اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ —— میاں ارشد فاروق

0
  • 55
    Shares

ایک خوش آئند خبر کے مطابق 25 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں اوور سیز پاکستانیوں کو الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جائے گا۔ ایک دعوے کے مطابق اس منصوبے پر عمل سے ستر لاکھ کے قریب اوور سیز پاکستانیوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

41 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اس پائلٹ پراجیکٹ یعنی تجرباتی منصوبے کی کامیابی یا ناکامی بہت اہم ہے کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو الیکٹرانک ووٹنگ کی اجازت دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ اسی سسٹم کو دیکھ کر ہی کرے گی۔ یقینا سپریم کورٹ نے اس سسٹم کی جانچ کیلیے الیکٹرانک ووٹنگ کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر لی ہونگی جنہوں نے پائلٹ پراجیکٹ کے تکنیکی پہلوؤں کا آزادانہ معاینہ کرنا ہے اور پھر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہے۔

کیونکہ آئی ٹی کا کوئی بھی سسٹم ڈیویلپ کیا جائے اسکا بنیادی چیلینج اسے ہیکرز سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے جسکے لیے بہت احتیاط، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا متعلقہ علم اور پروفیشنل تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمیشن نے 2016 میں 400 الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور 300 بایومیٹرک ویریفیکشن مشینز کا ٹینڈر دیا تھا۔ اس وقت یہ افواہ پھیل گئی کہ یہ مشینیں بھارت کی کسی فرم سے خریدی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت نے 2004 کے انتخابات میں ایسی دس لاکھ مشینیں ملک بھر میں استعمال کی تھیں جو انکی اپنی ملکی کمپنیوں نے ہی تیار کی تھیں۔ لیکن کمیشن نے باضابطہ طور پر اس دعوے کا انکار کیا اور وضاحت کی کہ صرف ان کاروباری فرمز سے مشینیں خریدی جایں گی جنہیں پاکستان کے حساس ادارے کلیرینس سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔ 400 الیکٹرانک مشینوں سے ستر لاکھ ووٹ تو ظاہر ہے کاسٹ نہیں ہو سکیں گے البتہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر مسائل اور انکے متوقع حل ضرور سامنے آییں گے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمیشن نے مزید مشینیں خرید رکھی ہوں۔

اس وقت دنیا میں الیکٹرونک ووٹنگ کے دو طریقہ کار مستعمل ہیں۔ ایک کو ای ووٹنگ (E-voting) کہا جاتا ہے اور دوسرے کو آئی ووٹنگ (I-voting)۔ ای ووٹنگ میں بیرون ملک مقامات پہ مشینیں رکھ دی جاتی ہیں جہاں لوگ پہنچ کر اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔ جبکہ آئی ووٹنگ میں رجسٹرڈ ووٹرز اپنے گھر بیٹھے ہی انٹرنیٹ کی مدد سے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ انہیں ای میل یا پوسٹ آفس کے ذریعے ایک پاس ورڈ بھیجا جاتا ہے جسے کمیشن کی ویب سایٹ سے لاگ ان ہو کر وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔

دونوں طریقوں کے اپنے اپنے فوائد ہیں اور دونوں ہی میں خطرات بھی ہیں۔ ای ووٹنگ ہو یا آئی ووٹنگ ہر دو میں مشینز یا سوفٹ ویر کے اندر جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اسے جانچنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جس سوفٹ ویر انجینیر نے اسکا سوفٹ ویر بنایا ہے وہ اس میں کوی Gap رکھ سکتا ہے۔ نیدرلینڈ برطانیہ اور جرمنی میں ای ووٹنگ کے کیی تجربات کرنے کے بعد اس سسٹم کو ترک کیا جا چکا ہے۔

آییندہ ضمنی انتخاب میں کونسا طریقہ الیکٹرانک ووٹنگ کے بارے میں استعمال ہوگا اسکی تفصیلی معلومات تو ہمیں حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن جو بندوبست کر رہا ہے اسے فول پروف بنانے کیلیے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں انکے بارے میں کچھ علم ہے۔ اس منصوبے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ووٹ کی سیکریسی کو قایم رکھنا اور ووٹنگ ڈاٹا بیس کو ہیکرز یا انجینیرنگ سے بچانا دونوں کام ایک دوسرے کے معکوس ہیں۔ اگر آپ ووٹر کی پرائویسی ختم کردیں تو ڈاٹا بیس کی انجینیرنگ کا امکان ختم ہو جائے گا جو کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ممکن نہیں۔ لیکن اگر پرائویسی کو محفوظ رکھنا چاہیں تو رزلٹ ان لوگوں کے اختیار میں چلا جاے گا جنکے پاس ڈاٹا بیس کا کنٹرول ہے۔ ڈاٹا بیس انجینیرنگ سے بچنے کیلیے پیپر بیلیٹ کا استعمال بہت لازم ہے جو آئی ووٹنگ میں بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔

جن حلقوں میں مقابلہ سخت ہوتا ہے اور جیت ہار تھوڑے بہت فرق سے تبدیل ہو سکتی ہے وہاں یہ کنٹرول بہت معنی خیز ثابت ہو سکتا ہے اسلیے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

اس سسٹم سے جہاں بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی سہولت حاصل ہو گی وہیں ایک اور فایدہ بھی ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کو اب اپنے شعبہ نشرو اشاعت کو بہتر بھی بنانا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مطمئن کرنا ممکن نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: