دس مرچیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شفیق زادہ

0
  • 38
    Shares

خبر1: اللہ کے سامنے وعدہ، سب کا کڑا احتساب ہو گا، عمران خان
اللہ ہُو، جو حاظر بھی ہے اور ناظر بھی اور ہمیشہ رہنے والا، سب فنا ہو جائے گا بس اللہ کا نام رہ جائے گا۔
وعدہ تو ہم نے سن لیا، لازم ہے ہم بھی دیکھیں گے جب وعدے ایفا کیے جاویں گے، لاز م ہے ہم بھی دیکھیں گے۔

خبر 2: وزیر اعظم عمران خان کے اپنے بیانات ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج
اس میں فکر کی کون سی بات ہے، دونوں آپشنز کھلے ہیں، چا ہیں تو انہیں سیاسی بیانات قرار دے کر زرداری بن جائیں یا پھر سیاسی عزم مان کر تاریخ میں اپنا نام امر کر جائیں۔ تاریخ میں اپنا نام رقم تو کر ہی لیا ہے جناب وزیر اعظم عمران خان آپ نے، مقام کیا بنائیں گے، یہ مقدر نہیں آپ کے مقدور کی بات ہے۔

خبر 3: بلاول بھٹو کی پارلیمنٹ میں پہلی تقریر نے انکا امیج اور قد کاٹھ بڑھا دیا
کتنی پیاری اور بھولی قوم اور اس کے دانشور!! اب آپ نہیں سنیں گے کہ پچھلے پانچ سالوں میں سندھ کے ترقیاتی بجٹ کے ساتھ کیا بہیمانہ لوٹ مار کی گئی، 90 ارب روپے صرف لاڑکانہ پر خرچ کیے جانے کے باوجود شہر و ڈویژن اجڑی مانگ کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ دس سال مکمل بلدیاتی اختیارات رکھنے کے باوجود کراچی شہر کا جو حال ہے وہ باغ تو سارا جانے ہے پر بلاول نہ جانے، جن کی ناک کے نیچے یہ ساری لوٹ مار ہوتی رہی۔ صحیح کہتے ہیں کہ سالا ایک تقریر صحافت کو ہیجڑا بنا دیتی ہے، سو بنا دیا نا سب کوچ؟ ویل پلیڈ زرداری، دی ماسٹر آف مکّاری

خبر4: افغانستان میں ہونیوالے واقعات پر پاکستان مدد کرے، افتخار حسین
پہلے تو پاکستان میں ہونے والے واقعات پر افغانستان مدد کرنا بند کرے۔ پاکستان سکون و آشتی کے چند پل پائے گا تو گردن اٹھا کر دیکھے گا کون کون کس کس چکر میں ہے۔ ابھی تو ریاست خود ہی چومکھی میں مصروف ہے اور آپ پڑوسن کے چکر میں پڑ کر اپنی پوری کو بھی آدھی کرنے کے فکر میں ہیں۔

خبر5: رہنما تو چلا گیا لیکن مداح ابھی باقی ہیں ( نہرو کے انتقال پر واجپائی کا خراج تحسین)
واجپائی کے برسوں پرانے کہے یہ لفظ بھی خوب ہیں۔ دلوں میں رہنے والے چاہے جیل میں ہوں یا پردیس میں، مداح ان کی یادوں اور باتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ پھانسی چڑھ کر زندہ رہنے والے اور کمر کسے کبڑے جنرل کے مداح کیسے باقی رہتے ہیں، تاریخ سب بتاتی ہے۔

خبر6: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں فوج کے دو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو ’تڑکا‘ لگانے کے لیے شامل کیا گیا تھا
واہ صاحب! کیا شوق ہیں حضور کے، اداب، تسلیمات، سلامت۔ جن کو تڑکا لگانے کو لگایا تھا ان کے بھی نام کے آگے بھی خیر سے ’ن‘ لگا ہواہے۔ تڑکا لگاتے لگاتے دس سالہ مرچی بھی پھیر دی کہ متاثرِ جے آئی ٹی کو نہ اس پل چین آئے نہ اس پل چین آئے۔ باقی رہے اپنے چودھری پنڈی بوائے، اگست نناوے میں بھی حضرت جو عصر پڑھنے گئے تھے تو کئی سال بعد یوں لوٹے کہ لٹیا ہی ڈبو دی۔

خبر 7: کراچی دنیا کے ناپسندیدہ ترین رہائشی شہروں میں شامل
تبھی تو شہر کی تین کروڑ کی آبادی گھٹ کر صرف ڈیڑھ کروڑ رہ گئی۔ بقیہ ڈیڑھ کروڑ پھر ررر کر کے اڑ گئے۔ کم از کم’مردم شکاری‘ کے نتائج تو یہی بتاتے ہیں۔ اب کون رہے اس کچرا خانے میں جدھر دس برسوں سے ترقی، تعمیر اور تنوع ’بن باس‘ لیے ہوئے ہے۔ شکریہ بلاول و ہمنوا، تسی گریٹ ہو۔

خبر8: اسقاط حمل سب سے بھیانک خواب تھا (بی بی سی رپورٹ)
مرچی: اسقاط حمل بھیانک خواب نہیں ہولناک او ر درد ناک تعبیر ہوتی ہے۔ بھیانک تو وہ خواب بن جاتے ہیں جن کے ٹوٹنے پر اسقاط کی دہلیز پر کوئی ننھی جان، جان سے جاتی ہے۔

خبر9: بحریہ ٹاؤن والے ملک صاحب نے نوکری کے اشتہار جاری کیے ہیں جس میں ’جج‘ اور ’جرنیل‘ کی فرمائش کی گئی ہے ( بی بی سی)
مرزا غالب غالباً کہہ گئے ہیں اور ملک صاحب کا بھی فرمان مسلسل ہے کہ

گو میں رہا رہین ِستم ہائے روزگار
لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا

اب اس میں تیسرے جیم یعنی جرنلسٹ کا بھی اضافہ کر لیتے تو جائیدادی شطرنج کی ’معقولہ اور نا ’معقول‘ اثاثہ جات کی قلعہ بندی مضبوط ہو جاتی۔ اب یہ نا ہنجار جرنلسٹ یکے بعد دیگرے واہیات پروگرام کریں گے اور خلعت فاخرہ پر دھبے لگائیں گے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو تینوں جیم بحریہ ٹاؤن کے بینڈ ویگن پر چڑھ کر اپنے پھولے پیٹ میں پھنسے نقطے کو نکال کر حلوے والی ح کے پیٹ میں فٹ کردیں تو جو ’حرف‘ بنے گا اسے آسان اردو میں عوام کہتے ہیں اور جو بچے گا یعنی ح سے حلوہ تو ہپ ہپ ہپ پڑپ۔

خبر10: اسپاٹ فکسنگ کیس میں ناصر جمشید پر 10 سال کی پابندی

بس اک قدم غلط اُٹھا تھا شوق میں
منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈتی رہی

بیچارے نوجوان و ناتجربہ کار کرکٹر ہی پکڑ میں آتے ہیں، وہ ارکان پارلیمان جو کہ ہر انتخاب سے پہلے مال لے کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں، وہ جمہوریت کے حسن میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔ میاں نوجوانوں کچھ بڈھے بابوئوں سے بھی سیکھ لیا کرو۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: