ہم کون ہیں؟ —– حسین نصر/ محمد سہیل عمر (2)

0
  • 22
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ۔ اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


میں اپنے فقراء میں سے کسی کو نیم روایتی، نیم جدیدی نہیں دیکھناچاہتا۔ یہ گویا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص یہ کہنے لگے میں نیم شادی شدہ، نیم غیر شادی شدہ ہوں! یہ ایک لغو بات ہے اور ہمارے نقطۂ نظر سے اس طرح کے موقف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اپنے فقراء سے ہمارا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندازِ جہاں بینی، اپنے تناظر میں مکمل طور پر روایتی ہوں اور یہ سمجھ کر ہوں کہ آخر ہم جدیدیت کے مخالف کیوں ہیں۔ ہم جدید فلسفے کو کیوں رد کرتے ہیں؟ ہم جدیدیت کے تصورِ انسان کے خلاف کیوں ہیں یا جدیدیت کی طرف سے پیش کی گئی تعبیراتِ دین کو ناقابل قبول کیوں قرار رہتے ہیں۔ جدیدت میں آخر ایسی کونسی بات ہے کہ ہم اسے یوں رد کر رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب فقراء کے پاس لازماً ہونا چاہیے، کم از کم اپنے لیے، خواہ دوسروں کو وضاحت سے نہ بتاپائیں۔ ہمارا پورا فکری تناظر، ہمارا اندازِ جہاں بینی، خدا مرکز ہے، انسان مرکز نہیں ہے۔ ہمارا تصوِرکائنات ایک خدا مرکزتصورِ حقیقت پرمبنی ہے بنا بریں ہر وہ شے جو خدا مرکز تناظر، خدا مرکز تصور حقیقت پر مبنی نہ ہو بلکہ اس کی جگہ انسان مرکزیت کا قائل ہو، مثلاًجدیدیت کا فکری تناظر، اسے ہم رد کرتے ہیں۔ جدیدیت کی طرح ہم انسان کو ’’ مالک الملک‘‘ اور ’’مقیاس الحقائق‘‘ نہیں مانتے کہ یہ چیز خدا کو فرمانروائے کائنات اور رب العالمین کے مرتبے سے فرو تر کر دیتی ہے۔ دوسری ہر بات ثانوی ہے۔ روایتی مکتب ِفکر کے نمائندوں کے طور پر ہم جدیدیت سے اصولی اختلاف رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم وحی کی عالمگیریت کے بھی قائل ہیں۔ ہم سند ِ اصیل کے پابند، عرفان و تصوف کے پیروکار اور عالم گیرپیغامِ خداوندی کے علمبردار ہیں اور روایت کو اس کے ظواہر، اس کی خارجی قانونی جہت تک محدود نہیں جانتے۔

ہم ان مسیحی افراد کا پورا احترام کرتے ہیں اور ان کو صحیح مسیحی مانتے ہیں جو (یونانی) عشائے ربانی یا (لاطینی) عشائے ربانی سر انجام دیتے ہیں اور مسیحیت کی دیگر روایتی عبادات کی پابندی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مسیحی جدیدیت یا ان کی طرح ہندو یا یہودی جدیدیت کی اسی طرح کوئی جگہ نہیں جیسے ہمارے ہاں مسلمانوں کے مرضِ جدیدیت کو قبول نہیں کیا جا تا۔ راسخ العقیدہ مسیحی یا یہودی چاہے اسلام کو تسلیم نہ کریں ہم تو یہی مانتے اور کہتے رہیں گے کہ عیسائیت اور یہودیت سیدنا عیسیٰ ؑاور سیدنا موسیٰ کے وسیلے سے نازل کردہ مذاہب ہیں۔ اس ضمن میں ہمارا موقف کچھ ایسا ہے جسے میں نے ایک مرتبہ inclusivism that includes exclusivismکا عنوان دیا تھا یعنی وہ مذہبی ہمہ گیر یت جو اپنے انکار کو بھی اپنی گیرائی میں شامل کرلیتی ہے، ایسی ہمہ گیریت جو غیر ہمہ گیریت کو بھی محیط ہے۔ عملاًیہ کام مشکل ہے مگر اللہ نے ہمیں اس کا پابند کیا ہے کہ خود کو یہ سمجھنے کے قابل بنائیں کہ لوگ دوسرے مذہب کو مذہب کیوں نہیں مانتے اور ہمیں اللہ کے نازل کردہ دین کے طور پر قبول کیوں نہیں کرتے جب کہ ہم ان کے برعکس ان کے مذہبی نظریات و عقاید کا ان کی سطح پر دفاع کرتے ہیں بشرطیکہ وہ روایتی اور اپنی اصل پر قائم ہوں۔ یہ درست ہے کہ آج بھی بہت سے آرتھوڈوکس مسیحی ایسے ہیں جو اسلام کے مخالف ہیں لیکن ہم اس کے باوجود مسیحیت کا دفاع اللہ کے ایک دین کے طور پر کرتے رہیں گے۔ کم از کم میں تو ہمیشہ یہی کرتاہوں اور یہی ہمارا موقف ہونا چاہیے۔

یہ ٹھیک ہے کہ ہم اصولی طورپر ہمہ گیریت کے قائل ہیں۔ ہم سارے روایتی ادیان کا دفاع کرتے ہیں، دنیا کے تمام منزل من اللہ ادیان کا، لیکن اپنے تمام فقراء سے میری توقع یہ کبھی نہیں ہوتی کہ وہ تقابلِ ادیان کے ماہرین اور تاریخِ ادیان کے عالم ہوں گے۔ فقراء کو میری بس اتنی تلقین ہوتی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی یہ آیت اور اس کی ہم معنی دیگر آیات پیش نظر رکھیں :ولکل قوم ھاد [ہم نے ہر قوم کے لیے ہادی برحق بھیجا]۔ ان مذاہب کے پیروکار کیا مانتے ہیں، کیا کرتے ہیں وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے بعض افراد کو کسی خاص مذہب کا مطالعہ کرنے سے دلچسپی ہو لیکن دیگر ادیان کو پڑھنے کا میلان نہ ہو۔ اس میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ آپ ہمہ گیریت کے اصول پر کاربند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر طرح کی نمائش، مناظرے اور اشتہار بازی کے مخالف ہیں۔ ہم روایتی نقطۂ نظر کا دفاع تو کرتے ہیں لیکن مروجہ معنی میں ’’فروغ و اشاعت‘‘ کی کاوش نہیں کرتے، حتیٰ کہ طریقے کے تعارف اور فروغ کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ کچھ صوفی سلاسل ایسے ہیں جو اپنا حلقۂ اثر پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہر میں کسی صوفی شیخ کی آمد ہو اور اس کے مرید ہر سڑک پر اشتہار چسپاں کر دیں جن میں ان کی آمد کا اعلان اور ملاقات کی دعوتِ عام ہو۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں ہمارے تناظر کے سراسر خلاف ہیں۔ ہم عوامی سطح پر خاموشی کے قائل ہیں، اشتہار بازی نہیں کرتے، ہاں اگر موقع محل تقاضا کریں تو روایتی مباحث اور حقائقِ تصوف کا بیان کردیتے ہیں۔ حق کے لیے گوشِ حق نیوش خود میسر آتا ہے۔ ہمارا کردار یہی ہے کہ اپنے قول و فعل میں، اپنے بیان و اظہار میں ہم میں سے اہلِ قلم اپنی تحریروں میں اور سب سے بڑھ کر اپنے سیرت و کردار میں حق کی نمائندگی کریں، حق کی پاسداری کریں۔ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ حق کے بارے میں صرف گفتگو نہ کریں بلکہ خود ’’حق بن‘‘ کر دکھائیں۔ اس دنیا میں شاہدِ حق بن کر اور حضورِخدا وندی کی شہادت دینے کا اسلوب، یہی ہمارا طریقہ ہے۔ حضورِ حق پر شاہد بننے کا عمل ہمارا فریضہ ہے۔ ہم تصوف اور عرفان کے لوگ ہیں اور ہر سطح پر حق کی پاسداری کرنا ہمارے لیے ضروری ہے لیکن بایں ہمہ اشتہار اور پھیلاؤ کی کوششوں سے ہمیں گریز ہے۔ اگر ہمارا یہ وطیرہ ہوتا تو روزانہ سینکڑوں لوگ، خواہشمندانِ بیعت شہر میں وارد ہوا کرتے۔ یہ پیغام جس کے لیے ہےوہ اس کی تلاش خود کرتا ہے اور اسے ڈھونڈ نکالتا ہے۔ یاد رہے کہ سیدنا عیسیٰ نے فرمایا تھا ’’Seek and ye shall find‘‘ (جو یندہ، یابندہ)۔ جب بات حق و باطل کی ہو تو پھر لازماً معاملہ بدل جاتا ہے۔ اگر آپ سے کوئی شخص ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے بارے میں آپ کا احساس یہ ہو کہ استفسار کرنے والے نے کچھ غلط تصورات پال رکھے ہیں تو آپ اس پر حقیقت واضح ضرور کریں، اگر یہ ممکن ہو تو، لیکن اگر اس کا امکان نہ ہو تو پھر اسے کسی ایسے فقیر یا فقیرہ کے پاس بھجوا دیں جو اس مسئلے کو واضح کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔ شرح و توضیح اور اپنے حلقے میں گھسیٹنے کی کوشش دو مختلف چیزیں ہیں۔ جو لوگ اس راہ کے لیے تیار ہوتے ہیں اور جن کے لیے ہمارا پیغام مناسبت رکھتا ہے وہ وقت آنے پر خود دروازے پر دستک دیں گے۔ میں فقط یہ چاہتا ہوں کہ جو خصوصیات مجھے روحانی میراث کے طور پر منتقل ہوئی ہیں ان کا تحفظ کیا جائے کہ یہی ہماری شناخت ہیں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے روحانیت سے متعلق ایک طبقۂ فکر کے طور پر یہی ہمارا تعارف ہیں۔

بعض لوگ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم کچھ زیادہ نظری/کتابی ہیں اور ہم میں عقلیت اور دانشوری کی تو افراط ہے لیکن محبت، عبادت یا خدمتِ خلق کا فقدان ہے۔ یہ لغو بات ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم علم اور علمی مباحث کو اہمیت دیتے ہیں اور طریقے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نمایاں اہلِ علم اور ماہرینِ بعد الطبیعات میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو نہ عالم ہیں نہ فلسفی۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ولی اللہ ہوں اور ساتھ بینک میں کلرکی کر رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور فقیر آپ بے حاصلی کا نمونہ ہوں لیکن دن رات تصوف کی کتابوں کے مطالعے میں جٹے رہتے ہوں۔ ان دو باتوں میں التباس سے بچنا چاہیے۔ بایں ہمہ یہ ایک طرح سے گویا ہمارا منصب بن گیا ہے کہ ہم مابعدالطبیعاتی اور دینی حقائق کا بیان کیا کریں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے فقراء ایسے دئیے ہیں جو اس منصب کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ایسے فقراء جن کو یہ صلاحیت عطا ہوئی ہے انھیں چاہیے کہ موقع محل کے مطابق اپنی اس صلاحیت کو بروئے کار لائیں لیکن یاد رہے کہ تحریر و تصنیف اور اس شعبۂ زندگی سے متعلق ہونا اچھا فقیراور سالک ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔

ہمارا طریقہ اس لیے نہیں ہے کہ روایتی دانشِ نورانی کے حامل علما کو تربیت دیا کرے گو اس کے منصب کا ایک حصہ اس سے متعلق ضرور ہے۔ طریقہ اس لیے ہے کہ لوگوں کی روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کا فریضہ انجام دے تاکہ وہ اللہ والے بن سکیں۔ لیکن ہم جس دنیا میں زیست کر رہے ہیں وہ گمراہیوں اور کج فکری سے بھرپور ہے اور فکری غلطیاں ہی اکثر وہ رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں جو انسانوں کو اپنی اصلاح اور تعمیر ِسیرت و کردار کے لیے پہلا قدم اٹھانے اور کمالِ انسانی کی جانب سفر کی ہمت کرنے میں آڑے آتی ہیں۔ اگر آپ کے سامنے کمالِ انسانی کا کوئی نمونہ ہی نہ ہو، یعنی اس کا فکری خاکہ یا عقلی بیان بھی نہ ہو چہ جائیکہ سچ مچ کا کمالِ انسانی کے سانچے میں ڈھلا ہوا حقیقی انسان، تو پھر آپ کمالِ نفس، کمال ِ انسانی کی طلب میں کہاں رخ کریں گے؟نفسِ انسانی میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو ایک فطری اور غریزی طلب ِکمال رکھی ہے یہ مرجھا کر رہ جاتی ہے کہ اگر نمونہ ہائے کمال یا کم از کم ان کا تذکرہ میسر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارےطریقے کا عقلی اور عرفانی پہلو اتنا اہم ہے کہ یہ وضاحت سےکمالِ انسانی کی صورتگری کرتا ہے لیکن ما بعدالطبیعی مباحث پرعبور اور کونیاتی علوم میں مہارت کا تقاضا ہر ایک سے نہیں ہو سکتا اگرچہ یہ علوم ہمیں اس قابل بنا دیتے ہیں کہ ہم کم از کم عقلی طور پر فطرتِ الٰہیہ، مراتبِ خداوندی اور انسان ِکامل کافہم حاصل کرسکیں، یہ جان سکیں کہ خدا کیا ہے اور اسلام کا مطلوبہ انسان کیسا ہوتا ہے۔ عقائد کا عمومی علم البتہ درکار ہے۔ تہذیبِ اخلاق، محاسنِ اخلاق، خوش اطواری، کردار کی بلندی، تزکیۂ نفس یہ چیزیں سب کے لیے ہیں، ہمارے روحانی اعمال و اذکار سب کے لیے ہیں۔ ان موضوعات پر میں اس دستاویز کے دوسرے اجزاء میں گفتگو کروں گا۔

یہ جاننے کے لیے کہ ہم کون ہیں ہمیں افراط و تفریط کی د و انتہاؤں سے بچ کر چلنا ہوگا۔ ہم ایران پاکستان اور دیگر مقامات کے ان ’’عقل بیزار‘‘ سلاسلِ تصوف کی طرح نہیں ہیں جو عقل کا لفظ ایک مثبت حقیقت یعنی شعور کے طور پر استعمال کرنے تک کے روادار نہیں اور اسے صرف ذہنی اچھل کود اور خرد افروزی کے معنی میں برتتے ہیں۔ ہم ان کی طرح ہر گز نہیں۔ ہمارا تعلق ایک عرفانی طریقے سے ہے اور ہم اپنے ملکۂ شعور کو اجالنے، دانشِ نورانی کو جلا دینے کے ذریعےعلم و معرفت کی اعلیٰ ترین سطحوں کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہم ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو صرف علمِ نظری پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور طریق ِعشقی، حبِ خداوندی اور اعمالِ روحانی و قلبی کے وسیلے، تہذیبِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی صورت میں اس علم ِنظری کو عملی حقیقت بنانے سے لا تعلق رہتے ہیں۔ ہمارا طریقہ تزکیۂ نفس اور تربیت ِذہنی دونوں سے مرکب ہے اور ذہنی، عقلی تربیت بھی صرف اس حد تک جس قدر یہ تزکیۂ نفس اور اخلاقِ حسنہ میں رسوخ کے لیے ضروری ہے۔ عقل کی تراش خراش اور اسے شائستۂ طریق بنانے کا عمل اس لیے ناگزیر ہوتا ہے کہ شعورِ عقلی آگے چل کر تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور اخلاقی تربیت میں رکاوٹ پیدا نہ کرے لیکن غایتِ عمل اور مقصودِ طریق اصل میں نفوسِ انسانیہ میں انقلاب لانا، ان کی تہذیب و تربیت ہی ہے، ایسے کہ وہ تقلیب کی منزل کو پہنچ کر نورِ خداوندی اور فیضانِ الٰہی کو قبول کرنے کے لیے نفسِ مزکیّٰ اور قلبِ مصفّٰی کی صورت میں پوری طرف شفاف ہو جائیں۔

ہم ایران پاکستان اور دیگر مقامات کے ان ’’عقل بیزار‘‘ سلاسلِ تصوف کی طرح نہیں ہیں جو عقل کا لفظ ایک مثبت حقیقت یعنی شعور کے طور پر استعمال کرنے تک کے روادار نہیں اور اسے صرف ذہنی اچھل کود اور خرد افروزی کے معنی میں برتتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی جنت صرف دانشوروں اور ذہین وزیرک افراد کے لیے نہیں ہے۔ وہ سب سے بڑھ کر ان لوگوں کو اذن ِبہشت عطا کرتا ہے جو نیک اور پارسا ہوتے ہیں اور جن کے شعور ِعقلی نے توحید کو اعماقِ جان سے حقیقت بنانے میں ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ جدید دنیا میں یہ جو بہت سے لوگ بہ آسانی شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کی فالج زدہ عقل نے ان کو ایمان اور دانشِ نورانی کی تجلی سے کاٹ کر الگ کر دیا ہوتا ہے۔ فی زمانہ محرِوم ایمان مگر ذہین اور عقلمند لوگ زیادہ آسانی سے شیطان کا شکار بن جاتے ہیں بہ نسبت اوسط درجے کی ذہانت رکھنے والے عام لوگوں کے جو ذہنی براقی تو نہیں رکھتے مگر ایمان اور عملِ صالح سے بہرہ مند ہیں۔

سیدنا عیسیٰ ؑ کا قول :
“Suffer little children… to come unto me for of such is the kingdom of heaven”
بالواسطہ طور پر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کا اشارہ جدید دنیا میں بے تحاشا پھیلی ہوئی نمائشی، مصنوعی، بچوں ایسی معصومیت سے عاری، اُس ذہنی، عقلی تیزی اور براقی کی طرف ہے، اُس جعلی عقلیت کی طرف جو ہمیں ہر طرف نظر آتی ہے اور جو نہ جانے کتنے نفوسِ انسانیہ کے زوال اور تباہی کا سبب بنتی ہے۔ ہمارا طریقہ عقل و دانش کی تحقیر اور سوئے استعمال دونوں کا بیک وقت مخالف ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے، میں یہ بات دہرارہاہوں اور اس پر ختم کروں گا، کہ ہم حق اور حسنِ اخلاق کے علمبردار ہیں۔ خداوند ِکریم نے ہمیں وہ طریقہ عطا کیا ہے جوہمیں علم ِحق بھی فراہم کرتا ہے اور تزکیۂ نفس کے نظام کی صورت میں راہِ حق بھی دکھاتا ہے۔ ہمیں بتاتا ہے کہ الحق کیا ہے، المطلق کیا ہے، اضافی اور مطلقِ اضافی کیا ہے اور غیر حقیقی کیا ہےاور پھر وہ وسائل فراہم کرتا ہے جو درگاہِ حق میں باریاب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس تحریر کے دوسرے حصے میں ان عقاید و تصورات اور نظامِ عمل کاتذکرہ ہوگاجو ہمارے طریقے میں معروف ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: