ب ی ی ی ی ی پ پ —– شوکت نیازی

0
  • 65
    Shares

اب تو مجھے چھت پر سفیدی کے درمیان دراڑوں کی تعداد اور شکل و صورت بھی یاد ہو چکی ہے۔ سامنے دیوار پر لگی ایل سی ڈی کی سیاہ سکرین میں میرے سر کی جانب لگی مشینوں کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں جانب کی دیوار پر ٹیوب لائٹوں کا ایک جوڑا لگا ہے جس کی سپاٹ سرد نیلگوں سفید روشنی میں ہر چیز اپنا سایہ کھو بیٹھی ہے۔ مجھے گھر میں بھی ٹیوب لائیٹوں سے نفرت تھی۔ میں اپنے کمرے میں زرد ٹنگسٹن بلب جلاتا تھا۔ بلب کی روشنی میں چیزوں کے سائے بنتے ہیں اور ان کا وجود برقرار رہتا ہے۔

نجانے صبح ہے یا شام، کمرے میں ایک ہی کھڑکی ہے جس کے سامنے چوبیس گھنٹے بلائنڈز کھنچے رہتے ہیں اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ دن ہے یا رات۔ اب تو معلوم نہیں کب سے میں دنوں اور راتوں کی گنتی بھی بھول چکا ہوں۔ جب کمرے میں ہلچل ہوتی ہے، میرے بیوی بچے آتے ہیں تو دن ہوتا ہے اور جب کمرے میں تاریکی اور باہر خاموشی چھا جا تی ہے تو میں جان جاتا ہوں کہ رات ہو گی۔ دن ہو یا رات، کمرے کے اندرمکمل تاریکی یا خاموشی نہیں چھاتی۔۔۔ میرے بستر کے تکئے کی جانب ایک مشین لگی ہے جو لگاتار “بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔” کرتی رہتی ہے۔ وقت کے بہاؤ کا بس صرف یہی ایک انداز ہ باقی ہے۔ مجھے صرف اس وقت احساس ہوتا ہے جب دو گھنٹے گزرجائیں۔ ہر دو گھنٹے بعد وارڈ بوائے آتے ہیں اور میری کروٹ بدلتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ فالج کے مریض کی متواتر کروٹ نہ بدلیں تو جسم پر آبلے نما زخم بن جاتے ہیں۔ دن رات کا ایک اور اندازہ یوں بھی ہوتا ہے کہ دن کے وقت جب کمرے میں میرے اہلِ خانہ موجود ہوں تو وارڈ بوائے احتیاط سے نرمی سے میری کروٹ بدلتے ہیں، میری چادریں درست کرتے ہیں، میری قمیض کا کالر درست کرتے ہیں اور “انکل جی، آ پ کیسے ہیں ؟” کی تکرار لگائے رہتے ہیں۔ رات کو شائد تھک جاتے ہیں بیچارے، بس کمرے میں گھستے ہی ایک لمحے میں مجھے ایک پہلو سے دوسرے پر دھکیل دیتے ہیں۔ گردن سے نیچے مجھے کچھ محسوس نہیں ہوتا لیکن اکثر میں اپنی ہی غلاظت کے بھبکے سونگھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ میرا ڈائپر بدلیں۔ انہیں بھی اندازہ ہوتا ہو گا لیکن وہ دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہتے ہیں۔ “صبح ڈاکٹر کے راؤنڈ اور انکل جی کے گھر والوں کی آمد سے پہلے ڈائپر اور چادریں بدل دیں گے۔ابھی تھوڑا سا ائر فریشنر مار دو!” کبھی وہ دونوں میری جانب پشت کر کے دیوار پر لگا ٹی وی چلاتے ہیں اور ادھر ادھر کے چینل بدلتے ہیں۔ وہ مجھ سے نہیں پوچھتے کہ کون سا چینل دیکھنا ہے۔ مجھے ایل سی ڈی بند ہی پسند ہے کیونکہ اس کی سیاہ سکرین میں مجھے اپنی پشت پر لگے مانیٹر کا عکس دکھائی دیتا ہے جس میں مجھے اپنی دل کی دھڑکن کی لکیر اور بلڈ پریشر کے ہندسے نظر آتے ہیں۔ باہر کوریڈور میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ میری تمام تر توجہ دروازے کی جانب مبذول ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی ہو گا مجھے اس وقت تک دکھائی نہیں دے گا جب تک وہ میرے سامنے پائنتی کے ساتھ آن کھڑا نہ ہو۔ اب میں اپنا سر صرف چند انچ ہی دائیں بائیں جانب ہلا سکتا ہوں۔ قدموں کی چاپ میرے کمرے کے سامنے سے گزرتی جاتی ہے۔ دور کہیں گفتگو کی دھیمی دھیمی بھنبھناہٹ سنائی دیتی ہے اور پھر خاموشی۔۔۔”بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔”

یکایک دروازہ کھلا اور چند لمحے بعد دونوں وارڈ بوائے میرے دونوں جانب آن کھڑے ہوئے۔ رات ہی ہو گی کیونکہ دن کو یہ دونوں دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر ہی اند ر داخل ہوتے ہیں۔ دن میں یہ دونوں ہاتھوں میں پلاسٹک کے دستانے بھی پہنتے ہیں۔ انہوں نے میری کمر کے نیچے رکھی ڈبل چادر کو دونوں جانب سے پکڑا اور مجھے بائیں جانب پہلو پر الٹ دیا۔ مجھے بایاں پہلو بہتر لگتا ہے۔ اس طرف غسلخانے کا دروازہ، بلائنڈز کے عقب میں کھڑکی، دو کرسیاں، ایک میزجس پر ایک گلدان دھرا ہے۔ میز پر موبائل فون کا ایک چارجر پڑا ہے۔ نجانے کس کا ہو گا؟ شائد میرے پوتے پوتیوں میں کسی کا ہوگا۔ اب وہ ڈھونڈتے ہوں گے۔ جب میں اس ہسپتال میں داخل ہوا تھا تو اس گلدان میں تازہ گلاب کا ایک پھول رکھا تھا۔ اب کبھی کبھار میری بیٹیاں یا بہو گھر سے پھول لاکر اس گلدان میں رکھ دیتی ہیں۔ دائیں جانب صرف ایک سفید دیوار ہے جس پر ٹیوب لائیٹوں کے نیچے ایک فریم میں گھنے درختوں کے بیچوں بیچ ایک ندی کی تصویر نصب ہے۔ ایک کونے میں مصوّر کا نام بھی ہے لیکن عینکوں کے بغیر دکھائی نہیں دیتا۔ میرا بڑا بیٹا جب آتا ہے تو وہ مجھے عینک پہناتا ہے اور ٹی وی چلا دیتا ہے تاکہ میں نیوز چینل دیکھ سکوں۔ معلوم نہیں میرے لئے ٹی وی چلاتا ہے یا اپنے لئے ؟ دایاں پہلو ہو یا بایاں، سیدھا منہ کئے پشت کے بل لیٹنے سے پھر بھی بہتر ہوتاہے۔ اوپر صرف چھت دکھائی دیتی ہے اور سامنے دیوار پر ٹی وی۔ نیچے مجھے اپنے پیروں کے انگوٹھے دکھائی ہیں۔ میں اپنی توجہ اپنے انگوٹھوں پر مرکوز کرتا ہوں اور اپنے جسم کی تمام طاقت ان پر متجمع کرتا ہوں اور کبھی کبھار تو مجھے واقعی ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے ایک میں ضرور ارتعاش یا جنبش دکھائی دی تھی۔ اس منظر کے سامنے مجھے اپنی ناک کی نوک سے ٹیپ کے ساتھ چسپاں این جی ٹیوب کا پلاسٹک پائپ کا چند انچ کا خم نظر آتا ہے جس کے ذریعے مجھے خوراک دی جاتی تھی۔ پہلے پہل نیم گرم مائع سیال نما خوراک جب ناک کے ذریعے پیٹ میں پہنچتی تو مجھے بھاری پن اور تمازت کا احساس ہوتا تھا۔ لیکن اب وہ بھی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں “آپ بہت جلد سالڈِ کھانا کھانے لگیں گے، ویری سُون!” مجھے “ویری” اور “سوُن” دونوں الفاظ کے معنی بھولنے لگے ہیں۔ تَوے سے اترتے ہی سامنے لا رکھی جانے والی بھاپ نکالتی ہوئی چپاتی کا ذائقہ البتہ ابھی یاد ہے۔ سالہا سال میری بیوی نے میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھایا۔ جب میں کھانے کی میز پر بیٹھتا تو وہ کچن میں تازہ روٹی بنا رہی ہوتی تھی۔ جب سے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی ہے بہو چپاتی بناتی ہے اور میری بیوی میرے ساتھ بیٹھ کر کھاتی ہے۔۔۔ اس بات کو بھی۔۔۔ اس بات کو بھی۔۔۔ نجانے اس بات کو بھی کتنا عرصہ گزر گیا ؟ کتنے ہفتے، کتنے مہینے۔۔۔ مجھے تو صرف دو گھنٹوں کے وقفوں کا احساس رہتا ہے۔ جاتے جاتے ڈاکٹر اپنی گاڑی کی چابی کی نوک یکے بعد دیگرے میرے پیروں کے تلووں پر کھینچتا ہے۔ میں نگاہیں چھت پر گاڑے لیٹا رہتا ہوں۔ وہ کن انکھیوں سے میری جانب دیکھتا ہے کہ میرے پیروں کے تلووں یا میر ے چہرے پر کوئی ردّ عمل ظاہر ہوا یا نہیں۔ کبھی کبھار میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی تسّلی کے لئے ہی ایک مرتبہ “اوہ!” کہہ دوں۔ لیکن ڈاکٹر کو خوش کرنے سے کہیں زیادہ اہم بات میرے انگوٹھوں میں جنبش ہے۔ پھر میں نجانے کتنا وقت اپنے پیروں کے انگوٹھوں کو ہلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ دونوں انگوٹھے ساکت ہیں۔ جوانی میں منہ زور گھوڑوں کو اپنی رانوں کی طاقت سے قابو کر نے والے پٹھّے اتنے کمزور کیسے ہو گئے کہ ایک انگوٹھا بھی نہیں ہلا سکتے؟ میں پلک جھپکتا ہوں تو اپنا رخ دائیں جانب والی دیوار کی جانب پاتا ہوں۔ کتنی دیر ہو گئی ؟ وہ دونوں کب آئے تھے ؟ مجھے کمرے میں پیشاب اور ائرفریشنر کی ملی جلی بو آرہی ہے۔ انہوں نے میرا ڈائپر نہیں بدلا۔۔۔”بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔”

دوبارہ آنکھ کھلی تو فزیوتھراپسٹ ایک ہاتھ میرے گھٹنے کے پیچھے اور دوسرے ہاتھ سے میرا پاؤں اوپر نیچے کر رہا ہے۔ ہر حرکت کے ساتھ وہ “ہاں۔۔۔ ایسے۔۔۔ شاباش۔۔۔ بہت اچھا” کے الفاظ دہراتا ہے۔ دونوں ٹانگوں کی ورزش کرانے کے بعد وہ میرے پہلو میں آن کھڑا ہوتا ہے اور میرے بازوؤں کی ورزش کراتا ہے۔ میں اس کو دیکھتا ہوں تو وہ ایسی گرمجوشی سے مسکراتا ہے جیسے میں اس کا بچّہ ہوں اور سکول میں دوڑ میں اوّل آیا ہوں۔ فزیوتھراپی ختم کر کے وہ دروازے کی جانب مڑتا ہے تو یکایک اس کے چہرے سے گرمجوشی غائب ہو جاتی ہے اور اس کا چہرہ اس کے مضبوط ہاتھوں کی مانند سپاٹ ہو جاتا ہے۔ کوئی میرا چہرہ اپنی جانب موڑتا ہے۔ یہ نرس ہے جس کے ہاتھ میں پانی کے پائپ جتنی موٹی ایک سرنج ہے۔ وہ میرے ناک میں لگی این جی ٹیوب کی نالی کا دوسرا سرا اس سرنج میں لگاتی ہے۔ “انکل، کیا حال ہیں آپ کے؟ آج سٹرابری فلیور ہے۔ بہت مزے کا ہے۔ آپ کو بہت اچھا لگے گا۔ آپ بہت جلد سالڈِ کھانا کھانے لگیں گے، ویری سُون!” میں خود سے وعدہ کرتا ہوں کہ جس دن اپنے ہاتھوں پر اپنا قابو بحال ہوا تو اس نرس کا گلا گھونٹ دوں گا۔ “ویری سوُن!” وہ جاتے جاتے میرا چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ دیتی ہے۔ اس کے ہاتھوں سے جراثیم کش لوشن کی خوشبو آتی ہے۔ کھڑکی کے بلائنڈز آج بھی بند ہیں۔ مجھے آسمان اور بادلوں کا رنگ بھولنے لگا ہے۔ کیا فائدہ اس پہیوں والے بیڈ کا کہ اسے دھکیل کر باہر کاریڈور میں بھی نہ لے جا سکیں جہاں کہیں سے آسمان کی ایک جھلک دکھائی دے سکے۔ چھت۔۔۔ بائیں دیوار۔۔۔ دائیں دیوار۔۔۔

میز پر کھلے لیپ ٹاپ کے عقب میں مجھے اپنے بڑے بیٹے کا سر دکھائی دیا۔ وہ دفتر پہنچنے سے پہلے گھنٹہ ڈیڑھ ہستپال میں رکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے راؤنڈ کے بعد وہ اپنے دفتر چلا جاتا ہے۔ وہ اپنا سر اٹھاتا ہے اور مجھ سے نگاہیں چار ہوتے ہی لیپ ٹاپ بند کرتا ہے اور میرے پاس آن کھڑا ہوتا ہے۔ میرے گال کو سہلاتا ہے اور کہتا ہے، “ابّا، آپ کی شیو ہونے والی ہے!” مجھے بڑھی ہوئی شیو سے نفرت تھی۔ انسان بیمار لگتاہے۔ گھر میں کوئی ملازم بغیر شیو کئے دکھائی دیتا تو اس کی شامت آتی۔ میرا بیٹا بھی چھٹی والے دن شیو سے جی چراتا تھا اور مجھ سے ڈانٹ کھاتا تھا۔ آہ وہ سردیوں کے دن اتوار کی صبح۔۔۔ وہ دھوپ میں ٹیرس پر بیٹھنا اور غنودگی کے عالم میں حجام سے شیو بنوانا۔۔۔ میرا بیٹا انٹرکام میں کچھ بڑبڑاتا ہے اور چند ہی لمحوں میں ایک وارڈ بوائے ہاتھ میں شیونگ فوم اور ایک ڈسپوزیبل استرا اٹھائے اندر داخل ہوتا ہے۔ شیو کرنے کے معاملے میں وہ دونوں انتہائی پھرتیلے اور چست ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ شیو کے بعد میرا بیٹا ایک مرتبہ پھر میرا گال سہلائے گا اور خاموشی سے اس کے سفید کوٹ کی جیب میں سو پچاس کا نوٹ رکھ دے گا۔ میرے بیٹے کی کنپٹیوں میں سفیدی جھلک رہی ہے۔ پہلے تو نہیں تھی۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے؟ شائد ابھی پچاس کا بھی نہیں ہوا۔ لیکن اب تو خود اس کا بیٹا بھی قد کاٹھ میں اس سے نکلنے لگا ہے۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ اس کا نام کیا تھا؟ میرے پوتے کا نام کیا ہے؟ میں نے ہی تو رکھا تھا۔ میرے پوتے کا نام کیا ہے؟ میں چیختا ہوں، تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے؟ میرے پوتے کا کیا نام ہے؟ میری چیخوں سے کمرہ گونج اٹھتا ہے۔ ابھی ڈاکٹر نرسیں دوڑتے آئیں گے۔ لیکن میرا بیٹا اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے سر جھکائے بیٹھا ہے۔ وہ نظر اٹھاتا ہےاور فوراً اٹھ کر میری پیشانی سے پسینہ پونچھتا ہے۔ کمرے کے اے سی کی جانب بڑھتا ہے اور اسے ایک نمبر تیز کرتا ہے۔ “ابّا میں نے اے سی تیز کر دیا ہے!” وہ کرسی کی جانب واپس پلٹتا ہے، میں اس کی پشت سے مخاطب ہوتا ہوں، “یار، میرے پوتے کا نام تو بتا دو؟” اسے شائد کچھ سنائی دیا ہے۔ وہ اپنی ایڑیوں پر گھومتا ہے اور میرے قریب آتا ہے۔ میری ٹانگوں پر پڑی چادر اٹھاتا ہے، میرا پاجامہ اٹھا کر اندر جھانکتا ہے اور ناک قر یب کر کے سونگھتا ہے۔ پھر چادر اور پاجامہ دونوں درست کرتا ہے۔ میرے گالوں کی جلد میں ابھی اتنا احساس ہے کہ آنکھوں میں سے بہنے والے آنسؤ کی نمی محسوس کرسکوں۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ میرے گال خشک ہیں۔۔۔”بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔”

کمرے میں بھنبھناہٹ ابھر رہی ہے۔ اب میں اس بھنبھناہٹ کا عادی ہو گیا ہوں۔ “اللہ تعالیٰ کرم کرے گا انشا اللہ!”، “بھائی صاحب کی ہم پر بڑی مہربانیاں ہیں!”، “ڈاکٹر کچھ تو کہتے ہوں گے؟”، “بڑا اچھا وقت گزارا ہے ہم دونوں نے!”، “بس جی، صحت بڑی چیز ہے!”، “آپ جوس لیں نا!”، “کوئی بھی خدمت ہو ہمارے لائق تو ضرور بتانا!”، “دیکھیں، میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں ایسے کیسوں میں وقت تو لگتاہے!”۔۔۔ ابھی کل ہی، یا پرسوں، یا پچھلے ہفتے یا پچھلے مہینے۔۔۔ حاجی بشیر احمد آیا بیٹھا تھا۔ میرا ہم عمر بھی تھا اور ہمسایہ بھی۔ پچھلے رمضان جب اسے لاٹھی کے سہارے تراویح پڑھنے جاتے دیکھا تو ہم دونوں دیر تک ہنستے رہے، “حاجی، یا رتو اب لاٹھی پر آ گیا!” وہ جب ہسپتال آیا تو لاٹھی تھامے تھا۔ اسے شائد احساس ہو گیا کہ میں اس کی لاٹھی کو للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تبھی اس نے ہولے سے لاٹھی فرش پر لٹا دی۔ جب لوگ ملنے آتے ہیں تو کبھی کبھار ایک بے ساختہ قہقہہ کمرے میں ابھرتا ہے اور پھراگلے ہی لمحے خجالت اس کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ میں انہیں دیکھے بنا ہی جان جاتا ہوں کہ میری بیوی اور میری بیٹیاں جتنی دیر بھی کمرے میں بیٹھتی ہیں ان کی پوری کوشش رہتی ہے کہ ان کی مسکراہٹ یا ان کی ہنسی ظاہر نہ ہونے پائے۔ لیکن جس دن میری بیٹیاں میرے سامنے آن بیٹھیں اور مسکرا دیں اس دن شائد میں ایک ہاتھ سے ان کے گالوں کو چھو سکوں۔ کمرے میں سکوت کا تواتر صرف قران کے احتیاط سے الٹتے صفحات یا تسبیح کے گرتے دانوں کی دھیمی دھیمی ٹِک ٹِک ہی توڑتے ہیں۔ پھر یکایک سائلنٹ موڈ پر کئے موبائل کی بھنبھناہٹ۔۔۔ اور پھر کوئی موبائل کان سے لگائے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔ دروازہ بند ہونے سے پہلے میں آخری الفاظ سنتا ہوں، “نہیں۔۔۔ کوئی خاص امپروومنٹ تو نہیں ہے۔۔۔ ڈاکٹروں نے کیا کہنا ہے۔۔۔ لیکن آج مجھے لگا کہ مجھے دیکھ کر مسکرائے تھے۔۔۔ شائد !”

رات یا دن۔۔۔ وارڈ بوائے۔۔۔ائر فریشنر۔۔۔ تاریکی اور خاموشی۔۔۔ کاریڈور میں قدموں کی چاپ۔۔۔”بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔!”

معلوم نہیں کس دن ڈاکٹروں کا گروہ کمرے میں دیر تک موجود رہا۔ان میں فزیوتھراپسٹ اور وائس تھراپی والی ڈاکٹر سمیت سارے سپیشلسٹ شامل تھے۔ وہ سب میری طرف پشت کئے کھڑے دھیمی آوازوں میں باتیں کرتے رہے اور ایک دوسرے کو فائلیں دکھاتے رہے۔ گاہے بگاہے ان میں کوئی میری جانب اشارہ کرتا اوردوسرا میری جانب دیکھتا اور مسکراتا۔ یہ مسکراہٹ بھی چہرہ پلٹتے ہی ختم ہو جاتی۔ لہجوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ کسی نے فیصلہ صادر کیا، کوئی منمنایا، کسی نے ملتجیانہ انداز میں کہا، “دیکھیں۔۔۔ کب تک ؟۔۔۔ کیا کہہ سکتے ہیں ؟۔۔۔ میڈیکل بورڈ کا فیصلہ۔۔۔ لیکن، ڈاکٹر صاحب؟۔۔۔ مریض کا بھلا۔۔۔ گھر کے افراد۔۔۔ تقریباً ناممکن۔۔۔ وہیل چئیر۔۔۔ فُل باڈی۔۔۔ ہم کیسے؟۔۔۔ رپورٹیں۔۔۔ ہمارا توروز کا یہی کام ہے۔۔۔ آپ دیکھ لیں۔۔۔ دعا کریں۔۔۔ فیصلہ۔۔۔ کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ دوسرے سپیشلسٹ۔۔۔” ڈاکٹر قطار بنائے باہر گئے تو میری بیوی اور بیٹا بھی ان کے پیچھے باہر چل دئیے۔ جاتے ہوئے کسی نے میری جانب نہ دیکھا۔ ایک ازل کے بعد میری بیوی اور میرا بیٹا واپس کمرے میں داخل ہوئے۔ میری بیوی لپک کر باتھ روم میں گھس گئی۔ مجھے اندر سے چٹخنی لگنے کی آواز سنائی دی۔ چالیس سالوں میں میری بیوی نے صرف دون مرتبہ خود کو باتھ روم میں بند کیا تھا۔ ایک مرتبہ جب اسے اپنے باپ کی وفات کی خبر ملی تھی اور دوسری مرتبہ اپنی ماں کی۔ میرا بیٹا تھوڑی دیر اپنا سر ہاتھوں میں تھامے کرسی پر بیٹھا رہا، پھر اپنے دفتر والے بیگ میں کچھ ٹٹولنے لگا اور دوبارہ باہر چلا گیا۔ وہ میرے سامنے سے گزرا تو اس کی قمیض کی سامنے والی جیب میں اس کی چیک بک کی ایک جھلک دکھائی دی۔ میں دیر تک اس کے واپس لوٹنے کا انتظار کرتا رہا۔

سسکیوں اور سرگوشیوں کی آوازوں سے میری آنکھ کھلی۔ چند ہی لمحوں میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ میری بیٹیاں، بہو، بیوی سسکیاں بھر رہی تھیں اور میرا بڑا بیٹا سرگوشیوں میں مصروف تھا۔ میں چاہتا تو اتنا سر موڑ سکتا کہ انہیں دیکھ پاتا لیکن نجانے کیوں چہرہ چھت کی جانب کئے آنکھیں بند کئے پڑا رہا۔۔۔ سرگوشیاں جاری تھیں اور ہر چند لمحوں بعد ایک دو سسکیاں ابھرتیں اور پھر دم توڑ جاتیں۔ “کتنے دن اور ؟۔۔۔ سارے ڈاکٹر۔۔۔ قطعاً بہتری نہیں ہے۔۔۔ خطرے والی بات تو نہیں۔۔۔ اور اگر خدا نخواستہ۔۔۔ دوسرا ہسپتال گھر کے سامنے۔۔۔ فزیو والا لڑکا گھربھی آسکتا ہے۔۔۔ ایک یا دو میل نرس۔۔۔ کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔ جتنے بھی دن باقی۔۔۔ ہم سب مل جل کر۔۔۔ ہو سکتا ہے اللہ کچھ خیر کا سبب بنا دے۔۔۔ آرام اور سکون۔۔۔”

میں چھت کو تکتا رہا۔ چھت پر پینٹ میں پڑی دراڑیں چھوٹے چھوٹے سنپولیوں کی مانند کلبلانے لگیں۔ پھر چھت کا منظر بدلنے لگا۔ میں سکول جانے کے لئے گاؤں سے بڑی سڑک تک بھاگ رہا تھا۔۔۔ لپک کر بس کےعقب میں نصب جنگلے کو پکڑ کو بس کی چھت پر جا چڑھا۔۔۔ سکول میں ہاکی کھیل رہا تھا۔۔۔ پھر کالج میں سینہ تان کر چل رہا تھا۔۔۔ ایک گراؤنڈ میں وردی میں ملبوس اکڑ کر کھڑا تھا۔۔۔ میری طاقتور رانوں کے بیچ میں سرپٹ بھاگتا گھوڑا پسینے میں شرابور ہانپ رہا تھا۔۔۔ سپاہیوں کی ایک پلٹن میرے سامنے اٹن شن کھڑی تھی۔۔۔ میں چل رہا تھا اور درجن بھر ملازم ہاتھ باندھے سر جھکائے میرے پیچھے چل رہے تھے۔۔۔ میں کھڑا ہوتا تو اردگرد سب کھڑے ہو جاتے۔۔۔ میں بیٹھتا تو لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت ملتی۔۔۔ لوگ میری چھڑی کے اشارے کے منتظر تھے۔۔۔

جس بیوی کا ہاتھ تھام کر میں نے اپنے گھر کی دہلیز پارکرائی۔۔۔ جن بیٹیوں کو میں گھنٹوں اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھتا۔۔۔ جس بیٹے کی انگلی پکڑ کر میں نے پہلا قدم لینا سکھایا۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں اب اپنے پیروں کے انگوٹھے نہ ہلا پاؤں گا۔۔۔ اپنا پیر زمین پر نہ رکھ پاؤں گا۔۔۔ اپنا ہاتھ ہلا نہ پاؤں گا۔۔۔ کھڑا نہ ہو پاؤں گا۔۔۔ کروٹ بدل نہ پاؤں گا۔۔۔ جتنی بھی زندگی باقی ہے وہ میں چھت کو تکتے گزاروں گا۔۔۔ میرے بیڈ روم کی کھڑکی سے پہاڑوں کا وہ منظر جسے دیکھ کر میں نے وہاں گھر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ سردیوں میں ٹیریس پر بیٹھ کر دھوپ سینکتا اور اخبار پڑھتا۔۔۔ ایک ہاتھ میں اخبار اور دوسرے میں چائے کی پیالی۔۔۔ پیروں میں اونی جرابیں اور مخملیں سلیپر۔۔۔ مہمانوں کی آمد پر وہیں ٹیریس سے ہاتھ ہلا کر انکا استقبال کرنا۔۔۔ ہاتھ ہلا کر۔۔۔ ہاتھ ہلا کر۔۔۔ ہاتھ۔۔۔ہلا کر۔۔۔

میرے گالوں میں احساس باقی تھا۔۔۔ مجھے اپنے دونوں گالوں پر نمی محسوس ہوئی۔۔۔ دو آنسؤ دونوں گالوں سے بہتے ہوئے تکئے میں جذب ہو گئے۔ میں اپنے آنسؤ بھی نہ پونچھ پاؤں گا۔ یہ لمبا تڑنگا جسم، یہ نکلتا ہوا قد کاٹھ، یہ مضبوط ہاتھ، کبھی نہ تھکنے والی ٹانگیں۔۔۔ ڈائپر۔۔۔ پاجامہ۔۔۔ شیو۔۔۔ این جی ٹیوب۔۔۔ کینولا۔۔۔ ہولے ہولے کمرے کی روشنی سسکیاں سرگوشیاں معدوم ہوتی گئیں۔۔۔ چھت کی دراڑوں کے سنپولئے ساکت ہونے لگے۔۔۔ میں نے بائیں جانب دیکھا، وہ سب وہیں بیٹھے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ پھر میری بیوی نے اپنے دوپٹے کے پلو میں چہرہ چھپا لیا۔ میری بیٹی نے اپنا سر میرے بیٹے کے کاندھے پر رکھ دیا اور آنکھیں موند لیں۔
“بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔ بِپ بیپ بِپ۔۔۔”
“بیپ بیپ بیپ۔۔۔۔ بیپ بیپ بیپ۔۔۔ بیپ بیپ بیپ۔۔۔ ”
ب ی ی ی ی ی ی ی پ پ پ۔۔۔” ”

آخری مرتبہ سر موڑا تو میری بیوی اور میری بیٹی خوفزدہ نگاہوں اور بے یقینی کے عالم میری جانب دیکھ رہی ہیں۔۔۔ اور میرا بیٹا میرے پہلو میں کھڑا دیوانہ وار میرے سرہانے لگا سرخ بٹن دبائے جا رہا ہے۔ بہو نے میرے بیٹے کی آستین اپنے ہاتھ میں بھینچ رکھی ہے۔ پھر وہ میری بہو کو دھکیلتے ہوئے کمرے سے باہر بھاگ جاتا ہے۔۔۔ کمرے میں تاریکی چھا گئی۔ باہر کاریڈور میں بھاگنے کی آواز بلند ہوتی ہے۔۔۔

اور میرا بھاری پتھریلا فالج زدہ جسم یکایک روئی کے گالے کی مانند ہلکا پھلکا ہو گیا۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: