اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یگانہ نجمی

2
  • 12
    Shares

احمد فراز کے شعری مجموعات کو دنیا بھر میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس مقبولیت اور احترام میں کوئی ان کاہم پلہ دکھائی نہیں دیتا۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کی ترویج کو ہمیشہ اپنا فرضِ اولین سمجھا سلطانئ جمہور اور لفظ کی حرمت کے لیے انھوں نے جو قربانیاں دیں۔ ان میں انکا کوئی ثانی نہیں۔

احمد فراز نے اپنے عہد کے ترقی پسند ادیبوں کے افکا ر سے گہرے اثرات قبول کیے انھوں نے زندگی کے تلخ حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے اس جانب توجہ مرکوز رکھی کہ زندگی کی معنویت کو اجاگر کیا جائے۔ انھوں نے زندگی کے جملہ مظاہر کو جس خلوص اور درد مندی سے مربوط کیا ہے۔ وہ ان کے اسلوب کا بنیادی وصف ہے۔

انھوں نے بنی نوع انسان کو ایک ایسی جامعیت اور کلیت کے ساتھ قلم اور قرطاس کے معتبر حوالے کے طور پر پیش کیا کہ اس کی تاثیر قاری کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر کر اپنا لوہا منوا لیتی ہے۔ ان کے خیالات کی ندرت اور تنوع کاکرشمہ دامنِ دل کو کھینچتا ہے۔ ان کے منفرد اسلوب کی اساس ان کے وہ مسحورکن تخلیقی تجربات ہیں۔ جو ان کے داخلی اور خارجی نوعیت کے جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ ادبی اقدار و روایات کو وہ دل وجان سے عزیزرکھتے تھے۔ تخلیقِ فن لمحوں میں وہ اس انداز سے تخیل کی جولانیاں دکھاتے ہیں کہ قاری ان کی معجز نما تاثیر سے مسحور ہوجاتا ہے۔

فراز نے زندگی کے جملہ مظاہر کو جس خلوص اور درد مندی سے مربوط کیا ہے۔ وہ ان کے اسلوب کا بنیادی وصف ہے۔

احمد فرازکی متعدد نظمیں ایسی ہیں جو عالمی ادبیات میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ دنیا بھر کے حریت پسند انقلابی ہمیشہ ان سے ولولہ تازہ حاصل کرتے رہیں گے۔ دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہوجانے والی ان نظموں میں محاصرہ، شہر آشوب، مت سوچو، جلاد، چلو اس شہر کاماتم کریں۔ ایسی انقلابی شاعری ہے جسے ہمیشہ پڑھا اور سراہا جاتا رہے گا۔

امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ مذہب کہیں بنام وطن
خدا کا نام جہاں لوگ بیچتے ہیں فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں

آمریت کے بدترین دور میں بھی احمد فراز نے مایوسی اور اضملال سے دامن بچائے رکھا۔ انھوں نے آمریت کو کسی طور قبول نہیں کیا بلکہ فوجی حکمران سے ملنے والے اعزاز تمغئہ امتیاز کو اس حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ ایوارڈ واپس کر دیا۔

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو کب انصاف کرو گے

جب ساز سل بجتےتھے، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ ریت ابھی تک باقی ہے، یہ رسم ابھی تک جاری ہے

وطن کی محبت کا اظہار بھی ان کی شاعری میں جا بہ جا ملتا ہے وہ وطن کی محبت میں سر شار نظر آتے ہیں انھیں ملک کی سالمیت اور اتحاد کی فکر تھی وہ کہتے ہیں۔

یہ مملکت تو سبھی کی ہے خواب سب کا ہے
یہاں یہ قافلئہ رنگ و بو اگر ٹھہرے
تو حسن ِ خیمئہ برگ و گلاب سب کا ہے
یہاں خزاں کے بگولے اٹھیں تو ہم نفسو!
چراغ سب کے بجھیں گے عذاب سب کا ہے

اسی لیے ہجر و فراق کے کرب کو انھوں نے جس طرح محسوس کیا اس کا اظہار وہ نہایت دلنشیں انداز میں کرتے ہیں وہ رنجش کے باوجود محبوب کے انتظار میں رہتے ہیں کہ اسی کا نام تو تعلق ہے خواہ لگاؤ کی صورت میں ہو یا فراق کی۔ وہ دل دکھانے والوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔

لوگ تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

احمد فراز کی شاعری میں زندگی کے تمام موسم سمٹ آئے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں ہونا سنگ دلی کا ثبوت ہے۔ انھیں یقین ہے کہ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی مل جاتے ہیں۔

ڈھونڈ اجڑے ہوئےلوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہےخرابوں میں ملیں

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: