بھائی! شاپر ڈبل کر دینا —– عمران الطاف

0
  • 59
    Shares

90 کی دہائی کی بات ہے کہ لوگ بازار جاتے ہوئے اپنے ساتھ کپڑے یا ریشمی اون سے بنا تھیلا ضرور رکھتے تھے۔ بازار میں خریداری ہوتی خصوصا سبزی، پھل وغیرہ لیتے اور اس تھیلے میں ڈلوا لاتے۔ گھر آ کر ان اشیاء کو مناسب برتنوں میں منتقل کر دیا جاتا۔

یادش بخیر! 80کی دہائی کے آخری آخری سالوں کی بات ہےکہ گاوں میں لوگ کسی دوکان سے کوئی چیز لینے جاتے تو اگر کپڑے خراب ہونے کا احتمال نہ ہوتا تو جھولی میں بھر کے آ جاتے وگرنہ گھر سے ساتھ لئیے گئے برتن میں مطلوبہ چیز ڈلوا لاتے۔

اکثر دیکھنے میں آتا کہ گاوں کے بزرگ شہر جاتے اور شہر سے واپسی پر اپنے سر پہ بندھے صافے میں ہی اپنی خریداری کو گھٹڑی کی شکل میں لے آتے۔ اُس وقت شہروں کے کیا حالات تھے ان سے واقفیت نہیں ہے تاہم آجکل بازاروں میں جہاں آپ طرح طرح کی آوازیں سنیں گے وہاں یہ الفاظ بھی آپکو بہت جانے پہچانے لگیں گے کہ “بھائی شاپر ذرا ڈبل کر دینا”
بحثیت قوم ہم میں ہر صنعت اور اس سے بنی مصنوعات کے استعمال کو اوج کمال تک پہنچا دینے کا ہنر بدرجہ اتم موجود ہے اور اس پر کمال یہ کہ اس کے بے جا و بے دریغ استعمال کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی ہمیں واضح نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

پلاسٹک کے بنے شاپنگ بیگز کا استعمال ہم میں بہت عام ہے۔ دس روپے کی چیز سے لیکر ہزاروں لاکھوں تک کا سامان ہم شاپر میں ڈلوا کر لانا پسند کرتے ہیں۔ اور استعمال کے بعد یہ شاپنگ بیگز گلیوں، بازاروں حتی کہ دور دروز کے دیہات کے کھیت کھلیانوں میں جا بجا بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پانی کے بہاو میں رکاوٹ، قابل کاشت و قابل رہائش رقبہ میں کمی، تعفن، اور دیگر ماحولیاتی آلودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سانس و دیگر بیماریوں کا باؑث بنتے ہیں۔ ہمارے شہروں میں جابجا گند گی کے ڈھیر اب حد سے زیادہ تجاوز کرنے لگ گئے ہیں۔ مگر ہم فی الوقت اس جنوں میں مبتلا ہیں کہ بھائی۔۔۔ شاپر ڈبل کر دینا۔۔

ہمارے کراچی کو کچرا کنڈی بنانے میں جہاں حکومتی نا اہلی کا ھاتھ ہے وہیں پہ من حیث القوم ہم نے بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہے۔ زندہ دلان لاہور محمود بوٹی رنگ روڈ سے ملحقہ علاقے میں اپنے ہی ہاتھوں کھڑے کئے گئے کچرے کے پہاڑوں میں دب رہے ہیں۔ لیکن شاپر ڈبل کروانا نہیں بھول رہے۔

میری ناقص معلومات کے مطابق ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان میں پلاسٹک کے بنے شاپنگ بیگز کے استعمال اور اسکی خریدو فرخت پہ مکمل پابندی لگ چکی ہے۔

عرض یہ ہے کہ خدارا اپنے لئے اوراپنے آنے والی کو بہتر ماحول دینے کے لئے حتی المکان کوشش کریں کہ آپ شاپر کا استعمال نہ کریں۔ انفرادی طور پر کی گئی معاشرے کی بہتری کے لئے کوششیں زیادہ بہتر اور موثر ثابت ہو سکتی ہیں بہ نسبت حکومتی اقدامات کے۔ غرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھر محلے سے اس شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ حکومتی سطح پر بھی شاپر کے استعمال پر پابندی لگنی چاہیئے کہ ایک یہ بات بھی ہم میں بہت ہے کہ ہم سے بزور تو کوی قانون منوایا جا سکتا ورنہ نہیں۔

اپنی اپنی جگہ پہ ایک دفعہ سوچیئے گا ضرور کہ کہیں ہم یہ شاپر ڈبل کروانے کی وقتی خواہش کے بدلے میں اپنی اور آئندہ نسل کے لئے بہترین اور صاف ستھرا ماحول تو نہیں قربان کر رہے۔ یقیننا ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔ اپنے چند کلو میٹر یا اس سے بھی کم سفر وقتی طور پر آسان بنانے کے لئے آئندہ آنے والی صدیوں کو متعفن کر رہے ہیں۔

آگے بڑھیئے اور اس سے پہلے کہ درختوں کی کمی اور ما حولیاتی تغیر ایسے مسائل کا احساس جیسے ہمیں عالمی اداروں کی رپورٹس سے ہوا۔ خود اپنے مسائل کا ادراک کریں۔ آپ یقیننا ایک زندہ و پائندہ قوم ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور عمل کی توفیق عطا کرے۔ وگرنہ شاپر تو ہم بزور بازو ڈبل کروا ہی لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: