فلسفئہ ناکامی —— محمد یحییٰ

0
  • 18
    Shares

ابتدائے آفرینش سے انسان خواہشات، تمناؤں، آرزوؤں کا مجسمہ ہے۔ وہ سارے جہاں کو اپنے تصرف میں لینا چاہتا ہے، ہر خوبصورت چیز کو اپنا بنانا اور ہر قیمتی چیز کا مالک بننا چاہتا ہے بلکہ مثل پارس چاہتا ہے کہ جس چیز کو بھی ہاتھ لگائے وہ سونا بن جائے۔ الغرض خواہشات کا ایک نہ رکنے والا سیلاب ہے اور حدیث کی رو سے، ”انسان کے منہ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے” (متفق علیہ)۔ یعنی اس کی خواہشات کو صرف موت ہی لگام دے سکتی ہے۔

اس حدیث میں خواہشات کی مکمل نفی نہیں کی گئی بلکہ یہاں نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دینا مقصود ہے۔ خواہشات کا ابھرنا تو فطری امر ہے اور خوب سے خوب تر کی جستجو و آرزو ہی ترقی و کامیابی کے لئے مہمیز و محرک ہیں۔ جائز خواہشات کی تکمیل اور کامیابی کی تمنا کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ ہر شخص فطری طور پر کامیابی کا متمنی ہے۔ ناکامی تو ناکامی، شکست خوردہ انسان کو بھی کوئی گلے لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتا لیکن جب جدوجہد اور عملی کوشش کی بات کی جائے تو کامیابی کے عملی اقدامات بہت کم افراد کرتے ہیں۔ اکثر بلاسعی و عمل ہی کامیابی کے آرزومند ہوتے ہیں اور اپنے قدم تو درکنار اپنی پلکوں تک کو جنبش دیئے بغیر عنقاء پرندے ہما کے منتظر رہتے ہیں اور کامیابی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ وہ قرآن مجید میں بیان کردہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں : اور بے شک انسان کو وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جس کی وہ کوشش کرے (النجم:٣٩)۔ دارالعمل میں کامیابی رنگین خیالات، تخیل، سہانے خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ عمل، جدوجہد اور کوشش سے ملتی ہے۔ بقول شاعر

ہے عمل لازم تکمیل تمنا کے لئے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خواہشات کے اس سیلاب کو عملی دھارے کا رخ دیا جائے۔ جب کسی کام کی ابتداء مقصود ہو تو پہلے اچھی طرح اس کے عملی خاکہ، عواقب و نتائج پر غور و فکر کر لیا جائے اور بہتر ہے کہ استخارہ بھی کر لے۔ استخارہ کے معنی ہی بھلائی طلب کرنا ہے۔ لہذا اگر کوئی اہم کام شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرتا ہے تو اگر اس کام میں انسان کے لئے بھلائی ہے تو اللہ رب العزت اس کام کو آسان بنا دیتا ہے اور ایسے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں جن کی مدد سے وہ کام پایہ تکمیل پہنچ جائے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: فسنیسرہ للیسری: اس کو ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے۔ (اللیل: ٧) یعنی بھلائی اور اچھائی کے راستے پر چلنا اس کے لئے آسان بنا دیں گے اور اس کے لئے اچھے کام ہی آسان بنا دیئے جائیں گے۔ اگر وہ کام دنیا و آخرت کے خسارہ کا باعث ہے تو اس کام میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اس طرح اس کام کو نہ کرنے کا خیال اس کے دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔

جب ایک بار کام کے عواقب و نتائج سے بہرہ مند ہو گئے اور جان لیا کہ وہ ناممکن العمل نہیں یعنی آسمان سے تارے توڑنے کے مترادف نہیں اور انسانی بساط میں ممکن ہے پھر خواہ چاند پر جانے ہی کا کام کیوں نہ ہو اور وہ اپنی قوت، طاقت، استطاعت، صلاحیت، قابلیت، لیاقت، دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کام کا ارادہ کر چکا ہے تو پھر کسی بھی طور پیچھے مڑکر نہ دیکھے۔ نہ ہی ناکامی کے خوف سے اپنی جدوجہد ترک کرے بلکہ ناکامی کا شائبہ تک دل میں نہ لائے۔ بہترین منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بعد دلچسپی، لگن، دلجمعی، یکسوئی اور خلوص کے ساتھ سخت کوشش و محنت کرے اور نتیجہ اللہ رب العزت پر چھوڑ دے۔ اس عمل سے اس کے اعتماد میں اضافہ اور کام میں حسن و نکھار پیدا ہو گا۔ قابل تعریف ہیں وہ افراد جو خواب دیکھنے کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ خالی بیٹھنے کے بجائے دوسروں کی خاطر کام کرنا پسند کرتے ہیں جیسے شہد کی مکھی جو ہمہ وقت دوسروں کو شہد کی مٹھاس و چاشنی دینے کے لئے مصروف عمل رہتی ہے اور اللہ رب العزت نے اسے یہ اعزاز بخشا کہ قرآن مجید کی ایک سورت اس کے نام سے موسوم کر دی۔

نتائج :
انسانی کوشش کے نتائج کی تین صورتیں ہیں۔ مکمل کامیابی، جزوی کامیابی اور ناکامی۔ اگر سوچ مثبت ہو تو تینوں صورتیں ہی سود مند ہیں۔

مکمل کامیابی: کامیابی تو بہر کیف ہے ہی کامیابی کہ انسان نے اپنی منزل مقصود حاصل کر لی۔

جزوی کامیابی: بعض اوقات انسان کو مکمل کامیابی کے بجائے جزوی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ آدھا گلاس بھرے ہونے کی صورت میں مثبت سوچ رکھنے والا غم کے بجائے خوشی کا اظہار کرے گا۔ جیسا کہ انگریزی محاورہ ہے (Half a loaf is better than none)” بالکل نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے”۔

مکمل ناکامی: بہترین منصوبہ بندی اور کوشش کے باوجود بھی اگر ناکامی ہوئی تو اس کا افسوس نہیں کرنا چاہئے اور انسان کو اپنی سوچ مثبت رکھنی چاہئے۔ کیونکہ مقابلہ کرنے والا ہی کامیاب اور ناکام ہوتا ہے۔ شہسواری کرنے والا ہی گھوڑے سے گرتا ہے ورنہ گھٹنوں کے بل چلنے والا شیر خوار طفل کہاں گرے گا۔

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے گا

فلسفہ ناکامی:
خواہ معاملات انفرادی ہوں یا اجتماعی ناکامی اسباب اور وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ ذہنی اضمحلال، قوت فیصلہ کے فقدان اور جذبات کی کمی سے واقع ہوتی ہے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کا صرف اور صرف ایک ہی نتیجہ ہے ناکامی، ذلت و رسوائی۔ تاریخ میں کامیاب اور ناکام دونوں کرداروں کی بے شمار مثالیں ہیں جب کوئی قوم لڑائی اور نقصان کے خوف سے بغیر لڑے جنگ ہار گئی اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوئی یا قلیل فوج نے ساز و سامان کی پرواہ کئے بغیر بڑی فوج کو ہزیمت اور شکست سے دوچار کیا۔

طارق بن زیاد نے کشتیاں جلانے، فرار کے راستے مسدود کرنے اور ناکامی کا خوف اپنی فوج کے دل سے نکالنے کے بعدجب اندلس پر بغیر ساز و سامان بارہ ہزار کی قلیل فوج کے ساتھ حملہ کیا تو زنگ آلود تلواروں والی قلیل فوج نے دیار غیر میں بہادری کی وہ لازوال داستانیں رقم کیں اور اس بے جگری سے دشمن پر وار کیا کہ ایک لاکھ مسلح دشمن کی فوج ان کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور میدان بدر ہو گئی۔ یہ ٹوٹی تلوار والے ایک لاکھ کے مسلح لشکر پر غالب آ گئے۔

کپڑوں پر پیوند لگے ہیں تلواریں بھی ٹوٹی ہیں
پھر بھی دشمن کانپ رہے ہیں آخر لشکر کس کا ہے

زخموں کے نشان بدن پر سجانے والے مجاہدین جنہوں نے میدان جنگ میں دشمنوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا، اگریہ شکست بھی کھا جاتے تو بھی انہیں مورد الزام نہ ٹھہرایا جاتا کیونکہ انہوں نے جس ہمت و جرأت کا مظاہرہ کیا وہ بہرحال قابل قدر و ستائش تھا۔ اس کے برخلاف پرتعیش محلوں کے وہ باسی جنہوں نے مقابلے کی ہی ہمت ہی نہ کی اور بغیر جنگ لڑے اپنا مال، جان اور عزت دشمن کے حوالے کر دی۔ جیسا کہ خلیفہ مستعصم جس نے تین لاکھ کی فوج اور جلال الدین خوارزم کی دعوت کے باجود صرف اس خوف سے تاتاریوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لیا کہ شکست کی صورت میں بغداد کو نقصان پہنچے گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ بالآخر ہلاکو خان نے اردگرد کے تمام مسلم علاقوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد بغداد پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ اسے مکمل تباہ و برباد کر دیا اور بیس لاکھ کی آبادی والے شہر سے صرف چار لاکھ افراد ہی زندہ فرار ہو سکے، خلیفہ وقت بھی مارے جانے والے لوگوں میں شامل تھا اور کئی دن تک دجلہ فرات میں پانی کی بجائے لاکھوں مسلمانوں کا خون اور لاکھوں نادر و نایاب کتابوں کی سیاہی بہتی رہی۔ اور ان کی مثال اس شخص کی طرح تھی جس نے آگ لگ جانے کے بعد اس خوف سے ہاتھ پاؤں تک نہ مارے کہ باوجود کوشش وہ جل کر مر جائے گا۔ تو یقینا اس ہلاکت کا سبب اس کی اپنی کوتاہی اور سستی ہے۔

کتنے معصوم ہیں انساں کہ جل جاتے ہیں
اپنی کوتاہی کو دے کر غم و آلام کا نام

ناکامی پر افسوس!
عظیم اورکامیاب ترین افراد کی بھی ہر کوشش کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کوئی عظمت کی دلیل نہیں کہ کوئی شخص کبھی ناکام ہی نہیں ہوا بلکہ ناکامی کے بعد مشکلات اور نامصائب حالات کا سامنا کرتے ہوئے کوئی شخص جس انداز سے جرات، بہادری اور حوصلہ سے مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے وہ عظمت کی دلیل ہے۔ اسی کے بارے میں کنفیوشس(Confucius) کا مشہور قول ہے:

Our greatest glory is not, in never falling but in rising every time we fall.

ہماری عظمت اس میں نہیں کہ ہم کبھی نہ گریں بلکہ گر کر ہر بار (پہلے سے بھی زیادہ) بلند ہونے میں ہے۔

بعض اوقات ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جیسا کہ مشہور سائنسدان اور موجد تھامس ایڈیسن (1847) کا شہرہ آفاق قو ل ہے کہ بلب کی ایجاد سے پہلے مجھے تقریباً تین سو بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن اس سے میں نے تین سو ایسے طریقے بھی دریافت کئے جن سے بلب نہیں بنتے اور اسی وجہ سے وہ صرف ایک بلب کی ایجاد تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے اپنی زندگی میں تیرہ سو ایجادات رجسٹرڈ کرائیں اور آنے والوں کے لئے کئی ایسے راستے روشن کر گیا جن کے مرہون منت ہی آج سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی ممکن ہوئی۔

لہذا اگر محنت و جدوجہد اور بہترین حکمت عملی کے باوجود بھی شکست ہو جائے تو پھر ناکامی پر افسوس و ندامت نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کسی بھی کام کے نتائج کے اظہار کی دو صورتیں ہیں۔ دنیاوی اور اخروی، عارضی اور قطعی، وقتی اور ابدی۔ اس وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ :

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر ضائع نہیں کرتا (التوبۃ:١٢٠)۔ اور حدیث مبارکہ : ” مومن کا معاملہ حیرت انگیز ہے۔ اس کے ہر معاملے میں خیر و بھلائی ہے۔ ایسا مومن کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ رب کا شکر ادا کرتا جس میں اس کے لئے بھلائی ہے اور اگر اس کو کوئی نقصان (ناکامی) پہنچے تو اس پر وہ صبر کرتا ہے جس میں اس کے لئے بھلائی ہے۔ ” (مسلم)۔

اس طرح مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ صحت و مرض، غناء و فقر، کامیابی و ناکامی، خوشی و غم اور نفع و نقصان الغرض زندگی کے تمام احوال میں وہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کی رضا حاصل کرتا ہے جو مومن کی زندگی کا مقصد حقیقی و نصب العین ہے۔

دنیاوی اعتبار سے بھی ناکامی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ انسان اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا ادراک کر لیتا ہے۔ غلطی جان لینے کے بعد اسے دہرانا یہ مومن کی شان کے خلاف ہے۔ یعنی مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ وہ نہ صرف اپنی غلطیوں بلکہ دوسروں کی غلطیوں سے بھی سبق سیکھتا ہے اور ان کا تدارک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ثانیاً وہ یہ بات جان لیتا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ جس کی تلاش میں کچھ دوسری راہیں اس پر روشن ہو جاتی ہیں جو انسان کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتی ہیں۔ جب وہ ایک نئے عزم کے ساتھ دوبارہ کوشش کرے گا تو کم از کم ان غلطیوں کو نہیں دہرائے گا جن کی وجہ سے اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال انسان کو کبھی بھی مایوس، مضمحل، پرمژدہ نہ ہونا چاہئے۔

نہ ہو مضمحل میرے ہم سفر، تجھے شاید نہیں اس کی خبر
ان ہی ظلمتوں کے دوش پر ابھی کاروان سحر بھی ہے

عظیم مقاصد کے حامل افراد اگر اپنے مقصد عظیم میں کامیاب نہ بھی ہوں تو چھوٹے چھوٹے کئی فوائد ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔ مثلاً پھل دار درخت لگانے والا اگر اس درخت سے  پھل نہ بھی حاصل کر پائے پھر بھی اس کے سایہ سے محروم نہ ہو گا اور ماحولیاتی آلودگی میں ضرور کمی کا باعث بنے گا۔ یا علم کی فضیلت جاننے والا اگر علم کی بڑی بڑی قندیلیں روشن کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لئے اپنی مکمل زندگی صرف کر دے اگر اس میں اسے کامیابی نہ بھی حاصل ہوئی مکمل معاشرہ علم کے نور سے روشن نہ بھی ہوا تو اس سے مستفید طبقہ کچھ علم کے نور سے تو مستفیض ہو گا اور اس طرح وہ اپنے بجھنے سے پہلے کچھ شمعیں تو جلانے میں بہرحال کامیاب ہو ہی جائے گا۔

عمر بھر جلنے کا اتنا تو صلہ پائیں گے ہم
بجھتے بجھتے چند شمعیں تو جلا جائیں گے ہم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: