اقبال اور علم کلام: علی عباس جلالپوری —– احمد جاوید

0
  • 126
    Shares

اعتراض:
اہل تصوف کی اہم شخصیات امام غزالی، مولانا روم اور علامہ ابن عربی نے عقل کے اوپر وجدان کو فوقیت دی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں فکری سوچ کی حوصلہ شکنی ھوئی اور مسلمان زوال کی جانب بڑھتے گئے علامہ اقبال بھی ان حضرات کی پیروی میں عقل کو ثانوی حیثیت دیتے تھے اور وجدان کی برتری کے قائل تھے۔ جب کے اس کے مقابل اہل مغرب نے عقل کو فوقیت دی تو وہ علم کے امام بن گئے۔ ۔ لہزا فکر اقبال کسی طرح بھی مسلم زوال سے نجات نہیں دلا سکتی۔ بحوالہ: “اقبال اور علم کلام” از علی عباس جلالپوری

جواب:
١- علی عباس جلالپوری صاحب کی شاید تمام تحریریں دیکھ لینے کے بعد میری ان کے بارے میں یہ رائے بنی ہے کہ وہ تاریخ فلسفہ کے اچھے طالب علم تھے لیکن کسی فلسفے کی گہرائیوں میں اترے بغیر اس پر صحیح یا غلط ہونے کا حکم لگا دیتے تھے۔ اس رویے کی وجہ سے ان کی رائے اکثر سطحی مگر تحکمانہ ہو جاتی تھی۔ “اقبال کا علم الکلام” کتابی شکل میں آنے سے پہلے “فنون” رسالے میں قسط وار شائع ہوئی تھی۔ اس کی ہر قسط کا بشیر احمد ڈار صاحب نے جواب دیا، وہ جوابات بھی اسی رسالے میں ساتھ ساتھ چھپتے رہے۔ آپ ایک نظر اس مباحثے پر ڈال سکیں تو امید ہے کہ کئی مسائل میں ذہن صاف ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ “فنون” ہی میں جلالپوری صاحب کا ایک مباحثہ محمد ارشاد صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا جو خاص طور پر دیکھنے کی چیز ہے۔ ارشاد صاحب نے انھیں بالکل بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔ بہرحال، اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جلالپوری صاحب کے علم اور مزاج کی محدودیت اور شدت بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔

٢- اقبال نے وجدان اور عقل کو دو جداگانہ قوتیں سمجھ یا مان کر وجدان کو عقل پر ایسی ترجیح نہیں دی جس کے نتیجے میں عقل کی تردید یا تحقیر ہوتی ہو۔ اقبال، وجدان کو عقل ہی کی ایک زیادہ کامل اور ترقی یافتہ صورت سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے پر اقبال کی بات کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ عقل جب خود اپنا عرفان حاصل کر لیتی ہے تو وجدان بن جاتی ہے، اور اس سطح پر حقیقت یا مابعدالطبیعی حقائق کے ساتھ ایک علمی نسبت پیدا کرنے کی صلاحیت فراہم کر لیتی ہے۔ ہم اس تصور عقل /وجدان سے اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن اسے اقبال کی عقل دشمنی قرار دینا بے انصافی اور کم فہمی ہے۔ یہ تو اقبال بھی بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے زوال کا بہت بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے عقل کے محسوساتی یا سائنسی کردار سے خود کو لا تعلق کر لیا جس کی وجہ سے مغرب ہم سے آگے نکل گیا۔ تاہم مغرب کی علمی برتری کی بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے کہ ان کے نظریہء علم وعقل پر ایمان لانا ضروری ہو جائے۔ جس نظام علم سے خدا خارج ہو جائے اور کائنات کی مابعدالطبیعی اساس واہمہ بن کر رہ جائے، اس نظام کو عقل کے بہترین استعمال کا نمونہ سمجھنا عقل مندی نہ ہو گا۔ ہاں اس میں کیا شبہ ہے کہ کائنات اور انسان کے mechanics کے تجزیے میں مغرب نے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کر دکھائی ہیں، ان کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ اور یہ سب کچھ محسوس و مشہود دنیا کو اہمیت دینے کے نتیجے میں ہوا جو ہم نہ دے سکے۔ اقبال بھی یہی کہتے ہیں۔

٣- ہماری روایت میں وجدان، شعور کی اس حالت کو کہتے ہیں جو حقائق، یعنی ماوراء حس و مشاہدہ امور کے غیر ارادی انکشاف سے تشکیل پاتی ہے۔ لیکن یہ وجدان کی متفقہ تعریف نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ وجدان، عقل ہی کی ایک صورت ہے۔ تیسری تعریف یہ ہے کہ شعور میں کچھ چیزیں تجربے اور تعقل سے پہلے موجود ہوتی ہیں، جیسے زمان و مکاں، اعداد، حقیقت وغیرہ کے تصورات جو ذہن میں کہیں سے سیکھے بغیر موجود ہیں۔ انھیں وجدانات کہا جاتا ہے۔ یعنی وجدان، تعقل کا بنیادی مادہ ہے۔ غرض وجدان اپنے ہر معنی میں سب لوگوں کو صلاحیت کے طور پر حاصل ہے، اور اس کی بیداری اور ترقی کا عمل عقل، ارادے اور جذبے کی مشترکہ یکسوئی سے ہوتا ہے۔

(راجہ قاسم محمود کے جواب میں)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: