ایک تھی جولی —- ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 20
    Shares

شہر میں سرکس لگ چکا تھا، رنگ برنگی کرسیاں پنڈال کے چاروں طرف سجی تھیں۔ کچھ تماشائی سرکس کے اندر جالیوں سے چمٹے ہوئے رِنگ میں موجود لوگوں کو پریکٹس کرتے دیکھ رہے تھے۔ پنڈال میں ہنگامہ مچا تھا اور مائک والا بابو، بار بار مجمعے کو کرسیوں پر بیٹھنے کے لیے کہتا۔ اتنے میں بڑے بڑے ڈیکوں پر عریاں گانے لگ گئے، مجمع گانوں کے بول سن کر جھومنے لگا۔ جولی چھجے پر سوار نیچے تماشائیوں کوبے تاب دیکھ کر اپنی بے ترتیب دھڑکنیں سنبھالنے لگی۔ شو شروع ہو چکا تھا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتب دکھانے کے لیے آخری سیٹی کی منتظر تھی۔ اس کے چست لباس کی جگمگاہٹ برقی قمقموں کے ساتھ دو آتشہ ہو رہی تھی۔ جولی نے آنکھیں بند کیں اور گہراسانس لے کر رسی کو مضبوطی سے تھام کر جھول گئی۔ اس کی کمر ناگن جیسے بل کھا رہی تھی، وہ ایک رسے سے دوسرے رسے کو پکڑنے کی کوشش میں قلابازیاں کھاتی ہوئی بدمست ہرنی بن گئی۔ جیسے ہی وہ رسی سے جھولتی ہوئی سیڑھی میں ٹانگیں پھنسا کر فضامیں لہرائی مجمع سیٹیاں بجاتا اٹھ کھڑا ہوا۔ جولی نے پہلی پرواز بھرنے والے پرندے کی طرح سر جھکا کر بازو سینے کے قریب کرتے ہوئے فنکارانہ جوش کا مظاہرہ کیا۔ اس کا پارٹ ختم ہوچکا تھا اور اب وہ رِنگ کے اندر دوسرے تماشے کے لیے اتر چکی تھی۔ یہ کرتب جولی کے لیے نئے نہیں تھے لیکن ہر بار پنڈال میں اترتے ہوئے اس کا دل سینے سے باہر آنے کے لیے بے چین ہو جاتا تھا۔ جولی رِنگ ماسٹر ٹائیگر کی بیٹی تھی، جس کی زندگی سرکس کے شیروں کو رِنگ میں اتارتے ہوئے گزر رہی تھی۔ بڑھاپے کے باعث اپنے سے کئی گنا توانا شیروں کو سنبھالنا اس کے لیے مشکل ہونے لگا تھا۔ اس لیے اب جولی کو ماسٹر ٹائیگر کی جگہ لینا تھی۔

وہ اپنے باپ کے ساتھ شیروں کو کرتب سکھانے لگی۔ سرکس کے دونوںشیر، اب اس سے آشنا ہونے لگے تھے، ورنہ شروع میں تو وہ اس کی موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ ’’بیٹی! بھوکے شیر کے ساتھ کبھی مت لڑئیو، نا ہی کرتب سکھائیو۔ کچا چبا لیوے ہے۔‘‘ ماسٹر ٹائیگراسے نصیحت کرنا نا بھولتا۔ جولی ہاں میں سر ہلاتے ہوئے شیروں کے سامنے رِنگ کو گول گول گھما کر کرتب سکھانے لگتی۔ جس دن پرویز نے تار پر ننگے پاؤں چلنے کا مظاہرہ کیا اس دن وہ اپنے باپ کا پڑھایا سبق بھول گئی۔ پرویزکی خاموش نظروں، سلے ہوئے ہونٹوں، چھریرے جسم، اٹھے ہوئے پاؤں اورسینے پر جمے ڈنڈے کو دیکھ کر جولی نے اسے ماسٹر چارلی کا خطاب دیا تھا۔ دن نکلتے ہی وہ اس کے خیمے کے باہر کھڑی ہوجاتی، پرویز ہاتھ میں گلاس پکڑے باہر نکلتا اور پانی کے چھینٹے چہرے پر مارتے ہوئے اسے دیکھ کر دوبارہ اندر گم ہو جاتا۔ جولی بھوکے شیر کو رِنگ میں اتارنے کی تیار ی کر رہی تھی اور بالآخر اس کی کوششیں رنگ لے آئیں۔

تار پر چلنے کا فن توجہ مانگتاہے، جس میں ذہن اور دل غار کی طرح خالی ہوتے ہیں۔ ہر طرف سناٹا چاہیے، گھپ اندھیرے میں روشنی کی دبیز سی کرن دکھائی دیتی رہے تو رسے پر چلنا آسان ہوتاہے لیکن وہاں تو اب سویرا ہی سویرا تھا۔ پرویز کے لیے قدم جمانے مشکل ہو گئے، ٹرینرنے اسے تار پر چلنے سے روک دیا اور اس کی جگہ گونگے بہرے سونو کو کرتب سکھانے لگا۔ پرویز اب سرکس کے لیے درد سر بنتا جارہا تھا دوسری طرف جولی اس کے گلے میں عشق کا پٹہ ڈال کر رنگ میں اتر چکی تھی۔ پرویز کے تلوے تار پر چلنے کے عادی تھی اسے یوں جوتے پہن کر چلنا آ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے جولی کے سامنے سرکس سے بھاگنے کی شرط رکھ دی۔ جولی کو بوڑھے باپ کا بازو بننا تھا لیکن عقل و دل کی اس لڑائی میں جیت دل کی ہوئی اور دونوں سرکس لگتے ہی غائب ہو گئے۔

رن سیال کے بڑے بڑے میدانوں سے باہر نکلتے ہی دونوں آوارہ گردی کرتے رہے، صبح رہنے کا ٹھکانہ ڈھونڈتے اور رات پڑتے ہی پگڈنڈیوں کے نیچے زمین پر ایک دوسرے کی بغلوں میں منہ دئیے سو جاتے۔ پھر ایک دن دونوں ٹکٹ کٹا کرچکوال سٹیشن اتر گئے۔ ریلوے لائنوں کے پچھواڑے ہی انھوںنے جھگی ڈال لی تھی اور اب جولی اپنی زندگی کے سرکس کو چلانے کے لیے تیار تھی۔ پرویز نے یہاں بھی رسے تان کر ننگے پاؤں چلنے کا مظاہرہ کرنے کی سعی کی لیکن گلیوں کوچوں میں کون کرتب دیکھتا ہے۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور ڈولتی ہوئی رسی اسے خنجر کی تیز دھار لگتی، اس کے تلوے چھل جاتے اور وہ تار پر سے چھلانگ لگا دیتا۔ پھروہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر ماہر علم نجوم کے نام کی تختی زمین پر سجا کر بیٹھ گیا۔ جولی کے لیے دن کاٹنا اجیرن ہوتا جارہا تھا۔ اسے اب اپنا بوڑھا باپ اور موٹی کمر والی ماں یاد آنے لگی تھی جو تنگ بسکے کپڑوں میں، کولہوںکے گرد کپڑا لٹکائے، ہاتھ میں ڈفلی لیے تماشائیوں کے سامنے تھرکتی تو مجمع غلیظ جملوں کی بوچھاڑ کرتا۔ وہ بے حس و حرکت، تاثرات سے عاری چہرہ لیے کسی کو آنکھ مارتی اور کسی کو زبان دکھا کر جنسی تلذذ سے بھرپور پوز بناتی۔ شانے تھرکاتی، اس کی ماں مجمعے کے لیے ہوا والی گولی تھی جسے وہ منہ میں رکھے چسرچسرچوستے تھے اور اس سے ملنے والی ٹھنڈک ان کے گلوں کو تسکین پہنچاتی تھی۔ جولی کو ماں میں اپنا مستقبل نظر آتا تھا جسے دیکھ کر وہ سرد آہ بھرتی اور رِنگ کے شیر اسے اپنی طرف کھینچ لیتے۔

’’بیٹی! بھوکے شیر کے ساتھ کبھی مت لڑئیو، نا ہی کرتب سکھائیو۔ کچا چبا لیوے ہے۔‘‘ جولی کو اب یہ جملہ کثرت سے یاد آنے لگا تھا۔ پرویز کو رسے پر پاؤں نا جمانے کا دکھ کچوکے لگا رہا تھا، میاں بیوی چپ تھے۔ اب اس کی کھولی میں روز تاش سجتی، ماسٹر چارلی اپنے دوستوں کو تار پر چلنے کے قصے سناتا اور جھگی فوراً سرکس میں بدل جاتی۔ جولی اپنی ماں کی طرح کمر مٹکا مٹکا کر کرتب دکھانے لگتی، کسی کو کندھا مارتی، کسی کو آنکھ اور کسی کو شانے تھرکا کر بے بس کر دیتی۔ پھر اسے نواں مہینہ لگ گیا اور گھرمیں راشن کے نام پر بھوک رکھی ہوئی تھی۔ اس دن بھی پرویز فٹ پاتھ پر بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا۔ جولی نہایت سست قدموں سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کے چہرے پر پیلاہٹ اگی ہوئی تھی۔ پرویز نے سر کھجاتے ہوئے اسے آنکھ کے اشارے سے آنے کا مقصد پوچھا۔ جولی ہانپتی کانپتی فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھ گئی، اس کی پھولی ہوئی سانس بتا رہی تھی کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ پرویز نے پان کی پیک تھوکتے ہوئے برا سا منہ بنایا اور جولی کو لگا جیسے بھوکا شیر اسے دھتکار رہا ہے۔

جولی فٹ پاتھ کی دیوارسے لگی اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو پکڑے بیٹھی تھی۔ درد اس کے جبڑوں کو توڑ کر منہ سے چیخوں کی صورت میں نکلنے لگا۔ اس کی کمر پتھر کی سل بن گئی تھی جو ٹوٹ کر فٹ پاتھ پر گر گئی۔ پرویز نے ہڑبڑا کر اپنی میلی چیکٹ چادر اس کی ٹانگوں پر ڈال دی۔ لوگ اس ہلچل سے متاثر ہو کر ان کے قریب سرکنے لگے۔ فاقوں کے باعث جولی کے جباڑے گال پھاڑ کر باہر آئے ہوئے تھے۔ اس کا منحنی سا جسم لرزنے لگا وہ فٹ پاتھ پر چرمرے کاغذ کی طرح لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ پرویز بے بسی سے مجمعے کو دیکھنے لگا کہ اچانک جولی کمر کا زور لگا کر اٹھتے ہی بے دم ہو کرڈھے گئی۔ مجمع سی کی آواز نکال کر کھسر پھسر کرنے لگا۔ اس کا جسم درد کی شدت سے اینٹھ رہا تھا۔

درد سانسیں گننے والی مشین کی طرح اس میں سرائیت کر چکاتھا، وہ سکرین پر تھرکتی سوئی بن کر اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ اچانک مشین ساکت ہو گئی، گویا سوئی سیدھی لکیر کھینچ رہی ہو۔ جولی کی فلک شگاف چیخ نے مجمعے کو پیچھے دھکیل دیا۔ ’’او ربا! زنانی نے بچہ دے دتا جے۔‘‘ دبی دبی ہنسی کی آواز نے مجمعے کی یکسوئی کو توڑا اورکچھ شرفا مزا کرکرا ہونے پر ’’بہن چو‘‘ کہتے ہوئے پیچھے کھسک گئے۔ جولی کی بے جان ٹانگیں سڑک پر بلڈوزر کی طرح دھیرے دھیرے رینگنے لگیں جن کے نیچے ایک گوشت کا لوتھڑا پھیپھڑوں کا زور لگا کر رو رہا تھا۔

جولی کا بند دماغ جاگا تو وہ پلنگ کی سفید چادر پر دراز تھی۔ سرہانے کھڑی نرس نے اس کا بازو دباتے ہوئے بتایا کہ بچہ رستے میں ہی مر گیاتھا اور پرویز اسے ہسپتال داخل کروا کر واپس نہیں لوٹا۔ جولی بائیں جانب کروٹ لیتے ہوئے کہنی کے سہارے اٹھ بیٹھی، اس کا دماغ شل تھا اور آنکھیں بری طرح جل رہی تھیں۔ نرس نے اس کے جھاڑ جھنکار بالوں اور نچڑے ہوئے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے لیٹے رہنے کی تاکیدکی۔ جولی بچے کو دیکھنا چاہتی تھی، اس میں مردہ بچہ لے جانے کی سکت نہیں تھی اور نا ہی پیسے تھے۔ نرس نے ترس کھاتے ہوئے اس کی مٹھی پانچ سو کے نوٹ سے بند کی۔ جولی کو لگاجیسے وہ سرکس میں کھڑی ہو اور ماسٹر نائیک نے اچانک اس کی بڑھیا پرفارمنس پر مٹھی گرم کردی۔ ’’بچے کو دفنا دینا، میں دل میں اس کی قبر بنا کر لے جارہی ہوں۔ ‘‘جولی نے لٹھے کے سفید چہرے والے چھوٹے سے منہ کو دیکھا۔ اس کی سلی ہوئی بند آنکھوں، چپٹی ناک اور باریک ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑی سی ہچکی لی۔ بچے کے ربڑجیسے بے جان ہاتھوں کو چوما اور اس کا چھوٹاسا سر اپنے سینے سے مس کر کے مڑگئی۔ اسے اپنی ناف پر بوجھ محسوس ہوا، وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہسپتال کے گیٹ سے نکلتے ہی اپنی ٹانگوں پر دوہتڑ مارتی جاتی۔ اس کے ہونٹوں کے کناروں سے جھاگ ابل رہی تھی اورخالی پیٹ کی ڈکار نے اس کے حلق کو تر کر دیاتھا، وہ بوجھل قدموں کے ساتھ جھگی کا پردہ اٹھا کر اندر داخل ہوئی تو ماسٹر چارلی اپنے دوستوں کے ساتھ تاش کے پتے پھینٹنے میں مصروف تھا۔ ’’بچہ مر گیا ہے۔‘‘ جولی سامنے ہی بچھی چارپائی پر ڈھے گئی۔ کچھ دیر کے لیے جھگی گھٹاٹوپ اندھیرے میں ڈوب گئی پھر پرویز نے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر زور لگایا اور بڑا سا کش لیتے ہی تاش کے پتے دری پر بچھانے لگا۔ رات کا آخری پہر تھا جب ماسٹرچارلی جھگی کا پردہ اٹھا کر باہر نکل گیا، جولی کا سینہ جوار بھاٹا بن چکا تھا۔ اس کی چھاتی اینٹ کی طرح سخت تھی اور پیاس کی شدت نے اس کے حلق کو کانٹا کر دیا تھا۔ اس نے کس مشکل سے گھڑے سے پانی نکال کر پیا اورخالی گلاس میں اپنی بتیس دھاریں انڈیل کراسے نیچے دری پر رکھ دیا۔ اب اس کا سینہ شانت تھا اور جسم اس درخت کی طرح ہو چکا تھا جسے راستہ چوڑا کرنے کے لیے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔

مٹھیے نی مٹھیے، دودھ نالوں چٹیے
کھنڈ نالوں مٹھیے، سجناں دی چٹھیے

دگڑم۔ ۔ ۔ ڈگ ڈگ ڈگ۔ ۔ ۔ تماشا دکھانے والے نے ڈگڈگی بجائی اور بندریا ہاتھ پیچھے باندھے دونوں پیروں پر ناچنے لگی۔ ماسٹر چارلی اب تماشا دکھاتاتھا۔ جولی کتے کے گلے میں پڑا ہوا رسہ ڈھیلا چھوڑ دیتی۔ کتا زبان باہر نکالے اسے تکنے لگتا۔ بندریا ہانپتے ہوئے اپنی کمر لچکاتی تو ماسٹر چارلی ہانک لگاتا: ’’کمریہ لچکایو، رے۔‘‘ جولی گا کر محفل کو گرمانے لگتی تو مجمع دائرے کے اندر گھسنے کی کوشش کرتا۔ پسینے میں شرابور جولی کا سانولا پن کسمیلا پڑتا جارہا تھا۔ پرویز کو تماشا گری میں بھی سکون نہیں ملا، تار پر چلنے والا کیسے خود کو تارکول کی سڑک پر چلنے کے لیے مجبور کر سکتا تھا۔ وہ اپنا غصہ بندریا پر ڈنڈے برسا کر ٹھنڈا کرتا۔ جولی خود کو بندریا سمجھتے ہوئے اپنی رسی ماسٹرچارلی کے ہاتھ میں تھما چکی تھی۔ یہاں بھی تماشائیوں کی ننگی اور بھوکی نظریں اس کے تعاقب میں تھیں۔ وہاں سرکس کا جنگلا اور اس کا رِنگ ماسٹر باپ اس کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے لیکن یہاں بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ مجمع بندریا کے بجائے جولی کا تماشا دیکھنے پر مصر تھا اور وہ کتے کے گلے میں پڑے رسے کو پکڑے خلاؤں میںگھورتی رہتی۔ پرویز نے تنگ آکر تماشا دکھانا بھی بند کر دیا۔

سرکس کے راستے بند ہو گئے تھے اور پرویز کو تار پر نا چلنے کا دکھ کھائے جاتا تھا۔ جولی پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے کوڑا کرکٹ اٹھانے پر مجبور تھی، اب اسے اپنے جسم سے کوئی رغبت نہیں رہی تھی۔ ریلوے لائین اس کی ساتھی تھی، اسے روز گاڑی کی آواز اپنی جانب کھینچتی تو وہ لپک کر پاس پہنچ جاتی۔ بھاری پہیوں کی دھمک کو وہ آنکھیں بند کرکے محسوس کرتی تو لگتا جیسے آخری ڈبے میں سوار ہوگئی ہو۔ اس نے خود کو منا قصائی کی دکان پر لٹکے گوشت کی طرح پیش کر دیا تھا، وہ بھی لوہے کی سلاخ میں پروئی گئی تھی۔ گاہک حسب ضرورت اس کی رانوں کا گوشت اترواتے اور لکڑی کی مڑھی پر اس کی بوٹیاں بنتیں۔ کتنی مرتبہ تو وہ پرویز کے ساتھیوں کے سامنے پلیٹ میں روسٹ ہو کر پیش کی گئی، کتنے ہی پیلے اور تعفن زدہ دانت اس کی ہڈیاں چچوڑ رہے تھے۔ اس کے جسم کی یخنی ان کے حلق کو کوسا کرتی تھی، پھر ٹرین کے ڈبے اس کے لیے سرکس بن گئے جہاں وہ لٹکتی مٹکتی مجمعے کے سامنے رسی کی سیڑھیاں کودتی تھی۔ وہ سر کو جھکائے، ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے فضا میں لہرا لہرا کر داد وصول کرتی۔ وہ اپنی ماں کی ڈھلکی ہوئی کمر اور بوڑھے باپ کے نحیف و نزار وجود سے شرمندہ تھی جس کی سزا وہ خود کو کوڑے مار کر دے رہی تھی۔ پھر اسے عشق ہو گیا، ریل گاڑی کا عشق بڑا خطرناک تھا، وہ کوں ں ں ں کی آواز سنتے ہی بے قابو ہو جاتی۔ چھکاچھک چھکاچھک کی آوازیں اسے اپنے پاس بلاتیں، وہ چلتی ٹرین سے لپٹنا چاہتی تھی لیکن جیسے کوئی طاقت اسے روز آگے بڑھنے سے روک دیتی تھی۔

پھر اس دن وہ طاقت بھی بے بس ہوگئی اور جولی رات کی تاریکی میں ڈبے سے باہر نکلتے ہی دیوانہ وار پٹڑی کی طرف بھاگی، عقب سے ڈری سہمی آواز نے اسے پکارا۔ سیٹی بجاتی ٹرین کے ماتھے پر بلب کی روشنی نے اس کے گرد ہالا بنا رکھا تھا، جولی پٹڑی کے درمیان بازو پھیلائے کھڑی تھی جیسے گاڑی کو بانہوں میں بھرنا چاہتی ہو۔ سرکس لگتے ہی وہ رسی کی سیڑھی پرچڑھ کر سامنے دیکھنے لگی، یکایک اس نے چھلانگ لگائی اور رسی تن گئی۔ وہ ایک رسے سے دوسرے رسے کو پکڑ کر جھول رہی تھی، تیسرے رسے کو پکڑتے ہی وہ سرکس کی جالیوں سے ٹکرا گئی۔ آنکھیں میچے اور پٹڑی پر سر رکھے وہ اپنے رِنگ کو شیر کی طرف گھما رہی تھی۔ جوان شیر اس کی ہتھیلیوں پر پنجے رکھ کر منہ اوپر کیے آوازیں نکالنے لگا۔ ٹرین قریب آ چکی تھی، جولی نے آخری بار آنکھیں کھول کر محبوب کو آگے بڑھتے دیکھا، اس کے کانوں میں سرکس اور ٹرین کا شور گڈ مڈ ہونے لگا۔ ’’بیٹی! بھوکے شیر کے ساتھ کبھی مت لڑئیو، نا ہی کرتب سکھائیو۔ کچا چبا لیوے ہے۔ ‘‘جولی نے اثبات میں سر ہلایا، دو آنسو اس کی آنکھوں کے کناروں سے ڈھلک کر پٹڑی میں مدغم ہو گئے اور اس کے ٹکڑے گاڑی کی ایک ہی ٹکر سے اڑ کر دائیں بائیں جاگرے۔ گاڑی کا ماتھا اس کے جسم کی حدت کو چیرتا ہوا آگے نکل گیا، جس پر اب اس کا ماس چپک گیا تھا۔ پٹڑی پر رکھی اس کی مامتاسینے کی چاردیواری سے نکل کر باہر آگئی۔ گاڑی کے پہیے بے دردی سے اس کے ریشے ریشے کو کچل گئے تھے۔ وہ برفانی تودے کی طرح زمین پر آ گری تھی لیکن اس کے ملبے کے نیچے خود اس کی لاش پڑی تھی۔ اس کاخون پٹڑی کے درمیان میں جمنے لگا تھا۔ میں نیل کرائیاں نیلکاں، میرا تن من نیل و نیل، ٹرین کے آخری ڈبے میں سے ریڈیو پر گانے والی کی ادھ موئی آواز گونجی۔ عقب سے جولی پکارنے والا، کھلے جبڑوں والی لاش کے پاس پہنچا جس کے نیچے ایک لاغر وحشیا کا سینہ چاک تھا۔ بھوکا شیر مایوس ہو کر دور کھڑا ہو گیا۔ چیتھڑے ہوا میں تحلیل ہو گئے اور جولی پٹڑی کے کنارے رِنگ کو گول گول گھماتے ہوئے ہنسنے لگی۔ وہ سینے پردائیاں بازو موڑ ے سر کے اشارے سے تماشائیوں کو الودع کہہ رہی تھی۔ شہر میں سرکس ختم ہو چکا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: