نئی حکومت: تحسین اور تنقید کی بنیاد —– مجاہد حسین

0
  • 94
    Shares

اگر کسی کا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت کوئی غلطی نہیں کرے گی تو یہ خیال خام ذہن سے نکال دیں۔ کوئی حکومت کامل نہیں ہوتی اور سب سے ہی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس حکومت سے کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکے گا تو یہ بھی فضول سوچ ہے۔ ہر حکومت اچھے کام بھی کرتی ہے اور اس سے غلط فیصلے بھی سرزد ہوتے ہیں۔ اس کے اچھے کاموں کی تحسین اور برے کاموں پر تنقید ہونی چاہیے۔ لیکن حکومتی کارکردگی کے معاملے کو تھوڑا سا گہرائی میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عموماً اس کی تحسین اور تنقید، دونوں سطحی انداز میں کی جاتی ہے۔

حکومتی کارکردگی جانچنے کا ہر کسی کا اپنا پیمانہ ہے۔ کسی کے لیے سڑکیں، میٹرو بسیں اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی تعریف کے لیے کافی ہے تو کوئی صحت اور تعلیم کو اولین اہمیت دیتا ہے۔ میرے لیے ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ یہ کہ حکومت اداروں کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور انہیں اپنی یا اپنے حواریوں کی غلامی سے کیسے محفوظ رکھتی ہے۔ بھٹو دور سے پاکستان کے ادارے تباہ ہونا شروع ہوئے اور اداراتی زوال کا یہ سفر کہیں بھی رک نہیں سکا۔ ہر حکومت نے، چاہے وہ کسی سویلین کی ہو چاہے فوجی آمر کی، اس نے زوال میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ شاید برصغیر ابھی تک ذہنی طور پر بادشاہت کے دور میں زندہ ہے اور جمہوریت اس کے لیے اجنبی تصور ہے، اس لیے سول سروس کے نمائندوں میں بھی میرٹ کو پیمانہ بنانے کے بجائے اپنے وفادار تلاش کئے جاتے ہیں۔ میرٹ کے اس مسلسل قتل عام کا نتیجہ ہے کہ پاکستان گذشتہ تین چار دہائیوں کے دوران زیادہ تر شعبوں میں زوال کا شکار ہو اہے۔

سابقہ حکمرانوں پر میرا سب سے بڑا اعتراض بھی یہی تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ہر ادارے کو اپنے غلاموں اور وفاداروں کے حوالے کر کے انہیں تباہ کر دیا تھا۔ انہوں نے تو پارلیمنٹ کو بھی نہیں بخشا تھا جہاں سے انہیں حکمرانی کا قانونی اور اخلاقی جواز ملا تھا۔ اسپیکر جانبدار، وزیراعظم پارلیمنٹ سے مسلسل غیرحاضر، جواب دہی کا کوئی نظام نہیں، حتی کہ کابینہ کا اجلاس میں سال میں دو تین بار ہی ہوا کرتا تھا، سب فیصلے یا تو وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے وفادار بیوروکریٹ کرتے تھے یا پھر بادشاہ سلامت اور ان کی صاحبزادی کی جنبش ابرو پر حکومتی کاروبار چلتا تھا۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ پارلیمنٹ کا ادارہ جمہوریت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتا ہے، جو حکمران اسے نظر انداز کرے گا وہ دراصل جمہوریت کو کمزور کرے گا اور اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارے گا۔ یہ معاملہ صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں تھا، حکمرانوں نے تقریباً تمام ہی اداروں کو اپنا غلام بنا کر ناکارہ بنا دیا تھا۔ اس کی ایک مثال اپنے شہر ڈیرہ غازیخان دے دیتا ہوں۔

ہمارے شہر سے مسلم لیگ نون کے منتخب نمائندے حافظ عبدالکریم کا ایک غیرمنتخب بیٹا واپڈا کے معاملات دیکھا کرتا تھا، اس کی مرضی و منشا کے بغیر کہیں ٹرانسفارمر نہیں لگ سکتا تھا۔ ہمارے محلے کا ٹرانسفارمر خراب ہوا تو ہمیں اس وقت تک گرمی میں بیٹھنا پڑا جب تک حافظ عبدالکریم کا بیٹا اس محلے کے نون لیگی کونسلر کو ساتھ لے کر نہ پہنچا۔ اس کی آمد رات کے دو بجے ہوئی اور اس کے پیچھے پیچھے ٹرانسفارمر پہنچا۔ وہاں اخبارات کے لیے تصاویر کھنچوائی گئیں اور پھر واپڈا کے اہلکار نے اپنا کام شروع کیا۔ یہی صورتحال دیگر اداروں کی تھی جہاں عام آدمی کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے نون لیگی رکن اسمبلی، اس کے بیٹے اور رشتہ دار یا پھر اس کے حواریوں کے سامنے دامن پھیلانا پڑتا تھا، ادارے عام آدمی کی تکلیف کے ازالے کے لیے خودبخود حرکت میں نہیں آتے تھے۔ یہ سابقہ حکمرانوں کا انتخابات جیتنے (صحیح لفظوں میں الیکشن چرانے) کا ماڈل تھا۔

میرے لیے موجودہ حکومت کے لیے بھی یہی پیمانہ ہو گا کہ وہ اداروں کو بہتر بنانے میں کس قدر مخلص ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے حکومتی نظام کو دو چار سالوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی دنیا میں ایسا کوئی معاشرہ موجود ہے جس میں کوئی خرابی تلاش نہ کی جا سکے لیکن حکومت کی سمت اگر درست ہو تو بہت کچھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت کا ارادہ، نیت اور کسی حد تک عمل کس بات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اس لیے اگر موجودہ حکمرانوں نے سویلین اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے تو اس کی حمایت کریں گے ورنہ اسی طرح بھرپور تنقید ہو گی جیسے سابقہ حکومت پر ہوا کرتی تھی۔

محکمہ ریلوے کو جس طرح خواجہ سعد رفیق نے بہتر بنایا اور اس کے لیے ان تھک کوششیں کی ان کی تعریف نہ کرنا بخل ہو گا۔ اس کوشش میں انہیں ریلوے کے اعلی افسروں کی مدد بھی میسر تھی۔ اب انہی افسروں میں سے ایک نے اپنے محکے کے وزیر شیخ رشید کے رویے کے خلاف چھٹی کی درخواست دی ہے تو موجودہ حکومت کو اس حوالے سے چونک جانا چاہیے۔ انہیں اس معاملے کی مکمل تفتیش کرنی چاہئے اور اگر اس افسر کی شکایت درست ہے تو اسے تحفظ کا یقین دلانا چاہی اور شیخ رشید کو شٹ اپ کال بھی دینی چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ بیوروکریسی میں اعتماد پیدا کیا جائے اور جہاں ان کے کرپٹ اور نااہل لوگوں کے خلاف کارروائی ہو وہاں میرٹ پر اچھا کام کرنے والوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ اداروں کو مضبوط کرنے اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا یہی راستہ ہے۔ ایمان دار لوگوں کو زیادہ تر نااہل ہی دیکھا گیا ہے۔ اس لیے کوشش ہو نی چاہیے کہ کام کرنے والے افسروں کو اوپر لایا جائے البتہ یہ بات واضح کر دی جائے کہ کرپشن کرنے والے کسی افسر کو نہیں بخشا جائے گا۔

یاد رکھیں اداروں کو مستحکم بنائے بغیر مستحکم پاکستان کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ بڑا لیڈر بھی خود سے کچھ نہیں کر سکتا وہ بھی اداروں کے ذریعے ہی ملک میں بہتری لائے گا۔ اسی پیمانے پر حکومتوں کو پرکھیں اور ان پر دباؤ قائم رکھیں تاکہ وہ اداروں کو اپنا غلام بنانے کے بجائے انہیں مضبوط کرنے کی طرف جائیں۔ یہ روایت قائم ہو گئی تو پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: