نئے فریم ورک کی ضرورت ہے — سلیمان جاوید

0
  • 8
    Shares

سلیکان ویلی امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے علاقے کا نام ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ انتظامی علاقہ نہیں۔ اس کا زیادہ ترحصہ ریاست کیلیفورنیا اور کچھ حصہ سان فرانسسکو میں ہے۔ اس علاقے کی خاص بات ٹیکنالوجی کمپنیوں کے صدر دفاتر ہیں جن میں ایپل، ایسوس، انٹل، سان ڈسک، سونی، یوٹیوب، ٹیسلا موٹرز، لاک ہیڈ مارٹن، ہیولٹ پیکارڈ اور اوبر جیسی درجنوں کمپنیوں کے دفاتر شامل ہیں۔ یہاں کی خاص سوغات جدید ٹیکنالوجی کی اختراعات ہیں۔ یہاں نہ صرف کمپنیوں کے انتظامی دفاتر ہیں بلکہ تجربہ گاہیں اور ڈیٹا سنٹرز بھی موجود ہیں۔ انہی بہت سی کمپنیوں میں نسبتاَ ایک نئی کمپنی کا دفتر بھی موجود ہے جو ابھی اپنی ایجاد کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس کمپنی کا نام بھی بہت عجیب ہے۔ “ناممکن کھانے (Impossible Foods)”۔ نام سے تو کوئی ریستوران لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک کمپنی ہے جو کھانے کا جدید ورژن متعارف کرانا چاہ رہی ہے۔ فی الحال کمپنی کی دلچسپی کا موضوع “گوشت” ہے۔ ہم جانوروں سے گوشت حاصل کرتے ہیں۔ مرغی، مچھلی اور مویشی ہمارے ذرائع ہیں۔ مغربی ممالک میں کچھ مزید جانوروں سے بھی گوشت حاصل کیا جاتا ہے لیکن امپاسیبل فوڈ کے تجربات کا محور پودوں سے گوشت کا حصول ہے۔ جی ہاں امپاسیبل فوڈ کے مطابق وہ محدود پیمانے پر پودوں سے گوشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ کمپنی کے بانی پیٹرک اوبرائن سٹینڈفورڈ یونیورسٹی میں حیاتیاتی کیمیا کے استاد ہیں جنہوں نے اس کمپنی کی بنیاد 2011 میں رکھی۔ انہوں نے کیمیائی طریقہ استعمال کرتے ہوئے پودے سے پروٹین حاصل کی جو گوشت کا جز اعظم ہے۔ اس کے بعد اسے تجربہ گاہ میں کچھ مزید مراحل سے گزار کر اسے سے گوشت تیار کیا گیا۔ www. https://impossiblefoods.com

یہ مصنوعی گوشت کی تیاری کا پہلا موقع نہیں ہے۔ 2013 میں نیدرلیند کی جامعہ ماسٹرچ کے استاد پروفیسر مارک پوسٹ نے لندن میں پہلی مرتبہ مصنوعی گوشت تیار کرنے اور کھانے کا مظاہر کیا تھا۔ یہ گوشت گائے کے گوشت کے چند خلیے لیکر انہیں تجربہ گاہ میں پروان چڑھا کر حاصل کئے گئے تھے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کیلیفورنیا کی کمپنی ہیمپٹن کریک نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 2018 میں اپنا مصنوعی گوشت بازار میں فروخت کرنے کے لئے لے آئیں گے۔

گزشتہ صدی میں شروع ہونے والی تیز رفتار سائنسی ترقی اب مزید رفتار پکڑ رہی ہے اور ہمارا روز مرہ کا معمول تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت کرنسی میں ہورہی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں بٹ کوائن کا چرچا ہے۔ 2015 کے آغاز پر محض 300 ڈالر پر بکنے والا بٹ کوائن آج 2000 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن کو کسی قسم کا سرکاری تحفظ حاصل نہیں لیکن کئی اہم کمپنیاں جن میں مائیکروسافٹ اور ایمزون بھی شامل ہیں بٹ کوائن قبول کررہی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کا غیر فطری پھیلاؤ اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو تباہ کرسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مستقبل ڈیجیٹل کرنسی کا ہے۔ ہم بارٹر ٹریڈ کی دنیا سے نکل مجازی لین دین کی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں۔ آئندہ آنے والے برسوں میں اگر بٹ کوائن نہ سہی لیکن کوئی اور ڈیجیٹل کرنسی بین الاقوامی کرنسی کا روپ دھار سکتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں پچاس سے زیادہ ڈیجیٹل کرنسیاں زیر گردش ہیں۔

طب کا شعبہ جس کے اثرات انسانوں پر نہایت بنیادی پیمانے پر پڑتے ہیں کئی نئی جہتیں لیکر سامنے آرہا ہے۔ ڈی این اے کی سلسلہ بندی، جنیاتی تدوین اور جدید ادویات ہماری روز مرہ زندگی کو مزید بدلنے والی ہیں۔ کہا جارہا ہے کچھ ہی عرصہ میں مصنوعی جنسی شراکت دار، مردانہ زچگی اور مصنوعی مادر رحم نہایت آسانی سے میسر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہو چکا ہے کہ جنیاتی تدوین کے ذریعے ماں باپ کے علاوہ دیگر لوگ بھی بچے ڈی این اے میں شراکت دار ہوں۔

یہ تو ہیں چند جھلکیاں ہیں اس مستقبل کی جو اگلے دس سے پچاس سال کے دوران ہمارے سامنے آئے گا۔ اب ہم اپنے معاشرے کے سب سے اہم پہلو کی جانب آتے ہیں۔ بلاشبہ ہم روزمرہ زندگی میں بیشتر فیصلے مذہب کی بنیاد پر کرتے ہیں اور خاص طور پر اجتماعی فیصلوں میں مذہب کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اوپر بیان کئے گئے مستقبل میں مذہب کا کیا کردار ہوگا۔ یہ سوچنا بہت ضروری ہے اور خاص طور پر ہمارے اہل دانش اس معاملے پر کیا سوچ رکھتے ہیں۔ جب ہم اہل دانش کی بات کرتے ہیں تو اس میں علمائے دین اور ماہرین سماجیات دونوں ہی آجاتے ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ علمائے دین اور ماہرین سماجیات کو علیحدہ علیحدہ زمروں میں رکھ رہا ہوں۔ ایسا کیوں ہے اس پر پھر کبھی غور کریں گے۔ تین سو سال قبل جب یورپ میں سائنسی ترقی اور صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تو وہاں موجود علمائے دین نے بھی غلطیاں کیں۔ انہیں غلطیوں کے نتیجے میں کلیسا کو کھڈے لائن لگنا پڑا۔ مسلمان معاشروں میں اگرچہ وہ وقت نہیں آیا لیکن ایسا نہیں ہے لیکن حالات بالکل بھی تسلی بخش قرار نہیں دیے جاسکتے۔ خاص طور پر نائن الیون اور اس کے بعد پیدا ہونے واقعات نے معاشرے میں تقسیم کی ایک گہری لکیر ضرور ڈال دی ہے۔ گزشتہ سو سال میں بالعموم اور اس صدی کے آغاز سے بالخصوص عام مسلمانوں میں الحاد کی رفتار تیز ہوئی ہےاور مزید تیز ہوتی جارہی ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ موجودہ اسلامی فریم ورکس جدید ذہن کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ٹی وی، بینک، اعضاء کی پیوندکاری اور انسانی حقوق کا جدید فلسفہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب امام شافعی اور امام غزالی کی مذمت کردہ منطق اور فلسفہ مفکرین کی فکری جگالی کے علاوہ کچھ نہیں تھی لیکن اب یہ ہماری زندگیوں میں شامل ہیں۔ یہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے، آپ کے ہاتھ کے نیچے ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید ہماری زندگیوں میں شامل ہوتا چلا جائےگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس حوالے قدیم نکتہ نظر “یہ عارضی دنیا ہے اور اسلام کا مقصد کا انسانوں کو ابدی زندگی کے لئے تیار کرنا ہے” کچھ خاص کامیاب نہیں ہے۔ اگر یہ سب کچھ وعدہ فردا ہے تو پھر یہ چیزیں عیسائیت، ہندو مت اور بدھ مت میں بھی موجود ہیں۔ وہ مذاہب بھی حیات بعد از ممات کے لئے اپنے پیروکاروں کو تیار کرتے ہیں۔ اب ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ اول یہ کہ ہم جدید ضروریات کے مطابق ایک نیا فریم ورک تیار کریں اور دوسرا یہ کہ دیگر مذاہب کی طرح عبادت گاہ تک محدود ہو جائیں۔ ہم کون سار راستہ اختیار کریں گے اس کا انحصار ہمارے علمائے کرام کے رویے پر ہوگا۔

اسلام میں نئے فریم ورک کی تیاری نئی بات نہیں ہے۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں ہی چار فریم ورکس پیش کردئے گئے تھے یعنی فقہ امام مالک، فقہ امام ابو حنیفہ، فقہ امام شافعی اور فقہ امام احمد بن حنبل۔ اس کے بعد سے فرقے تو وجود میں آتے رہے لیکن عمومی مسائل کو حل کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں جب صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری اور سیاسی تحریکوں کو ہم نے ایک تماشے کی طرح دیکھا۔ جب اس سوچ نے اسلامی ممالک کا رخ کیا انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک آفاقی اصو ل ہے کہ روایت ہمیشہ جدت کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے اس لئے ہم اس مزاحمت کو غیر فطری نہیں کہہ سکتے البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو تبدیلی آنی چاہئے تھی وہ نہیں آسکی۔ بدقسمتی سے آج بھی عام مسلمان جمہوریت، بنک پر مبنی معیشت، جدید سائنسی ایجادات کی وجہ سے بدترین ابہام کا شکار ہے۔ عام مسلمان ان چیزوں کے فوائد اٹھا تو رہا ہے لیکن اس کے دل میں ایک احساس گناہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ غیر اسلامی ہے۔ اس سوچ کی باعث ہم ایک صارف معاشرے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک جمود طاری ہے جس کے باعث ہم ان ایجادات کے منفی پہلوؤں سے نقصانات بھی زیادہ اٹھا رہا ہے۔ایسی صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے

• ایک نیا فریم ورک جو عقل، منطق اور شعور کی نفی نہ کرتا ہو بنانا چاہئے
• حرام و حلال کے روایتی تصور میں تبدیلی لانی چاہئے اور اسے فوائد و نقصانات کی بنیاد پر تشکیل دینا چاہئے
• جدت طرازی کو فوقیت حاصل ہو• نئے فریم ورک کی بنیاد چانچ پرکھ کی بنیاد پر ہونی چاہئے نہ کہ پہلے جدت کی مذمت پر۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: