مرحوم صدر ضیا الحق — ضیاء الاسلام انصاری/ مجیب الرحمان شامی/ ہارون الرشید

0
  • 51
    Shares

مرحوم صدر ضیاء الحق پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین مدت کے لئے آمر حکمران رہے۔ مرحوم کی برسی کے موقع پر ممتاز صحافی مرحوم ضیاء الاسلام انصاری کی کتاب “جنرل محمد ضیاء الحق: شخصیت اور کارنامے” سے ایک اقتباس آج کے قاری کے لئے پیش خدمت ہے۔ تحریر میں مصنف، ضیاء الحق کے دورہ بھارت کا احوال بیان کررہے ہیں۔


نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو:
….نئی دہلی کے اشو کا ہوٹل کے باہر ٹیکسی والے شمشیر سنگھ عرف ’’خان ڈرائیور‘‘ نے دوڑ کر مجھے پکڑ لیا اور میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کیلئے جھکا۔ میں نے اسے روکا اور پہچان لیا۔ خان بابا…… کیا حال ہے…. یہ کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا میں آپ کا شکریہ کن الفاظ میں ادا کروں۔ آپ کو خبر ہے، پریذیڈنٹ ضیاء الحق سے پرسوں میری ملاقات ہوئی۔ وہاں اوپر ان کے کمرے میں، انصاری صاحب میں پہلا آدمی تھا جسے انہوں نے ملنے کیلئے بلایا۔ صدر اور لوگوں سے بھی پہلے، مولا آپ کا بھلا کرے۔ آپ کے صدر کو اور میرے جرنیل کو لمبی عمر دے۔ لمبی عمر اور کامیابی……

یہ شمشیر سنگھ جو صدر ضیاء الحق کے لئے دعا کر رہا تھا راجستھان کا ایک سابق فوجی ہے۔ شمشیر سنگھ جھاکڑ، بھارت کے ایک ممتاز سیاستدان اور قانونی ماہر کا باپ۔ وہ 6لانسر میں کپٹن ضیاء الحق کے ساتھ ان کا بٹ مین تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے، پاکستان بنا تو اسے بھارت آجانا پڑا…..اور آپ اس کا حلیہ دیکھیں (تصویر ٹیکسی کے ساتھ) اسی حلیہ کی بناء پر وہ خان ڈرائیور یا خان بابا کہلاتا ہےاور نئی دہلی میں اس حلیہ کے ساتھ رہتا ہے۔ 1980ء میں جب میں آل انڈیا ایڈیٹرز کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کیلئے گیا تو خان بابا سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس طرح کہ ہم اس کی ٹیکسی میں سفر کیا کرتے تھے ایک آدھ مرتبہ میں اور میر خلیل الرحمان اور پھر چند روز تک میں اور میری اہلیہ۔ خان بابا کی ٹیکسی مستقل طو رپر ہمارے ساتھ رہی۔ اس نے ابھی اپنا تعارف نہیں کرایا تھا تو میں نے اس سے پوچھا آپ مسلمان ہیں آپ کا نام کیا ہے تو اس نے کہا میرا نام شمشیر سنگھ ہے اور میں تقریباً مسلمان ہوں……تقریباً مسلمان؟……میں نے حیرت سے پوچھا۔ تب اس نے اپنی کہانی سنائی اور بتایا کہ لیفٹنٹ اور پھر کیپٹن ضیاء الحق نے اسے تقریبا ً مسلمان بنا دیا تھا اپنے حسن سلوک اور نیک چال چلن اور مثالی کردار سے۔ پھر اس سے جدا ہوئے تو اسلام کا باقی سبق پڑھانے والا کوئی نہ ملا۔ بس میں لباس اور وضع قطع کا مسلمان بن کر رہ گیا۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد ٹیکسی چلاتا ہوں۔ شمشیر سنگھ نے ضیاء الحق کے خدمات گار کے طو رپر ان کی بہت سی من موہنی یادیں سنائیں۔ میں نے بہت کرید کریدکر پوچھا وہ دوسرے فوجی افسروں کی طرح بدمزاج تھے، گالیاں دینے تھے، بد زبانی کرتے تھے، ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ جواب ایک ہی تھا ہر سوال کا۔ وہ تو ہیرا تھا بالکل مختلف اپنے سب ساتھی افسروں سے مختلف وہ انگریز کی فوج کا افسر لگتا ہی نہ تھا۔ ایک روز اس نے پانچ چھ جوانوں کو ایک بڑی گاڑی اوور ہال کرنے کیلئے کہا اور جلدی کی وجہ سے پٹرول ٹینک خالی کرنے کی پابندی کو نظر انداز کرنے کی اجازت دے دی۔ نہ معلوم کس طرح یہ حادثہ ہوا ایک جوان کے سگریٹ پینے کے دوران پٹرول ٹینک میں آگ لگ گئی، انکوائری ہوئی تو پانچ جوانوں نے ذمہ داری خود قبول کر لی اور لیفٹننٹ ضیاء الحق کا نام نہ لیا لیکن سزا کے خوف سے ایک جوان نے یہ کہہ دیا کہ لیفٹنٹ صاحب نے کہا تھا جلدی ہے چھوڑو اس کو……جب انکوائری افسر نے ضیاء الحق سے پوچھا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ انہوں نے منع کیا تھا۔ بڑا مسئلہ بنا الٹا پانچ جوانوں پر جھوٹ بولنے کا الزام لگ گیا لیکن بعد میں سی او نے قصہ ختم کر دیا کہ انہوں نے اپنے افسر کو بچانے کیلئے ایسا کیا تھا۔

شمشیر سنگھ کے پاس ضیاء الحق کی نیکی شرافت اور چھوٹے لوگوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے بہت سے قصے تھے اس نے مجھے اپنی ایک پاسپورٹ سائز تصویر دی اور اس پر اپنا نام اور ملٹری نمبر لکھ دیا اور کہا اگر ہو سکے تو اپنے صدر صاحب کو دیجئے گا اور میرا سلام کہہ دیجئے گا۔ ستمبر 80ء میں یہ تصویر میں نے صدر صاحب کو دی تو انہوں نے فوراً کہا اچھا وہ زندہ ہے، بڑا فرمانبردار جوان تھا، کہاں ہے۔ میں نے بتایاکہ اشو کا ہوٹل میں ٹیکسی سٹینڈ پر ہوتا ہے ایک اس کی پرائیویٹ ٹیکسی ہے۔ اب یہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق تھے جنھوں نے ڈھائی سال بعد مارچ 82ء میں اشوکا ہوٹل پہنچتے ہی سب سے پہلے شمشیر سنگھ کو یاد کیا۔ ناممکن تھا کہ انہوں نے اپنے سٹاف کی ڈیوٹی ستمبر 80ء میں لگائی کہ جب بھی دہلی جائوں گا مجھے ضرور شمشیر سنگھ سے ملانا۔

دہلی میں ایک اور مسئلہ انہوں نے کھڑا کر دیا تھا جب وہ اردو بازار میں ایک ڈینٹسٹ سے ملنے کیلئے رات کو اس کے گھر پہنچے جو ایک پتلی او ر طویل گلی کے آخری سرے پر واقع تھا۔ انہوں نے اپنے والد صاحب اور خاندان کی خدمت کرنے والے اس ڈینٹسٹ سے کسی طرح وعدہ کر لیا تھا کہ دہلی آنے پر اس کے گھر کھانا کھائیں گےیہ کسی کو پتہ نہ چل سکا لیکن بھارتی حکومت کے سیکورٹی سٹاف کو انہوں نے بتادیا کہ یہ کام ضرور کرنا ہے۔ رات ساڑھے نو بجے وہ خاموشی سے ایک پرا ئیویٹ سفید کار میں صدر صاحب کو اردو بازار سے ملحق مچھلی منڈی کی اس پتلی اور تاریک گلی میں لے گئے اور بعد میں سیکورٹی کا بہت سا عملہ ان کی واپسی کے وقت وہاں پہنچا تو تمام علاقے میں شہرت ہو گئی کہ صدر ضیاء الحق جامع مسجد کے علاقے میں آئے تھے حالانکہ بھارتی حکومت نے صدر کو جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے جانے کی سہولت دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس طرح وہاں مسلمانوں کا اجتماع ہو جانے کا اندیشہ تھا۔

یہ واقعات ان کے مزاج میں دوست نوازی، غریب نوازی، اچھے برے ہر قسم کے وقت کو یاد رکھنے اور ہر آدمی کو یکساں طو رپر انسان سمجھنے کی صفات کا مظہر تھے۔ لیکن یہ بات کہ وہ اپنی سیکورٹی کا بھی خیال نہ رکھیں یہ ان کے مزاج کی قلندری کا اثر تھا۔ ایک روز سہ پہر وہ پاکستانی سفارتخانے گئے تو وہاں طویل قطار ویزا حاصل کرنے والوں کی دیکھ لی اور پھر سفارت خانے میں کھڑے اعلان کر دیا کہ آج رات بارہ بجے تک جو بھی ویزا کی درخواست کرے اسے پاکستان سے تصدیق یا منظوری وغیرہ کی رسمی کارروائی کے بغیر ویزا دیا جائے گا پھر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور رات گئے تک کوئی ڈیڑھ ہزار درخواستیں داخل ہوئیں لیکن اس دوران سفارت خانے میں اپنی تقریر میں انہوں نے جو باتیں سفیر صاحب اور ان کے عملہ سے کیں وہ صرف مزاج اور افتاد طبع کی بات نہ تھی وہ ایک نظریہ اور نقطہ نظر کی بات تھی۔ انہوں نے کہا آپ لوگ کیوں بھارتی مسلمانوں کو تنگ کرتے ہیں اور ویزا دینے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں آخر یہ لوگ وہاں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں۔ پھر خود ہی دفتر خارجہ اور امیگریشن والوں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ چھان بین ضروری ہے کیونکہ ہر سال کوئی پندرہ ہزار افراد وہیں پاکستان میں چوری چھپے رہ جاتے ہیں اور میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے بندو ذرا سوچو تو یہ پاکستان صرف ان کا وطن نہیں جو وہاں بس رہے ہیں یہ تو ساری دنیا کے مسلمانوں کا وطن ہے یہ تو بنایا ہی گیا تھا اس لئے کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ظلم سے پناہ ملے اگر چند ہزار لوگ وہاں رہ بھی جاتے ہیں تو کیا ہوا ’’تم روزانہ کتنے بچے پاکستان میں پیدا کر رہے ہو۔ کیا رہ جانے والوں کی تعداد ان کے برابر ہے؟

سفیر صاحب اور ویزا جاری کرنے والا عملہ پریشان تھا کہ صدر صاحب نئی دہلی میں کھڑے ہو کر یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں لیکن وہ کر رہے تھے اور انہوں نے کہا میں واپس جا کر پھر دفتر خارجہ اور امیگریشن والوں سے بات کروں گا کہ وہ کچھ عقل سیکھیں اور ہٹ دھرمی چھوڑ دیں۔

ضیاء الحق کی باتیں بھارتی اخبار میں چھپ رہی تھیں۔ یہ بھی کہ انہوں نے اندرا گاندھی کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر جو کانفرنس کی صدر تھیں اپنی تقریر میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کے مطابق طے کرنا ضروری ہے۔ اندرا گاندھی اٹھ کر چلی گئیں اور یا سر عرفات کو کرسی صدارت پر بٹھا گئیں۔ اگلے روز پورے بھارتی پریس کی آٹھ کالمی سرخی تھی کہ ضیاء الحق نے مسئلہ کشمیر کانفرنس میں اٹھا دیا۔ کسی نے لکھا کہ دھماکہ کر دیا۔ کسی نے کہا بڑی زیادتی کی بات ہے۔ پھر کیا تھا تین روز تک پورے اخبارات ضیاء الحق کی سرخیوں سے یا اس کے خلاف سرخیوں اور اداریوں سے بھرے پڑے تھے۔

تیسرے روز کانفرنس کے تشہیر کے شعبہ کے انچارج ا یڈیشنل سیکرٹری خارجہ مانی شنکر آئر نے بھارتی اخبارات کے ایڈیٹروں کو بلایا اور کہا کہ آپ لوگ ضیاء الحق کا تذکرہ چھوڑ دیں آپ کو خبر ہے کہ یہاں اسی (80) سربراہان مملکت اور وزیر اعظم موجود ہیں وہ سخت پریشان اور ناراض ہیں کہ یہ بھارتی اخبارات کو کیا ہو گیا سب ضیاء الحق کی پروجیکشن کر رہے ہیں، ہمارا کوئی ذکر ہی نہیں۔ یہ ماحول تھا جب دور درشن اور آکاش وانی نے ایک روز شام کو صدر ضیاء الحق کا انٹرویو نشر کرنے کا اعلان کیا اور پھر ایسا ہوا کہ پورے دہلی شہر میں طوفان ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ باقی بھارت کا کیا حال تھا کہہ نہیں سکتے۔

جہاں کہیں ٹی وی سیٹ تھا لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے تھے اور اگلے دن اخبارات میں شائع ہوا کہ جس گھر میں ٹی وی تھا اس پر پورے محلے کا دھاوا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک رک گئی، ہوٹلوں میں خرید و فروخت بند ہو گئی۔ سینمائوں میں فلموں کی نمائش انٹرویو نشر ہونے کے وقفے میں عوام کے اصرار پر بند کی گئی اور ٹی وی اور ریڈیو سے انٹرویو سنایا گیا۔ یہ تھےصدر ضیاء الحق دوستوں اور دشمنوں، غریبوں اور عوام و خواص سب کو سحر زدہ کرنے والے۔ بھارتی سینئر صحافیوں نے کہا اتنا بڑا تعلقات عامہ اور تشہیر کا ماہر ہم نے کوئی سربراہ نہیں دیکھا، پاکستان کا ایک ایسا ’’ایڈوانٹیج‘‘ (برتری) ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔


مجیب الرحمان شامی کی مرحوم صدر اور مرحوم مصنف کے بارے میں رائے:

جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کے ایک ایسے فوجی حکمران تھے، جن کا سکہ گیارہ برس تک چلتا رہا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان مخالفانہ عوامی تحریک کی نذر ہوئے، جنرل یحییٰ خان اپنے اقتدار کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ڈبو گئے۔ ان کے عہد میں پاکستان دو لخت ہوا، مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور شدید ردِ عمل نے انہیں ایوانِ صدارت کو خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق اپنے کئی رفقا کے ساتھ ہوائی حادثے کی نذر ہوئے۔ ان کا جنازہ تاریخ کے چند بڑے جنازوں میں سے تھا۔ لاکھوں افراد نے اشکبار آنکھوں سے انہیں الوداع کہا، وہ شہید کی سی تب و تاب کے ساتھ رخصت ہوئے اور فیصل مسجد (اسلام آباد) کے میناروں کے سائے میں ابدی نیند کا لطف اٹھانے لگے۔

کم و بیش تین عشرے گزرنے کے باوجود ضیاء الحق کا نام محو نہیں ہوا۔ ان پر تنقید کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراف کرنے والے بھی عنقا نہیں ہوئے۔ اہلِ سیاست اور صحافت میں ان کی حمایت کم ہوتی چلی جا رہی ہے، شاید اس لیے کہ مارشل لاء کی وراثت کا دعویٰ کوئی سویلین باعثِ افتخار نہیں سمجھتا، ہر برائی کو ان کے کھاتے میں ڈالنے والے زبان دراز بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن ضیاء الاسلام انصاری مرحوم کے قلم نے ان کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ واقعاتی ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ انصاری صاحب میرے انتہائی عزیز دوست تھے، پاکستان کے چوٹی کے اخبار نویسوں میں سے ایک رپورٹر کے طور پر کام شروع کیا اور چیف ایڈیٹر کے منصب تک پہنچے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کے سربراہ بھی رہے۔ جنرل ضیاء الحق ان کو اور وہ جنرل صاحب کو بھا گئے تھے، دونوں ایک دوسرے کے دل میں بسے رہے۔ ضیاء الاسلام مرحوم نے ان کی شخصیت اور ان کے عہد کا جو تعارف ہم سے کرایا تھا، وہ آج بھی تر و تازہ ہے۔ ان کی معلومات براہ راست اور مصدقہ ہیں۔ ہماری تاریخ کے اہم واقعات کی تصویر و تعبیر ایک ثقہ راوی کے ساتھ دیکھنے اور سننے کا اپنا ہی مزہ ہے۔  افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کوئی ایسے واقعات تو نہیں ہیں کہ جن کے سب سے بڑے سہولت کار کو آسانی سے بھلایا جا سکے۔


ہارون رشید کی مرحوم صدر اور مرحوم مصنف کے بارے میں رائے:

تاریخ میں کسی شخصیت یا کسی عہد کا تذکرہ کس طرح ہو گا اس بارے میں آخری فیصلہ اس وقت تک صادر نہیں کیا جا سکتا جب تک اس دور کی کشمکش اور تعصبات تحلیل نہیں ہو جاتے۔ صدر ضیاءالحق کے بارے میں تاریخ کے آخری فیصلے کا تو ابھی انتظار کرنا ہوگا لیکن اسکی کچھ علامتیں ابھی سے دکھائی دینے لگی ہیں۔  تاریخ میں کسی شخصیت یا کسی عہد کا تذکرہ کس طرح ہو گا اس بارے میں آخری فیصلہ اس وقت تا صادر نہیں کیا جا سکتا جب تک اس دور کی کشمکش اور تعصبات تحلیل نہیں ہو جاتے۔ صدر ضیاءالحق کے بارے میں تاریخ کے آخری فیصلے کا تو ابھی انتظار کرنا ہوگا لیکن اسکی کچھ علامتیں ابھی سے دکھائی دینے لگی ہیں۔  جس آدمی کو مسترد کرنے کے لئے نہ صرف ملک کے بیشتر سیاسی گروہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جسکی کردار کشی کے لئے خاد اور کے۔جی۔بی کے ماہرین نے سالہا سال اپنی بہترین صلاحتیں صرف کیں، شہادت کے بعد مسلسل مقبول اور پہلے سے زیادہ محبوب کیوں ہوتا جا رہا ہے۔

17 اگست 1988 کو جب اس خطے میں بھارت،روس، افغانستان اور امریکہ کے مفادات ایک ہو گئے اور صدر کو انکے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ تو پاکستان میں انکے سیاسی اور اقتصادی مخالفین کا فیصلہ یہ تھا کے وہ اس آدمی کو تاریخ کے ملبے میں دفن کر دیں گے۔ انہوں نے اپنی ساری تدبیر کر ڈالی۔انہوں نے اعجازالحق کو سیاست سے دور رکھااور انتخابی مہم میں اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے ضیاءالحق کا نام تک نہیں لیا گیا لیکن پھر رفتہ رفتہ بتدریج حقائق سامنے آتے گئے اور ضیاءالحق کا نام یوں قومی شعور کے مطلع پر نمودار ہوا جیسے صبح کاذب سے صبح صادق کا نور پھُوٹتا ہے۔ یہ لوگوں پر منکشف ہوا کے یہ ضیاءالحق ہی تھے جنہوں نے افغانستان مجاہدین کو متحد رکھا اور امریکیوں کو ان تک راستے بنانے نہ دیئے۔ یہ ضیاءالحق تھے جو ایٹمی پروگرام کی حفاظت کر رہے تھے۔ یہ ضیاءالحق تھے جسکے عہد میں ایشیاء کی عظیم ترین سیکرٹ سروس تعمیر کی گئی۔ یہ ضیاءالحق تھے جو بھارتی بالادستی کی راہ میں مزاحم تھے۔ یہ ضیاءالحق تھے جو افغانستان کے بعد کشمیر کی آذادی کے لئے منصوبہ سازی کر رہے تھے اور یہ ضیاءالحق تھے جو آزاد افغانستان، ایران، ترکی اورپاکستان پر مشتعمل ایک نیا عسکری اتحاد قائم کر کے اس خطے میں طاقت کا نیا مرکز قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اہل ِ پاکستان کے لئے انکی ایک عظیم تعداد کے لئے ضیاء الحق محافظ پاکستان تھے۔قائد عظم کے بعد انکے سب سے بڑے محسن اور ان پر یہ راز اس لئے اور بھی تیزی سے منکشف ہوا کہ انہیں بے نظیر کا اقتدار قبول کرنا پڑا۔ جو یہودی سینیٹروں کو تمغےدیتی ہیں۔ افغانستان کے بارے میں امریکی احکامات کی پابندی کرتی ہے۔جنہوں نے کشمیریوں کے لئے چیخنے چلانے کی اداکاری کے باوصف بھارتی غلبے کو قبول کر لیا ہے۔ ایسے میں لوگوں کو ضیاءالحق نہ یاد آئے تو اور کون آئے گا۔

جناب ضیاءالاسلام انصاری صاحب نے بھی انہیں یاد کیا ہے اور انکے دور کی حکایت اپنے حافظے کے بل پر رقم کر دی ہے۔ انصاری صاحب نے ضیاءالحق کے عہد کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ انہیں اسکا حق تھا کہ وہ یہ داستان لکھیں وہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کے عظیم نیوز ایڈیٹروں میں سے ایک رہے ہیں۔ وہ اہم اور غیر اہم کو چھانٹ کر الگ کر دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکی زبان شستہ اور رواں دواں ہے اور وہ اظہار کے حسن سے زیادہ مطالب و معنی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس اسلوب کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔ اگرچہ ابھی کچھ احمق یہ سمجھتے ہیں کہ ضیاءالحق کا خون چھپا رہے گا۔ انکے قاتل دندناتے پھریں گے اور وہ خواب کبھی پورے نہیں ہو سکیں گے۔ جو اس آدمی نے دیکھے تھے۔ لیکن لوگوں کا فیصلہ کچھ اور ہے۔ وہ اعجاز الحق کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور وہ قصاص کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔ پس غور کرنے والوں کے لئے ہر چیز میں نشانیاں ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: