لگتا ہے کہ میں بولتا ہوں —– حسن تیمور جکھڑ

0
  • 86
    Shares

اپنے لڑکپن میں میں اکثریتی عوام کی طرح مسلم لیگ ن کو پسند کرتا تھا۔۔ پسندیدگی کی وجہ بھی شائد نواز شریف کےاقدامات سےزیادہ اس کی بھولی صورت اور پیپلز پارٹی سے پیدا کی گئی نفرت تھی۔۔ 1997سے 2008 تک کے انتخابات میں دلی رجحان اور ہمدردی مسلم لیگ ن کی جانب تھی۔۔ موٹروے بنانے، بجلی پیدا کرنے، نوکریاں دینے آسان قرضے اور ایسے ہی کئی دوسرے اعلان بہت متاثر کیا کرتے تھے۔۔ پھر غالبا 2009 میں ایک روز اپنے پسندیدہ کرکٹر عمران خان کی میڈیاسے کی گئی گفتگو کا ایک حصہ سننے کا اتفاق ہوا۔۔ غالبا کسی تقریب سے خطاب تھا جس میں کپتان کی زبان سے پہلی مرتبہ “گرین پاسپورٹ کی عزت” کا لفظ سننے کو ملا۔ییہاں تک ہی نہیں، بلکہ قرضوں کے بڑھتے بوجھے اور روپے کی گرتی قدر کا حوالہ بھی پہلی بار سننے کو ملا۔۔ یہ مجھے جیسے کم عمر جذباتی نوجوان کے لیے بےحد حیرت کا باعث تھا کہ موٹروے، صنعتوں، قرضوں کے علاوہ بھی ملک کےمسائل ہوتے ہیں؟؟ خاص کر عوام کی عزت۔۔۔۔ذہنی بلوغت کی جانب یہ ایک قدم تھا۔۔۔

اس تقریر کےبعد عمران خان کی باتیں سننے کا دل کرنے لگا،،اب ہر موقع پہ سامنے آنے والا نیاسے نیا نقطہ حیرت کے ساتھ ساتھ جوش و جذبے کا بھی باعث بننے لگا۔۔ خصوصا کرپشن اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی باتیں تو ایسی تھیں جیسے دل کی بات سننے کو مل رہی ہو۔۔۔ عوام کی عزت کا جو تصور عمران خان نے پیش کیا وہ اس سے قبل مروج نہ تھا۔۔ ایک ایسا نظام جہاں عوام کے ووٹ کی عزت ہو، جہاں ووٹر کو سوال کا حق ہو۔۔ جہاں کارکن اپنے لیڈرکا دامن پکڑ سکے، جہاں حاکم اپنی رعایا کے سامنے جوابدہ ہو۔۔۔ جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی، ساتھ  ساتھ شعور میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔ تب روایتی سیاستدانوں کی باتوں کی بجائے ایک رہنما کی باتیں زیادہ متاثر کررہی تھں۔۔۔ ہم جیسے جوانوں کےلیے یہ اس خواب کے جیسا تھا جس کو دیکھتے وقت آنکھ کھولنے کا دل نہیں کرتا،کہیں سپنا ٹوٹ ہی نہ جائے۔۔ مگر خواب کو حقیقت کا روپ دینے کےلیے”آنکھ کھولنا” لازمی تھا۔۔ سو پورے جوش وجذبے سے اس کاررواں کا حصہ بنے جس کا مقصد صرف و صرف اپنے ملک کی فلاح وبہبود تھا،،جس کا مقصد ملک سے کرپٹ اشرافیہ کاخاتمہ کرکے حقیقی عوامی حکمرانی کی راہیں ہموار کرنا تھا۔۔۔ جس کامقصد وی آئی پی کلچر ختم کرکے برابری کو فروغ دینا تھا۔۔۔ اس راستے میں مشکلات بھی بھرپور تھیں۔۔ ہمارامقابلہ صرف کرپٹ رہنماوں سے ہی نہیں بلکہ ایک مایوس نسل سے بھی تھا۔۔ وہ نسل جس نے اسی نوعیت کے خواب دیکھے اور پھر انہیں کرچی کرچی ہوتے بھی دیکھا۔۔ اس نسل سے، جس کی جینز میں مایوسی بھر دی گئی تھی،جس کو ہر “اچھی چیز” اپنی دسترس سے باہر دکھائی دیتی تھی، جس کو ہر بری چیز “مقدر کا لکھا” لگتی تھی۔۔ محروم طبقات نے عمران کی شکل میں نئی جدوجہد شروع کی تو صرف سات برس میں ہی انہیں وہ کامیابی ملی جس کو پانے کےلیے عموما عشروں کی جدوجہد درکار ہوتی ہے۔۔ مگر شائد یہ منزل کا حصول نہیں، سفر کا آغاز ہے۔۔۔ اصل کامیابی نئے منتخب وزیراعظم کے وہ الفاظ تھے جو ہمیں 19اگست کی شب سننے کو ملے۔۔۔

19اگست کی شب قوم سے اپنے پہلے باقاعدہ خطاب میں وزیر اعظم عمران احمدخان نیازی کےالفاظ حقیقت میں اس “سحر کی نوید” تھی جس کے ہونے کے انتظار میں ایک نسل بوڑھی جبکہ دوسری شدت پسند ہوچکی تھی۔۔ پروٹوکول کےخاتمے اور سادگی اپنانے کے الفاظ تپتے صحرا پہ بارش کی پہلی بوند جیسے اثرات کےحامل تھے۔۔ قرض میں ڈوبے ملک کے وزیراعظم ہاوس کے کروڑوں کے اخراجات، ملازمین کی فوج ظفر موج، گاڑیوں لمبی قطاروں، وزرا کی عیاشیوں، غیر ملکی دوروں سمیت دیگر غیرضروری پرتعیش اخراجات کی خاتمے کی بات وہ خواہش تھی جس کا ہم تصور اپنے خواب و خیال میں بھی نہ لاسکتے تھے۔۔۔

اب جب کہ ہم اپنے خواب کی تکمیل کےراستے پہ گامزن ہو چکے ہیں تو ایسے میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے یقین اور صبر کی۔۔ وہ ہے عمل پہیم اورجہدمسلسل کی۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ترقی اور خوشحالی کی اس راہ پہ ہمیں غربت اور افلاس بھی سہنی پڑے، ہوسکتا ہے کہ ہمیں مرغن چھوڑ کر گھاس بھی کھانی پڑے۔۔ لیکن اگر ہم ایسا کرگئے تو آئندہ زمانوں میں ہمارا پرچم سربلند ہوگا۔۔۔۔ میرا ایمان ہے اگر رہنما ایک قدم بڑھائے تو عوام دو قدم بڑھانے پہ تیار رہتے ہیں۔۔اور خوش قسمتی سے ہمیں حکمران کی بجائے اس وقت رہنما میسر ہے۔۔۔ اب کرگزرنے کاوقت ہے، اور مجھے یقین ہے ہم ضرور کرگزریں گے۔۔ان شااللہ

‏آؤ سنتے ہیں شہر کے نئے حاکم کا خطاب
بات کرتا ہے تو لگتا ہے کہ میں بولتا ہوں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: