تبدیلی، تنقید اور امید کا سفر —- محمد عثمان

0
  • 192
    Shares

برٹنڈ رسل کا کہنا ہے بہت زیادہ امیدیں مصائب و آلائم کی شدت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور اسطرح پیدا ہوئی امیدیں صرف غیر منطقی ہی ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں عام آدمی کے بد سے بدترین معاشی حالات، کچلی ہوئی عزت نفس اور تعلیمی پسماندگی کے باوجود بہتری کی خواہش غیر منطقی بالکل نہیں ہے لیکن اس جائز خواہش کے حصول کے لئے رہنمائی کے دعویدار لیڈروں کی لن ترانیاں و قلابازیاں ضرور غیر منطقی اور ان کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔ بھٹو کے بعد چالیس سال تک پاکستان کی عوام نے کسی مسیحائی دعوے پر یقین نہیں کیا اب اگر عمران خان بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہ لا سکے تو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے شاید کئی اور نسلیں نگل جائیں۔

تنقیدی شعور کی آبیاری کسی بھی سیاسی نظام کی تطہیر و پیداواری صلاحیت کے لیے ناگزیر ہے۔ سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر ہر طرح کا من پسند سچ موجود ہے۔ ہر پارٹی کے اپنے پروپیگنڈا سیل و چاہنے والے ‘دانشور’ موجود ہیں۔ پروپیگنڈا مشینری سے تو توقع عبث ہے لیکن سوشل میڈیائی دانشور بھی اپنے تعصبات کے اسیر ہیں۔ رہنمائی کی دعویدار شخصیات کو متعصب تجزیات زیب نہیں دیتے۔ تعصب، چاہے وہ کسی پارٹی کے حق میں ہو یا مخالفت میں، پاکستانی سیاست کے لیے موت کا پیغام ہے۔ لیڈران کے غلط کاموں کا جواز پیش کرنا اور فالوورز کا انہیں آگے شئر کرنا سیاسی غلط کاریوں کے پھیلاؤ اور جائز تنقید سے آنکھیں بند کرنے کی وجہ بنتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی دفاع و خارجی پالیسی پر اجارہ داری باقی شعبوں میں بیڈ گورنس و کرپشن کا جواز نہیں بن سکتی نیز سٹیٹس کو کی شکست کے لیے موسمی پرندوں اور لوٹوں کو الیکٹیبلز کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔

دائروں میں سفر سے انکاری اشخاص نے اپنی جائز امیدوں کے حصول کے لیے محدود آپشنز کے باعث غیر منطقی طریقہ کار اختیار کرنے والے کو فوقیت دی۔ اب جبکہ نئی حکومت برسراقتدار آ چکی ہے آثار واضح ہوتے جا رہے ہیں کہ ہر حکومت کی طرح اس حکومت سے بھی صنعت کار و پیشہ ور ماہرین اور موسمی پرندے اپنا حصہ وصول کرنے پہنچ چکے ہیں۔ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی نامزدگی، اصلاحاتی کمیٹی کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کی تعیناتی اور بچوں کی غذائی ضروریات کے فنڈز ہڑپ کرنے والی زبیدہ جلال اور کروڑوں کا قرض معاف کروانے والی فہمیدہ مرزا کی کابینہ میں شمولیت تبدیلی کے نام پر دھبے ہیں۔ الیکشن سے پہلے بتایا جاتا تھا ان بوڑھے گھوڑوں اور چلے ہوئے کارتوسوں کے بغیر حکومت ملنا ممکن نہیں لیکن اب یہ کمپرومائزز عوام کی امیدوں کے ساتھ کھلواڑ ہیں۔ بطخ کے انڈے مرغی کے نیچے رکھ کر کہا جائے ‘ابھی تو حکومت بنی ہے ابھی موقع دیں’ مرغی کے بچے ہی نکلیں گے بددیانتی نہ سہی خود فریبی ہے۔

عمران خان پر مثبت تنقید اسے اسکے ساتھیوں کی بلیک میلنگ سے باہر آنے میں مدد دے گی اور صرف اسکی حکومت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہو گی بلکہ آنے والی تمام حکومتوں کیلئے بھی ایک ٹرینڈ سیٹ ہو گا۔

کسی بھی جماعت یا رہنما کے حصے کے بیوقوف بننے کی بجائے کڑے محتسب بننا زیادہ مستحسن و پیداواری عمل ہے۔ عام شخص نے وزیر، مشیر یا سینیٹر نہیں بننا مقصد پاکستان کی بہتری ہے تو اس کے لیے مخالفین کی پالیسیز پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنے لیڈر سے سوال کرنا بھی ترقی کے سفر کی برقراری کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے سب سے بہترین وقت بنیادیں رکھنے کے وقت یعنی ہنی مون پیریڈ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

تبدیلی ایک ارتقائی عمل ہے نہ کہ کوئی اچانک سے حاصل ہو جانے والی چیز۔ بھٹو اور نواز شریف کی طرح عمران خان کو بھی پاور سٹرکچر کا ناگزیر حصہ بنانا ترجیح نہیں تھی۔ تبدیلی کے ارتقائی عمل میں اگلا قدم اٹھانا مقصد تھا اسی لئے خامیوں اور غلطیوں کے باوجود عمران خان کو سپورٹ کیا گیا۔

شخصیات کی بجائے اصولوں کی ترویج مقصد ہونا چاہیے۔ عمران خان اس ملک کا پہلا سچ نہیں ہیں نہ ہی وہ آخری سچ ثابت ہونگے۔ لوگوں کو دوبارہ مایوسیوں سے بچانے، تنقیدی شعور کی آبیاری اور سفر کی سمت درست رکھنے کے لیے میرٹ پر تنقید ناگزیر ہے۔ عمران خان پر مثبت تنقید اسے اسکے ساتھیوں کی بلیک میلنگ سے باہر آنے میں مدد دے گی اور صرف اسکی حکومت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہو گی بلکہ آنے والی تمام حکومتوں کیلئے بھی ایک ٹرینڈ سیٹ ہو گا۔ نیز کسی نئے لیڈر کے پنپنے اور ابھرنے کے لیے بھی مناسب حالات پیدا ہو نگے۔ یاد رکھنا ہو گا موجودہ دعووں کے ساتھ پرانی جماعتوں کی طرف واپس لوٹنا کسی صورت آپشن نہیں ہے۔ یہ سرزمین ابھی بانجھ نہیں ہوئی خوب سے خوب تر کی تلاش اور آگے بڑھتے رہنا ہی مقصد ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: