دوام – اردو کی کائنات میں نیا ستارہ — فواد رضا کا تبصرہ

0
  • 47
    Shares

میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل ہوں کہ بحیثیت زبان اردو کے دامن میں بے پناہ گنجائش ہے اوراس میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو کسی بھی زبان کو بین الاقوامی زبان بننے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اردو ادب پر ناقدین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہاں موضوعات کی قلت ہے اور عموماً ناول لگے بندھے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ناقدین کی رائے قابلِ احترام صحیح لیکن کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان مصنف صادقہ خان اس رائے کی نفی کرتی نظر آتی ہیں۔ پہلی بار جب انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر ایک ناول لکھا ہے تو میرے اندر موجود قاری کی تمام تر حسیات یک دم بیدا ر ہوگئیں کہ یہ ایک منفرد خیال ہے جسے شاید اردو ادب میں پہلی مرتبہ برتا جارہا ہے۔ طے یہ پایا کہ اس ناول کو اے آروائی نیوز کی اردو ویب سائٹ پر قسط وار شائع کیاجائےاور پھر یہی کیا گیا۔

صادقہ خان اس سے قبل میری فرمائش پر سائنسی موضوعات پر مضامین تحریر کرتی رہی تھیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہےاور میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ یہی ان کی مہارتوں کا میدان ہے تاہم جب مجھے ناول کا مسودہ موصول ہوا تو اندازہ ہوا کہ پہاڑوں میں گھرے شہر میں رہنے والی یہ نوجوان نہ صرف سائنسی موضوعات پر دسترس رکھتی ہے بلکہ ادب کو بھی عمدہ پیرائے میں قلم بند کرنااچھی طرح سے جانتی ہے۔

دوام – کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی، جس کا مسکن پاکستان ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کے ملک کا نام افلاک کی رفعتوں سےبلند ہوکر خلاؤں میں لکھا اور سنا جائے اور یہی خواہش اس لڑکی کو امریکا کے خلائی تحقیقات ادارےناسا تک لے جاتی ہے۔ تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو صرف ایک مخصوص نوعیت کے ڈرامے اور ناول پسند ہیں اور وہ ان سے باہر نکلنا نہیں چاہتیں تاہم اس ناول کو پڑھتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تنقید قطعی طور پر غلط ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کو عشق ومحبت کی داستانوں سے ہٹ کر کسی تجرباتی ناول کا مرکزی کردار بنانے کی ہمت کبھی کسی مصنف نے کی ہی نہیں۔

صادقہ خان اپنے ناول دوام میں آپ کی ملاقات’منتہا‘ نام کی ایک ایسی لڑکی سے کرا رہی ہیں جس کے پاس روایتی عشق و محبت جیسے موضوع کے لیے بالکل بھی وقت نہیں ہے بلکہ وہ زندگی میں کچھ اہم مقاصد لے کر آگے بڑھ رہی ہے اور اس کا ہر قدم کامیابی کی جانب اٹھتا ہے، مصنف آپ کو یہ بھی دکھائیں گی کس طرح پاکستان کی ایک لڑکی خلاؤں تک اپنے لیے راستے بناتی ہے۔ ناول میں ایک موڑ ایسا آتا ہے جب آپ کو لگے گا سب کچھ ختم ہوگیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، وہ موڑ تو شروعات ہے نئی انتہاؤں کی جہاں منتہا جانا چاہتی ہے، جہاں صادقہ خان جانا چاہتی ہے اور یہ بھی چاہتی ہےکہ پاکستان کی ہر لڑکی ان رفعتوں تک پہنچے۔

یہ ناول یقیناً اردو ادب کو ایک نئی سمت عطا کرے گا اور یقیناً اس کے بعد مزید مصنفین کو نئے تجربے کرنے کی ہمت ہوگی، یاد رکھیے ادب کی دنیا میں تجربہ ہی سب کچھ ہے۔ صرف وہی مصنف عوام میں مقبول ہوتا ہے جو روایت سے ہٹ کر تجربے کی راہ اپنائے۔ صادقہ خان کو اس ناول کی اشاعت کے لیے ڈھیروں مبارک باد اور ناول کی کامیابی کے لیے نیک تمنائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: