر نعروں کو استعمال کر کے اقتدار میں آتے ہیں وہ کرتے کیا ہیں اور دیتے کیا ہیں؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ خود شاہی کا رتبہ اختیار کر لیتے ہیں اور ان کی اپنی نسلیں سنور جاتی ہیں جب کہ اکثریت بس دھکے اور ذلتیں ہی کھاتی رہ جاتی ہے۔ کیونکہ بقول اورویل، سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں۔ ہم اور آپ وہی جانور ہیں جو زیادہ برابر ہیں۔ روس میں جو لوگ زار کو ہٹا کر حاکم بنے تھے وہ کتنے جابر تھے، سب جانتے ہیں مگر اس اشتراکی انتظام کو ہٹا کر جو لوگ جمہوریت کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے (بورس یلسن اور پوٹن وغیرہ) انہوں نے کون سی جمہوریت سے دی؟

آپ دنیا کا کوئی بھی نعرہ لگا دیجئے؟ اچھے سے اچھا منشور دیجئے، انقلاب لائیے یا جمہوریت سے اقتدار میں آئیے، آخر میں ہو گا وہی جو اینیمل فارم میں ہوا۔ اقتدار چند ہاتھوں میں گھومتا رہتا ہے اور وہ ہاتھ سب سے قوی سب سے طاقتور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ رابرٹ موگابے کے انقلاب کے بعد کیا ہوا؟ اور جنہوں نے اسے ہٹایا وہ کیا کر رہے ہیں؟ کرنل معمر القذافی کو ہٹانے کے بعد ابھی لیبیا کے مقتدر مارشل خلیفہ حفطر کے رویوں میں کون سی جمہوریت ہے؟ انگریز کے برصغیر سے جانے کے بعد سے اس خطے میں قائم تینوں ملکوں کے حکمران طبقات کے استحصال میں انگریز کے استحصال سے فرق کیا ہے؟ تب برصغیر کی دولت برطانیہ جاتی تھی اب سوئٹزر لینڈ اور پاناما جاتی ہے۔

آکسفیم (Oxfarm) کے 2017ء کے سروے کے مطابق دنیا کی دولت کا 82 فیصد صرف 1 فیصد افراد کے پاس ہے۔ باقی سارے انسان، یعنی 99 فیصد اس دنیا کے باسی صرف و محض 12 فیصد دولت کے مالک ہیں۔ مگر یہ ایک فیصد کون ہیں؟ دنیا کے شاہی خاندان، کئی نسلوں تک اقتدار میں رہنے والے سیاست دان خاندان، بڑے بڑے سرمایہ دار، بدعنوان فوجی جنرل، والٹائر نے کہا تھا کہ ہر عظیم دولت کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے۔ یہ 99 فیصد غریب و متوسط طبقے کے لوگ اگر کبھی اس ایک فیصد طبقے کے خلاف اٹھے ہیں تو انہی میں سے کسی نے اس ایک فیصد کی دولت، طاقت پر قبضہ کر کے اسی کا کردار اور شدت سے اختیار کیا ہے اور بس۔ یہ وہی تاریخی سبق ہے کہ جس کے سیکھ لینے کے بعد انسان دنیا کے نظام کو سمجھ جاتا ہے۔

پھر رضا شاہ، خامنہ ای، صدام، مالکی، اوباما، ٹرمپ، نواز شریف، عمران خان، واجپائی، من موہن سنگھ صرف نام ہیں۔ ورنہ حقیقت میں ان سب میں کوئی فرق نہیں۔ طاقتور کو ظلم کرنا کوئی اور نہیں، اس کی طاقت سکھا دیتی ہے۔ کیونکہ طاقت خود بڑی ظالم استاد ہے۔ پھر بیوقوف عوام ہیں جو تبدیلی کے خواب دیکھتے ہیں اور تبدیلی پر رقص کرتے ہیں، امیدیں باندھ لیتے ہیں، خواب دیکھنے لگتے ہیں، خوش ہو جاتے ہیں، لڑتے ہیں اور مر جاتے ہیں، اس لئے کہ:

’’All animals are equal but some animals are more equal‘‘

یعنی
روک سکو تو روک لو، تبدیلی آئی ہے
تبدیلی آئی ہے
تبدیلی آئی ہے
چلو میاں منگو کوچوان، ہوش میں آو! تمہارے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: