خارجہ پالیسی اور قوم کا بخار —– کلیم بخاری

0
  • 16
    Shares

ماسٹرز میں انٹرنیشنل ریلیشنز میرا پسندیدہ مضمون تھا اور اُس میں میرا نتیجہ ہمیشہ شاندار رہا، فارن پالیسی، ڈپلومیسی، نیشنل انٹرسٹ، بیلنس اف پاور، انٹرنیشنل ارگنائزیشن غرض جتنے موضوعات تھے میرے پسندیدہ تھے۔

یہاں پر اِن باتوں کے زکر کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہمارے ہاں خارجہ پالیسی کو لوگ بلدیاتی انتخابات یا کسی کونسلر کے زمہ داری کا سبجیکٹ جیسے ہی گردانتے ہیں۔ اسکے کئی فیکٹر ہوتے ہیں مجھے یقین ہے کہ ان فیکٹرز کا ہمارے بہت سے دوستوں کو علم ہی نہیں ہوگا۔

پاکستان کے 22 ویں متنخب وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا اور 19 اگست رات کو قوم سے خطاب کیا پاکستان کے بینادی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی مگر ایک خاص طبقے نے پرانا واویلا مچایا کہ دیکھو اِس وزیراعظم نے بھی خارجہ پالیسی کو نظرانداز کیا یعنی کہ وہ کہنا چا رہے ہو کہ یہاں وزیر اعظم ہمیشہ کی طرح بے بس ہی ہیں۔

پہلے میں خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کرتا ہوں کہ اِسکی ابتداء کہاں سے ہوئی کن کن دور میں فارن پالیسی کے کون کون سے نئے نام ظاہر ہوئے اور کون کون سی پالیسی کس کس نے اپنائی۔

ماڈرن سٹیٹ کے تصور کے بعد جب ریاستوں کی سرحدیں متعین ہونا شروع ہوئیں (یاد رہے کہ معاہدہ ویسٹ فیلیا کے بعد ریاستوں کے درمیان توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوا) تو ریاستوں کے ایک دوسرے کیساتھ تنازعات نے بھرپور جنم لیا جیسے ایک شہر کے رہائشی دوسرے شہر میں رہ رہے تھے تو وہاں کی الگ ریاست باونڈریز بن گئی یا وہ لوگ کسی ایکٹ یا عمل کے زریعے قیدی ہوگئے یا ریاست کے عمل کے دوران وہ لوگ وہاں رہ گئے تو وہاں شہریوں کو اپنے شہر یا ملک لانا اُس کیلئے لوگ بھجوانا، قوانین بنانا کی ضرورت پڑگئی جسکے کیلئے ریاستوں کے زیرک اور زہین لوگوں پالیسی بنانا شروع کیا اُس پالیسی کو بنانے میں پہلے پہل ریاستوں کے اہم اداروں اور لوگوں نے کام شروع کیا جیسے ریاست کے سربراہ، فوج کے اہم سربراہان، پولیس، کوئی اعلی درجے کے سفیر، دانشور جنکے دوسرے ممالک میں روابط ہوں، کو بروئے کار لاکر اپنے مسائل دوسرے ریاستوں کیساتھ حل کرتے۔

چونکہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے لہذا پالیسی بھی حالات کیساتھ بدلتی رہتی ہیں جنگ، کے دوران الگ پالیسی، امن کی الگ، پڑوسیوں کیساتھ الگ، اتحادیوں کیساتھ الگ، کوئی پالیسی جارحانہ کے نام سے یاد کی جاتی ہے، کسی کو دفاعی کہا جاتا ہے، کسی کو مفاہمت والی پالیسی اور کسی کو نیوٹرل پالیسی کے طور پر یاد کرتے ہیں، پس یہاں تمام تفصیل بیان کرنے کا ایک مقصد کہ پالیسی بنانا وہ بھی دوسرے ممالک کیساتھ تو اُس میں اپ ریاستی اداروں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔

ریاستی ادارے ہمارے ہاں صرف فوج کو ہی کہا جاتا ہے جو مکمل طور پر غلط ہے ہمارے ہاں خارجہ کے طور پر ایک مکمل نظام ہے جس میں فوج کے علاوہ تقریباً تمام الیکٹیڈ اور سلیکٹیڈ لوگوں کا نظام ہوتا ہے کو پالیسی بناتے وقت یہ لوگ تمام اہم پواینٹ ڈسکس اُسکے ساتھ اُس پالیسی کے فوائد و نقصانات کا بھی تذکرہ ہوتا ہے جو عموماً ہر پالیسی بناتے وقت یہ اقدامات کئے جاتے ہیں۔

پاکستان کی اِس لحاظ سے بدقسمتی سمجھے یا نالائقی کہ پالیسی سطح کے سب سے اہم وزارت کی بے توقیری ہمیشہ ہمارے ہاں پسندیدہ موضوع رہی ہے پہلے وزیر خارجہ کے مذہبی سیٹس کے علاوہ تمام انے والے ادوار میں یہ اہم شعبہ اپنوں ہی کی نااہلی کے ہاتھوں تازیرِ قلم رہا۔

اب اگر ہم فیکٹرز کی نشاندہی پر لگ جائے کہ خارجہ پالیسی میں کس کا کتنا کام ہوتا ہے تو یہ بھی ہم معلوم کرسکتے ہیں جیسے پہلے بتایا فوج کے علاوہ مختلیف اور بھی ادارے یا ارگنائزیشن ہوتی ہے جسکا کام فارن پالیسی میں معاونت کا ہوتا ہے۔

جیسے دفاع کی وزارت،ہیومن راہٹس،اوورسیزز منسٹری، انٹرنیشنل ارگنائزیشن جس ملک کی نمائندگی کرتے ہو، پروفیشنل سفراء ایسے بہت اور بھی عوامل ہے جو پالیسی میکنگ کرتے ہیں تو اکیلے فوج کے ادارے کو زیر تنقید کرنا ٹھیک نہیں ہوگا یا غلط ہے۔

اب اتے ہیں اپنے موضوع کی طرف جسکی کیلئے اتنی بڑی تمہید باندھ لی۔ پہلے جتنے بھی معلومات یا باتیں کی گئی یہ صرف اور صرف موضوع پر قاری کے مکمل عبور کی خاطر تھی

عمران خان نے ہمیشہ ماڈل ریاست کے طور پر مدینہ کی ریاست کو پیش کیا ہے اِسکے ساتھ ساتھ وہ ملائیشا اور چین کا بھی زکر کرتے ہیں چین کا البتہ غربت کے حوالے سے کرتے ہیں مگر ملائیشا کے جو غربت کی انتہاہ میں وہ ترقی کے اسمان پر صرف اپنے کمٹمنٹ کے بنیاد پر پہنچا مگر میں یہاں پر اِن دونوں کی مثال پیش نہیں کرونگا بلکہ ترکی جس 20 25 سال پہلے مردِ بیمار تھا اب ایک فلورشنک کنٹری کے طور پر یورپ میں ترقی کر رہا ہے میں ترکی کی مثال کیوں پیش کر رہا ہوں اسکی سادہ سی مثال یہ ہے کہ یہاں پر بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا مگر وہاں اردگان ایا جس نے سب کو ساتھ لیا اور آج کا ترکی 25 سالہ ترکی سے 100 فیصد بہترین ہے۔

اُردگان نے جب پہلی دفعہ استنبول کی مئیر شپ سنبھال لی تو اُس کے پہلے دو سال زہن میں سوائے عوام کے بنیادی مسائل کے علاوہ کچھ نہیں تھا استنبول میں اُس وقت کرائم سب سے زیادہ تھا، صفائی نہیں تھی، ایجوکیشن کے نام پر کاروبار چل رہا تھا، کاروباری سرگرمیاں زیرو تھی،

استنبول میں لوگ روزگار کیلئے اتے جو یہاں نہیں ہوتا، اچھی تعلیم کیلئے جو یہاں نہیں تھا ہاں اردگان کا اپنا بھی ایک کرشمہ تھا جیسے عمران خان کا لوگ اُسے بھی بے انتہاہ چاہتے تھے غرض اُردگان نے پہلے عوام کے بنیادی مسائل کو سمجھا کہ میری عوام کیا چاہتی ہے؟اُنکی ضروریات کیا ہے؟ اُنکو کیسے مطمئن کیا جائے کہ ترکی ہی کی ترقی اُنکا علاج ہے؟ برین ڈرین کو کیسے روکا جائے ؟ پروفیشنل کو کیسے ملک میں پناہ دی جائے یہ اور اِس سے جڑے تمام کام اردگان نے اپنے میئرشپ کے دو سالوں میں ہی پتہ چلایا اب جب اُنکی اپنی حکومت سنٹر میں بھی ائی تو اُس نے وہ تمام بنیادی ضروریات پر فوکس کیا جسکا وہ کبھی خواب رکھتے، میں ڈائرکٹ عمران خان پر اتا ہوں 19 اگست کی تقریر بینادی مسائل سے جڑی ہوئی ہے پانی کا مسئلہ، روزگار، ایجوکیشن، انصاف، آمن، کرپشن، فضول خرچی حکمرانوں کی، بلدیاتی انتخابات، شہروں کے مسائل، نئی ابادکاری، صحت کے مسائل، جنگلات، ماحولیات، وہ تمام بنیادی باتیں جنکے متعلق عام ادمی اپنے لئے تنہائی میں سوچتا ہے وہ اُس نے کی۔

خان کی ایک ہی سوچ ہے کہ بینادی مسائل میرے عوام کے حل ہو اُنکو فارن پالیسی سے کیا لینا دینا جب انکے بچوں کیلئے سکول نہ ہو، ہسپتال نہ ہو،خود اُن کیلئے روزگار نہ ہو، آمن نہ ہو، تو پہلے عمران خان کی سوچ کہ بینادی مسائل کا خاتمہ کیا جائے پھر عوام ایک حکمران کیلئے باہر نکلتی ہے ایک چھوٹی سی مثال خیبر پختونخواہ میں بنیادی ضروریات کے متعلق کے عوام کی ضرورت کیا ہے جب مردان میں چھوٹی بچی کا واقعہ ہوا تو ایک پارٹی نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کیا تو دوسرے دن بچی کے والدین کیساتھ اہل مردان اور اہل علاقہ نے بھرپور پولیس کیساتھ اظہار یکجہتی اور اعمتاد کیلئے جلوس نکالا تو یہ اصول حکمرانی پر بھی نافذ ہوتا ہے کہ آپ بنیادی مسائل اپنوں کے حل کرے تبھی اپ کیلئے عوام گھروں سے بھی نکلے گے اور ساتھ بھی دینگے۔

بھٹو کیلئے عوام نے کوڑے کیوں کھائے؟ جیل کیوں کاٹی؟ پھانسی گھاٹ میں دار پر کیوں چڑے? کیونکہ نجات دہندہ کے زندگی کا سوال تھا نجات دہندہ نے کچھ نہیں کیا بس جسکا جو حق تھا وہ اسکو وہ دے رہا تھا یا پہنچانے کی کوشش میں تھا کہ اتحاد بن گئے اور بھٹو صاحب تاریخ کا حصہ بن گیا اب بلکل اسی طرح عمران بھی عوام کے بنیادی ضروریات پر توجہ دے رہا ہے کہ پہلے میں اپنے عوام کو کچھ دوں پھر وہ پاکستان کیلئے نکلے گے نہ کہ عمران کیلئے، اب کوئی بھی ہو وہ عوام کے مسائل جس سے اسکا روز واسطہ پڑتا ہے وہ حل کرے عوام اُسکو سر انکھوں پر بٹھائے گی عمران نے خالص عوامی تقریر کی تو عام اور غریب عوام کا جو ردعمل ہے وہ انتہائی خوش کن ہے اب وہ عمل بھی کرے تو سونے پر سہاگہ ہوگا، عوام کے ضروریات زندگی پوری ہو وہ ملک کیلئے باہر بھی نکلے گا، رائج الوقت سچائی کے طور ٹینکوں کے اگے بھی لیٹے گا، جشن ازادی بھی لوب سے لوب تر منائے گا، ملک کے کا مفید شہری ہوگا،باہر کے ملک میں اپنے ملک کا سفیر ہوگا غرض پاکستانیوں کی ضرورت پوری کرے گا تب کہیں جاکر یہ قوم اٹھے گی اور ترقی کرے گی اور اسکے ساتھ ہی قوم کا یہ خارجہ پالیسی پر عوام کا کنٹرول کا خواب پورا ہوگا اور بخار اترے گا ہماری دعا ہے عمران اپنے ایجنڈا پاکستان میں کامیاب ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: