لوٹی گئی دولت: بیرون ملک منتقلی اور واپسی کا مخمصہ —- ارشد محمود

0
  • 23
    Shares

کرپشن اور منی لانذرنگ کے ذریعے ملکی دولت کی بیرون ملک منتقلی اور واپسی کا معاملہ ہمارے انتخابی و سیاسی نظام کا مرکزی نکتہ بن کر ابھرا ہے۔ اس سلسلہ میں بھانت بھانت کی بولیاں اور دعوئے سننے کو مل رہے ہیں۔ عام آدمی تو ایک طرف صحافی اور دانشور بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کسی ایک رقم پر قومی اتفاق رائے نہیں ہو رہا کہ کتنی رقم لوٹ کر باہر بھیجی گئی جو واپس لانا مقصود ہے یہ کام أسان نہیں ہے۔ جب ذمہ دار ہی چوروں کے یار اور چوری میں حصہ دار ہو جائیں تو درست تخمینہ کیسے لگے۔ چوری اتنے بڑے اور وسیع پیمانے پر ہوئ ہے کہ تمام چوری شدہ رقم کا درست اندازہ لگانا تقریبآ ناممکن ہے۔ ہر کسی کے اپنے ذرائع اور ٹارگٹس ہیں اس لئے اعداد و شمار میں تفاوت تو رہے گی۔

رہی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی تو یہ بھی سیاسی اور انتخابی نعروں کی حد تک ہی دل خوش کن ہے حقیقت میں یہ ساری رقم واپس لانا تقریبآ ناممکن ہے۔

سیاست میں سرمایہ کاری, بیرونی قرضہ جات اور میگا پراجیکٹس میں کک بیکس پھر ناجائز ذرائع سے کمائی گئی دولت کی منی لانڈرنگ جیسے گھناؤنے کام صرف ان لالچی اور ناعاقبت اندیش سیاستدانوں، بیروکریٹس اور جرنیلز کے بس کی بات نہیں۔ یہ سب استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کی رکھیل انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی چالیں ہیں۔

وہ جمہوریت کی آڑ میں کسی ملک کے سیاستدانوں یا تبدیلی کے نعرہ کے ساتھ کسی فوجی ڈکٹیٹر کو پلانٹ کرتے ہیں۔ پھر اس ملک کی معیشت کی بہتری کے نام پر مہنگے سودی قرضے دیتے ہیں۔ ان قرضوں سے عوامی فلاح اور ملکی ترقی کے ضامن منصوبوں کی بجائے پر تعیش اور ملکی معیشت کے لئے سفید ہاتھی ثابت ہونے والے میگا پراجیکٹس کرواتے ہیں۔ ان پراجیکٹس میں وہ اپنی ہی غیر ملکی کمپنیوں اور ایکسپرٹس کی خدمات کے بدلے ایک بڑا حصہ واپس لے اڑتے ہیں۔ باقی کا کرپٹ حکمرانوں کے کک بیکس اور کرپشن کی صورت کمایا پیسہ منی لانذرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کروا لیتے ہیں۔

یہ گھناؤنا کھیل عمومأ جاہل معاشروں اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ کسی بھی حکمران یا بیروکریٹ کی طرف سے پیسہ واپس مانگنے کے خدشہ کے پیش نظر اسکے راز اسکے مخالفین کے ہاتھ بیچ کر اسے حکومت یا عہدہ سے ہٹوا کر مروا دیا جاتا ہے یا جیل بھجوا دیا جاتا ہے۔ پیسہ کیونکہ غیر قانونی طور پر بھیجا گیا ہوتا ہے اس لئے واپس لینے کا قانونی طریقہ کوئ نہیں ہوتا۔ یوں یہ بیرونی بنکوں میں پڑا لوٹا ہوا پیسہ نہ کرپٹ لوگوں کے کام آتا ہے نہ انکے پسماندگان کو جن کے لئے لوٹ گیا ہوتا ہے انکو ملتا ہے۔

ماضی میں زرداری کے خلاف شریف برادران اور مشرف کی جانب سے شریف برادران کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کی دعوے دعوے ہی رہے ان پر عمل نہیں ہوسکا۔ عمل کرنا موجودہ حکومت کی بس کی بات بھی نظر نہیں آتی۔

اس لئے حکومت اور عوام کو سرابوں کے پیچھے بھاگنے اور وقت ضائع کرنے کی بجائے حقیقت پسندی سے ملکی معیشت کی بحالی کے لئے قناعت سادگی اور خودانحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ تاہم جرائم میں ملوث لوگوں کو پوری سزا دلوانی چاہیے۔ اور اس سب سے آئندہ کے لیے سبق سیکھ کر اسکی روک تھام کا بندوبست کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: