سیاسی عمل اور مذہبی جماعتیں — محمد دین جوہر

1
  • 116
    Shares

محترم منیر احمد خلیلی کی جوابی تحریر (اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے) کو میں نے شیئر کیا تو اس پر موقر احباب کے کمنٹس سے یہ امر بالکل واضح ہو گیا کہ اس کے جواب کی ضرورت نہیں۔ جواب اس وقت ضروری ہوتا ہے جب زیر بحث موضوع ایک رہے اور موقف کے لیے دلائل مختلف ہوں۔ ہمارے ممدوح محترم نے ساری بات چونکہ موضوع سے ہٹ کر کی ہے، اس لیے اخلاقی اور علمی طور پر میں اس کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔ مذکورہ صورت میں اختلاف اور اتفاق دونوں بے معنی ہوتے ہیں۔ البتہ میرا مضمون خلیلی صاحب پر بہت گراں گزرا اور وہ چھڑ سے گئے اور اپنی رو میں بہہ نکلے۔ اس میں بھی یقیناً کوئی بات ہو گی لیکن مجھے فی الوقت اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ تاہم ہمارے معاشرے میں علمی مکالمے کے امکان یا عدم امکان کے حوالے سے خلیلی صاحب کی تحریر میرے لیے کئی پہلوؤں سے اہم ہے، اور میں ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں:

(الف) موضوع اور مکالمے میں رہتے ہوئے مثلاً صاحبِ مضمون کی مندرجہ ذیل اخلاقی تصریحات کو دیکھنے کی ضرورت ہے:

(۱)۔  موصوف کا پیرایۂِ اظہار ’آئے اور چھا گئے‘ کا سا ہے۔
(۲)۔  موصوف نے دانش کے پانی پت میں پہلا حملہ پے در پے سوالات اٹھا کر کیا ہے۔
(۳)۔  موصوف …… [کی] تحریر سے ’ارسخ العلمی‘ یا ہمہ دانی کا تاثر بھی پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے۔
(۴)۔  اُن کی تحریر میں سیکولر فکری چمن اور ذہنی فضا کی مہک ہے۔
(۵)۔  اُن کا جو بھاری بھرکم تعارف درج ہے۔
(۶)۔  میرا حسنِ ظن ہے کہ وہ ایک نیک اور پارسا انسان ہیں۔ تصویر میں اُن کا جو حلیہ دِکھ رہا ہے اُس سے غمازی ہوتی ہے کہ وہ تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی با صفا ہستی ہیں۔ لیکن اُن کے خیالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کسی سیکولر دماغی فیکٹری کا تیار کردہ فکری مال ہے۔
(۷)۔  جناب محمد دین جوہر کی تحریر کے لہجے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے منصۂ ِ ظہور پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے دنیا فکر کی ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ان کی جوہر افشانی ہی نے دانش و بینش کی بتیاں روشن کیں، ان کے خامہ کی جنبش سے فراست نے انگڑائی لی، ان کے قلم کی ضرب سے حکمت کے چشمے جاری ہوئے ہیں۔ نیز یہ کہ مذہبی جماعتیں تو عقل کی اندھی اور تدبّرسے یکسر خالی ہیں۔ موصوف کے زعم دانش کے بارے میں اگر میرا یہ گمان غلط ہے تو وہ مجھے معاف فرما دیں۔

میں خلیلی صاحب کے ان ارشادات پر کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ اپنے دعوے کے مطابق وہ ایک ’مذہبی‘ آدمی ہیں، اور یقیناً ان ارشادات کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری اور معنویت سے واقف ہوں گے۔ اخلاقی پاسداری کے ان معیارات کے ہوتے ہوئے ظاہر ہے گفتگو کی تہذیب اور سلیقے کی طرف تو اشارہ بھی نہیں ہو سکتا۔ میں ان کی ذاتیاتی اخلاقی تصریحات پر فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے چند ایک مزید پہلو قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

محترم خلیلی صاحب کے متن ہی کو بنیاد بنا کر ایک اور ضروری گزارش بھی پیش خدمت ہے۔ آغاز ہی میں وہ ارشاد فرماتے ہیں: ”… تاکہ یہ ’رسید‘ دے دوں کہ ’مذہبی‘ نے انہیں پڑھ لیا ہے“۔ یہاں صاحبِ مضمون نے ’مذہبی‘ اور ’انہیں‘ کا ایک مفید مطلب تضاد قائم کیا ہے جسے بعد ازاں وہ کام میں لاتے ہیں۔ یہاں اس کی معنویت بہت واضح ہے کہ یہ ’انہیں‘ کم از کم ’مذہبی‘ نہیں ہے۔ آگے چل کر وہ اس کو پھیلاتے ہوئے اپنے مخاطب کو صریح شہادت کے علی الرغم ”سیکولر“ قرار دیتے ہیں۔ اپنے مخاطب کو ”سیکولر“ قرار دینے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ممدوح محترم ایسا بے سروپا مفروضہ قائم کیے بغیر شاید یہ مضمون لکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ مذہبی موضوعات پر گفتگو میں یہ مفروضہ بہت عام ہے اور بنیاد کا کام کرتا ہے۔ چلیے بات یہاں تک رہتی تو آدمی اظہار افسوس کر کے نظرانداز کر سکتا تھا۔ اس کی طرف قارئین کا دھیان مبذول کرانے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ ان کا مقدمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے بغیر رہ نہیں سکا، اور وہ فرماتے ہیں: ” اُن کے اس خیال کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے الدّین النصیحۃ، دعوت و اصلاح، تذکیر و تبلیغ، اِنذار و تبشیر، تزکیہ و تطہیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی قُرآن و حدیث کی اصطلاحیں کبھی پڑھی سنی ہی نہیں اور سیرتِ نبوی ؐ کی کوئی کتاب کھول کر کبھی کھول کر دیکھی ہی نہیں“۔ ان ارشادات کا مطلب قارئین پر بالکل واضح ہو گا کہ ممدوح محترم کے مطابق ان کا مخاطب کوئی دینی معلومات نہیں رکھتا اور اس کا مسلمان ہونا مشتبہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا فرقہ پرست مذہبی آدمی یا سیاست باز مذہبی اپنے مخاطب کو مسلمان سمجھ کر اس سے گفتگو کی کسی بھی انسانی استعداد سے بہرہ ور ہے یا نہیں؟ میں نے تحریر سے پیدا ہونے والے ایک جائز اور صریح استنباط کی طرف قارئین کی توجہ چاہی ہے اور اس کا فیصلہ بھی میں انہیں پر چھوڑتا ہوں۔

میں نے اپنے مضمون میں (مذکورہ مضمون کا لنک) موجود اور متداول مذہبی سیاست پر جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کا تناظر مکمل طور پر مذہبی ہے۔ نماز پڑھنے سے پہلے اس کے احکام اور طریقے دونوں کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ بعینہٖ ہر نئے انسانی عمل سے پہلے اس کی ہیئت و ماہیت اور اس کی بابت مذہبی حکم کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ جدید سیاسی عمل چونکہ ایک بالکل نئی چیز ہے، تو اس پر اٹھائے گئے سوالات کی یہی نوعیت ہے۔ میں مذہباً سیاسی عمل کو عبادات سے زیادہ اہم سمجھتا ہوں، کیونکہ بیشتر مذہبی احکام کے قیام کا دار و مدار سیاسی طاقت اور اقتدار سے منسلک ہے۔ اس لیے مجھ سے یہ سوال کرنا قطعی بے معنی ہے کہ ”کیا اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق واسطہ ہے یا نہیں؟“ اور وہ مجھ سے یہی سوال پوچھنے پر بضد ہیں! درپیش سوال یہ تھا کہ جدید سیاسی عمل اپنی ہیئت اور غایت میں قطعی نئی چیز ہے اور اس کے بارے میں کوئی مذہبی احکام موجود نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ لیکن یہ سوال اٹھا دینا ان پر بہت گراں گزرا، اور بھرے کے بہہ نکلنے کا منظر بن گیا۔

ہمارے ہاں مذہبی ذہن کا بالعموم اور فرقہ پرست اور سیاست باز مذہبی ذہن کا بالخصوص یہ مسئلہ ہے کہ نہ صرف وہ کسی بھی طرح کے سوالات کا سامنا نہیں کر سکتا، بلکہ وہ انسانوں کے ساتھ کسی بھی اخلاقی یا علمی empathy سے بھی یکسر خالی ہے۔ اس میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے ہاں ردعمل کی نفسیات اس قدر گہری ہے کہ وہ مخاطب کو مکمل demonize کیے بغیر کسی بھی گفتگو کا کوئی تصور نہیں کر سکتے۔

(ب)  مندرجہ ذیل باتیں انہوں نے غلط طور پر میری طرف منسوب کی ہیں:

(۱)  چنانچہ اُنہوں نے جو مقدمہ قائم کیا وہ یہ ہے کہ بر صغیر کی مذہبی جماعتوں کا سیاسی عمل وہابی تحریک کی رِیس یا نقالی ہے۔
(۲)  جوہر صاحب نے مذہبی سیاسی عمل کی بحث کو بطورِ خاص وہّابیت پر مرکوز کر کے سیاست کی اُن متعدد فکری اور عملی لہروں کو سہواً یا عمداً نظرانداز کیا جو طویل مدت گزرنے کے باوجود ہماری دینی سیاسی افکار پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
(۳)  ان کے اِن الفاظ سے کہ مذہبی سیاست کے اِجرا کا اصل محرّک معاشرے کی بے دِینی ہے، حقارت اور ذم ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔
(۴)  وہ اِن دینی جماعتوں کو بالکل اُجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں جنہیں دِین کی کوئی سمجھ ہے اور نہ دنیا کی کوئی خبر۔
(۵)  قیاس ہے کہ عمران خان ہی دانش کے مقالہ نگار کے پسندیدہ لیڈر ہیں۔
اب ایسے ارشادات پر میں اس ’مذہبی‘ کو کیا عرض کروں؟ اگر ہمارے ممدوح محترم گفتگو سے قبل اپنی استعداد فہم، وسائل اظہار اور داعیاتِ نفس کا جائزہ ہی لے لیتے تو اس سرگرمی سے شاید کوئی دینی فائدے کی صورت پیدا ہو جاتی۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ اپنے ہم مذہبوں کے ایمان پر تبصرہ آرائی سے آگے بھی بہت سے موضوعات ہماری توجہ کے متقاضی ہیں۔ مخاطب کی demonization سے اپنا کلیجہ تو شاید ٹھنڈا ہوتا ہو، لیکن کوئی دینی مقصد اور انسانی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ آخر میرے موقف کو دلائل، مذہبی دلائل، کی بنیاد پر رد کرنے میں کون سے موانعات ہیں؟ ان کا جائزہ لینے میں کیا حرج ہے؟ بہرحال خلیلی صاحب سے گزارش ہے کہ اپنا کلیجہ ضرور ٹھنڈا کریں۔ اور جب ٹھنڈا ہو جائے تو گفتگو کی طرف لوٹ آئیں، بھلے اس کی ساری شرائط وہ خود ہی طے فرما لیں۔ اللہ انہیں خیریت سے رکھے، اور گفتگو کی استعداد اور معمولی دیانت کے ساتھ ساتھ سلیقے سے بھی بہرہ مند کرے۔

یہ درست ہے کہ علمی مکالمے کے لیے موضوع سے واقفیت یا اس کے مختلف پہلوؤں سے آگہی ضروری ہے، لیکن جانبین کے ہاں اس میں کمی بیشی معمول کے طور پر سامنے آتی رہتی ہے۔ لیکن علمی مکالمے کے لیے کم از کم اخلاقی رویے صلاحیت سے سوا درکار ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم شعور کی ناکامی اس قدر گہری ہے کہ وہ صلاحیت اور اخلاقی تقاضوں کو بیک وقت نبھانے کے بہت قلیل امکانات رکھتا ہے۔ علم کی آڑ میں جعلی مذہبی مباحث سے پیدا ہونے والی مسموم فضا میں کسی بھی موضوع پر نظری مباحث نہیں اٹھائے جا سکتے۔ علمی مباحث کے حوالے سے ہمارے اخلاقی اور ثقافتی رویے سیکولر اور مذہبی مباحث میں یکساں ظاہر ہوتے ہیں۔ استعداد تو مکالمے کی سطح اور معیار پر اثر انداز ہوتی ہے، لیکن اس کے امکان یا عدم امکان کا مسئلہ ہمارے اخلاقی اور ثقافتی رویوں سے جڑا ہوا ہے۔

علمی مباحث کا براہ راست تعلق چونکہ قوم کی وجودی اور تہذیبی بقا سے ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تلاشِ امکانات سے دستبردار نہ ہوا جائے اور اپنی سی کوشش جاری رکھی جائے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یہ مضمون لکھنا صریحاً ناانصافی ہے اور میں اس کے خلاف احتجاج کرتا ہوں. احباب سے تعاون کی درخواست ہے.

Leave A Reply

%d bloggers like this: