گلزارکے دونئے رنگ —— نعیم الرحمٰن

0
  • 34
    Shares

شاعر، مصنف، گیت نگار، فلم ساز، اسکرین پلے اور ڈائیلاگ نگار سمپورن سنگھ کالرا بھارتی سینما، ثقافت و ادب کی بلند قامت شخصیت ہیں۔ جو گلزار کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ گلزار اٹھارہ اگست انیس سو چونتیس کو پاکستانی شہر دینہ جہلم میں پیدا ہوئے۔ اورصرف تیرہ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ بھارت ہجرت کر گئے۔ لیکن دینہ کبھی بھی گلزارکے خوابوں سے دورنہیں ہوا۔ گلزارنے فلمی کیریئرکا آغاز فلم ساز بمل رائے کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ وہ بھارتی ادب کاایک بڑا نام ہیں۔ ان کاشمار اردو اور ہندی میں کے بہترین شعراء میں کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری اور افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو کرقارئین کی بھرپور داد حاصل کرچکے ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگورکی نظموں کے تراجم پر مبنی بھی ان کے دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ وہ بھارت میں بچوں کے بہترین ادیب بھی ہیں۔ گویالی جنڈ گلزار ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ انہیں ساہتیہ اکیڈمی اور پدما بھوشن ایوارڈ بھی ملے۔ فلم ’’سلم ڈاگ میلنیئر‘‘ کے لیے تحریر کردہ گیت پر آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔

چوراسی ویں سالگرہ سے قبل گلزار نے ’’دولوگ‘‘ تحریر کرکے ناول نگاری کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا۔ اس کے ساتھ نظموں، افسانوں اور ایک انٹرویو پر مبنی ایک مجموعہ ’’قدم زیرو لائن پر‘‘ بھی شائع ہوا ہے۔ دو لوگ کا موضوع تقسیمِ ہندکے بعد ہجرت سے جنم لینے والا المیہ ہے۔ گلزار دو لوگ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔

’’دو لوگوں کی اتنی بڑی ہجرت کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، لیکن ہم لوگ اُن زخموں کو دَبا کر بیٹھ گئے اور بات نہیں کی۔ نہ فلمیں بنائیں، نہ تبصرے کئے، نہ مُڑ کے جائزہ لیا۔ کچھ علاقائی زبانوں میں لکھا گیا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ پشتیں گزر گئیں لیکن وہ بھڑاس اب تک سینوں میں سُلگتی ہے۔ اپنی زمین سے اُکھڑے لوگ ابھی تک بسے نہیں۔ دو لوگ ایسے کچھ لوگوں کی کہانی ہے جو کیمبل پور سے نکل کر ہندوستان پہنچے اور اب تک بھٹک رہے ہیں۔ کچھ دوستوں کو یہ ناول مختصر لگے گا۔ لیکن یہ نوویلا نہیں ہے۔ اس کے سارے اَنگ پورے ناول کے ہیں۔‘‘

ہاتھوں نے دامن چھوڑانہیں، آنکھوں سے سگائی ٹوٹی نہیں
ہم چھوڑ توآئے اپنے وطن، سرحد کی کلائی چھوٹی نہیں
ناول کے سرورق پردرج شعراس کے موضوع کا عکاس ہے۔
ملک تو بٹا، لوگ بھی بٹ گئے وہ ایک لوگ تھے۔ اب دو لوگ ہوگئے

مستنصرحسین تارڑ اپنے تعارف میں لکھتے ہیں کہ

’’نثر کا ماجرہ کچھ یوں ہے۔ ناول نگار اپنے ہاتھوں سے اپنی ایف آئی آرلکھتاہے۔ اقبالِ جرم کرتاہے، سزا کا طلبگار ہوتا ہے۔ سیاہ کو سیاہ کہتا ہے اور سفید کو سفید کہتا ہے، وہ شاعری کی مانند کسی گرے ایریا میں پناہ نہیں لیتا۔ گلزار نے شاعری میں بھٹکتے ہوئے بالآخر دو لوگ کی صورت تاریخ کے تھانے میں اپنی رپٹ درج کروادی ہے۔ ذاتی طور پر پیش ہوگئے ہیں۔ یعنی شاعری کے کوچہء یارسے نکلے تو نثرکے سُوئے دارکی جانب چل پڑے ہیں۔ ایک ناول تو ہر ادیب اپنی حیات کے مشاہدوں اور تجربات کے نچوڑسے لکھ سکتاہے۔ اُ س کااصل امتحان تو دوسرا ناول ہوتا ہے جب سب کچھ نچڑ چکا ہوتا ہے اور اس کے باوجود وہ ایک نئی سراسر تخلیاتی شراب اپنے میں ڈوب کر کشید کرلے۔ مجھے گلزارکے دوسرے ناول کاابھی سے انتظارہے۔‘‘

انیس سو چھیالیس کے موسم سرما میں جب تقسیم اٹل ٹھہرنے کی خبریں آرہی تھیں، شرنارتھیوں سے بھرا ایک ٹرک کیمبل پور سے بارڈرکی طرف روانہ ہوتاہے۔ شرنارتھی جو خود معلوم واحد مقام سے اکھڑ چکے، اب جڑوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ جانے انہیں اپنا گھر تلاش کرنے میں اور کتنی زندگیاں لگیں گی۔ ’’دولوگ‘‘ انیس سو سینتالیس کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ ایک ایساقیامت خیزسانحہ جوگلزارپربیتا۔ وہ ایک سرزمین تھی،دوحصوں میں بٹ گئی اوراس کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل ہوگئی جسے پاٹا نہیں جاسکتا تھا اورجس نے شب بھر میں لاکھوں افراد کورفیوجی بنا دیا۔ لگ بھگ ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگ، مرد، عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے ایک ایسی تقدیرکے سبب بے گھر ہوگئے تھے جس کا انتخاب انہوں نے خود نہیں کیا تھا۔ اس تقسیم کے ہم راہ خون کی جو ہولی کھیلی گئی، اس میں تقریباً بیس لاکھ افراد کی جانیں گئیں۔‘‘

جینئس گلزار نے ایک سو پچیس صفحات کے ناول میں جیتے جاگتے کردار تخلیق کئے ہیں۔ کئی کہانیاں جو ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ جن کا مرکزگلزار کا پسندیدہ خطہ پنجاب ہے، تقسیم کاخونریز دورجب لاکھوں افراد بے گھر اپنی جڑوں سے جدا ہونے پر مجبور ہوئے۔ اکہتر سال میں ان میں سے بیشتر انتقال کرگئے۔ اُن کے بچے دادا اورپر دادا کے بتائے زخموں سے چُور ہیں۔ وہ اب تک ان زخموں کو بھلا نہیں سکے۔ گلزار نے ناول کی بنیاد کچھ حقائق اورحقیقی کرداروں پر رکھی ہے۔ زبان پران کی گرفت مثالی اور بیانیہ انتہائی دلچسپ ہے۔ تقسیم کے المیہ کوانہوں نے اپنے ڈرامائی ذہن سے تشکیل دیا ہے۔ جو قاری پر اپنی گرفت شروع سے آخر تک قائم رکھتا ہے۔

برٹش راج کاشہر کیمبل پورجواکتیس سال بعداپنے پرانے نام اٹک سے جانا گیا۔ ناول کے مرکزی کردار فوجی کا آرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ پرانے بازار سے خریدی ملٹری یونیفارم پہنے رہتاہے۔ اسی وجہ سے فوجی نام سے مشہور ہے۔ اس کا مذہب نہیں بتایا گیا۔ دوسرے حصے کے اختتام پراس کے مسلمان ہونے کاعلم ہوتا ہے۔ فوجی کا بہترین دوست لکھبیرا سنگھ روڈ سائیڈ پر ڈھابہ چلاتاہے۔ مقامی گورنمنٹ اسکول کا وائس پرنسپل ماسٹر فضل اور ماسٹر کرم سنگھ گہری دوستی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ ماسٹر کرم، فضل کے علم اور تجزیے کا قائل ہے۔ اورہر معاملے میں اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ ماسٹرفضل کی کلاس میں طلبا آزادی کے لیڈر سبھاش چندربوس کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ جس پر اینگلو انڈین پرنسپل اسٹیفن مینن جھوٹے الزام میں ماسٹر فضل کو گرفتار کرا دیتا ہے۔ اسے اسکول سے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ سرعام اس کی ننگی پیٹھ پرکوڑے برسائے جاتے ہیں۔ کرم سنگھ اس کے اوپر لیٹ کر کچھ کوڑے خود کھاتا ہے۔

مسلم، ہندو اور سکھ عوام میدان میں گھس کر ماسٹر فضل کو آزاد کراتے ہیں۔ جاب سے محرومی کے بعد ماسٹر فضل کے لیے گزر بسر بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ تواس کے دوبیٹوں کی تعلیم کا ذمہ کرم سنگھ خاموشی سے اپنے سرلے لیتا ہے۔ اور فضل کو کچھ ٹیوشن دلواتا ہے۔

ٹرک ڈرائیورکا اپنے ٹرک کے نمبرپینتیس چھتیس ہی سے پہچاناجاتاہے۔ لکھبیرااس کاپارٹنرہے۔ وہ ہمیشہ مختلف گاؤں اورقصبوں سے تقسیم کے متعلق خبریں لاتا ہے۔ جو اکثر غلط ہوتی ہیں۔ لیکن آخرکاراس کی لائی خبریں کی درست ثابت ہوتی ہیں۔ حالات کے تحت ہندو،سکھ اسی ٹرک کے ذریعے ہندوستان کارخ کرتے ہیں۔ راستے میں جنسی درندگی کا شکاردوبہنیں کوبھی شریک سفرکرلیاجاتاہے۔ سفرکے دوران دومسلح سکھ ان سے پیٹرول حاصل کرنے کی خاطر گولی چلاتے ہیں۔ جس سے لکھبیرامرجاتاہے۔ فوجی ٹرک سنبھال کرآگے روانہ ہوتاہے۔ لیکن دوٹائرخراب ہونے پریہ سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ مسافرپیدل روانہ ہو تے ہیں۔ کئی مشکل اورتکلیف دہ مراحل سے گزر کر یہ بے گھر شرنارتھی لوگ الگ الگ ہندوستان پہنچتے ہیں۔ تقسیم کی کہانیاں اور ناول عموماً بارڈر عبور کرنے پرختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن دولوگ میں گلزار نے نئے باب میں نئے ملک میں ان افراد کو درپیش مشکلات بھی بتائی ہیں۔ شرنارتھیوں کے ساتھ نئے ملک میں بھی وہی گذری۔ یوں دو لوگ ایک ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ انتہائی شاندار ناول کا بہترین اختتام بھی کیا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔
انیس سوسینتالیس کی تقسیم نے ادیبوں کی ایک پوری نسل کی تحریروں کومتاثرکیا اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گلزار تقسیم کی الم ناکیوں کے چشم دید گواہ ہیں اوریہ وہ موضوع ہے جس کی جانب وہ اپنی تحریروں میں بار بار لوٹ آتے رہے ہیں۔ ’’قدم زیرولائن پر‘‘ میں اسی موضوع پر گلزار کی بہترین تحریروں کو یکجا کر دیا گیا ہے جن میں فکشن، نان فکشن، نظمیں اور ایک انٹرویو شامل ہے۔ ان تحریروں کو جو چیز بٹوارے پر باقی تحریروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ گلزار کی جُزرس نگاہ صرف انیس سو سینتالیس کے واقعات پر ہی نہیں رُک جاتی بلکہ اس بات پر بھی مرکوز ہوتی ہے کہ وہ واقعات کیسے ہماری زندگیوں کواب تک متاثرکیے چلے جارہے ہیں۔ یہ مجموعہ پاک وہند کی آزادی کی سترویں اورگلزار کی چوراسی ویں سالگرہ کے موقع پرسامنے آیاہے۔ یہ برصغیرکے چندبہترین معاصرادیبوں میں سے ایک کی جانب سے ایک شاندار مجموعہ ہے۔ جس میں ناصرف برصغیرکی تاریخ میں پیش آنے والے ایک عظیم بھونچال کو موضوع بنایا گیا ہے بلکہ یہ مجموعہ ہمیں بروقت یہ بھی یاددلاتا ہے کہ جولوگ ماضی کی غلطیوں کو فراموش کر دیتے ہیں، ان غلطیوں کو دُہرانا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

کتاب کا انتساب’دینہ ‘ ضلع جہلم پاکستان کے نام ہے جہاں گلزار پیدا ہوئے۔

صاحبِ طرزواسلوب ادیب شکیل عادل زادہ خانہ بدرکے زیرِعنوان پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ’’گلزارکے بارے میں کوئی کیا کہے، ایک عجوبہ روزگار،نادرہ کارشخص۔ سربہ سر،سرتاپاایک تخلیق کار،ایک بے شمارفنکار۔ اُن پربہت لکھااورکہاگیاہے اورجولکھااورکہاگیاہے،وہ بہت کم لگتا ہے۔ وہ اب اسی سال سے اوپرہوچکے ہیں اورکام کررہے ہیں اورمسلسل چونکارہے ہیں۔ شعرہویاکہانی،وہ کچھ ایسا مختلف،جدا اورسوا کر دیتے ہیں کہ بے اختیارانہیں پیارکرنے کوجی چاہتاہے۔ فنون کے ہرشعبے میںتخلیقی قدرت پہلی شرط ہے،قوتِ اظہاردوسری۔ دونوں لازم وملزوم ہیںتبھیکوئی بات بنتی ہے۔ نت نئے خیالوں کی کثرت و فراوانی گلزار پہ بے پناہ ہے، اظہار و بیان کا سلیقہ مستزاد۔ کہتے ہیں، اظہار و بیان کی ہُنرمندی کو بھی ایک تخلیقی جُستجو اور تسلسلِ ریاضت چاہیے جو اول و آخر گلزار کے قریباً تمام قلم پاروں سے آشکاراہے۔ جُزرسی اور نکتہ طرازی اُ ن کا طرہء امتیاز ہے۔ ایک انٹرویو، چند نظموں اور چند کہانیوں پرمشتمل یہ مختصرکتاب دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بیانیے میں بہت آنسو، بڑا کرب ہے۔ انہیں کوئی ایسا ہی قلم کار تخلیق کرسکتا تھا، شدتِ احساس، فکروخیال، مثال آفرینی وندرت کاری میں جو گلزار کا مثیل ہو، اور دُور دُور تک ایسا کوئی نظرنہیں آتا۔

ابتدا میں شامل نظموں سے واضح ہے کہ دینہ گلزارکے تخیل سے کبھی جدا نہیں ہوا۔ کچھ لائنیں دیکھیں۔

بس اک وقفہ ٹھٹھر کررہ گیا تھا
چھڑی کو کھٹکھٹایا پھر زمیں پر
بڑھا کر ہاتھ بولے
’’چلو دینہ چلیں گے‘‘
میں زیرو لائن پر آکر کھڑا ہوں
مرے پیچھے مری پرچھائیں ہے، آواز دیتی ہے
وہاں جب مٹی چھوڑو گے
چلے آنا تمہارا گھر یہیں پرہے
تمہاری جنم بھومی ہے! وطن ہے
دینہ کے نام سے بھی ایک نظم ہے۔
میں واہگہ سے چلا تھا
زمینوں پرکھنچے خانوں میں
اسٹاپو کھیلتا اور پار کرتا
دُھویں کی گاڑی میں جہلم کا پُل گزرا
میں کالوال سے منگلا کے پیچھے کی طرف نکلا
جہاں کُرلاں سے لگتاشہر ’دینہ‘ ہے
وہاں پیدا ہوا تھا میں
دینہ میں اوردیگرکئی نظموں میں بھی گلزارنے اپنی جنم بھومی کو یاد کیا ہے۔
ایک ہی چکرلیتاہے چکی پررکھاعمرکاچاک
ایک ہی چکرمیں سارا کچھ پس جاتا ہے
لوٹ رہا ہوں ’دینہ‘ جہاں سے چاک چلاتھا
اورپھر
مجھے واگھاپہ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے بشن سے جاکے ملناہے
سناہے وہ ابھی تک سوجے پیروں پرکھڑاہے جس جگہ منٹونے چھوڑاتھا
وہ اب تک بڑبڑاتاہے
اپردی گڑگڑری دی منگ دی دال دی لالٹین
ایک بہت خوبصورت نظم کاآخری بند ہے
تمہیں عزیز ہے اپناوطن، میں جانتاہوں
مجھے بھی اُ س سے محبت ہے،تم یقیں کرلو
ذراسا فرق ہے گرتم سمجھ سکو اس کو
کہ وہیں کے ہو اور میں وہیں سے ہوں

غزل کا آخری شعر ہے
اُٹھو کبڈی کبڈی کھیلیں گے، سرحدوں پر
جو آئے اب کے، تولَوٹ کر پھر نہ جائے کوئی

گیارہ کہانیاں میں پہلی ’’راوی پار‘‘ ہے۔ جس کاکرداردرشن سنگھ ماں باپ کے لاشیں چھوڑ کر نومولود جڑواں بیٹوں اور بیوی کو لیکر بمشکل ٹرین کی چھت پرجگہ حاصل کرتاہے۔ کچھ دیر بعد پتہ چلتاہے کہ ایک بچہ مرچکاہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسے پھینک دو، لیکن ماں تیار نہیں ہوتی۔ ٹرین جب دریاسے گذرتی ہے لوگوں کے کہنے پردرشن سنگھ بچے کو ٹوکری سے اٹھا کر پھینکتا ہے تب اس بچے کی چیخ سنائی دیتی ہے۔ جبکہ مردہ بچے کوماںسینے سے لگائے ہے۔ سید کاشف رضا نے آخری تجزیہ میں لکھاہے کہ ’’کہانی دھواں ایک سوال چھوڑجاتی ہے’’کیا ہجوم کے اجتماعی ارادے کے سامنے انفرادی ارادے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ دہلی کے مضافات میں سبزی منڈی کے علاقے میں خود اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہانی’’جامن کاپیڑ‘‘ ایک ایسی بستی کی تخلیق نوکرتی ہے جوتباہی کے دہانے پرہے کیونکہ عام آدمیوں کی زندگیوں کے سماجی تاروپودکوفرقہ واریت کی ہواؤں نے بکھیرکے رکھ دیاہے۔ ’’آدم بو‘‘ اور ’’تلاش‘‘ مجموعہ کی دوبہترین کہانیاں دونوں کشمیر پر ہیں۔‘‘ غرض یہ مجموعہ ایک حساس دل کو تڑپا دیتا ہے۔

جوگندرپال سے انٹرویو میں بھی گلزارنے اپنے نقطہ نظرکی وضاحت کی ہے۔ جس میں کرشن چندر اور منٹو کی فسادات پر کہانیوں کا ذکر ہے۔

آخر میں گلزارنے ایک نوٹ میں لکھاہے۔ ’’میں نے ہندوستان کاپارٹیشن دیکھاہے،اس سے گزراہوں،اورزیرولائن پرکھڑاہوکراب بھی اُس کے اثرات دیکھ رہاہوں۔ سترسال ہوگئے۔ کہیں دُھواں نظرآتاہے،کہیں چنگاریاں اڑتی ہیں۔ ، اورکہیں آگ کی لپٹیں اُٹھ اُٹھ کردیکھتی ہیں۔ جنگِ عظیم بھی بجھ کے راکھ ہوگئی۔ یہ عظیم تقسیم نہ جانے کب بجھے گی۔ کب تاریخ کی راکھ میں شامل ہوگی۔ ‘‘

’’دولوگ‘‘ اور ’’قدم زیرو لائن پر‘‘ گلزارکے دوایسی بہترین کتب ہیں۔ جنہیں ہرقاری سے پڑھنے کی سفارش کی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: