تبدیلئ حالات کے چرچے اور تلخ ماضی —– عزیز ابن الحسن

0
  • 33
    Shares

کل نئے پاکستان کے وزیر اعظم کے دل سے نکلنے اور دل میں تیر ہونے والے الفاظ سن کر دلوں پر طاری ہونے والی مولانا حالی کی سی “سادگی”، “اصلیت” اور “جوش” والی کیفیات کی سرمستی ابھی طاری تھی کہ رات ماضی کے چند سندر سپنوں نے کچھ ملول سا کردیا۔

خود کو بچپن میں یحیٰ خان کی نشیلی غنودہ آواز میں ایک معروفِ عالم تقریر سنتے پایا. وہ اِدھر کھیتوں میں اور کھلیانوں میں آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے کے مژدے سناکر ہم بچوں تک کا خون گرما رہے تھا اور عین اسی لمحے اُدھر پاکستانی جنرل نیازی بھارتی جنرل اوڑا سنگھ کو ہاتھ پہ ہاتھ مارکر فحش لطیفے سنا اور نوے ہزار فوجی اسکے قدموں میں ہتھیار ڈال رہا تھا. اُدھر ملک کابائیاں بازو کٹ کر دشمن کی جھولی میں جا پڑا تھا اور اِدھر “خدا کا شکر ہے کہ ہم نے پاکستان بچالیا “جیسی بڑھکیں بھی اسی دوران کسی سے سنی تھیں.

سین بدلتا ہے. اب خود کو ذوالفقار علی بھٹو کی جوشیلی تقریریں سنتے پایا. کوٹ پتلون کے بجائے شلوار قمیض والے عوامی لباس میں ملبوس کھلی آستین اور اڑتے بالوں کے ساتھ بھٹو جب پوچھتے کہ

“لڑوگے؟”
تو جذبات سے بے حال مجمع جواب دیتا
“لڑیں گے”
جوشِ خطابت میں مائک گراتے بھٹو پوچھتے
“مروگے؟”
سر دھڑ کی بازی لگاتا مجمع جواب دیتا ہے
“ہاں مریں گے.”

انہی جوشیلی فضاؤں میں اڑتے غیر کی شادی میں عبداللہ دیوانہ طرز کے ایک بچے کو بھی ان خطیبوں کے پیدا کردہ جوشیلے سمندر کی موجوں میں بہنا بہت اچھا لگتا تھا۔ کیوں نہ اچھا لگتا مولا علی شیر خدا کے ترانوں کی گونج میں ملک کی کشتی بھنور سے نکل کر تیزی سے پار منزل کی طرف روانہ جو ہورہی تھی۔

پھر قومی اتحاد کی تحریک کے جلو میں جولائی 77 آیا۔ مردِ حق نے نفاذ اسلام کا نعرہ لگایا۔ رات ٹی وی کے ساتھ جڑ کر اسکی پہلی تقریر کا ایک ایک لفظ سنا اور چشمِ تصور میں اسکی پُر رعب موچھوں کے خوف سے دشمنوں کو لرزتے دیکھا۔ اس پہلی تقریر نے وہ وارفتگی طاری کی کہ اگلے روز جنگ اخبار سے اس تقریر کا مکمل متن اپنی اسکول کی کاپی میں نوٹ کرلیا کہ فرطِ جذبات میں ضیاالحق کا ہر ہر لفظ بھی وزیر اعظم نیازی کی تقریر کی طرح دل میں اترتا محسوس ہوا تھا.

اپنے عوامی طرز گفتگو اور لباس کے ذریعے بھٹو شلوار قمیض کو معتبر کر ہی چکا تھا، ضیا نے اسپر کالی واسکٹ اور شیروانی ڈاٹھ کر قومی امنگوں کو وہ ایڑھ لگائ کہ جذبات سنبھالے نہ سنبھلتے تھے. رہی سہی کسر اسنے UNO میں قرآن پاک کی تلاوت کروا اور اردو زبان میں تقریر کرکے بوٹوں سمیت قوم کی آنکھوں میں گھس کر پوری کر دی.

اللہ اللہ آج بھی اس جوش اور عقیدت کا خیال آتا ہے جو ضیا کی UNO والی تقریر سنکر ہم ایسے سادہ دلوں کے اوپر طاری ہوا تھا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ ملک کی سرحدوں پہ ڈھول سپاہیوں کے سنگ جان دے دینے کا ولولہ تازہ ہوجاتا ہے۔

یہ تو تھا جوش و خروش کا ذکر. اب آئیے “سادگی” کی طرف جسکا بھرپور اظہار ضیا اور اسکے ساتھی جرنیلوں نے راوالپنڈی میں سائکل چلا کر کیا تھا. وہ ایک دن کی سائکل چلانے کی سادگی، کہتے ہیں کہ قوم کو اتنی ہی مہنگی پڑی تھی جتنی گاندھی کی سادہ لباسی اور بکری کی خوراک. اسکے بعد جرنیلوں کی سائکل تو معلوم نہیں چلی کہ نہیں البتہ ضیا پورے گیارہ برس چلا تھا۔

اسی عرصہ ضیائیہ میں ٹوٹنے والے سہانے سپنوں کے نتیجے میں پھر الحمدللہ یہ ہوا کہ کہ حکمرانوں کی “سادگی” اور “جوش” کی ساری “اصلیت” کھل کر سامنے آگئ اور ہم ان شاطروں کے وعدوں اور خوابوں کی طرف سے ہمیشہ کیلیے مامون ہوگئے۔

ضیا کے بعد نواز شریف کی ناپسندیگی کی تو واحد وجہ ہی اسکا جرنیلوں کا پروردہ ہونا بنی۔

اکتوبر99 میں جنرل مشرف کے ایک دفعہ پھر جب شب خون مارا اور سیاست دانوں کی کرپشن اور احتساب کے سہانے خواب پھر سامنے آئے لیکن جوکچھ اس عشرے میں ہوتا نظر آیا اس سے احتساب کے نام سے وابستہ خوش فہمیوں کی آخری آخری شمعیں بھی دم توڑ گئیں.

نواز شریف واحد سیاست دان ہے جس سے اس دلِ زار نے کبھی کوئ امید نہیں باندھی اسلیے کبھی مایوسی بھی نہیں ہوئ تھی. ہاں پچھلے آٹھ دس برس میں اسکی جس اکلوتی خوبی نے قدرے متاثر کیا وہ اسکے رویّوں میں اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی روش تھی. نواز شریف نے اس بات کا کبھی دعوی،ٰ کم از کم اعلانات کی حد تک، نہیں کیا کہ ملک میں سول ملٹری کشمکش ختم کر کے یہاں پارلیمان کی بالا دستی ختم کرنا اسکا اصل ہدف ہے. مگر اسکے دوسرے دو ادوار میں اسکا سب سے بڑا جرم اسکے مخالفوں کے بقول بھی یہ رہا کہ “وہ جرنیلوں سے بنا کر نہیں رکھ سکتا”. لیکن سردست یہ مسئلہ چونکہ اس شذرے کا موضوع نہیں اسلیے اصل بات کی طرف آتے ہیں اور وہ ہے ہر نئے آنے والے طالع آزما کے پیدا کردہ خوش فہم اور امید پرست وعدوں کا جنہیں راقم گزشتہ چالیس پنتالیس برس سے بچشمِ خود دیکھتا اور اس سے قبل والوں کے حالات کتابوں میں پڑھتا آیا ہے۔

بھٹو سے لیکر اب تک دیکھ لیجئے: اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، شوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام، یہ بھٹو کے وعدے تھے۔

نفاذ اسلام اور اس سے وابستہ سیکڑوں وعدوں کا بھنڈار پھر ضیاءالحق نے پھیلایا۔ اسکے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی ہر حکومت کے آنے اور ٹوٹنے سے لیکر دو قومی نظرئیے کو سب سے بڑی زک پہنچانے والے مشرف کے “سب سے پہلے پاکستان” کے نظرئیے کو دیکھ لیں جو پاکستان کو بد ترین امریکی غلامی میں دینے پر منتج ہوا۔

آخری نواز حکومت کے لولے لنگڑے تسلسل اور اسی طرح گزشتہ ایک برس کے دوران انصاف بطور آلۂ انتقام استعمال ہونے تک ہر نعرہ کھوکھلا اور ہر وعدہ انتخابی (selective) ثابت ہوا ہے. انصاف بطور آلۂ انتقام کی ہی مثال دیکھنی ہو تو سیکڑوں پانامہ زدگان میں سے اسکا صرف اسٹبلشمنٹ کے ناپسندیدہ افراد کیخلاف استعمال دیکھ لیں۔

غرض بھٹو سے لیکر ضیا تک اور بینظیر و نواز شریف سے لیکر مشرف تک مسلسل تبدیل ہوتے پاکستان کو دیکھ دیکھ کر حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کا تصور ہی اب قے آور سنڈاس بن چکا ہے جسمیں اب ایک مرتبہ پھر “لانے والوں” نے عمران خان کی صورت میں ایک “حقیقی اور اصلی تبدیلی” کو ہمارے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔

اب اگر میں ریاستِ مدینہ کے قیام کے مدعی کے وعدوں پہ اعتبار نہ کروں تو گنہگار ٹھہرتا ہوں. اسلیے اپنے سابقہ پچاس سالہ مشاہدات کی روشنی میں اب یہ تو نہیں کرسکتا کہ PTI کے نوبلوغ جانثاروں کی طرح عمران خان نامی یونانی سورما کی ہر ہر ادا پہ مرمٹوں اور اس کے منہ سے نکلنے والی ہر بات پہ صدقے اور واری جاؤں۔

اب ذرا ان بدلتے چہروں کے پیڑن میں یکسانیت کے خدوخال ملاحظہ ہوں:

اشتراکیت کے عروج کے زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کو ہماری معیشت قرار دیا. نظامِ مصطفیٰ کی تحریک کی آڑ میں آنے والے ضیاالحق نے اس ملک پر جہاد اور اسلام کو نافذ کیا. بدلتی بین الاقوامی صورتحال کے پس منظر میں مشرف نے جہاد کو دہشت گردی سے بدل کر سیکولر فضا کیلیے راستہ ہموار کیا۔ اور پھر اب ختم نبوت کے “حقیقی پاسداروں” نے “تبدیلی آئی ہے” والا نیا جمہوری مکھوٹا (mask) تیار کرکے ریاستِ مدینہ کے خواب کو ہمارے سامنے لارکھا ہے. ذرا دیکھئے تو

سر پہ راہی کے سربراہی نے     کس صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے

اب اگر میں ریاستِ مدینہ کے قیام کے مدعی کے وعدوں پہ اعتبار نہ کروں تو گنہگار ٹھہرتا ہوں۔ اسلیے اپنے سابقہ پچاس سالہ مشاہدات کی روشنی میں اب یہ تو نہیں کرسکتا کہ PTI کے نوبلوغ جانثاروں کی طرح عمران خان نامی یونانی سورما کی ہر ہر ادا پہ مرمٹوں اور اس کے منہ سے نکلنے والی ہر بات پہ صدقے اور واری جاؤں ہاں میں یہ ضرور کرونگا کہ ہمارے نو منتخب وزیر اعظم اگر اپنے معروف ترین بیانیے کیمطابق کہ پکڑ کا آغاز پہلے اوپر سے ہونا چاہیے، سب سے سول عسکری بیروکریسی کے بالائی طبقات سے احتساب کا آغاز کریں تو میں صدقِ دل سے ان کے وعدوں پر یقین کرلونگا۔ جس طرح انہوں نے اپنے پہلے قومی خطاب میں فرمایا ہے کہ آپ سب مجھے میرے دست و بازو بنیں میں آپ سے عرض گزار ہوں کہ احتساب کا عمل یوں شروع کریں کہ

۱ ـ جسطرح آپنے خود اپنے وزیر اعظم ہاؤس، وزرائے اعلا ہاؤس اور گورنر ہاوسز کے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اسی طرح ملٹری سول بیروکریٹس کی بڑی بڑی رہائشگاہوں کے ختم کرنے کا بھی اعلان کریں۔

۲ـ تمام پانامہ زدگان (سیاستدان، بیروکریٹس، صحافی، جج اور نان سول) کو بلا اسثنا قانون کے دائرے میں لایا جائے۔

۳ـ پرویز مشرف کو واپس لائیں، اسکے فرار میں سہولت کاری کرنے والے ملوث ہر شخص کو قانونی سزا دیں۔

۴ـ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی مہم صرف سیاست دانوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسکا آغاز ریٹائرڈ جرنیلوں سے کرکے یہ تاثر ختم کریں کہ پاکستان میں کوئی مقدس گائے ہے۔

۵ـ حمود کمیشن رپورٹ کی روشنی میں ملک پاکستان کو دو لخت کرنے والے ذمہ داروں کے ناموں کا اعلان کریں.

۶ ـ  ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ سامنے لائیں.

۳ـ میمو گیٹ اسکینڈل کی حقیقت سامنے لانے کے عملی اقدام کریں.

یاد رہے کہ کرپشن و احتساب کیلیے آپکی ترجیحات طاقور سے کمزور کی طرف ہونی چاہیے، اور اس ملک کے طاقتور ترین طبقات کونسے ہیں یہ آپ جانتے ہیں.

اگر آپ یہ کام کر گزرے تو یقین جائیے سنہری خوابوں اور سہانے وعدوں سے مایوس مجھ جیسے لوگ بھی آپکی ریاستِ مدینہ کے قیام میں معاونت کیلیے تیار ہونگے. ورنہ تو ہم
تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
پر پہلے ہی عمل پیرا ہیں.

یاد رکھئے گا کہ ہمارے اکثر حکمرانوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ دعوے تو بہت بڑے کرتے ہیں مگر انکا حاصل اپنے دعووں سے چھوٹا بہت ہی چھوٹا رہ جاتا ہے. اس روشنی میں ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کتنے اور کیسے نکلتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: