استعمار کی علامتیں اور گورنر ہاؤس کا انہدام —- راو جاوید

0
  • 13
    Shares

ہمارے کھلاڑی حکمران اور عوامی انقلابی قائد عمران خان کا گورنر ہاؤس گرانے کا اعلان اہم بھی ہے اور انقلابی بھی۔ گورنر اور ڈپٹی کمشنر دونوں غیر ملکی استحصال کی علامتیں ہیں۔ دونوں کا علامتی خاتمہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک عوامی قائد کو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیئے کہ ہم یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور جیسا خلافت کا نظام اور عدل یکلخت نافذ نہیں کرسکتے۔ لیکن استعمار کی علامتوں سے جان ضرور چھڑا سکتے ہیں۔ علامتی اصلاحات کی اپنی ایک ضرورت و اہمیت ہے۔ لیکن استعمار کا تمام نظام اور اسکے عادی تمام لوگوں سے اسکا نشہ ختم کرانا مشکل ہے۔ یہ ہماری جڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔ اس کے بہت سے مظاہر ہیں۔ ہاں مگر یہ یاد رہے کہ گورنر ہاؤس کے خاتمے کے ساتھ ہی متبادل بھی دینا ہوگا۔ گورنر راج دراصل صدارتی نظام اور آمریت کا مظہر ہے۔ قومی نمائندوں نے ترمیم کرکے صدر سے اسکے اختیارات چھینے اور جمہوری حکومتوں کے حوالے کردیا۔ لیکن اس سے علامتی فرق واقع نہیں ہؤا۔ علامات کے ساتھ ہی قوم اپنی حقیقی آزادی کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ یہ آزادی آسان نہیں ہے۔ لیکن اسکا ایک متبادل مقامی حکومت ہوسکتی ہے۔ اگر آپ ایسا کوئی بندوبست کرپائیں کہ گورنر کی جگہ صوبے سے کسی بھی ایک مقامی حکومت کے بہترین نمائندے کو لا بٹھائیں تو گورنر جنرل یا صدارت کا نہیں بلکہ عوام کا بہترین خادم انکا صوبائی حکمران ہوگا جسے آپ صوبائی منتظم جیسا کوئی نام دے سکتے ہیں۔

اس کیلئے پہلے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ لیکن جس ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام ہی ڈپٹی کمشنر اور بیورو کریسی کا کھلونا ہو کہ جب چاہا اسے اٹھا کر پھینک دیا۔ جب چاہا صوبائی راج نافذ کیا اور جب چاہا صوبائی حکومت کا بھی بستر گول کرکے مرکزی نظام نافذ کردیا۔ ایسے میں مقامی حکومت اور اسکے نمائندے کو تادیر تسلیم کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن بجائے اس کے کہ صدر کا نمائندہ لابٹھایا جائے، عوام کے اندر سے تحصیل یا ضلع کی سطح کا بہترین اور حقیقی فرد صوبائی منتظم بنے۔ جس سے یہ یقینِ کامل ہوجائے کہ صوبائی معاملات کی مکمل ذمہ داری اداراتی انداز میں عوام ہی کے حوالے ہوچکی ہے۔ کسی بھی منتظم کا حتمی فیصلہ یقینا” صدرِ مملکت ہی کو کرنا چاہیئے لیکن اس کیلئے نامزدگی کا ایک طریقہ کار طے کردیا جائے۔ لیکن اسکا ایک نقصان یہ ہوگا کہ ادباء، شعراء، تکنیکی افراد اور ریاستی و سیاسی اہمیت کے افراد، جنہیں صدرِ مملکت اپنی ٹٰیم کے طور پر ساتھ لاتے تھے، پسِ پشت چلے جائیں گے۔

بہرطور اگر گورنر ہاؤس گرانے سے مراد فقط عمارت کا انہدام ہے، تو اس سے احتراز برتنا چاہیئے۔ ضروری ہو تو اسکے ایک سامنے کے حصے کو گراکر باقی کو کسی تعلیمی ادارے کے حوالے کردیا جائے۔ ایسا کرنا بھی اہم ہوگا۔ یہی قاضی حسین احمد کا بھی خواب تھا۔ انہیں بھی ایسے استعماری گھروں کو گرانے کی شدید خواہش تھی۔ قوم اپنے عوامی خواب پورے کرنے کا حق حاصل ہے چاہے اسکے کیسے بھی نتائج نکلیں۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ مغربی طرز کے اداروں کے قیام اور مغربیت سے ہماری عقیدت کے علاوہ عالمی قانون کی دھونس اور ہماری جہالت وغیرہ جیس وجوہات تمام کی بناء پر یوں لگتا ہے کہ ہمیں اسلامی حکومت کے قیام سے قبل جمہوری نظام سے مکمل حظ اٹھانا ہوگا۔۔ خدا جانے کہ یہ عرصہء محشر کس قدر طویل ہو۔ لیکن یورپ پلٹ حضرات جمہوریت کو ہمارے لئے ایک حقیقت بناچکے ہیں۔ اس تمام ناروا بوجھ کی ذمہ دار فقط اقوامِ متحدہ اور انکے بچے جمورے ہیں جنہیں معاشروں، تہذیبوں، گروہوں، مزاحمتی جدوجہد اور انسانی خصائص سے کچھ زیادہ انسیت نہیں۔ جن کیلئے انسان صرف آزادی حاصل کرے اور اسکے بعد وہ جو کچھ کہتا رہے اسے بالکل اہمیت نہ دیجائے۔ جس گروہی نظریئے یا جس عقیدے سے اسکا تعلق ہے، اسے بالکل نافذ نہ کرنے دیاجائے۔ اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اسے بیشک تہہ تیغ کرکے نیست و نابود کردیا جائے یا اس پر مہلک بم لڑھکا دیئے جائیں کہ نسل تک کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ اجتماعی عالمی جبر کی سی نوعیت ہے جس سے موجودہ صورتِ احوال میں مسلمان کیا تمام انسانیت کیلئے چھٹکارا پانا آسان نہیں۔

اگرچہ تلخ ترین حقائق تو یہی ہیں لیکن ایسے میں چند ایک ایسے اقدامات ضرور کرنے چاہیئں کہ جس سے قوم کو یہ دھوکا ضرور رہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی سامراج کے تسلط میں نہیں۔ رجائیت کو کسی قدر اور کسی نہ کسی طور ضرور باقی رکھا جائے۔ بچوں کے سے اس جمہوری کھیل کو مکمل سحر ہونے تک جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ اس کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ اس کیلئے گورنر ہاؤس کے انہدام جیسے چند علامتی مظاہر بھی کافی ہونگے۔ لیکن عوامی قائد اور کھلاڑی رہنما کے الفاظ کو حقیقت کا روپ دینا انتہائی ضروری ہے۔ وگرنہ آئندہ تمام عرصہ ہمارے قائدین مذاق کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو یہ کر گزرنا چاہیئے۔ لیکن ساتھ میں علماء اور انکے کردار کو نشانہ بنانے سے احتراز بھی ضرور کیاجائے۔ وگرنہ قوم تمام کچھ کے باوجود بدحواس ہوکر انقلابِ زمن اور انصافِ دریدہ دہن سے مایوس ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: