احتساب ——- عینی خان

0
  • 28
    Shares

دو تین دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ چند افراد بکرا منڈی میں ایک لڑکے کو جعلی نوٹ دے کر قربانی کا جانور لے گئے۔
ایک ویڈیو میں دھوکا کھانے والے غریب لڑکے کو بےبسی کے عالم میں روتے اور دہائ دیتے دیکھا تو میں سوچنے پر مجبور ہو گئ کہ ایسی دھوکے بازی کرنے والوں کی تربیت کیسے ماحول میں ہوئ ہو گی۔ کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جن کو بچپن میں کتابیں ملتی ہی نہیں، لیکن جن کو ملتی ہیں وہ تو بچپن میں توسب ایک جیسی کتابیں ہی پڑھتے ہیں اور سب میں جھوٹ ، چوری اور دھوکے بازی کو بُرا کہا گیا ہوتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے یہ باتیں ساری عمر محض کتابی باتیں ہی رہتی ہیں۔ شاید بچپن سے اپنے اردگرد انہیں کوئ عملی نمونہ نہیں ملتا لہذا وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان ایمانداری اور وفاداری کی باتوں پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں۔

کسی بھی بچے کی تربیت میں یقیناً گھر والوں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے لیکن والدین اور خصوصاً والدہ کی شخصیت اور تربیت کا اثر کسی بھی شخص پر بہت گہرا ہوتا ہے اور تاحیات قائم رہنے والا ہوتا ہے۔ کچھ مائیں تو ایسی بھی ہوتی ہیں جو بچے کو بری باتیں خود سکھاتی ہیں، جیسے جھوٹ، چغلی، چوری۔ لیکن زیادہ تر ماؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچے نیک بنیں اس لیے وہ ان کو زبانی طور پر بہت اچھی اچھی باتیں سکھاتی ہیں۔ مگرظاہر ہے ماں اگر صرف زبانی باتیں کرے اور عمل اس کے خلاف کرے تو بچہ بہت جلد منافقت سیکھ لیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں نہ صرف زبانی تربیت کرے بلکہ بچے کے سامنے اچھے کردار کا عملی نمونہ بھی پیش کرے اور بچے کے اندر بھی اچھے کام کرنے کی تحریک پیدا کرے۔

عبدلستار ایدھی صاحب اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوۓ کہا کرتے تھے کے اُن کی والدہ اُنہیں دوآنے دیا کرتی تھی۔ ایک خود پر خرچ کرنے کے لیے اور ایک کسی غریب کی مدد کرنے کے لیے۔
جب بچے سکول جانے کی عمر کے ہوتے ہیں تبھی سکول سے آنے کے بعد بچوں سے محبت اور اپنائیت سے ان کے سارے دن کا حال معلوم کرنا ایک نہایت ضروری عمل ہے۔ بچے کی روزمرہ سرگرمیوں سے باخبر رہنا اور دوستوں کے بارے میں ضروری معلومات رکھنا بھی والدین کی ذمےداری ہے۔

جو والدین بچوں کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور اُن پر نظر رکھتے ہیں وہ تو بچے کی جیومیٹری باکس سے اضافی چیزیں نکل آنے پر ہی پریشان اور محتاط ہو جاتے ہیں۔ بچے کے سکول بیگ سے مہنگے تحفے یا پھر پیسے ملیں تو بچے سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ اور تب تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک یقین نہ ہو جاۓ کہ بچہ کسی ناجائز یا غیر اخلاقی سرگرمی میں مبتلا نہیں۔

مجھے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ جن گھروں کے لوگ حرام کمائی یا چوری کا مال گھر لاتے ہیں اس گھر کی خواتین کیسے اس عمل سے مکمل طور پر بےخبر رہ سکتی ہیں۔ خاص کر ماں کی نظر کیسے اپنے بیٹے یا بیٹی کی ناجائز سرگرمیوں اور حرام کے مال سے غافل رہ سکتی ہے؟ کیا گھر میں موجود ماں اور بہنیں یہ نہیں دیکھتیں کہ معمولی نوکری کرنے والا بیٹا اور بھائ برانڈڈ چیزیں کہاں سے لا رہا ہے؟

جب بیوی جانتی ہے کہ شوہر کی کمائی زیادہ نہیں تو وہ کیسے عیش و عشرت پا کر مطمئن ہو جاتی ہے؟ جس جیون ساتھی سے توقع کرتی ہے کہ وہ دل کا ہر راز اسے بتائے گا، کبھی اسے ٹٹولنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی کہ آپ اتنا خرچہ کیسے کر رہے ہیں؟ کیا آپ قرضہ لے رہے ہیں ؟ اور اگر قرضہ لے رہے ہیں تو اسے اتاریں گے کیسے؟
مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ اس وقت میرا بھائ چھٹی جماعت میں تھا۔ اس کے پاس ایک سائیکل تھی جس پر وہ گھر کے پاس کے ایک جنرل سٹور سے صبح کا ناشتا لینے گیا۔ رات کا وقت تھا۔ جب وہ دکان سے باہر نکلا تو اس کی سائیکل کسی نے چوری کر لی تھی۔ کافی دیر لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد وہ اداس ہو کر گھر لوٹ آیا۔ اس واقعے کا میرے بھائ پر بہت اثر ہوا۔ ٹی وی اور اخبار میں چوری چکاری کی خبریں تو بہت سنی تھیں مگر پہلی بار جب اپنے ساتھ ایسا واقعہ ہوا تو دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی ہوئی۔ اور پہلی بار یہ حقیقت سامنے آئی کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بجائے خریدنے کے دوسروں کی چیز اُٹھا لیتے ہیں۔

اس واقعے کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھائ اسی جنرل سٹورمیں ناشتے کا سامان لینے گیا تو دکان دار نے اسے بتایا کہ جس لڑکے نے تمہاری سائیکل چرائ تھی وہ معافی مانگ کر واپس دے گیا ہے ۔ اس نے توبہ کی ہے کہ آئندہ ایسا کام نہیں کرے گا۔ بھائ کو خوشگوار حیرت ہوئ۔ اس نے چور کے بارے میں مزید پوچھا تو دکان دار نے بتایا کہ وہ عمر میں بھائ سے تھوڑا ہی بڑا رہا ہو گا۔ غریب گھر کا لڑکا ہے اور بہت خوفزدہ ہے۔ بدنامی کے ڈر سے اپنا آپ کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔سائیکل دیکھی تو دل میں لالچ آ گیا اور چرا لی۔

پھر شاید ایسا ہوا ہو کہ وہ سائیکل والدین سے چھپاتا رہا ہواور بیچنے کا حوصلہ بھی نہ کر پایا ہو اس لیے واپس کر گیا۔ بھائ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ چور نے چوری کیا ہوا مال نہ صرف خود ہی لوٹا دیا بلکہ توبہ بھی کر لی۔

بھائی کو اپنے بچپن کا یہ واقعہ اب بھی یاد ہے۔ میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ایسی کیا وجہ بنی ہو گی کہ وہ لڑکا سائیکل اپنے پاس نہ رکھ سکا۔ کہاں کہاں چھپائ ہو گی۔ دوستوں کی منت کی ہو گی کہ اپنے گھر رکھ لو مگر دوستوں نے بھی اپنے والدین کے ڈر سے گھر میں نہیں رکھی ہو گی۔ اس وقت لوگ یہ دیکھتے تھے کہ جو چیز آپ نے اپنے بچے کو لے کر نہیں دی، نہ ہی اتنا پیسہ دیا کہ وہ خرید کر لا سکے تو وہ چیزبچے کے پاس کہاں سے آئ۔ کیا آج کل بھی والدین اولاد پر ایسی کڑی نظر رکھتے ہیں۔

کیا آپ کے گھر میں ایسا سامان آتا ہے جو آپ افورڈ نہیں کر سکتے؟
اگر ایسا ہے تو آپ اس ضمن میں کیا کرتے ہیں؟
ہونا تو یہ چاہیے کہ اس مال کو قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا جائے۔ مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
اس کی وجہ بھی ہم جانتے ہیں۔ عموماً لوگ تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ زیادہ مزاحمت کی گئی تو تعلقات میں بگاڑ نہ پیدا ہو جائے۔
پھر معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس حرام مال کو اپنی مجبوری بتا کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ حرام مال کمانے والوں کی عزت دوسرے تو خیر کیا کریں گے، ان کی اپنی اولاد بھی ان کی عزت نہیں کرتی۔

آج 14 اگست ہے۔ پاکستان بنے ہوئے 71 برس پورے ہو چکے ہیں۔ 71 برس پہلے ہم نے اپنے رب سے ایک وعدہ کیا تھا کہ اے رب ہمیں ایک ایسا ملک دے جہاں ہم آزادی اور بے خوفی سے تیرے احکام پر عمل کر سکیں تو ہم اس ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا دیں گے۔
آیئے آج اس وعدے کی تجدید کریں۔

جیسے حکومتی سطح پر ہم بےایمانی کو بُرا کہتے ہیں،حکمرانوں کو لعن طعن کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھ کر ہمارے بچوں کو مقروض کرتے اور ان کے مستقبل سے کھیل کھیلتے ہیں، ویسے ہی ہمیں اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہو گا اور عوامی سطح پر بھی لُوٹ مار اور بے ایمانی کی روک تھام کرنی ہو گی اورسب سے پہلے اپنے گھر سے کام شروع کرنا ہو گا۔

اس چودہ اگست کو ہم خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ جیسے ہم حکمرانوں کو اپنا احتساب کرنے کو کہتے ہیں ویسے ہی ہم اپنا احتساب بھی کریں گے اور دیکھیں گے کہ ہم یا ہمارے بچے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی حق تلفی تو نہیں کر رہے !

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: