انسانی جبلتیں، مذہب اور معاشرہ —– مجاہد حسین

0
  • 56
    Shares

انسانی جبلتیں من مانی کرنا چاہتی ہیں، چونکہ اس سے انتشار پھیلتا اور اجتماعیت مجروح ہوتی ہے اس لیے ہر معاشرہ ان پر مختلف پابندیاں عائد کرتا ہے۔ انسان نے اپنے طویل ارتقائی سفر کے دوران ان پابندیوں کو دو طریقوں سے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے پہلا رستہ معاشرہ اور اس کے ادارے ہیں جو انسانی جبلتوں کو حدود میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم معاشرہ فرد کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا اور ایسے لمحات ہر کسی کو میسر آ جاتے ہیں جب سماجی دباؤ سے عارضی نجات مل جاتی ہے، ایسے وقت میں انسانی جبلتیں ایک بار پھر ابھر کر اپنا کھیل کھیل جاتی ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے مذہب کام آتا ہے جو ایک ایسی ہستی کا تصور پیش کرتا ہے جو نہ صرف انسان کے ایک ایک لمحے سے آگاہ ہے بلکہ وہ اچھائی کا صلہ اور برائی کی سزا دینے پر قادر بھی ہے اور ایسا کرنا اس کے پلان میں بھی شامل ہے۔

جبلتیں بہت طاقتور اور عیار قوتیں ہیں جن پر کمزور سی عقل کے پہرے بٹھانا اکثر اوقات ممکن نہیں رہتا۔ یہ اپنی من مانی کرنے کے ہزاروں حیلے اور بہانے اپنی زنبیل میں تیار رکھتی ہیں اور موقع ملتے ہی اپنا کام دکھا جاتی ہیں۔ البتہ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اکثر یہ معاشرے اور مذہب کو ہی اپنے مطلب کے لیے استعمال کر جاتی ہیں۔

معاشرے کے جبر سے نجات حاصل کرنے کے لیے جبلتوں کا سب سے پسندیدہ رستہ معاشرے کے اندر ایک اور معاشرے کا سراب تخلیق کرنا ہے۔ یہ ایک عارضی، محدود اور لمحاتی سراب ہوتا ہے جس میں چند اہم سماجی اقدار معطل ہو جاتی ہیں اور جبلتوں کو وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سراب کے ختم ہونے کے بعد اس کا شکار بننے والے افراد اجتماعی پچھتاوے کا شکار ہو جاتے ہیں اور خود سے یہ سوال پوچھتے رہ جاتے ہیں کہ انہیں کیا ہو گیا تھا۔اس عارضی معاشرے کو ببل سوسائٹی (Bubble Society) کہا جا سکتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگر پندرہ بیس نوجوان موٹرسائیکلوں پر جا رہے ہوں تو وہ ساتھ گزرتے لوگوں کو چھیڑیں گے، ان پر آوازے کسیں گے، اشارے پر رکنے کی بجائے سفر جاری رکھیں گے اور ان کا انداز ایسا ہو گا جیسے وہ لڑنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کی ببل سوسائٹی ہوتی ہے جو تھوڑی دیر کے لیے جنم لیتی ہے اور جس میں جبلتوں کو اپنے اظہار کا کچھ بڑا دائرہ میسر آ جاتا ہے۔

اس سے بڑی ببل سوسائٹی لاہور کی مال روڈ پر 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب جنم لیتی ہے جب یہاں تمام ٹریفک اصول معطل ہو جاتے ہیں۔ عوام کا ایک جم غفیر جشن آزادی منانے کے لیے مال روڈ پر نکلتا ہے تو ایک محدود سا عارضی معاشرہ وجود پذیر ہوتا ہے اور یہاں جبلتوں کو اپنے اظہار کا ایک بڑا دائرہ میسر آ جاتا ہے، پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں، نوجوانوں کے گروہ ایک دوسرے پر آوازے کستے ہیں اور لڑنے جھگڑنے کے کئی واقعات جنم لیتے ہیں۔

یہ تو ببل سوسائٹی کی نسبتاً بے ضرر مثالیں ہیں لیکن اس کی اصل سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب یہ عارضی معاشرہ اس سے بھی بڑے پیمانے پر جنم لے اور اس کا دورانیہ چند گھنٹوں کے بجائے کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہو جائے۔جب بڑے پیمانے پر جبلتوں کو اظہار کا موقع ملتا ہے تو ان لوگوں کی جبلتیں بھی دھیرے دھیرے ابھرنے لگتی ہیں جن کی تمام زندگی قانون اور قاعدے کے احترام میں گزری ہوتی ہے۔ جب ایسے بزدل اور کچلے ہوئے لوگوں کی جبلتیں باہر آتی ہیں تو ببل سوسائٹی کے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ اس کے بعد ایک ایسا وقت آتا ہے جب یہ بھانبھڑ پورے زور و شور سے جلتا ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی المیے جنم لیتے ہیں۔ انسانی تاریخ ایسے المیوں سے بھری پڑی ہے۔

حالیہ تاریخ میں قیام پاکستان کے وقت سرحد کے دونوں پار ہونے والا قتل عام اس عارضی معاشرے کی ایک خوفناک مثال ہے جب کھلے عام اور بے دردی سے لوگوں کو قتل کیا گیا۔ عورتوں کی عزتیں پامال کی گئیں۔ روانڈا میں ہونے والے قتل عام کے پیچھے بھی یہی مظہر کارفرما تھا اور بوسنیا کی آزادی کے بعد اس کے عوام پر جو کچھ بیتا وہ بھی اسی ببل سوسائٹی کا اظہار تھا۔ اس عارضی معاشرے کی اپنی اخلاقیات، اپنے قوانین اور اپنے اصول ہوتے ہیں جو انسانی جبلتوں کے زیر اثر تخلیق ہوتے ہیں اور اس وقت عام انسان بھی ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کر جاتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

اب مذہب کی طرف آتے ہیں جو ان جبلتوں کو قابو میں رکھنے کا ایک اہم ادارہ ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب انسان کو اخلاقیات سکھاتے ہیں اور ان کی تعلیمات کا مقصود انسانی جبلتوں کو اخلاق، ایثار اور قربانی کی زنجیریں پہنانا ہے۔ ان میں سب سے جدید اور برتر مذہب اسلام کی بنیاد ہی سلامتی پر ہے اور مختصر سے مطالعہ یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ انسانوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

لیکن تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مذہب کے نام پر ہونے والی قتل و غارت حیران کر دیتی ہے اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ جس مذہب کی آمد کا مقصد ہی انسانی جان کا تحفظ ہو، اس کے نام پر حیوانیت کے مظاہرے کیونکر ممکن ہیں۔ اس پیچیدہ معاملے کی تفہیم بھی جبلتوں کی کارفرمائی اور ببل سوسائٹی کے ذریعے ممکن ہے۔ انسانی جبلتیں جب عقل پر حکمرانی کرنے لگتی ہیں تو وہ مذہبی تعلیمات میں سے بھی ایسے نتائج اخذ کر لیتی ہیں جن کا دور دور تک مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی روح کے یکسر متضاد ہوتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بھی انسانوں کی بدترین جبلتوں کی غلامی کے باعث ممکن ہے۔ مذہبی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف جبر، ظلم اور تشدد کے جواز پیش کیے جاتے ہیں۔

پنجاب میں پیش آمدہ حالیہ واقعات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جاسکتا ھے۔

اقبال نے اپنے ایک بہت خوبصورت شعر میں اسی طرف اشارہ کیا تھا

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے!
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہے تصویریں

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: