ٹیکنالوجی کے بت کی عظمت کو سجدہ — ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 118
    Shares

ایوان پاولوف کے کتے کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ جی وہی جو گھنٹی کی آواز پر ہی رال ٹپکانے لگتا تھا۔ علم نفسیات کی کتب میں یہ تجربہ کلاسیکل کنڈیشننگ (Classical Conditioning) کے ذیل میں بڑی تفصیل سے درج ہے۔ پاولوف فزیولوجی کا تجربہ کر رہا تھا جس میں وہ کتے کی رال بہنے کے عمل پر تحقیق کر رہا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ کتے کے سامنے گوشت لاتا تو اس کی رال بہتی مگر ایک مرتبہ ا س نے اتفاق سے گوشت رکھتے وقت گھنٹی بجا دی، پھر جب اس نے اتفاق سے دوبارہ گھنٹی بجائی تو حیران کن بات یہ ہوئی کہ بغیر گوشت کے ہی کتے کی رال بہنے لگی۔ بس پھر یہ فزیولوجی کا تجربہ سائکولوجی کا تجربہ بن گیا۔ مگر یہ رویہ کتوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ انسان بھی ایک چیز سے دوسری کو ذہنی طور پر منسلک کر لیتا ہے اور ایک کو دیکھ کر دوسرے کے آنے کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ یوں ایک چیز دوسری چیز کا اشارہ بن جاتی ہے (جیسے گوشت کی آمد کا اشارہ گھنٹی) پھر بعض دفعہ ہوتا یہ ہے کہ گوشت تو آتا نہیں بس گھنٹی ہی بجنے پر رال بہتی رہتی ہے۔ بعض اوقات تو رال بہانے والا ہی بھول جاتا ہے کہ یہ گھنٹی اشارہ کس چیز کی تھی؟

عہد حاضر میں ٹیکنالوجی ایک بڑا اہم مظہر بن چکی ہے۔ مگر ٹیکنالوجی سے بھی اہم ہے لوگوں کا اس کی طرف رویہ۔ دور قدیم کی دنیا ساکت تھی۔ اس سکونی کائنات میں باپ اور بیٹے میں ’’جنریشن گیپ‘‘ نہیں ہوا کرتا تھا مگر پھر سائنس کی ترقی نے بڑی تیزی سے دنیا کو بدل دیا۔ سائنس نے وہ کر دکھایا جو کچھ انسان نے پہلے جادو کے بارے میں سوچ رکھا تھا۔ اس دعوے پر شک ہو تو طلسم ہوشربا پڑھیے، جو کچھ جادو گروں کو میسر ہے وہ سب سائنس کی ترقی نے انسانوں کو لا دیا۔ طلسم ہوش ربا تک بھی جانے کی کیا ضرورت ہے؟ بس آج سے بیس سال پہلے کے ہی دور کو ذہن میں لائیے۔ تب جو چیزیں کسی طلسماتی کہانی کا حصہ معلوم ہوتیں آج ہماری روزمرہ کی زندگی کا معمول ہیں۔ مگر انسان کرشمات اور جادو پر ایمان لے ہی آتا ہے۔ خاص طور پر وہ معاشرے جو خود ٹیکنالوجی کے خالق نہیں محض خریدار ہیں۔ یہی ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی سے ہو رہا ہے۔

90ء کی دہائی کے اوائل میں کمپیوٹر شاذو نادر ہی کسی گھر میں ہوتا۔ جہاں ہوتا وہاں آنے والے مہمان اس مشین کو بالکل ’’جام جم‘‘ سمجھتے۔ مہمانوں کو اس جادوئی مشین کے کرتب دکھائے جاتے، مہمان مبہوت ہو جاتے۔ اس نوع کے کئی ’’کرتبی‘‘ واقعات ہمیں یاد ہیں۔ پھر کمپیوٹر گھر گھر پھیلنے لگا۔ 95ء تک یہ معاملہ ہوا کہ ہر ہر اسکول نے کمپیوٹر کا مضمون بھی اپنے نصاب میں شامل کر لیا اور اس بہانے فیس بڑھا دی۔ بچپن میں ہمیں بھی کمپیوٹر کی کلاس بڑی اچھی معلوم ہوتی تھی کیونکہ اس کلاس میں ہم جا کر کمپیوٹر پر کھیل سکتے تھے۔ اس دور میں اکثر نوجوانوں نے ٹیکنالوجی سے مبہوت ہو کر فیصلہ کیا کہ بس اب وہ کمپیوٹر کی ہی تعلیم حاصل کریں گے۔ پھر کمپیوٹر بھی ایک بلا تھا۔ آج آپ نے 286 خریدا تو کل 386 آ گیا۔ آپ کے پاس EGA مانیٹر تھا تو اب VGA مانیٹر آ گیا۔ آپ نے ابھی VGA مانیٹر لیا ہی تھا کہ SVGA مانیٹر آ گیا۔ نئے گیم پرانے سسٹم پر چلتے نہ تھے۔ جن کے پاس پرانا سسٹم ہوتا وہ احساس کمتری کے مریض بن جاتے۔ ہمارے ایک عزیز نے جب پرنٹر خریدا تو ہر ہر مہمان کو اس پرنٹر سے چھاپے ہوئے ہر ہر پرچے کو بالکل ایسی محبت سے دکھاتے جیسے کوئی باپ اپنی اولاد کی لکھی ہوئی پہلی تحریر محبت سے سنبھال کر رکھتا ہے اور سب کو دکھاتا ہے۔ بس ٹیکنالوجی سب کی نظروں میں عظمت سے جڑی تھی، جادو سے جڑی تھی، ایک کرشمہ تھی، اس لئے ہر کوئی جدید ترین ٹیکنالوجی سے جڑ جانا چاہتا تھا اور عظیم بن جانا چاہتا تھا۔ مگر یہ بڑی سانس پھلا دینے والی دوڑ تھی۔ اب ٹیکنالوجی کی رفتار سے کون دوڑ سکتا ہے بھلا؟

1996ء سے انٹرنیٹ بھی تیزی سے پھیلنے لگا، اب تو جناب ایک اخبار نے بھی وقت کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے میگزین میں ’’نیٹ بیتیاں‘‘ کے عنوان سے سلسلہ شروع کیا مگر یہ معصوم سا سلسلہ ہمارے معاشرے کی حقیقی نیٹ بیتی ہر گز نہ تھی۔ ٹیکنالوجی کی باریکیوں کو اور اس میں مضمر خطرات کو بنا سمجھے ماں باپ اپنی اولادوں کونئی سے نئی سہولت فراہم کر رہے تھے۔ حقیقی طور پر آپ کا معاشرہ اس ٹیکنالوجی کے بلاروک استعمال سے کیا بن رہا تھا، یہ ہر ہر نفسیاتی معالج جانتا ہے۔ پھر کمپیوٹر سکڑ سمٹ کر موبائل فون میں گھس گیا اور موبائل فون جیب میں۔ کبھی میڈونا ہور سنڈرم (Maddona-whore syndrome) پر تحقیق کیجئے گا۔ راقم الحروف کو جب اس کے تین مریض دوران نفسیاتی تشخیص ملے تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ یہ بیماری تو نفسیاتی عوارض کے مینوئل (DSM4) میں بھی مذکور نہیں۔ محض ایک ریسرچ کرائٹیریا (Criteria) ہے مگر آپ کے معاشرے میں یہ بھی کسی وباء کی طرح پھیل رہی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی دوڑ نے کئی افراد کو معاشی طور پر تباہ کر دیا۔ 90ء کی دہائی میں لاکھوں روپے خرچ کر کے کمپیوٹر کی پڑھائی کرنے والے جب نوکری کے میدان میں اترے تو انہیں آٹے دال کا بھائو معلوم ہوا۔ کمپیوٹر کی نوکریاں محدود تھیں اور تنخواہیں کم۔ راقم الحروف ایک ایسے شخص سے بھی واقف ہے جس نے BS کمپیوٹر سائنس کر کے بعد میں ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کیا اور پھر اسی کی نوکری کرنے لگا۔

مگر ٹیکنالوجی تو لوگوں کی ایمانیات کا حصہ بن چکی۔ لوگ بڑی شان سے نئے سے نیا موبائل فون اپنے پاس رکھتے ہیں حالانکہ ان کی ضرورت اس سے پرانے کسی فون سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ ’’پرائیویسی‘‘ کے گیت گانے والے اس معاشرے کا تضاد دیکھئے کہ یہ فون ہی ہر انسان کی پرائیویسی میں سب سے زیادہ مخل ہے۔ کوئی ایک لمحے کو فون کو بند نہیں کر سکتا۔ پولیس اور ٹارگٹ کلر دونوں ہی اسی موبائل سے اپنے شکار کو ٹریک کرتے ہیں۔ مگر کچھ ہو، لوگ ٹیکنالوجی کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتے۔ ایسی باتیں تو اس معاشرے میں کفریات میں شامل ہیں۔ مگر اس معاشرے کے لئے ٹیکنالوجی اب ٹیکنالوجی ہے کب؟ وہ تو ایک گھنٹی ہے، اصل چیز تو وہ ہے جو گھنٹی کے بعد ظاہر ہوتی ہے، رال تو اس پر ٹپک رہی ہے اصل میں۔ اور وہ چیز ہے وہ عظمت جس کو ہمارے معاشرے نے اپنے دماغوں میں ٹیکنالوجی سے منسلک کر لیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر یہ بات جتنی صحیح معلوم ہوتی ہے اصل میں اتنی ہی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایجاد ضرورت کی ماں ہے۔ انسان کی ضروریات اتنی بھی نہیں ہیں جس قدر چیزیں اس نے ایجاد کر لی ہیں۔ ابراہیم میسلو (Abraham Maslow) نے بڑی تفصیل سے انسان کی ضروریات کی درجہ بندی کی ہے۔ اس تناظر میں ابھی ان ایجادات کو دیکھئے تو ان میں سے 90 فیصد کا تعلق کسی بنیادی ضرورت سے نہیں اور کسی عرفہ مقصد (جیسے Self actualization) کے لئے ٹیکنالوجی کی کوئی ضرورت تو ہے نہیں مگر جیسے ہی کوئی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے وہ کچھ عرصے میں یوں ہمارے معاشرے کے لئے ضروری ہو جاتی ہے۔ جیسے آکسیجن۔

انسان ٹیکنالوجی کا خالق ہے اور ٹیکنالوجی اس کی مخلوق مگر عجیب ترین بات یہ ہے کہ خالق (یعنی انسان) اپنی مخلوق (یعنی ٹیکنالوجی) کی کس والہانہ طور سے پرستش کر رہا ہے۔ مگر یہ انسان کے تناظر میں کون سی نئی بات ہے؟ بت بھی تو انسان خود تراشتا ہے اور پھر ان کی پوجا کرتا ہے۔ آج کی تاریخ میں ٹیکنالوجی وہی بت ہے جو انسان نے ہی تراشا ہے مگر اب یہ بت انسان کو ڈکٹیٹ (Dictate) کرا رہا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ انسان اس بت کے آگے نہ کہنے کی اہلیت کھو چکا ہے۔ چاہے یہ بت اسے جنسی، نفسیاتی مریض بنا دے۔ چاہے یہ اس کے سماجی اور اخلاقی نظام کا جنازہ نکال دے۔ چاہے ٹیکنالوجی اسے کینسر کی بیمارے دے یا گلیشیئر کو پگھلا دے اور سبزہ زاروں کو صحرا بنا دے۔ انسان اب اس بت کے آگے انکار کی ہمت نہیں رکھتا۔ اب انسان خود ٹیکنالوجی کا ایک ضمیمہ (Extention) ہے اور بس۔ اس کے جذبات اورخیالات فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ کی پوسٹس میں بند ہیں اور اس کی صورت اس کی پروفائل پکچر میں۔ لوگ اب آئینہ نہیں، اپنی پروفائل پکچر دیکھتے ہیں۔ مگر ہیبت ناک بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بھی انکو دیکھتی، ان کی آواز سنتی ہے اور جواب دیتی ہے۔ سامری کا بنایا ہوا بچھڑا اب بول رہا ہے، واضح آواز میں جواب دے رہا ہے، مگر ابھی تک وہ کسی وفادار غلام کی طرح جواب دے رہا ہے، لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی پر حکومت کر رہے ہیں مگر وہ شعور نہیں رکھتے کہ نوع انسان کیسے ٹیکنالوجی کے شکنجے میں ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  جدیدیت، سرمایہ داری اور فرد کی انانیت —- زید سرفراز

 

بنا ڈرائیور کے گاڑی (Driverless Cars )کے بعد بہت جلد شائد بنا انسان کی دنیا (Humanless World) بھی ٹیکنالوجی خود ہی قائم کر دے۔ یہ بات ٹیکنالوجی سوچ سمجھ کر نہ بھی کرے تو کسی حادثے سے تو عین ممکن ہے ہی۔ آخر یہ ایٹم، ہائیڈروجن اور نیوٹران بم بھی تو ایجادات ہیں۔ یہ بھی تو اپنی ضرورت پیدا کریں گے ہی؟ مگر چھوڑیے، اتنی دور کا کیا سوچنا؟ آپ گھنٹی پر غور کیجئے، کہیں آپ دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: