زبیدہ —– ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 51
    Shares

گزرے زمانوں کا ذکر ہے کہ ملک عدم میں زیبارو نام کی کوئی شہزادی تھی، سانولا رنگ، کھڑی ناک، لمبوترا چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں اور بائیں گال پرتل۔ وہ اپنی آنکھوں سے دانائی کا کام لیتی تھی، بادشاہ کی بڑی بیٹی ہونے کے ناتے اس کی رسائی تخت تک تھی۔ وزراء اور مشیر اس کی عقل کے معترف تھے اوربادشاہ اسے اپنی سنتان سونپنا چاہتا تھا۔ سلطنت سونا اگل رہی تھی، ہر طرف بہارہی بہار تھی، درخت میوؤں سے بھرے تھے اورعیش و عشرت نے نعمت کدوں کو اپنے حصارمیں لے رکھا تھا۔ شہزادی رات کے پچھلے پہر پائیں باغ کے سرہانے اپنے تانپورے سے سُر چھیڑتی تو دودھیا چاندنی اس کے رخسارکی رونق بڑھانے لگتی۔ سلطنت کے معاملات سنبھالتے ہوئے اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی کسی منجدھار میں پھنس چکی ہے۔ اس کی حکمت اور دانائی کی پکاریں دور دور تک سنی جاسکتی تھیں۔ شہزادے اس کا ہاتھ مانگنے کو بے تاب تھے۔ شہزادی زیبارو شکار کی بھی شوقین تھی، اس موقع پر وہ اپنے دل پسند گھوڑے زرود کو ساتھ رکھتی تھی۔ نسواری رنگ کایہ چھیل چھبیلا گھوڑا سر جھکائے شہزادی کے پیچھے پیچھے چلتا تو دریاکی لہریں پتھروں سے سر ٹکرانے لگتیں۔ زندگی کی یہ آسودگی اس کے لیے جسم پراگنے والی چیچک تھی جسے وہ کھرچ کھرچ کرخودکو زخمی کرنے لگی۔ اسے اپنے تانپورے کی تاریں لَو دینے لگی تھیں، راگ چھیڑتے ہوئے اب اس کی انگلیاں سنسناسی جاتیں۔ فراغت کی تھکن اس کے اعصاب پر سوار ہونے لگی تھی اس کے خوابوں کی کونپلیں خاردار ہو رہی تھیں۔ انھی دنوں بادشاہ کو ملک چیستان کا شہزادہ اپنی شہزادی کے لیے پسند آگیا اور تانپورہ سفید مرمریں تخت پر دھرا رہ گیا۔

٭٭٭٭٭٭
اپلوں سے بھری ان دیواروں اورزبیدہ میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ سوجے ہوئے منہ کے ساتھ وہ بھی بڑی خاموشی سے اپنے کمرے کی دیوار سے لگی ہوتی تھی۔ بھائی جی اپنی شلوار نیفے تک اڑستے ہوئے اس پر پل پڑتے اور وہ ٹنڈ منڈ پیڑ کی شاخ جیسے فضامیں لہرا جاتی۔ میں نے کتنی دفعہ بھائی جی کو اس کی ٹانگوں کے بیچوں بیچ ٹھڈے مارتے دیکھا تھا، وہ وحشی درندہ بن کر اپنے شکارکو پنجوں میں جکڑتے ہوئے منہ میں لے لیتے۔ زبیدہ اپنے پر پھڑپھڑاتی اورمیں کھڑکی کی سلاخوں سے ان پروں سے پیداہونے والی آوازیں سنتا، میرے چہرے پر یہ پھڑپھڑاہٹ صرصرکرتی۔ بھائی جی کو کس بات پر اور کب غصہ آجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا۔ خبر بس زدمیں آنے والی زبیدہ کو ہوتی تھی جس کی ناؤ میں بیٹھا ملاح چپو سے کھیلنا جانتا تھا۔ بھائی جی کو یہ دیوانگی ورثے میں باپ سے ملی تھی، جس کے لیے ماں بھی قینچے کی طرح تھی جسے وہ مٹھیوں میں خوب دگڑ کر مٹی پر پٹخ دیتا تھا۔ یہ قینچا مٹیالی زمین پر پڑا اپنی چکاچوند گنوا چکا تھا کیونکہ کھیلنے والے ہاتھوں کی گرفت بہت سخت تھی۔ میں نے آنکھ کھولتے ہی مردانگی کی جس قسم کو پروان چڑھتے دیکھا تھا اس میں عورت گنے کاوہ پھوک تھی جس کی ساری مٹھاس چوس لی گئی ہو۔ میری ماں بھی چوسے ہوئے اس پھوک کی گٹھر بن گئی تھی۔ میرے باپ کی دیوانگی نے اسے بھوسا بنا ڈالا تھا پھر ایک دن اس کے جنون نے بھوسے کو آگ دکھا دی۔ اسے میری ماں کو مارنے میں مزا آنے لگا تھا اور ماں کا پنڈا اس کی ٹانگوں اورگھونسوں کا عادی ہوگیا تھا۔ پھر ایک دن میرے باپ پر بھوت سوار ہوگیا، وہ دھڑدھڑ دروازہ پیٹ رہا تھا اور وہ مجھے چھاتی سے چمٹائے دودھ پلانے میں مگن تھی۔

سورما ہلکارے مارتا ہوا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا اور میری ماں پر پل پڑا۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ دیوانے نے میری ماں کی چھاتیاں کاٹ ڈالی تھیں۔ ان سے رسنے والاخون اور دودھ شیر و شکر ہوگئے تھے اور میں ماں کے پہلو میں لیٹا اسے ٹٹول رہا تھا۔ یہ ان دیکھا منظر جب بھی میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو منہ میں دودھ کی جگہ خون کی تلخی لے لیتی ہے۔ اب یہی حال زبیدہ کا ہو رہا تھا، وہ رات بھر اذیتوں کے برمے اپنے ننگے پنڈے پرسہتی اورصبح اٹھ کرکبھی ٹانگوں کے درمیان گرم اینٹ کا سینکا لیتی اورکبھی پیٹ کے اوپرگرم پانی کی بوتل رکھ کر ٹکوریں کرتی۔ بھائی جی اس اذیت بھری زندگی سے بہت خوش تھے انھیں ہاتھ جوڑتی، پاؤں پڑتی اورسی سی کرتی زبیدہ اچھی لگتی تھی۔ وہ بھنے ہوئے دیسی مرغ کی ٹانگ بھی دانتوں کے درمیان رکھ کراس زورسے کھینچتے گویا منہ میں زبیدہ رکھی ہو اور وہ اس کی رانوں پرپاؤں رکھ کراسے چیر رہے ہوں۔

٭٭٭٭٭٭
شہزادی ملک عدم چھوڑ چکی تھی، اب وہ جس میں محل میں تھی اس کا ماحول بہت اجنبی تھا۔ شہزادہ نیل خرام اپنی دنیامیں مست تھا، اسے شہزادی کی ذہانت اورحکمت سے کوئی سروکار نہیں تھا، اس کے لیے زیبارو فقط جام تھی جو اس کے لبوں کو سوکھنے نہیں دیتا تھا۔ شہزادی کے لیے محل خوب صورت قیدخانہ بن گیا جہاں آسودگی ناآسودگی میں بدل چکی تھی۔ یہاں اس کانسواری رنگ کا گھوڑا بھی نہیں تھاجس کی پیٹھ پر بیٹھ کراس نے اپنی زندگی کے کتنے ہی اعلیٰ شکار کھیلے تھے۔ آج وہ خود کو اس خرگوش کی جگہ بے دست و پاسمجھ رہی تھی جس کاشکار کرتے ہوئے زرود کے ٹاپوں کی دھمک مدھم ہوگئی تھی۔ شکاری کتوں نے پلک جھپکتے اسے گردن سے دبوچ لیا اورشہزادی اس مردہ خرگوش کو اپنی چھڑی میں لٹکائے جیت کے نشے سے سرشار محل کو لوٹی تھی۔ آج وہ شہزادہ نیل خرام کی چھڑی میں لٹکا ہوا خرگوش تھی جس کی گردن کتوں کے بجائے خود شہزادے کے دانتوں میں تھی۔ شہزادی کے حلق تک مردہ گوشت کا بدبودار ذائقہ گھلنے لگتا تو اسے ابکائیاں آنے لگتیں۔ شہزادی کی دانائی کو قسمت کی نظرلگ گئی اب وہ محل میں کھوٹے سکے کی طرح پڑی تھی۔ محل کے دالان اور روشیں اس کے اندر اترنے والے سناٹوں کے گواہ تھے۔ اس کے جہازی کمرے میں بچھے اطلسی پلنگ کے اوپر لٹکتی سفیدچادروں کی نرمی بھی سختی میں بدل چکی تھی۔

شہزادہ نیل خرام کو فتوحات کا شوق تھا سو وہ اسے فتح کرکے اپنے علاقوں میں شمار کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اس کے نرم گرم بستر کا سارا ٹھنڈا پن اب اس کی رگوں میں اترنے لگا تھا۔ وہ شہزادے کی الفت کو تڑپنے لگی، اس کے پاس تنہائی کے سوا کچھ نہیں تھا تو پھر اس نے ایک طوطا پال لیا۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگی، طوطا اپنے پنجے چونچ سے صاف کرتے ہوئے ٹیں ٹیں کرتا اور شہزادی کا دل ان پنجوں کی خراشوں کو ترسنے لگتا۔ اس کے باغ آفریں میں بھی حدت جاں نہ رہی اور اسے اپنا تنبورا یاد آنے لگا۔ شہزادے کو دیکھے مہینوں گزرجاتے اورشہزادی اپنے کمرے کی کھڑکی سے لگی سمندر کا نظارہ کرتی رہتی۔ جس میں چلنے والی بڑی کشتیاں لنگرانداز ہونے کے لیے رسے پھینکتیں تو اس کا بھی جی چاہتا آگے بڑھ کرکوئی رسا پکڑلے۔ ایسے میں ایک دن وہ طوطے سے کہنے لگی: ’’مٹھو، دعا کرو شہزادہ مرجائے۔‘‘ ٹیں، ٹیں، ٹیں، چچ چچ چچ۔ ۔ ۔ طوطا اپنے پنجے کو چونچ سے صاف کرتے ہوئے آمین کہتا اور شہزادی روزنِ دیوار سے سر ٹیکتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتی۔

٭٭٭٭٭٭
اس گھرکی دیواروں نے ایک عورت کی کٹی ہوئی چھاتیوں سے دودھ کشید ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے یہاں زبیدہ کی سسکیوں کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ بھائی جی بپھرے ہوئے سانڈھ کی طرح ڈکارتے تو اس کے ہاتھ سے دودھ کی پتیلی پھسلتے پھسلتے بچتی۔ ان کی زندگی کا دنگل سوائے مار پیٹ کے اور کچھ نہیں تھا اور یہ دنگل وہ ہردوسرے تیسرے دن کھیلتے ہی رہتے تھے۔ مارپیٹ کے بعدوہ اس سے معافی بھی مانگتے ان کی بھوری آنکھیں پانیوں سے لبالب ہوتیں اور زبیدہ دوپٹے کا پلومنہ میں دئیے پھسڑ پھسڑ روتے ہوئے ان کے جڑے ہوئے ہاتھ اپنے ماتھے پہ رکھ لیتی۔ چونٹی پہاڑ پر چڑھ کر قلعہ فتح ہونے کی نوید سناتی تو معلوم ہوتا کہ قلعے کا کوئی داخلی دروازہ ہے ہی نہیں۔ بھائی جی ہر لڑائی کے بعد زبیدہ کے کندھے دباتے، اپنے شکار کو دوبارہ ہوش میں لاتے ہوئے ان کا انداز دفاعی ہوتا۔ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہتے: ’’تابعدار زنانی ایں۔ ھم م م م۔‘‘ بھائی جی اس سے چمٹ کرسوتے اوروہ زندہ لاش کی طرح چارپائی پر پڑی لمبے لمبے سانس لے رہی ہوتی۔ مجھے بھائی جی سے کبھی محبت اور نفرت محسوس ہی نہیں ہوئی۔ شاید میرے اندر کا ہیجان زبیدہ کو مار کھاتے دیکھ کر کم ہوتا تھا۔ اس وقت میں سوچتا تھا کہ ماں بھی بالکل ایسے ہی میرے باپ کی مار کھاتی ہوگی۔ اسے آخری عمر تک ماں کی موت کاصدمہ رہا، یہ صدمہ شکار کے ہاتھ سے نکل جانے کاتھا۔ وہ اکثر فخر سے بتاتا کہ میری ماں بڑی جی دار عورت تھی، ایک دفعہ جب وہ بہت بیمار ہوا تو اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر دوا دارو کے لیے ماری ماری پھری۔ رات کے کسی پہر اس کی ٹانگیں دباتے ہوئے اگر اس کی آنکھ لگ جاتی تو میرا بیمار باپ وہی ٹانگ اس کے سینے میں ٹھونک دیتا۔ وہ دردسے بلبلاتی دوبارہ اس کی ٹانگیں دبانے لگ جاتی اور میرا باپ ’’کڑی یاوی‘‘ کہتا ہوا اسے لوٹنے کھسوٹنے لگتا۔ میرے گھر میں ذہنی بیمار مردوں کی پنیری اگ چکی تھی اور بھائی جی اس پنیری کا پھل تھے۔ میری دیوانگی کی تسکین بھائی جی کی جارحیت اور زبیدہ کے آنسوؤں سے ہوتی تھی۔ میں اب اس انتظارمیں تھا کہ کب بھائی جی زبیدہ کی چھاتیاں کاٹیں گے جہاں سے سوائے خون کی سرخی کے اور کچھ نہیں نکلے گا۔

٭٭٭٭٭٭
پھر ایک دن محل میں کھلبلی مچ گئی کہ شہزادی زیبارو کہیں نہیں تھی۔ پیادے اسے ڈھونڈتے ہوئے محل سے باہر نکل چکے تھے، کشتیاں سمندرکی لہروں کے سپرد کردی گئیں لیکن سب بے سود تھا۔ شہزادہ نیل خرام نے اس کے سرکی قیمت مقرر کردی تھی، چرند پرند بھی اسی کی گمشدگی پر بولیاں بولتے تھے کہ ملک چیستان کے نجومیوں نے عقدہ حل کرلیا۔ ان کے خیال میں شہزادی کسی دیو کی قید میں تھی جو ایک بڑے سے عقاب کے پروں کے درمیان بیٹھ کر سمندرکی سیرکو آیا تھا۔ محل کی کھڑکی سے باہرجھانکتی شہزادی کی آنکھوں کی اداسی نے اسے اپنا دیوانہ بنادیا۔ اکثرر ات کے پچھلے پہر اچانک تنبورے پر کوئی راگ چھیڑدیتا تھا۔ سر فضا میں بکھرتے ہی سمندر پر روشنیاں مسلط ہو جاتیں۔ دورسے ایک روشن عقاب اڑتا ہوا آتاجس پربیٹھا ہوا حبشی دیو اپنے سفیدچمکتے دانت کھولتا تو گویا الاؤ سا روشن ہو جاتا۔ ایسے میں شہزادی زیبارو صاف شفاف سمندرکی لہروں پرکروٹ لیتے اٹھتی۔ سیاہ دیو بہت بھیانک دکھائی دیتا اس کے بڑے بڑے کالے ہاتھ کوئلے کی کان تھے۔ شہزادی ان ہاتھوں کے گڑھوں میں اپنے نازک ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیوکے کاندھے پر اپنا سر رکھ دیتی۔ روشنیوں سے مخمور عقاب چیاؤں کی آواز نکالتا اوردونوں اس پر سوار ہوجاتے۔ آہستہ آہستہ تنبورے کی تان مدھم پڑتی جاتی اور سمندرکا نیلگوں پانی اندھیروں میں ڈوبنے لگتا۔

٭٭٭٭٭٭
کچھ دن بعد میں نے محسوس کیا جیسے زبیدہ کے آنسو خشک ہونے لگے تھے، اس دن بھی وہ صحن کی دیوار پر روٹیوں کا چھان بورا مٹی کے پیالے میں ڈال رہی تھی کہ یکدم کوؤں کو منڈیر سے اڑاتے ہوئے بولی: ’’فیکو، دعا کرئیں اے کاں مر جائے۔‘‘
’’کیوں بھرجائی۔‘‘
’’ویکھ ! نامراد اڈدا وی نئیں۔‘‘
میں اس کے لفظوں میں کھو سا گیا۔ کوے تو بنیروں سے اڑجاتے ہیں انھیں تو بس اپنی روٹی اورپانی کی پیاس ہوتی ہے۔ میرے بارہا سوال کرنے پربھی وہ بس یہی کہتی کہ دعاکر کاں مرجائے۔ میں چارپائی کی پائینتی پر بیٹھا ہوا حقے کی نالی زبان پر رکھ لیتا۔ تمباکو کی کڑواہٹ حلق چیر دیتی تو میں گڑگڑ کی آوازیں نکالنے لگتا۔ بھائی جی اورزبیدہ بھی توحقے کی طرح ہی تھے ایک حصے میں تمباکو تھا، آگ تھی اوردوسرے پیالے میں پانی، اس ملاپ نے حقے میں جو گڑگڑاہٹ پیدا کی تھی اب اس کا ذائقہ کسیلا ہوگیا تھا۔ حقے کی یہ دو نالیاں دھواں پیداکرتی ہوئیں میرے منہ میں تن گئی تھیں اوربھاپ کی یہ کڑواہٹ حلق پرخنجربن کرچل رہی تھی۔ میں جلتے ہوئے تمباکو کے نیچے کتنا ہی گڑ ڈال لیتا اس کی تلخی کو ختم نہیں ہونا تھا۔ اس رات بھی زبیدہ نے بہت مارکھائی، وہ کملی اس دیوانے کے سامنے قربانی کے دنبے کی طرح ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھی تھی۔ میں نے پہلی مرتبہ کمرے کی نیم مردہ روشنی میں زبیدہ کو کپڑوں سے آزاد دیکھا۔ وہ چارپائی سے نیچے اکڑوں بیٹھی اپنے دونوں بازوسینے پر رکھے بھائی جی کے تھپڑوں کا مقابلہ کر رہی تھی۔ مجھے امید بندھ گئی کہ شاید آج کی رات زبیدہ بھی میری ماں کی طرح تختہ دار پر لٹکائی جائے گی۔ کتنا مزا آنے والا تھا، بھائی جی نے اسے گردن سے دبوچ رکھا تھا، گردن پر چھری چلتے ہی اسے نیلے ڈرم میں پھینکا جاتا۔ مجھے اس کے کچے گوشت میں ملی ہوئی جسم کی خوشبو نے بے تاب سا کر دیا۔ زبیدہ کی سسکیاں سنتے سنتے میری آنکھ لگ گئی اور میرا زندگی بھر کا نقصان ہوگیا۔

صبح بھائی جی کی چیخ وپکارسے میری آنکھ کھلی، وہ صحن میں لوگوں کا مجمع لگائے گالی گلوچ کررہے تھے: ’’نکل گئی کڑی یاوی، اپنے یارنال۔‘‘ مجھے لگاجیسے میں آسمان پر اڑنے والے اس ہوائی جہاز کی پشت پر بیٹھا ہوں جس نے کچھ دیر پہلے ہی اڑان بھری تھی۔ تیزرفتار ہوانے میرے ان گنت ٹکڑے کردئیے، میں جتنا باقی بچا تھا زمین پرپٹخ دیاگیا اور گدھ میرے سر پر منڈلانے لگے۔ زبیدہ کو گھر سے بھاگے ہوئے مہینہ ہونے کو تھا، گھرخالی کھنڈر بن گیا۔ میں ہرصبح صحن کی کچی منڈیرپررکھے مٹی کے پیالے میں روٹی کے ٹکڑے ڈالتا لیکن کوے تو جیسے وہاں آناہی بھول گئے تھے۔ وہ کاں بھی غائب تھاجس کے مرنے کی دعائیں زبیدہ مانگا کرتی تھی۔ تو کیا زبیدہ کو وہ کالا کاگ اڑا لے گیا تھا جس کی لمبی چونچ میں گیلی روٹی کے ٹکڑے ہوتے تھے اوروہ اپنے پنجے صاف کرتے ہوئے کائیں کائیں کرتا تھا۔ اب میں خود کو یہ سوچ کر تسلی دے لیتا ہوں کہ بھائی جی کی زندگی میں آنے والی دوسری بیوی میری خواہش ضرور پوری کرے گی۔ وہ اس کی چھاتیاں کاٹ کرمیرے دل کو تقویت پہنچائیں گے اور میں دانت کچکچاتے ہوئے گوشت کے ان لوتھڑوں میں کبھی اپنی ماں کو ڈھونڈوں گا اور کبھی زبیدہ کی بے زبانی میرے لیے دودھ کی نہریں نکالے گی۔ زبیدہ واپس آجاؤ، گھرمیں پڑے دو دیوانے تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ ایک دیوانہ روز اپنی شلوار نیفے تک اڑس کر ڈنڈا ہاتھ میں لیے ڈنٹر پیلتا ہے اور دوسرا دیوانہ چارپائی کی سخت ادوائن میں سر دئیے، منہ زمین کی طرف کرکے تنکوں سے کھیلتا ہے۔ میرے بدن کا سارا خون سر اور منہ کی طرف گردش کر دیتا ہے اور میں اکھڑتی ہوئی سانسوں کے درمیان دونوں عورتوں کی چیخیں سننے میں مگن ہوجاتا ہوں۔ زبیدہ بس ایک بار واپس آکر اپنی چھاتیاں کٹوا لو تا کہ میں بھی اپنا سر اس سخت ادوائن سے باہر نکال کرکھلی فضامیں سانس لے سکوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: