پاکستانی سیاست میں الیکٹیبلز کا کردار — ارشد محمود

0
  • 55
    Shares

کہانی ذرا پیچھے جاتی ہے۔ انگریز نے برصغیر پر حکومت کے لئے یہاں پہلے سے موجود خواص جن میں چوہدری، جاٹ، خوانین، سید، سردار اور مختلف مسالک کے مولوی شامل تھے کو یا تو لالچ دے کر ساتھ ملا لیا یا مار دیا۔ پھر رفتہ رفتہ اسے جوں جوں امور سلطنت چلانے کے لئے وفا داروں کی ضرورت پڑتی گئی وہ مختلف علاقوں کے سرکردہ لوگوں کو انکے مقامی عوام کے خلاف اور انگریز سے وفاداری کے عوض سرکاری املاک دیتا گیا۔ یوں کچھ خاندان امور سلطنت چلانے میں مہارت اور تجربہ حاصل کر کے سیاسی اور انتظامی عہدوں پر قابض ہو گئے۔ یہی لوگ عام لوگوں میں اثر رسوخ بھی رکھتے تھے اور انکو خام مال کی طرح استعمال اور پیش بھی کیا کرتے تھے۔
ان لوگوں نے جب دوسری جنگ عظیم سے کمزور ہوتے انگریز کے قدم اکھڑے دیکھے اور تقسیم ہند کو قریب پایا تو مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ قائداعظم کو بھی تحریک پاکستان کی کامیابی کے قریب انہی لوگوں کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں ان پر اکتفا کرنا پڑا۔ انہی کے بارے میں انہیں کہنا پڑا کہ میری جیبیں کھوٹے سکوں سے بھری پڑی ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد سے انہی لوگوں نے سیاست میں اہم۔ کردار ادا کیا ہے۔ جہالت اور غربت کی وجہ سے عام آدمی انکے ہاتھوں استعمال ہونے پر مجبور ہے۔ بھٹو ہو یا نواز شریف وہ ان لوگوں کے بنا عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ ہمارے دو ڈکٹیٹر ضیا الحق اور پرویزشرف بھی اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے انکی طرف متوجہ ہونا پڑا۔ باوجود ادراک کے بھٹو، نواز شریف یا کوئی ڈکٹیٹر انکی اجارہ داریاں ختم نہیں کر سکا۔ اور انہی کا وزن مخالف پلڑے میں جانے سے اقتدار سے محروم ہوئے۔ سیاسی اور ملٹری سربراہان کے ناکامی اور ان الیکٹیبلز کی کامیابی کی وجوہات پر بحث الگ مضمون کی متقاضی ہے جو کسی اور وقت۔

اب آتے ہیں عمران خان کی طرف۔ اسکا 22 سالہ سفر اصولی اور صاف ستھری سیاست سے شروع ہو کر ہلڑ بازی اور الیکٹیبلز کو ساتھ ملانے جیسی بے اصولی اور پھر حکومت سازی کی کہانی ہے۔ اس نے پہلا الیکشن ان کے خلاف لڑا اور صرف ایک سیٹ جیتا، دوسرے الیکشن میں چند لوگوں کو ساتھ ملا کر لڑا تو کچھ سیٹیں جیت گیا۔ اور الیکشن 2018 میں اکثریت کو دوسری پارٹیوں سے کھینچ لے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوا تو حکومت سازی میں کامیاب رہا۔ میں اکثر کہتا ہوں عمران ایک سیاستدان نہیں لیڈر ہے۔ وہ فائٹر ہے۔ وہ کوئی بھی کام برائے کام نہیں کرتا۔ وہ اس کام کو مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ اس نے سیاست میں قدم شہرت دولت یا کسی اور کمتر مقصد کے لیے نہیں رکھا تھا۔ اس نے سیاست میں قدم معاشرتی تبدیلی کے لئے رکھا تھا۔ منزل واضح تھی سو زمینی حقائق اور حالات کے تحت رستے بدلنے کے باوجود مایوس نہیں ہوا۔ اس نے ن لیگ, پی پی پی, ایم کیو ایم, مذہبی جماعتوں کے انتخابی عمل میں طریقہ ہائے واردات کا جائزہ لے کر حکمت عملی تیار کی اور یوں۔ بڑے مقصد کے لیے چھوٹے اصولوں کی قربانی دے کر وقتی طور پر سمجھوتہ کیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے مقصد سے ہٹ گیا ہے۔ عمران نے بہت عقلمندی سے عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ سیاسی بساط پر دوسری سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے اہم مہرے اٹھا کر ساتھ ملا لئے اور انہیں بے دست و پا کر کے تقریبآ بے اثر کر دیا ہے۔ ان سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے سربراہان اپنی پارٹیوں تو کجا اپنی بقا کی جنگ بھی ہارتے نظر آ رہے ہیں۔

عمران نے انگریز، سیاسی لیڈرز، مذہبی راہنماوں اور فوجی ڈکٹیٹرز کی طرح الیکٹیبلز کا استعمال تو کیا ہے لیکن میری خوش گمانی ہے کہ اسکے اور انکے مقاصد میں فرق ہے۔ اور اصل شئے مقصد ہوتا ہے۔

حو دوست الیکٹیبلز کے انتخابی عمل میں کردار کے مخالف ہیں وہ پاکستان کے معروضی حالات میں خونی انقلاب کے علاوہ تبدیلی کے لئے کوئ اور متبادل قابل عمل حل تجویز کریں میں اپنی رائے سے رجوع کرنے میں بالکل دیر نہیں کروں گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: