سرخ چوڑیاں ——- عائشہ یاسین کا افسانہ

0
  • 80
    Shares

“شبو کل اپنی بیٹی کو ساتھ لیتی آنا عید کی صفا ئیان ابھی باقی رہتی ہیں”
“جی باجی جی۔ کل لے آءوں گی!” شبو نے جواب دیا۔
کمر میں شدید درد ہونے کے باوجود بیگم آراء نے شبو سے سارے کام لئے اور یہ نہیں بلکہ عید کے نام پر ایک ایک کام نکلواتی رہیں اور خود صوفے پر آرام سے لیٹ کر بولی وڈ کی فلموں میں کیڑے بھی نکالتی رہیں اور تمام خواتین کے بارے میں تبادلہ خیال بھی جاری رکھا۔
کام ختم کرکے جب شبو فارغ ہوکر بیگم آراء کے سامنے آ کھڑی ہوئی تو گھڑی کی سوئیاں 6 پر اٹکی تھی پر بیگم آراء کے سوسائٹی میں موجود خواتین پر مراسلات جاری تھے۔

افطار ہونے میں کم ہی وقت باقی تھا اور شبو کا تو روزہ بھی تھا۔ سارا دن کام کرتے کرتے اس کی جان ہلکان ہوچکی تھی اور اب گھر جاکے افطار کی فکر کھائے جارہی تھی۔ بیگم آراء نے جب اس کو کھڑے دیکھا تو بلا تاخیر جانے کی اجازت دے دی اور دوبارہ محو گفتگو ہوگئیں ورنہ شبو نے سوچ رکھا تھا کہ کل کے افطار میں سے بچا کچا کھانا مل جائے تو وہ گھر جاکے سکون سے روزہ کھول لے گی ورنہ بیگم آراء کی فریج میں پڑے پڑے اس کھانےکو سڑ ہی تو جانا تھا۔
لگتا تھا بیگم آراء نے شبو کے ارادے بھامپ لئے تھے تبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا اور اپنی باتوں میں لگی رہیں۔ شبو سر دھنتے گھر کی طرف چل دی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ گھر پہ تو راشن کے نام پر کلو بھر آٹا ہی پڑا ہوگا اب افطار میں بچوں کے سامنے کیا رکھے گی ان سوچوں نے اس کو اپنے کمر کی تکلیف بھی بھلا دی تھی۔
دوپٹے کے پلو میں کچھ پیسے باندھ رکھے تھے۔ چلتے چلتے پلو کو ٹٹول کر کھولا تو اس میں صرف 50 کا نوٹ ہی باقی تھا۔ اس نے آج ارادہ کر رکھا تھا کہ واپسی پر ضرور درد کی دوا لیتے آئے گی پر بیگم آراء کی بے اعتنائ نے سارا ارادہ تلف کردیا۔

“کیا ہوجاتا جو اک نظر مجھ پر ڈال لیتی۔ ۔ ۔ کل کا باسی کھانا ہی تو مانگنا تھا میں نے !میرے بچوں کا بھلا ہو جاتا۔”
شبو نے بڑبڑائے ہوئےایک دکان کے سامنے رکتے ہوئے تلے ہوئے پکوان کی طرف دیکھا تو دکان والے نے جھٹ پوچھا۔
“مائی کیا چاہئے؟”
شبو نے سوچتے ہوئے نمک پاروں کی طرف اشارہ کیا۔ ۔ ۔
“بھائی بیس کی یہ دے دو اور بیس کی وہ جلیبیاں۔ ”
دکان والے نے کچھ کہے بغیر اس کو نمک پارے اور جلیبی کی تھیلی ہاتھ میں تھمائ اور دوسرے گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگیا۔ شبو تھکی ماندی گھر کے سامنے پہنچی تو تھکاوٹ کا احساس اور بھی بڑھ گیا۔
صحن میں بلو بیٹھی مٹی پہ آڑی ترچھی لکیروں سے کھیل رہی تھی۔ اس کی بے چینی صاف ظاہر تھی کیوں کہ صبح شبو نے صرف دو کھجوروں سے سحری کروائ تھی اور وعدہ کیا تھا کہ شام کو مزے کی افطار ملے گی مگر شام گہری ہوئے جارہی تھی اور بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ اس کی امید بھی ماند پڑتی جارہی تھی۔
تبھی تو وہ اپنی اماں کے قدموں کی چاپ سن کر چونک سی گئی تھی کہ جیسے ماں میلوں کا سفر طے کر کے لوٹی ہو۔

“اماں آگئی۔” بلو بس اتنا ہی بول پائی اور شبو کے لائے ہوئے تھیلے کی طرف لپکی پر امید کی ساری کرنیں اسی وقت بجھ گئی جب تھیلی میں پڑے نمک پارے اور جلیبی دیکھی۔ بلو نے بنا کچھ کہے وہ تھیلی ہاتھ میں پکڑی اور کچن میں جاکے خالی کرنے لگی اور ساتھ اک جگ پانی لے کر بر آمدے میں آگئی۔ بلو کی خاموشی شبو کو سمجھ آگئی تھی تبھی افطار اور نماز سے فارغ ہوکر اس نے بلو کو آواز دے کر اپنے پاس بلا یا اور پاس پڑے اک گٹھری میں سے ایک شرخ رنگ کا جوڑا بلو کو دکھاتے ہوئے پوچھا
“بلو بتا کیسا ہے یہ جوڑا بھلا؟”
بلو کے چہرے پہ کئ رنگ آکے گزرگئے پر سرخ رنگ جیسے ٹہر سا گیا۔
“اماں بہت خوبصورت اور سرخ جوڑا ہے یہ تو!”
“سرخ تو ہے پگلی۔” شبو نے لاڈ کیا۔
“یہ تیرے لیے ہے۔” شبو کا لہجہ ماں کے پیار کی چاشنی سے بھر گیا۔
“کیا اماں میرے لئے؟” بلو نے خوشی سے جھومتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں تیرے عید کے لئے۔” شبو نے نرمی سے جواب دیا۔
“اماں تو تو کمال ہے بس۔” بلو کی آواز میں شوخی آگئی۔

یہ کہہ کر بلو شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر جوڑے کا جائزہ لینے لگی کہ اچانک اس کی نظر قمیض کے چھید پر پڑی جو سالوں گزر جانے کے بعد بوسیدہ حالت میں ہونے کے وجہ سے رونما ہوئ تھی۔ شبو نے جھٹ سے وہ قمیض بلو کے ہاتھ سے لے لیا اور بیگم آراء کے متعلق بنانے لگی کہ کل انہوں نے اس کو عید کی صفائی کے لئے بلوایا ہے اور یہ کہ کچھ اضافی اجرت ملنے پر وہ اس کو کانچ کی سرخ چوڑیاں بھی لے کر دے گی۔
پھر کیا تھا بلو تو جیسے ہواوں میں ہی اڑنے لگی۔ ساری رات خود کو لال جوڑے میں دیکھتی رہی اور ساتھ ساتھ ہاتھ میں سجے سرخ چوڑیاں چھنکاتی رہی۔ ان چوڑیوں کی چھنچھناہٹ سے بلو رات بھر ایک پل سو نہیں پائی۔ ۔ ۔
سحری کے نام پر دو کھجوروں سے روزے کی نیت باندھی اور اللہ کے حضور نماز ادا کرکے گھر کے کام کرنے لگی تاکہ اماں کے ساتھ جاکے بیگم آراء کے گھر کام کرسکے۔
“ارے بلو وہ لال جوڑا بھی رکھ لے اپنے ساتھ واپسی پہ اس کی سلا ئ کروا دوں گی جہاں سے چھید ہے۔ ۔ ۔ !!! “یہ بات سن کر بلو نے فورا ہی جوڑا ساتھ رکھ لیا تاکہ میچنگ چوڑیاں لینے میں آسانی ہو۔
کام پہ جاتے ہوئے وہ خود کو کئی مرتبہ سرخ چوڑیاں اور لال جوڑے میں دیکھ چکی تھی اور خوشی سے نہال ہوئے جارہی تھی۔ اسی تصور اور خوابوں کے دیا میں وہ ڈالی ڈالی پھرتی رہی اور سارے دن کام کرتے رہنے کا احساس ہی نہ ہوا اور عصر کی آذان کے آواز نے تھکن کی اہک کسک کو آواز دی۔

“اوہ ٹائم کا پتہ ہی نہ چلا اور شام ہوگئی!” شام کا گمان ہوتے ہی اس کی نظریں بیگم آراء کے تعاقب کرنے لگی کہ اس کی محنت کا اجرت ملنے کو ہے اور دربار کے خزانے کا منہ کھلنے کو ہے۔ سو با ادب ہو جاو اور ہوشیار بھی
۔ پورا گھر چم چم چمک رہا تھا پر بیگم آراء کے موڈ سے لگ رہا تھا کہ ان کو بلو کی کارکردگی پسند نہیں آئ ہے اور وہ شبو سے مزید صفائیاں کروارہی تھی اور شبو جی باجی جی باجی کی تسبیح جپ رہی تھی۔ وقت سرکتا جارہا تھا اور کچن سے ڈائننگ ٹیبل تک کچھ سرگرمیاں بڑھتی محسوس ہورہی تھیں۔ دیکھتے دیکھتے ڈائننگ ٹیبل پر کھانے کے سارے لوازمات چن دی گئی۔ اندر سے بیگم آراء کی چند سوشل فرینڈز برآمد ہوئیں اور ہم کو کچن میں جانے کی ہدایت ہوئی ان کے بقول ہمارے لئے بھی افطار کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ۔ ۔ بلو کچن پہنچی تو اسے دیکھ کے حیرت ہوئی کہ کل کا باسی سامان ان کے سامنے پڑوس دیا گیا تھا۔ بلو اپنی ماں کے ساتھ دسترخوان کے کونے میں بیٹھ گئی اور دو چار ایسے ہی کچھ نوکروں نے اس دسترخوان کو رونق دی۔ افطار کرکے کچن کی صفائی دوبارہ ان کے ذمے آئی۔ دونوں ماں بیٹی نے جب تک کام نمٹایا۔
عید کے چاند دکھ جانے کی خبر نے بلو میں جیسے کرنٹ بھردی۔ کتنے ہی خواب اس کی آنکھوں میں کرنوں کی صورت جھلملا رہے تھے۔ یہ غریبوں کے خواب بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں جو کسی خواہش کے پورے ہوجانے کے تصور میں ہی جل ترنگ بھر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اماں نے جلدی جلدی گھر سمیٹ کر بیگم آراء سے پیسے لئے اور کل جلدی آنے کا کہ کر نکل پڑی۔

پہلے شبو نے کھڑے کھڑے سلائی والے سے قمیض کی سلائی کروائی اور بازار کے عین بیچ میں چوڑیوں کی دکان کے آگے کھڑی ہوگئی۔ بلو تو بس تکتی رہ ایسے خوب صورت رنگ اور ڈیزائن کے کنگن اور چوڑیاں تھی کہ حیرت سے بلو کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ شبو نے بلو کو جھنجوڑ کے کہا
“بول نا کون سی چوڑیاں لے گی؟” شبو تو ایسے پوچھ رہی تھی کہ بلو جس بھی چوڑیوں کے سیٹ پر ہاتھ رکھے گی۔ وہ اس کو دلا دے گی۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے لال جوڑے کی تھیلی دکان دار کے آگے کردی اور موقع دیکھ کے شبو نے دھر سے کہہ دیا کہ
“سرخ کانچ کی میچنگ چوڑیاں دے دو بھائی۔ ۔ ۔ !!!!!” جیسے ہی دکان دار نے سیٹ تیار کیا تو پوچھا۔ ۔
“باجی کیا پہنادوں؟”
اک نظر بلو اور شبو نے اک دوسرے کو دیکھا اور شبو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بلو نے ہاتھ کے کردیا۔
جیسے جیسے بلو کے ہاتھ میں چوڑیاں جاتی جاتیں بلو کی خوشی قابل دید ہوتی جاتی۔ اس کا انگ انگ خوشی سے چور تھا اور قوض قضا کا ایک رنگ اس کے چہرے میں رونما ہوتا تو دوسرے آکے ٹھہر جاتا۔
“اماں کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں نا چوڑیاں میرے ہاتھوں میں؟” بلو نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
“میں صدقے۔ واقعی دیکھ تو ذرا شہزادی لگ رہی ہے شہزادی !” یہ کہہ کر شبو نے آنکھوں میں آئے آنسو چھپا تو لئے پر دل میں ابھرتے ہوئے ارمان کو نہ روک پائی۔
“میرے بس میں ہوتا میں اپنی بچی کی زندگی رنگوں سے سجا دیتی۔ کانچ کی نہیں بلکہ سونے کی چوڑیاں پہناتی۔ پر آدھی روٹی تک تو نہیں دے پائی تجھ کو!”۔ یہ سوچ کے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔
پر بلو اس قدر خوش تھی کہ اس کو اپنی ماں کے آنسو تک نہ دکھے بلکہ وہ تو شبو کا ہاتھ تھامے آسمان کی طرف روشن آنکھیں لئے اچھل اچھل کر کہہ رہی تھی۔
“دیکھ اماں آسمان میں کیسا رنگ بکھر رہا ہے۔”
“کیسا روشن ہورہا ہے آج تو آسمان۔ ۔ ۔ !!! “بلو کی آنکھیں ھیدت سے آسمان کے طرف دیکھنے لگی۔
“بلو یہ تو امیر لوگوں کی خوشی منانے کے طریقے ہیں۔ دیکھو کتنے روپے جلا رہے ہیں اس آتش بازی میں ورنہ یہ چار پیسے سے کسی غریب کا چولھا جل جاتا۔”

ابھی شبو آتش بازی کا سوگ منا رہی تھی کہ فائرنگ اور پٹاخون کے شور میں شبو کو بلو کا دھیان ہی نہ رہا۔ نہ جانے بلو ان رنگوں ے تعاقب میں کہیں دور نکل گئی تھی۔ شبو اس کو آوازیں لگاتی بڑھی تو اک ہجوم نے اس کو ساکت سا کردیا۔ وہ آگے بڑھنے لگی تو اس کی نظر سڑک پر بکھری شرخ چوڑیوں پر پڑی۔

“ہاں یہ وہی سرخ چوڑیاں تھی جو کسی کے خواب میں چھن چھن کرتی تھیں اور ساری رات اس کی سنگیت سے کسی کے سر بنتے تھے۔ کتنے امنگیں اور خواہشوں کا محور تھی یہ کانچ کی چوڑیاں۔ ” شبو کو ایک خیال نے جھنجوڑا۔
شبو آگے بڑھی۔ کانچ کا ٹکڑا اٹھایا اور ہجوم کی طرف تھکے قدموں سے بڑھنے لگی۔ سامنے سڑک پر بلو ہی تھی جو آخری سانس بھی گن چکی تھی۔ اس کے سارے خواب ٹوٹ کر چاروں طرف بکھر چکے تھے پر ان شرخ چوڑیوں کا رنگ اور بھی سرخ ہوچکا تھا۔ بے رحم انجانی سمت سے آنے والی گولی نے اس کی عید کو مزید رنگ سے بھر دیا تھا سرخ چوڑیاں مزید سرخ اور رنگین ہوچکی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: