شی ٹیکس ——- لالہ صحرائی

0
  • 166
    Shares

کاروباری سرگرمیوں پر عائد محصولات کو عرف عام میں ٹیکسز اور درآمدات پر عائد محصولات کو ڈیوٹیز کہا جاتا ہے لیکن جب کسی خاص مقصد کیلئے کسی محدود یا لامحدود پیمانے پر کوئی محصول نافذ کیا جائے تو اسے سیس کہا جاتا ہے، عموماً یہ محصول کسی اہم سماجی ضرورت کیلئے درپیش مالیاتی کمزوری کو ہینڈل کرنے کیلئے لگایا جاتا ہے جو ضرورت پوری ہونے کے بعد ختم بھی کیا جا سکتا ہے-

ایسے سیس کسی مقررہ شرح فیصد سے نیٹ انکم پر نافذ کرنے کی بجائے اس آمدنی پر قابل ادا انکم ٹیکس کی رقم کا کچھ فیصد رکھے جاتے ہیں تاکہ ٹیکس گزار پر گراں نہ گزرے-

انڈیا میں 2004 سے دو فیصد ایجوکیشن سیس اور 2008 سے ایک فیصد سیکنڈری اینڈ ہائیر ایجوکیشن سیس نافذ العمل ہے جو عرف عام میں SHE Cess کہلاتا ہے، یہ قابل ادا انکم ٹیکس کا کل تین فیصد چارج کئے جاتے ہیں-

مثال کے طور پر اگر کسی فرد یا کمپنی کی آمدنی پر قابل ادا انکم ٹیکس کی رقم ایک لاکھ روپے بنتی ہے تو وہ تین ہزار روپے سیس کی مد میں اضافی بھی ادا کرے گا جس میں سے دو فیصد بیسک ایجوکیشن کو چلے جائیں گے اور ایک فیصد ہائر ایجوکیشن کو مل جائے گا-

اب رائیگانی کے عجائبات دیکھئے کہ ہمارے ہاں کئی سال تک انکم ٹیکس کا دو فیصد ورکرز ویلفئیر فنڈ wwf وصول کیا جاتا تھا جو صنعتی مزدوروں کیلئے اسلام آباد میں قائم ایک ہسپتال کیلئے وقف تھا، یہ ہسپتال دارالخلافے میں ان امراض کیلئے بنایا گیا تھا جن کا علاج نہ صرف مہنگا ہو بلکہ عام ہسپتالوں میں دستیاب بھی نہ ہو لیکن صنعتی مزدوروں کے مالی یا سماجی حالات ایسے کہاں ہوتے ہیں کہ وہ کسی دور دراز کے علاقے سے فری علاج کیلئے اپنے اٹینڈینٹ کیساتھ اسلام آباد پہنچیں، چنانچہ یہ سب اوروں کے ہی کام آتا رہا، اسیلئے غالباً پی پی کی لاسٹ گورنمنٹ نے اسے کسی اور محکمے کے حوالے کرکے wwf سیس کا خاتمہ کر دیا تھا جو اربوں روپے تک اکٹھا ہوتا تھا، یہ کس نے شروع کیا تھا اس بات کو رہنے دیتے ہیں کیونکہ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہو جائے گی-

دوسری رائیگانی یوں ہے کہ ہمارے صنعتی مزدوروں کی اولاد کو تعلیم دینے کیلئے 1972 سے ایجوکیشن سیس نافذ العمل ہے، اس ٹیکس کی شرح فی صنعتی ادارہ، اس ادارے کے جملہ ملازمین ضرب سو روپیہ ہے، یعنی اگر کسی کارخانے میں چوکیدار سے مینیجر تک کل 25 ملازمین ہیں تو وہ کارخانہ 2500 روپیہ سالانہ صوبائی حکومت کو ادا کرے گا، یہ ٹیکس ہر صوبے میں سوشل سیکوریٹی کا محکمہ اپنے اپنے صنعتی علاقوں سے اکٹھا کرکے صوبائی حکومت کو پہنچانے کا ذمہ دار ہے لیکن اس کروڑوں روپے کا بھی کوئی پتا نہیں کہاں جاتا ہے-

میں نے اسے رائیگانی کا نام اسلئے دیا ہے کہ آپ کے ارد گرد، کسی صنعتی زون یا کسی مزدور کالونی میں آپ کو کوئی ایک بھی ایسا اسکول نظر نہیں آئے گا جو بالخصوص مزدوروں کے بچوں کیلئے قائم کیا گیا ہو، البتہ کہیں کوئی ٹیکنیکل ایجوکیشن سینٹر واقع ہو تو یہ بہرحال ممکن ہے کہ وہ ان پیسوں سے چلتا ہو۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ کنزیومر سیس کا نفاذ کرکے اسے صرف خواتین کی بہبود کیلئے وقف کر دیا جائے، جن میں غریب، مطلقہ اور بیوہ خواتین کی کفالت، جہیز یا شادی کے اخراجات، فری میٹرنیٹی، فری میڈیکل اور یتیم بچیوں کی تعلیم سمیت بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور کرنا بھی چاہئے

میں اس بات کے تو بالکل حق میں نہیں کہ موجودہ ٹیکس گزار کمیونیٹی پر کوئی نیا سیس نافذ کیا جائے کیونکہ وہ پہلے ہی ہیوی ٹیکسز کی زد میں ہیں البتہ اس حق میں ہوں کہ اپنے ٹیکس نیٹ کو جنگی بنیادوں پر دو حصوں میں بڑھانا چاہئے-

پہلا حصہ اس گھوسٹ بزنس کا ہے جو ٹریڈنگ اور مینوفیکچرنگ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو ان-رجسٹرڈ کارخانے اور سپلائیز نیٹ ورکس چلاتے ہیں ان پر تو حسب معمول وہ پورا ٹیکس لاگو ہونا چاہئے جو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے قوانین میں مقرر شدہ ہے-

دوسرا حصہ اس بزنس کا ہے جو اس تعریف کے زمرے میں نہیں آتا، مثال کے طور پہ ٹیکسٹائل ملز مینوفیکچرنگ بزنس میں آتی ہیں اور ان سے مال خریدنے والے ہول سیل ٹریڈنگ میں آتے ہیں لیکن اس بزنس سیکٹر میں ان دونوں کے بعد بھی ایک کیٹگری موجود ہے اور وہ ہے کپڑے کا دکاندار، جو دکاندار انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہو وہ ٹیکس کیٹگری کے اعتبار سے ریٹیلر کہلاتا ہے۔

اسی طرح سگریٹ، جوتے، گھی، مصالحے، الغرض یہ کہ ہر انڈسٹری کا ایک اینڈ کنزیومر پوائنٹ موجود ہے جو مجوزہ ٹیکس ایبل سکوپ کی تینوں کیٹگریز سے بالکل باہر بیٹھا ہے، ان میں آڑھتی ہے، شوز سٹورز ہیں، برانڈڈ فیشن وئیرز، امیٹیشن جیولری، بیوٹی پارلرز، جینٹری ہئیر سیلونز، فوڈ پوائینٹس، مٹھائی والے، آئیس کریم پارلرز، پان شاپس، چائے شاپس، دیسی ہوٹلز، اسٹیٹ ایجنسیز ، فرنیچر بنانے والے اور کپڑے والی کی طرح ہر وہ عام دکاندار جو اینڈ کنزیومرز تک کچھ نہ کچھ پہنچاتے ہوں، یہ لوگ ریٹیلرز کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتے اسلئے صرف دکاندار کہلاتے ہیں اور ٹیکس نیٹ سے بالکل باہر رہتے ہیں-

ان سب طبقات کیلئے ایک نئی ٹیکس کیٹکری متعارف کرائی جانی چاہئے جس میں انہیں اینڈ کنزیومر قرار دے کر ان سب پر کنزیومر سیس کا نفاذ کریں تو قوم کی تعلیم اور صحت کا بیشتر خرچہ یہیں سے نکل آئے گا-

اس ریونیو کی قوت کا اندازہ یوں لگا لیں کہ ایک سٹڈی کے مطابق صرف کراچی شہر میں پانچ لاکھ بیسک راشن شاپس ہیں، یعنی وہ دکانیں جہاں روزمرہ گھریلو استعمال کی ہر چیز مل جاتی ہے، یہ لاہور میں بھی اتنی ہی ہوں گی، گویا ان دو شہروں میں ہی ان کی تعداد دس لاکھ تک ہوگی، پھر حیدرآباد، فیصل آباد، ملتان، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، سرگودھا، ساہیوال، پنڈی، اسلام آباد اور دیگر صوبوں کے شہروں اور قصبوں سے کل ملا کر آپ کو بیس لاکھ یونٹ بھی مل جائیں تو ان پر سالانہ صرف پانچ ہزار کا سیس بھی آپ کو دس ارب روپیہ سالانہ مہیا کر دے گا، باقی کیٹگریز ابھی علیحدہ ہیں-

اب یہاں دو سوال پیدا ہوں گے، پہلا یہ کہ ان میں سے جو دکاندار بحیثیت ریٹیلرز انکم ٹیکس دیتے ہوں گے ان پر ڈبل ٹیکسیشن ہو جائے گی، یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں-

اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ صرف چند سال قبل تک ہر بزنس مین دو فیصد wwf دیتا رہا ہے، اس وقت ٹیکس ایبل انکم بھی چار لاکھ روپے سے شروع ہوتی تھی، آج ٹیکس ایبل انکم بارہ لاکھ سے اوپر شروع ہوتی ہے-

آج جس دکاندار کی انکم چوبیس لاکھ روپے سالانہ ہو وہ صرف اوپر والے بارہ لاکھ پہ 5 فیصد ٹیکس ادا کرے گا جو صرف ساٹھ ہزار روپے بنتا ہے، یعنی وہ دو لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے اور پانچ ہزار ماہانہ ٹیکس دے رہا ہے، اس پر صرف پانچ ہزار روپے سالانہ کا سیس لگانا کوئی زیادتی نہیں-

ہاں اگر کوئی دکاندار یہ کہتا ہے کہ میں تو صرف چالیس ہزار روپے ماہانہ کماتا ہوں جس میں میرا اپنا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے تو ایسے بندوں کے بارے میں ہمیں اپنے تجربات کی رو سے پکا یقین ہوتا ہے کہ اس کی اصل آمدنی دو سے تین گنا کے درمیان کہیں واقع ہے، ہمارے پاس آڈٹ کیلئے اب ایسے طریقے بھی موجود ہیں کہ اگر اس بندے سے چند مطلوبہ چیزیں دستیاب ہوجائیں تو اس کے بعد صرف دس منٹ میں ہم اس کی اصل آمدنی کیلکولیٹ کر دیں گے اور وہ اس کی تردید بھی نہیں کر پائے گا، یہ مطلوبہ چیزیں ہر بندے کے پاس موجود ہوتی ہیں خواہ وہ انپڑھ ہی کیوں نہ ہو-

ایسے سمارٹ ٹیکس چوروں سے قانون یہ کہتا ہے کہ انکم ٹیکس کا سکوپ “سیلف ایسسمنٹ اسکیم” پر مبنی ہے یعنی جو آپ نے کہہ دیا وہی ہم تسلیم کرلیں گے لیکن آپ کی سچائی کو کنفرم کرنے کیلئے کبھی نہ کبھی آپ کا آڈٹ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ پتا چلے کہ آپ کہیں ہمارے اعتماد کو ٹھیس تو نہیں پہنچا رہے اور ٹیکس چوری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوگا کہ ایک عوامی کالونی کے اندر بیٹھا کپڑے، راشن، شوز سٹور یا بیوٹی پارلر کا مالک یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے اوپر بھی پانچ ہزار سالانہ اور پوش ایریا کیلئے بھی پانچ ہزار جبکہ وہ زیادہ کماتے ہیں تو یہ ناانصافی ہوگی، اس کا حل بڑا آسان ہے کہ کیپسٹی بیس ان کی آمدنی کا تعین کیا جائے اور اس پر کسی معقول ریشو سے سیس لگا دیا جائے، آمدنی کا تعین کرنا کئی فیکٹر سے ممکن ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا مگر ہم اس کی تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ پروفیشنلز کو سب پتا ہوتا ہے، عوام کو سمجھانے کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ کسی بھی دکان کا کرایہ+بجلی کا بل+20،000 روپے منافع جمع کرکے کم از کم اتنے روپے ماہانہ تو وہ اپنے بزنس سے نکالتا ہی ہوگا، اس لحاظ سے ایک چھوٹا دکاندار بھی پچاس ہزار منتھلی کی ایکٹیویٹی تو لازمی کرلیتا ہے اس پر دس فیصد سالانہ سیس یعنی 416 روپے ماہانہ کچھ زیادہ نہیں، آپ یہ شرح کیپیسٹی بیس پر پانچ فیصد بھی کرلیں تو اس سکیم میں چھوٹا دکاندار بھی سالانہ 2000 تک دے سکتا ہے اور جب آپ اچھے علاقوں میں داخل ہوں گے تو فی کس لاکھ روپے تک بھی ملے گا-

اگر آپ ملک گیر سطح پر صرف پچاس لاکھ دکانوں کو بھی رجسٹر کرلیں جو کہ صرف ایک سال میں ممکن ہے تو منیمم ریٹ سے بھی آپ کو 25 ارب روپے سالانہ مل سکتے ہیں یعنی پانچ سال میں سوا کھرب روپیہ، اگر ہم ان دکانداروں کو آڈٹ میں لانا چاہیں جس کی قانون پوری طرح اجازت دیتا ہے تو یقین کیجئے کہ کوئی بھی اپنا آڈٹ کرانے کو کسی قیمت پر بھی تیار نہیں ہوگا لہذا اس بات کو کچھ اس طرح سے اناؤنس کرنا چاہئے کہ فی کس ٹیکس 5000 روپے ہے لیکن سب کا آڈٹ ہوگا تاہم جو لوگ آڈٹ سے بچنا چاہتے ہیں وہ پہلے سال دو ٹیکس دے دیں تو پانچ سال کیلئے آڈٹ سے بری ہوں گے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو سال دو سال آپ کے رجسٹریشن میں ضائع ہوں گے ان کا پیسہ بھی مل جائے گا، اس دوران اپنے پراجیکٹس تیار رکھیں جو اگلے تین سال میں بھر پور طریقے سے لانچ کر دیں، اس کا م کیلئے کامرس گریجوایٹ دس ہزار افراد کو روزگار بھی مل جائے گا جس کی سالانہ قیمت تین ارب روپے تک ہوگی اور یہ دس ہزار افراد آپ کو 25 ارب روپے کما کے دیں گے-

اس ڈسکشن کے آئینے میں میرا مشورہ یہ ہے کہ کنزیومر سیس کا نفاذ کرکے اسے صرف خواتین کی بہبود کیلئے وقف کر دیا جائے، جن میں غریب، مطلقہ اور بیوہ خواتین کی کفالت، جہیز یا شادی کے اخراجات، فری میٹرنیٹی، فری میڈیکل اور یتیم بچیوں کی تعلیم سمیت بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور کرنا بھی چاہئے مگر اس کچھ محنت لگے گی جیسا کہ علامہ اقبال صاحبؒ نے فرمایا ہے:

مشامِ تیز سے صحرا میں ملتا ہے سراغ اس کا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: